بیٹ مین نے جوکر کو پکڑ لیا ہے۔ کیا اسے جوکر کو مار دینا چاہیے؟ بیٹ مین کا اصول ہے کہ وہ کسی کو قتل نہیں کرے گا۔ لیکن جوکر لوگوں کو قتل کرنے سے اور دہشت پھیلانے سے باز← مزید پڑھیے
کیا اپنے بھوکے بیوی بچوں کو کھلانے کے لئے چوری کرنا غلط ہے؟ کیا “اچھا جھوٹ” بھی کوئی چیز ہے؟ فلسفے کی جو شاخ اس طرح کے سوالات اور اخلاقیات کے بارے میں بات کرتی ہے، ایتھکس کہلاتی ہے۔ لیکن← مزید پڑھیے
اس فقرے پر غور کریں، “عبدل نے پاجامے میں چوہے کو شوٹ کیا”۔ سادہ سا فقرہ ہے۔ یا پھر؟ اسے پڑھ کر میری پہلی سوچ تھی کہ عبدل نے پاجامہ پہنا ہوا تھا جب اس نے چوہے کو شوٹ کر← مزید پڑھیے
ڈنمارک کے ایک میوزیم میں مارکو ایوارسٹی نے اپنا کام نمائش کے لئے رکھا۔ اس میں گولڈ فش پانی کے برتن میں تیر رہی تھیں۔ یہ برتن برقی بلینڈر تھے۔ ایوراسٹی نے تماشائیوں کو دعوت دی کہ اگر کسی کی← مزید پڑھیے
ہو سکتا ہے کہ آپ ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں آرٹ کی زیادہ پرواہ نہ ہو۔ لیکن اگر آپ کا یہ خیال ہے تو میرا کہنا یہ ہو گا کہ آپ آرٹ کے بارے میں محدود سوچ رہے ہیں۔← مزید پڑھیے
دنیا کو جاننے کے لئے تشکیک اچھا آغاز ہے۔ جب تک شک نہیں، اس وقت تک غلط خیال کو مسترد کر دینا ممکن نہیں۔ لیکن تشکیک صرف پہلا قدم ہے۔ سوال کرنا صرف اسی وقت مفید ہے اگر یہ جواب← مزید پڑھیے
شاید آپ نے فلم “میٹرکس” دیکھی ہو۔ فلم میں جو دنیا دکھائی گئی ہے، اس میں تمام انسان جیلی کے کنٹینروں میں مقید ہیں۔ تار اور ٹیوب انہیں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا دماغ ایک فرضی دنیا تخلیق کر← مزید پڑھیے
فلسفے کی سوچ کا سب سے اہم اصول ہے کہ آپ کسی بھی چیز کو بس ویسے ہی قبول نہیں کر لیتے جیسی دکھتی ہے۔ ہمیں اس بات کے لئے تیار رہنا پڑتا ہے کہ جو دکھائی دے رہا ہے،← مزید پڑھیے
ارسطو نے ایک بار کہا تھا کہ، “انسان عقل والا جانور ہے”۔ تاہم اگر آپ کی کبھی کسی سے سیاست یا مذہب کے موضوع پر بحث ہوئی ہو تو آپ جانتے ہوں گے کہ تمام لوگ اپنی رائے کا دفاع← مزید پڑھیے
علی بابا جس غار میں جاتے ہیں، اس کا پاسورڈ “کھل جا سم سم” ہے۔ ٹارزن جانوروں سے بات کر سکتے ہیں۔ سندباد ماہر ملاح ہیں۔ ٹام اور جیری لڑتے رہتے ہیں۔ اگر زومبی آپ کو کاٹ لے تو آپ← مزید پڑھیے
فلسفہ اس دنیا کو سمجھنے کی انسانی کاوش ہے۔ اس طرح کے سوالات کہ کیا شے دنیا کو معنی دیتی ہے؟ کیا شے اسے خوبصورت بناتی ہے؟ برائی کیا ہے؟ اس دنیا میں ہماری جگہ کیا ہے؟ آپ جو کرتے← مزید پڑھیے
میرا خیال ہے کہ جب آپ کسی کو دیکھتے ہیں تو پتا لگ جاتا ہے کہ وہ ایک شخص ہے۔ مثلاً، کیا میں ایک شخص ہوں؟ لیکن کیا میں ہمیشہ سے شخص رہا ہوں؟ کیا الطاف حسین حالی ایک شخص← مزید پڑھیے
اپنی روزہ مرہ کی زندگی میں ہم کئی قسم کی شناخت رکھتے ہیں۔ آپ اپنی بہن کے بھائی ہو سکتے ہیں۔ اپنے والدین کے بیٹے ہو سکتے ہیں، اپنے دوست کے دوست ہو سکتے ہیں، کمپنی کے ملازم ہو سکتے← مزید پڑھیے
اپنی پرانی تصویروں کا البم کھولیں۔ ان میں آپ کون سے والے ہیں؟ یہ سارے کے سارے آپ ہی ہیں؟ شناخت کا تصور زیادہ پیچیدہ اس وقت ہو جاتا ہے جب ہم اپنی یا پھر کسی بھی شخص کی شناخت← مزید پڑھیے
ایک بحری جہاز کے بارے میں قدیم یونانی کہانی ہے۔ یہ جہاز تھیسیس کی بندرگاہ سے دنیا کا سفر کرنے نکلا تھا۔ سفر کے دوران اسے کئی خطرات آئے۔ طوفانوں نے اس کے بادبانوں کو نقصان پہنچایا۔ انہیں تبدیل کرنا← مزید پڑھیے
تئیس مارچ 2021 کو ایک بحری جہاز نہرِ سویز میں پھنس گیا اور اس نے اس نہر کو ایک ہفتے کے لئے بند کر دیا۔ اس کی وجوہات کی تفصیل کا تعین ابھی کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس جہاز← مزید پڑھیے
کسی اصل فزسسٹ کی طرح سب کو تنگ کرنا ہو تو کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ دوسروں کی غلطیاں ٹھیک کرنے پر اصرار کیا جائے جب ان سے کوئی خاص فرق نہ← مزید پڑھیے
کیا خیالات کی بھی ملکیت ہوتی ہے؟ ڈیجیٹل دنیا میں یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کاپی کر لینا آسان ہے۔ لیکن یہ صدیوں پرانا سوال ہے۔ چھٹی صدی میں آئرلینڈ میں سینٹ فینین کے ایک مذہبی متن← مزید پڑھیے
پال: “میں تم سے محبت کرتا ہوں” ہولی: “تو؟” پال: “تم میری ہو” ہولی: “نہیں، انسان انسانوں کے مالک نہیں ہوتے” پال: “کیوں نہیں؟ بالکل ہوتے ہیں” ہولی: “مجھے کوئی پنجرے میں بند نہیں کر سکتا”۔ ۔بلیک ایڈورڈز کا 1962← مزید پڑھیے
پراپرٹی کی ملکیت کے متعلق قوانین ہمیں چار ہزار سال پہلے بھی ملتے ہیں۔ قانون کی ہر جدید کتاب میں سوال ہے کہ “پراپرٹی کیا ہے؟” لیکن اس کا جواب نہیں ملتا۔ کیونکہ اس کا واضح جواب ہے نہیں۔ اس← مزید پڑھیے