وہارا امباکر کی تحاریر

فلسطین (32) ۔ دو ریاستی حل/وہاراامباکر

مسئلہ فلسطین کا حل کیا ہے؟ اس کا پیشکردہ ایک حل دو ریاستوں کا قیام ہے۔ فلسطین اور اسرائیل۔ اور یہ حل بہت پرانا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی 1947 میں منظور کردہ قرارداد 181 یہی حل پیش کرتی ہے۔ لیکن←  مزید پڑھیے

فلسطین (31) ۔ غزہ کے راکٹ/وہاراامباکر

برٹش دور میں غزہ ایک پسماندہ علاقہ تھا جہاں عرب اور یہودی تنازعہ باقی علاقوں کے مقابلے میں کم رہا تھا۔ 1949 کی جنگ بندی کے بعد یہ علاقہ مصر کے پاس چلا گیا اور اس کی اٹھارہ سالہ حکومت←  مزید پڑھیے

فلسطین (30) ۔ غزہ محاصرہ/وہاراامباکر

غزہ خود سمندر کے کنارے ایک چھوٹا علاقہ ہے جسے عالمی توجہ ملی ہے اور خاص طور پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں یہاں کے رہائشیوں کے حق میں آواز بلند کرتی رہیں ہیں۔ “آزادی غزہ تحریک” کے تحت دنیا←  مزید پڑھیے

فلسطین (29) ۔ حماس/وہاراامباکر

حماس 1987 میں قائم ہوئی تھی اور اس نے شہرت نوے کی دہائی میں اسرائیل کے شہروں پر کئے گئے خودکش حملوں سے پائی۔ جو فتح کی الاقصٰی بریگیڈ اور اسلامی جہاد سے زیادہ تھے۔ اگرچہ اس کی شہرت اس←  مزید پڑھیے

فلسطین (28) ۔ دیوار/وہاراامباکر

اسرائیلی حکومت 2003 سے ایک مغربی کنارے میں ایک رکاوٹ تعمیر کر رہی ہے۔ اس کو مختلف نام دئے جاتے ہیں۔ اسرائیلیوں میں زیادہ مقبول security fence ہے جبکہ فلسطینیوں میں apartheid wall۔ اسرائیلیوں کے لئے یہ ان کی حفاظت←  مزید پڑھیے

فلسطین (27) ۔ انتفاضہ الاقصٰی/وہاراامباکر

اوسلو معاہدوں کے دستخط کے بعد فلسطین میں جشن منائے گئے تھے لیکن اس میں بہت زیادہ وقت نہیں لگا جب اس کی جگہ گہری مایوسی نے لے لی۔ چند لوگوں کے لئے (جو فلسطینی اتھارٹی سے وابستہ تھے) حالات←  مزید پڑھیے

فلسطین (26) ۔ حل طلب مسائل (2)/وہاراامباکر

سرحدیں اگرچہ بہت سے برس لگے اور بہت سا خون بہا، لیکن دونوں اطراف سرکاری طور پر اس اصول پر اتفاق کر چکی ہیں کہ فلسطین اور اسرائیل کی الگ ریاستیں ہوں گی۔ فلسطینی سائیڈ نے اس دو ریاستی حل←  مزید پڑھیے

فلسطین (25) ۔ حل طلب مسائل (1)/وہاراامباکر

اس تنازعے کے حل میں چار بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ۱۔ یروشلم ۲۔ مہاجرین ۳۔ سرحدیں ۴۔ سیکورٹی اس کے علاوہ دیگر اہم مسائل بھی ہیں جن کا تعلق معیشت یا ذرائع سے ہے، جیسا کہ پانی کی تقسیم کا مسئلہ←  مزید پڑھیے

فلسطین (24) ۔ امن میں ناکامی/وہاراامباکر

چار نومبر 1995 کو اسحاق رابین تل ابیب میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کر کے واپس آ رہے تھے کہ انہیں ایک انتہاپسند اسرائیلی نے گولی مار کے قتل کر دیا۔ قاتل کو امن کے عمل پر غصہ تھا←  مزید پڑھیے

فلسطین (23) ۔ اوسلو معاہدے۔۔وہاراامباکر

دہائیوں تک اسرائیلی اور فلسطینی ایک دوسرے سے بات کرنے سے انکار کرتے رہے تھے۔ فلسطینی لیڈر اسرائیل کا نام تک ادا نہیں کرتے تھے۔ اسرائیلی لیڈر فلسطینیوں کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے، ان کو عرب کہا جاتا←  مزید پڑھیے

