دوسری ادبی بیٹھک۔۔۔غلام قادر

     لائبریری اگرچہ ایک پرسکون گوشہ ہوتی ہے، جہاں لوگ مطالعہ کرنے جاتے ہیں۔ کتابیں لینے یا دینے جاتے ہیں۔ تقریباً ہر لائبریری میں باتیں کرنا، شور کرنا ممنوع ہوتا ہے۔

     لیکن پھر بھی کچھ دیوانے لائبریری میں باتیں کرنے جا رہے تھے۔    اس کے تقدس بھرے سکوت کو اپنی آوازوں سے درہم برہم کرنے جا رہے تھے۔   اس کی سناٹے والی جھیل میں اپنے دہنوں سے پتھر پھینکنے جا رہے تھے۔    اور یہ دیوانے ایسے بھی نہ تھے کہ لائبریری کی اہمیت کو نہ جانتے ہوتے۔     یہ پڑھے لکھے باشعور دیوانے تھے جو کتب خانوں کی اہمیت کو جانتے تھے۔     علم و ادب کی فضا میں سانس لیتے تھےاور پھر بھی لائبریری میں کتابیں لینے نہیں، بلکہ باتیں کرنے جا رہے تھے۔

     تو یہ دیوانے کون تھے اور کیوں اس احترام کی جگہ باتیں کرنے جا رہے تھے؟

     جہاں خاموشی گفتگو ہو وہاں یہ بلند آواز میں کیوں گفتگو کرنے جا رہے تھے؟     اور یہ جگہ کونسی تھی؟

     یہ جگہ شاعر مشرق سے موسوم علامہ اقبال لائبریری تھی جہاں سیالکوٹ لٹریچر کلب کے زیراہتمام دوسری ماہانہ نشست “ادبی بیٹھک” کا انعقاد ہو رہا تھا۔اور یہاں پہنچنے والے دیوانوں میں سرفہرست سیالکوٹ لٹریچر کلب کے روح رواں انجینئر حارث بٹ تھے۔     اور یہ ایسے بٹ ہیں جو بٹ لگتے ہی نہیں۔    یہ ایسے انجینئر ہیں جو استاد ہیں۔    اور ایسے استاد ہیں جو انجینئر ہیں۔    اور ان میں عبدالرحمن قدیر تھے جو پتہ نہیں فوٹو گرافر زیادہ اچھے ہیں یا شاعر زیادہ  اچھے ہیں۔     اور ان میں محمد وسیم تھے جن کے لئے تعارف کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ حارث بٹ کے شاگرد ہیں اور حارث بٹ کا شاگرد ہو کر بندہ علم و ادب سے دور کیسے رہ سکتا ہے۔     اور ان میں ارسلان چوہان بھی تھے کہ اب وہ اپنے استاد کی نشست سنبھالے کئی ارسلان چوہان تیار کر رہے ہیں۔   اور ان سب کے ساتھ وہ بندہ بھی تھا جو اپنے سفید ہوتے بالوں کے ساتھ صرف چائے کے لالچ میں وہاں آ گیا تھا۔ اسے اپنے جان و دل بہت عزیز تھے لیکن وہ پھر بھی اس گلی میں آ گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

     سیالکوٹ کی سب سے بڑی اور قدیم ترین لائبریری، جو شہر کی معروف اور مصروف پیرس روڈ پر واقع ہے۔ 124 سالہ قدیم لائبریری 1894ء میں برطانوی راج کے دوران سیالکوٹ کے تاریخی قلعہ پر قائم کی گئی اور اسے Montgomery Fort Library Sialkot کا نام دیا گیا۔ 11 دسمبر  1961ء کو اسے موجودہ جگہ پر شفٹ کر دیا گیا۔ اور اس وقت کی سیالکوٹ میونسپیلیٹی نے اسے گورنمنٹ علامہ اقبال لائبریری کا نام دے دیا۔ لائبریری میں روزانہ مقامی سکول، کالج اور یونیورسٹی طلباء، وکلاء اور دوسرے شعبوں سے متعلقہ افراد کی ایک کثیر تعداد آتی ہے۔ دسمبر 2009ء میں اسے گورنمنٹ کی جانب سے USAID کے تحت اپ گریڈ کیا گیا۔ اس وقت لائبریری میں اردو، انگلش، عربی، فارسی، سنسکرت سمیت کئی دیگر زبانوں میں 30,000 سے زائد کتب موجود ہیں۔ جو زندگی کے تقریباً تمام پہلوؤں پر مواد پیش کرتی ہیں۔ 

