جنوبی کوریا میں میری سیاحت کے تین مہینے اختِتام پذیر ہونے کو ہیں۔ جن میں سے بارہ دن میں نے یہاں کے دارالحکومت اور ملک کے سب سے بڑے شہر سیئول میں گزارے۔سرسبز پہاڑیوں میں آباد یہ قدیم شہر اپنی← مزید پڑھیے
مرزا اسد اللہ خان غالب کی شخصیت اور فن پر کئی ضخیم کتابیں لکھی گئی ہیں، مگر دانیال طریر کی کتاب “جدیدیت، مابعد جدیدیت اور غالب” تفہیم غالب کے سلسلے میں ایک نایاب اضافہ ہے۔ یہ کتاب کم و بیش← مزید پڑھیے
ہم رات تو مظفر آباد جیسے بڑے اور خوبصورت شہر میں گزار چکے تھے، لیکن سوال یہ تھا کہ آگے کیا کرنا ہے؟ محمد کا کہنا تھا کہ مالم جبہ دیکھے بغیر واپس کراچی جانے کا کوئی سوچے بھی نہیں← مزید پڑھیے
لندن گیٹوِک ائیرپورٹ سے ٹکٹ کروانے کی واحد وجہ میری غربت ہی تھی ورنہ جہاز تو ہیتھرو سے بھی جاتے ہیں۔گیٹوِک سے غریبوں کے جہاز چلتے ہیں جو اپنی چال ڈھال سے نیو خان کا اچھا ورژن معلوم ہوتے ہیں۔صبح← مزید پڑھیے
نوٹ: ہمیں گھر، اسکول ، کالج ، یونیورسٹی ، بازار ، مسجد ، کلیسا ، مندر میں ہی نہیں بلکہ ہر ایک آموزش میں یہی تبلیغ کی جاتی ہے کہ ترقی کے ٹاپ پر پہنچنے کا ایک ہی راستہ ہے← مزید پڑھیے
میں نے اپنے کسی افسانوی مجموعے کا پیش لفظ لکھا نہ کسی سے کوئی تحریر لکھوائی۔ کتابوں کی اشاعت کے بعد جو تبصرے ، مضامین شائع ہوئے، انھیں بھی اپنے چاروں ( پانچواں زیر اشاعت ہے) مجموعوں میں سے کسی← مزید پڑھیے
ایسا بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے کہ شاعر وجودی فلسفہ کو موضوع بنا رہا ہو لیکن شعر میں کسی طرح کی پیچیدگی یا کھردرا پن نہ در آئے۔بعض جدید شعرا نے وجودی فلسفہ کو باضابطہ پڑھ کر اسے شعری← مزید پڑھیے
سفر کرتے کرتےخوبصورت اور سہانے کشمیر میں ہم داخل ہو چکے تھے ، کچھ دیر خطرناک راستوں سے گزر کر سیدھا روڈ آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہم پاکستان کے ساٹھویں (60th) بڑے شہر اور ایک طرف پاکستان سے شروع← مزید پڑھیے
تاریخ گزرے ہوئے حالات و واقعات اور نامور شخصیات کا بیان ہے۔ تاریخِ عالم میں ان واقعات اور شخصیات کو جگہ ملتی ہے جو یا تو مثبت کارنامے سرانجام دیتی ہیں یا پھر ظالمانہ افعال کا مرتکب ہوتی ہیں۔ لیکن← مزید پڑھیے
پِطرس میرے استاد تھے۔ ان سے پہلی ملاقات تب ہوئی، جب گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے انگلش میں داخلہ لینے کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انٹر ویو بورڈ تین ارکین پر مشتمل تھا پروفیسر ڈکنسن (صدر← مزید پڑھیے
ارشد رضوی چونکانے والے نثّار ہیں۔ وہ دیکھے بھالے راستے سے کنّی کترا کر نئی پگڈنڈیاں ڈھونڈنے کے عادی ہیں۔ یعنی اگر کسی سیدھے راستے پر کچھ اور نہ ہوسکے تو الٹے پیر چلنا شروع کردیں گے جو انھیں دوسروں← مزید پڑھیے
——————————————— والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں محرم کا مہینہ ہے۔ سکول سے عاشورہ محرم کی چھٹی ہے۔ عاشورہ کا مرکزی جلوس تو اندرونِ شہر سے امام بارگاہ گامے شاہ پہنچ کر ختم ہوگا مگر کچھ← مزید پڑھیے
ببر سنگھ نے قمیض سلوانے کے لیے بازار سے کپڑا خریدا اور درزی کے پاس لے گیا۔درزی نے کپڑا ناپا اور کہنے لگا کہ”سردار جی تہاڈا چھگا نئیں بن سکدا، کپڑا گھٹ اے “۔ ببر سنگھ بہت مایوس ہوا مگر← مزید پڑھیے
یہ سیمنیار چھ جولائی کو غالب انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہوا۔ اس کے محرک ڈاکٹر سرور الہدیٰ اور منتظم ڈاکٹر محمد ادریس ، ڈائریکٹر غالب انسٹی ٹیوٹ، تھے۔ پاکستان سے تبسم کاشمیری، اصغرندیم سید اور مجھے مدعو کیا گیا تھا۔← مزید پڑھیے
مابعد جدیدیت کیا ہے ؟ کیا مابعد جدیدیت ثقافتی صورتحال ہے ؟ کیا مابعد جدیدیت متنوع ، متضاد تصورات کا مجموعہ ہے؟ کیا مابعد جدیدیت نظریات کی کہکشاں ہے؟ یا ما بعد جدیدیت کسی نظریے کا نام ہے ؟ ایسے← مزید پڑھیے
ساقؔی امروہوی کی ایک نظم کا مطالعہ تاریخ گزرے ہوئے حالات و واقعات اور نامور شخصیات کا بیان ہے۔ تاریخِ عالم میں ان واقعات اور شخصیات کو جگہ ملتی ہے جو یا تو مثبت کارنامے سرانجام دیتی ہیں یا پھر← مزید پڑھیے
میری اس تحریر کا محرک محترم داؤد ظفر ندیم کی ایک پوسٹ بنی۔ ان کے بقول ساٹھ سال کے آس پاس عمر انتہائی خطرناک ہے۔ کیوں؟ ان کی عمر اٹھاون برس ہے۔ ان کے والد محترم 56برس کی عمر میں← مزید پڑھیے
اشاروں کنائیوں کی زبان وہ بہت اچھی طرح سمجھتی تھی کیونکہ وہ طوائف تھی اور گاہک کی رگ رگ سے واقف۔ طوائفوں سے عشق نہیں ،سودا ہوتا ہے۔ لوگ کھلونوں سے دل بہلانے آتے ہیں اور وہ ان کی جیبوں← مزید پڑھیے
جان مدینہ کی کتاب جینیٹک انفرنو انسانی رویے کی حیاتیاتی بنیاد کو سمجھنے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے. انہوں نے یہ کتاب لکھتے وقت دانتے کی دی ڈیوائن کامیڈی کو بطور آرگنائزنگ فریم ورک استعمال کیا ہے ۔دی ڈیوائن کامیڈی← مزید پڑھیے
ہاں کڑھی پکوڑا بھی ہوتا ہے اور دو قسم کی روٹی بھی لیکن دونوں ہی نہیں کھائی جاتیں کیونکہ ہمارے فوڈ کلچر سے کچھ مختلف ہیں بس یہی اک پریشانی ہے۔ دوسرا مسئلہ وائی فائی کا تھا بالکل نکما ہے← مزید پڑھیے