فلسطین (22) ۔ انتفاضہ اوّل/وہاراامباکر

اسرائیلی قبضے کو دو دہائیاں گزر چکی تھیں۔ فلسطینیوں کی نئی جنریشن جوان ہو چکی تھی جس نے ملٹری قبضے کے سوال کچھ نہیں دیکھا تھا۔ آزادی اظہار پر پابندی تھی، فلسطینی جھنڈے کی نمائش پر پابندی تھی، پی ایل←  مزید پڑھیے

فلسطین (21) ۔ لبنان جنگ کے اثرات/وہاراامباکر

پہلی لبنان جنگ اسرائیل کے لئے مہنگی ثابت ہوئی۔ یہ اسرائیل کے لئے ویسا رہا جیسا امریکہ کے لئے ویت نام۔ دنیا میں اس کا تاثر مجروح ہوا۔ اس کے عالمی تعلقات خراب ہوئے۔ مصر کے ساتھ تعلقات کے جو←  مزید پڑھیے

فلسطین (20) ۔ پہلی لبنان جنگ (۲)/وہارا امباکر

پہلی لبنان جنگ 6 جون 1982 کو شروع ہوئی تھی۔ اگرچہ کابینہ سے منظوری صرف پچیس میل علاقے میں اڑتالیس گھٹنے کی کارروائی کا بتا کر لی گئی تھی لیکن شیرون اور ایتن کے احداف اس سے بہت وسیع تھے۔←  مزید پڑھیے

فلسطین (19) ۔ پہلی لبنان جنگ (۱)/وہاراامباکر

لبنان اور اسرائیل کا زمین پر تنازعہ نہیں۔ دوسرے ہمسائیوں کے برعکس لبنان نے اسرائیل سے جنگ نہیں لڑی تھی (اگرچہ 1948 میں علامتی شرکت کی تھی)۔ لبنان جغرافیائی لحاظ سے چھوٹا، ملٹری کے لحاظ سے کمزور اور مذہبی لحاظ←  مزید پڑھیے

فلسطین (18) ۔ چوتھی جنگ/وہاراامباکر

جمال عبدالناصر کی 1970 میں وفات کے بعد ان کے نائب انوار السادات مصر کے صدر بنے۔ مصری بادشاہت کا خاتمہ کرنے والی فری آفیسرز موومنٹ میں سادات نمایاں کردار تھے۔ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ ان کا آئیڈیا سمجھا←  مزید پڑھیے

فلسطین (17) ۔ فلسطینی تحریکیں/وہاراامباکر

“عرب قوم پرست تحریک” کے بانی جارج حبش تھے۔ یہ بیروت سے پڑھے ہوئے ڈاکٹر تھے جنہیں لد سے بے دخل کیا گیا تھا۔ ضبشش نے نوجوانوں کے ساتھ ملکر یہ تنظیم بنائی تھی اور یہ مارکسسٹ خیالات کی تھی۔←  مزید پڑھیے

فلسطین (16) ۔ جنگ کے اثرات/وہاراامباکر

چھ روزہ جنگ مختصر تھی لیکن اس کے اثرات طویل مدت تھے۔ اسرائیل کا مغربی کنارے، گولان کی پہاڑیوں اور غزہ پر قبضہ ابھی تک جاری ہے۔ لیکن اس نے خطے کی پوری سیاست کو بدل دیا۔ یہ ناصر ازم←  مزید پڑھیے

فلسطین (15) ۔ تیسری جنگ/وہاراامباکر

یہ چھ روز کی جنگ تھی۔ پہلی برق رفتار سٹرائیک نے مصر، سیریا اور اردن کے زیادہ تر جنگی جہازوں کو زمین پر ہی تباہ کر دیا تھا۔ صحرا میں فضائی برتری کا مطلب یہ تھا کہ زمینی فورس کا←  مزید پڑھیے

فلسطین (14) ۔ دوسری جنگ/وہاراامباکر

مصر میں 1952 میں انقلاب آیا۔ جنرل محمد نجیب اور کرنل جمال عبدالناصر کی قیادت میں فوجی افسروں کی تحریک نے شاہ فاروق کو معزول کر دیا۔ بادشاہت ختم ہوئی، سوڈان کو آزادی ملی۔ برطانوی اثر ختم ہوا۔ عرب دنیا←  مزید پڑھیے

فلسطین (13) ۔ مہاجرین/وہاراامباکر

دوسری طرف فلسطینیوں کے لئے نکبہ ان کی شناخت کا مرکزی ستون بن گیا ہے جو نسل در نسل رہی ہے۔ یہ وہ ٹراما ہے جس نے ہر فلسطینی کی زندگی کو چھیڑا ہے۔ ذاتی طور پر یا آباء کو۔←  مزید پڑھیے