اس ویران ریگستان کی رات خاموش تھی، لیکن آسمان پر ستارے یوں جھلملا رہے تھے جیسے وہ کسی قدیم داستان کی گواہی دیتے ہوں۔ ہوا میں ریت کی سرسراہٹ اور اونٹوں کی گھنٹیوں کی جھنکار سنائی دیتی تھی۔ رات کا← مزید پڑھیے
سفر اب اختتام پر تھا اور محسوس کچھ یوں ہوتا تھا جیسے وجود کو کسی نے اُٹھا کر سبزے کے سمندر میں پھینک دیا ہو۔ اگر کوئی میری آنکھوں میں جھانکتا تو شاید اُن کی ہر چھوٹی بڑی شریان سبز← مزید پڑھیے
پریم چند جب شہر جاتے گاؤں کی تلخیوں کو ساتھ لے جاتے، گھر گاؤں میں نہیں تھا ان کے دل میں تھا، جہاں رہتے گاؤں ان کے ساتھ رہتا، جب گاؤں میں رہتے تو شہر کی فضا ذہن کو گرفت← مزید پڑھیے
ترک نوبیل انعام یافتہ اورخان پاموک ، اپنے ناول “سرخ میر انام ” میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ وہ مصور جو اپنے ناظرین ین کے ممکنہ ردّعمل کو سامنے رکھتا ہےاور ان کی پسند ناپسند کا خیال رکھتا ہے← مزید پڑھیے
جیون نگر کی ایک گلی میں ایک بچہ “بچپن” رہتا تھا۔ حیات آباد کی یہ گلی اس کے دم سے آباد تھی۔ دن رات کھیلتا کودتا چہچہاتا گنگناتا اور اٹھلاتا رہتا یہاں۔ اسے سب سے زیادہ پسند بادل تھے۔ بادلوں← مزید پڑھیے
میں نے ہان کانگ کے ناول “دا ویجیٹیرین” کا انگریزی ترجمہ ایک سال پہلے پڑھا تھا اور اس کے پہلے حصّے کا اردو ترجمہ ایک نوجوان پی ایچ ڈی کے طالب علم کے لیے کرکے دیا تھا۔ اصل میں اس← مزید پڑھیے
نظم عنوان حواذادیاں میں شدت سے چاہتی ہوں کہ ہمارے حلق میں پھنسی گونگی چیخیں سن کر اسرافیل گریہ و بین کرے اور مجھ سے کہے کیا اس کرب کے بعد بھی قیامت محتاج ہے میرے صور کی ؟ میں← مزید پڑھیے
کئی مہینوں بعد گاؤں آیا ہوں۔ماں یہاں اکیلی رہتی ہے۔آج گھر کا دروازہ کھلا ہےورنہ تو ماں صبح سویرے دروازہ بند کر کے باہر کا کام نمٹانے چلی جاتی ہے۔صبح کا سارا وقت حویلی میں گزرتا ہے۔جانوروں کو چارہ ڈالتے،← مزید پڑھیے
’’جوذہن ایک بار روشنی کا تجربہ کرتا ہے، وہ تاریکی کی طرف نہیں لوٹ سکتا‘‘۔ یہ بات الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ عام طورپر کہی جاتی ہے۔ مثلاً کہاجاتا ہے کہ جو ایک بار نروان، روحانی بلندی، اخلاقی تزکیہ ،← مزید پڑھیے
ظاہر ہے حالی کی تھیوری کے پیچھے سرسید کے زیر اثر پروان چڑھنے والا سماجی و سیاسی شعور کارفرما تھا اس لیے ان کی تھیوری میں مقصدیت کو مرکزیت حاصل رہی اور شاید یہی وجہ رہی کہ حالی کی تھیوری← مزید پڑھیے
صبح سپین کے لیے نکلنا تھا،سو اب چاہتے نہ چاہتے نیند کو آنکھوں پہ سوار کرنا تھا۔نیند کے ساتھ میرے معاملات بڑے اچھے ہیں۔جب،جہاں ،جیسے بلاؤں،دوڑی چلی آتی ہے۔ صبح وہی فرنچ ناشتہ ہوا،وہی جرمن ایس یو وی اور اُسی← مزید پڑھیے
کل 327 صفحات اور 17 ابواب پر مشتمل یہ کتاب اپنی نوعیت کی اس موضوع پر لکھی گئی کتاب ہے – انتہائی سلیس اور سادہ نثر میں لکھی گئی کتاب ہے جس میں کہیں ژولیدہ اور گنجلک و مبہم نہیں← مزید پڑھیے
كتاب: اور میں نم دیدہ نم دیدہ صنف: سفر نامہ مصنف: ابو بكر قدوسی ناشر: مكتبہ قدوسیہ تبصرہ نگار: زید محسن حرمین شریفین مسلمانوں کی مکانی محبتوں میں اعلیٰ ترین محبتیں ہیں ، وہاں کے تذکرے ، وہاں کے اسفار← مزید پڑھیے
آج فصیل بند شہر کے انوکھے شاعر استاد رسا دہلوی کا یوم وفات ہے۔ انھوں نے آج ہی کے دن 8 اکتوبر 1976 کو کینسر کے عارضے میں وفات پائی۔ استاد رسا کا نام آتے ہی ان کے دور کی← مزید پڑھیے
اداکاروں میں سہیل اصغر اور قیصر نقوی تو طلب علم کے دور سے میرے دوست ہیں بعد میں خیام سرحدی کے توسط سے جمیل فخری دوست بنے تھے جو خیام سے زیادہ قریبی دوست ثابت ہوئے تھے۔ یعنی بہت پہلے← مزید پڑھیے
۱۔ کرو شاعر ہی نہیں۔بہترین گلوکار،بہترین آناؤنسر،ڈیبٹیر، میوزک کمپوزر،کرکٹ کمنٹیڑ،ڈرامہ اور سٹوری رائٹر کے طور پربھی بہت کامیاب تھا۔ ۲۔ سنیل آریےارتن کو فطرت نے نغمہ نگاری کے ساتھ ساتھ دُھن سازی کی بھی اعلیٰ خوبی سے نوازا تھا۔ ۳۔← مزید پڑھیے
ایک دور ایسا بھی تھا جب اردو نظم میں نئے تجربوں کی ہنگامہ خیزی نے ہماری تنقید کا رخ ہی شاعری کی جانب موڑ دیا تھا۔گوکہ یہ سارے تجربے مغرب سے مستعار تھے لیکن انہی سے نئ شاعری کو وہ← مزید پڑھیے
اروندھتی رائے کو پہلے ناول The God of small things ہی پر بکر پرائز مل گیا جس وجہ سے ان کی شہرت چار دانگ پھیل گئی۔ لیکن اس ناول کی اشاعت کے بعد طویل عرصے تک اروندھتی نے افسانوی حوالے← مزید پڑھیے
میں نے کل رات علی اکبر کے ناول “کوفہ کے مسافر ” پہلی قرآت ختم کی اور ظاہر ہے اس قرآت کے دوران میں کئی بار خون کے آنسو رویا اور کئی مقامات پر ظلم و جبر کے خلاف میرے← مزید پڑھیے
افلاطون کی “جمہوریہ” ایک عظیم کلاسیکی کتاب ہے جو فلسفہ اور سیاست کے میدان میں بے مثال اہمیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب انصاف کی فطرت، مثالی ریاست، اور انسانی روح کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کرتی ہے۔ افلاطون نے← مزید پڑھیے