مقامی اور قومی اخبارات کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں جرائد بھی شائقین کی دلچسپی کے لئے دستیاب ہوتے ہیں۔ لائبریری کا ایک گوشہ صرف خواتین کے لئے مخصوص ہے۔(بحوالہ روزنامہ دی نیشن یکم ستمبر 2016ء

     دو دیوانوں کے ملنے پر تو خوب گزرتی ہے لیکن جب یہ کئی دو ہو جائیں تو پھر  بقول شاعر

تیرے عہد میں دل زار کے سبھی اختیار چلے گئے۔

     اور جب جملہ حاضرین کی ایک “کثیر” تعداد جمع ہو گئی تو باقاعدہ کارروائی شروع کر دی گئی۔ اور ادب، آرٹ، ڈرامہ، فلم پر ایک بہت پر مغز بحث چھڑ گئی۔ ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کا وہ سنہرا دور، جب ادب سے وابستہ لوگ ان اداروں سے منسلک تھے۔ اور نہایت نامساعد حالات میں بھی شاندار تخلیقات پیش کی جاتی تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ شاعر اور ادیب لوگ پیچھے ہٹتے گئے اور آج چینلز کی بھرمار کے باوجود ہمارا معیار ماضی سا نہیں رہا۔ کچھ نابغہ ء روزگار ہستیاں اس دنیا سے ہی اٹھ گئیں اور کچھ کمرشل ازم کے دور میں اپنی دنیا میں سمٹتے چلے گئے۔ اور ان خالی ہونے والی جگہوں پر وہ لوگ قابض ہو گئے جن کا سب کچھ پیسہ تھا۔ 

     لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ آج عمدہ پروڈکشن نہیں ہو رہی۔ آج بھی اچھے لوگ موجود ہیں جو عمدہ تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں، لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ بعض اوقات ایک اچھے خیال کو اقربا پروری کی آڑ میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال تمام شعبوں میں ہے۔ 

     دوران سیشن حارث بٹ کی بدولت ساتھ ساتھ چائے کا دور بھی چلتا رہا۔ 

     حارث بٹ نے ڈاکٹر حسن منظر کے افسانوی مجموعہ “جھجھک” کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ارسلان چوہان نے پروفیسر احمد رفیق اختر کے لیکچرز کا نقطہءنظر واضح کیا۔ محمد وسیم نے “منٹو راما” پر بات کی۔ عبدالرحمن قدیر نےMarkus Zusak کی کتاب The Book Thief جو نازی جرمنی کے دور کو عیاں کرتی ہے، اس پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں انھوں نے اپنی ایک خوبصورت انگریزی نظم سے بھی محظوظ کیا۔     اور اس سفید بالوں والے نے ، جو چائے کے لالچ میں وہاں چلا گیا تھا، عرفان جاوید کی خاکوں پر مبنی کتاب “سرخاب” کا تعارف پیش کیا۔ یہ کتاب اردو ادب کے نامور تخلیق کاروں کی زندگی کے ان گوشوں کا احاطہ کرتی ہے جو عام افراد کی نظر سے پوشیدہ ہیں۔  اس کے علاوہ “ادب اور ادیب” ایک انشائیہ بھی پڑھا گیا۔ شام ہونے میں ابھی کچھ دیر تھی جب یہ محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔ اور شرکاء ایک تسکین بھری طمانیت کے ساتھ پھر ملنے کا عہد لے کر رخصت ہوئے۔

Ghulam Qadir Choudhry
Ghulam Qadir Choudhry
​غلام قادر سیالکوٹ میں مقیم ایک نوجوان جو اپنے آپ کو لکھاری سے زیادہ ادب کے طالب علم کہتے ہیں۔ واجبی سی تعلیم، ایک چھوٹا سا کاروبار اور ادب سے ڈھیر دلچسپی۔ کالج میگزین میں بھی لکھتے رہے۔ سیالکوٹ کے مقامی جریدے میں بھی ان کے کچھ مضامین چھپ چکے ہیں۔ مثبت تنقید اور اختلاف رائے کو فریق مخالف کا حق سمجھتے ہیں۔​

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *