ملکیت (3)۔۔وہارا امباکر

پال: “میں تم سے محبت کرتا ہوں”
ہولی: “تو؟”
پال: “تم میری ہو”
ہولی: “نہیں، انسان انسانوں کے مالک نہیں ہوتے”
پال: “کیوں نہیں؟ بالکل ہوتے ہیں”
ہولی: “مجھے کوئی پنجرے میں بند نہیں کر سکتا”۔
۔بلیک ایڈورڈز کا 1962 کا ڈرامہ “بریک فاسٹ ایٹ ٹفینی”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملکیت طاقتور تصور ہے اور یہ صرف مادی اشیاء تک محدود نہیں۔
دنیا کی تاریخ میں بہت سے کلچرز میں طویل عرصے تک خاتون کو مرد کی ملکیت سمجھا جاتا رہا۔ یہ رویہ انیسویں صدی میں تبدیل ہوا۔ برطانیہ میں 1870 میں پہلی بار قوانین متعارف کئے گئے جن کے مطابق خاتون اپنی پراپرٹی رکھ سکتی تھی لیکن صرف اس وقت اگر شادی شدہ ہو۔ ایسے قوانین بیسویں صدی میں بہت دیر تک برقرار رہے جن کے مطابق ملکیت کے حق میں خواتین اور مردوں میں فرق تھا۔ برطانیہ میں جب مارگریٹ تھیچر 1979 میں وزیرِاعظم بنیں تو وہ خود گھر خریدنے کے لئے قرض نہیں لے سکتی تھیں کیونکہ وہ خاتون تھیں۔ یہ قانون 1980 میں تبدیل ہوا۔ اب دنیا میں بہت کم ایسی جگہیں بچی ہیں جہاں قانوناً ملکیت کے حوالے سے خواتین اور مردوں میں فرق کیا جاتا ہو۔ کچھ جگہوں پر کلچرل انرشیا باقی ہے۔ اور “تم میری ہو” کا مطلب صرف ایک جذباتی فقرے تک محدود رہ جانا بھی مقابلتاً نئی جدت ہے۔ کسی وقت میں یہ اصل میں ملکیت کا تصور ہوا کرتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برطانیہ میں لیورپول میں بچوں کے لئے ایلڈر ہے چلڈرنز ہسپتال ہے۔ یہاں پر سکینڈل بنا کہ 1988 سے 1995 کے درمیان ہسپتال نے والدین سے اجازت لئے بغیر انتقال ہو جانے والے بچوں کے ٹشو سیمپل تحقیق کے لئے نکال لیا کرتا تھا۔ اس خبر پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ “ہسپتال کو کس نے حق دیا کہ میرے بچے کا حصہ اپنے پاس رکھ لے؟؟” احتجاج ہوئے، شعلہ بیان سیاستدانوں نے بیانات دئے، “کیا ہم کمیونسٹ ہیں جہاں افراد ریاست کی ملکیت ہیں؟؟” نجل فیراج نے کہا۔ معاملہ سپریم کورٹ تک گیا۔ ہسپتال کو والدین کی دلجوئی کے لئے معاملہ سیٹل کرنا پڑا۔ لیکن اس سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا بچہ والدین کی ملکیت تھا؟
زیادہ تر جگہوں پر قانون کے مطابق ایسا نہیں۔ والدین کا بچوں سے قانونی تعلق ملکیت کا نہیں، سرپرست ہونے کی ذمہ داری کا ہے۔ اگر والدین بچے کو بیچنا چاہیں تو انہیں اسکا حق نہیں۔ اس کی جان لے لینے کا حق نہیں۔ اگر وہ بچے کے ساتھ ظلم کریں، تربیت سے مجرمانہ غفلت کریں تو ریاست مداخلت کر سکتی ہے۔
کئی مغربی ممالک میں یہ قانون دوسری طرف بھی ہے۔ یعنی بوڑھے والدین کی ذمہ داری قانونی طور پر بالغ بچوں کی ہے۔ یہ filial support laws ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں یہ موجود ہیں۔ اگرچہ ان پر ہمیشہ عملدرآمد نہیں کروایا جاتا لیکن یہ تبدیل ہو رہا ہے۔ نرسنگ ہوم بچوں پر والدین کا خرچ پورا دینے کے لئے مقدمات کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور سیاسی نظریات میں؟ میرا ملک، میری زمین، میرے لوگ، میرا نظریہ حیات، میرا طرزِ زندگی، میرا روزگار؟ یہ معمولی نوعیت کے مسائل نہیں۔ ان کی اہمیت اپنی ذات سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ سری لنکا سے لے کر مشرقِ وسطٰی تک، خودکش حملے کرنے والوں کی وجہ بھی اسی طرح کے خوف رہے ہیں۔ انکی حفاظت کا جذبہ کسی بھی اور شے سے زیادہ ہوتا ہے۔ اور دنیا میں پاپولسٹ سیاستدانوں کی مقبولیت کی وجہ بھی ایسے ہی نعرے ہیں۔
(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply