فلسطین (32) ۔ دو ریاستی حل/وہاراامباکر

مسئلہ فلسطین کا حل کیا ہے؟ اس کا پیشکردہ ایک حل دو ریاستوں کا قیام ہے۔ فلسطین اور اسرائیل۔ اور یہ حل بہت پرانا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی 1947 میں منظور کردہ قرارداد 181 یہی حل پیش کرتی ہے۔ لیکن اگرچہ یہودیوں نے اپنی ریاست حاصل کر لی لیکن فلسطینیوں نے نہیں۔ ان کو گھروں سے اور زمین سے محروم ہونا پڑا اور پچھلی پانچ دہائیوں سے اسرائیل کے قبضے میں رہنا پڑا ہے۔ فلسطینی ریاست کی تخلیق کو مسئلے کا بہترین حل سمجھا جاتا رہا ہے۔ اور 1990 کی دہائی میں اس حل تک پہنچنے کی امید بلند تھی۔ اسحاق رابین کے قتل، امن مذاکرات ختم ہو جانے اور پھر دوسرے انتفاضہ کے بعد اب ایسا نہیں۔ اس کی امید وقت کے ساتھ ماند پڑتی گئی ہے۔
اب، کم لوگ ہی ایسا سمجھتے ہیں کہ دو ریاستی حل نکل آئے گا۔ کسی وقت جو ناگزیر لگتا تھا، اب ناممکن سا لگتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسرائیلی اور فلسطینی سیاست بھی یہی بتاتی ہے کہ دو ریاستی حل مشکل میں ہے۔ اگرچہ اس کو اصولی طور پر دونوں فریقین نے قبول کر لیا تھا لیکن اب اس سے پیچھے ہٹتے جا رہے ہیں۔ اس قدر طویل کوششوں کے بعد اس کی امید باقی نہیں رہی۔ اور دونوں اطراف کا کہنا ہے کہ امن قائم کرنے کے لئے دوسری طرف کوئی ساتھی نہیں ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق اس حل کی سپورٹ اسرائیل میں 48 فیصد ہے (اسرائیلی یہودیوں میں یہ 39 فیصد ہے) جبکہ فلسطین میں 37 فیصد ہے۔ کسی وقت میں دونوں اطراف میں اسے بہت سپورٹ حاصل تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بارے میں یاسیت بلاوجہ نہیں، اچھی بنیاد پر ہے۔ اسے کام کرنے کے لئے تین مرحلے ہیں۔ پہلا یہ کہ نمائندگان کا مذاکرات میں حل پر متفق ہونا، دوسرا مرحلہ آپس میں طے کردہ شرائط کو اعلانیہ تسلیم کرنا اور اپنے لوگوں سے اس کو منوانا اور تیسرا مرحلہ اس پر کامیابی سے عملدارآمد کروانے کا ہے۔ ان تینوں مراحل میں سے ہر ایک بہت مشکل کام ہے۔ اگرچہ سیاسی ارادہ ہو تو یہ سب بھی ہو سکتا ہے لیکن اس وقت یہ ارادہ موجود نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا چیلنج امن مذاکرات کی بحالی ہے کیونکہ اس کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ ریاستِ فلسطین موجود ہے، دنیا کے اکثر ممالک اسے تسلیم کرتے ہیں اور یہ اقوامِ متحدہ میں مبصر کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس کا وجود حقیقت سے زیادہ کاغذ پر ہے۔ اسے حقیقت بنانے کے لئے اور فلسطینیوں کو خودمختاری دینے کے لئے اسرائیل کو مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ پر سے اپنا براہِ راست یا بالواسطہ کنٹرول ختم کرنا ہو گا۔ یہاں پر ایک پہلو یہ ہے کہ اسرائیل کی عسکری اور اکنامک پاور کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اسے زبردستی نہیں کروایا جا سکتا۔ اور عالمی دباوٗ عام طور پر قوم کو متحد کر دیتا ہے۔
مفاہمت کے ذریعے امن معاہدے تک پہنچنا طویل مدت امن کے قیام کی اچھی آپشن معلوم ہوتی ہے لیکن یہ ناکام رہی ہے۔ دونوں طرف کے زیادہ تر شہری اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ بات چیت کسی چیز کا حل نہیں۔ مذاکرات کا آخری راوٗنڈ کیمپ ڈیوڈ، طابا اور پھر اولمرٹ اور عباس کے درمیان 2013 اور 2014 میں ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیتن یاہو کو ان میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کے لئے سیکورٹی بڑی ترجیح تھی اور ان کا کہنا تھا کہ وہ فلسطین کو مکمل ریاست دے ہی نہیں سکتے۔ ایک نیم خودمختار ریاست فلسطینیوں کو قابلِ قبول نہیں ہو گی۔ مذاکرات ناکام ہی ہوں گے۔
نیتن یاہو 2015 کے انتخاب میں فلسطینی ریاست کا قیام روکنے کے وعدے پر آئے تھے۔ اس لئے انہیں کوئی امن مذاکرات شروع کرنے میں اندرونی دباوٗ بھی نہیں تھا۔ اسرائیل میں رائے عامہ کے لئے فلسطین تنازعہ طے کرنا اہم سیاسی ایشو نہیں رہا۔ ان کی ترجیحات سیکورٹی اور اکانومی ہیں۔
نیتن یاہو کا اپنا سیاسی فائدہ مذاکرات نہ کرنے میں رہا۔ ان کی کابینہ کے رائٹ ونگ وزراء دو ریاستی حل کے مخالف تھے۔ اور نازک مخلوط حکومت میں اس لائن سے ہٹ کر کوئی بھی قدم لینا حکومت خطرے میں ڈالنے والی بات تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس دو ریاستی حل کے حق میں ہیں۔ اور امن پراسس کے حامی رہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ وہ تھک چکے ہیں۔ ان کی عمر 85 سال ہے اور صحت بہت اچھی نہیں۔ ان کی توجہ پاور میں رہنے پر اور سیاسی مخالفین سے نپٹنے پر زیادہ ہے۔ ان پر بھی مذاکرات کے لئے کوئی اندرونی دباوٗ نہیں۔
محمود عباس کا سیاسی مفاد بھی مذاکرات نہ کرنے میں ہے۔ پی ایل او کی سینئیر قیادت اس کے حق میں نہیں اور ان کی حریف جماعت حماس اس کے خلاف ہے۔
اور اگر محمود عباس واپس مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو ان کے پاس پاپولر مینڈیٹ نہیں۔ ان کا عہدہ ختم ہونے کی معیاد 2009 تھی لیکن دوبارہ انتخاب نہیں ہوئے۔ عوامی سروے کے مطابق وہ پبلک سپورٹ کھو چکے ہیں اور زیادہ تر لوگ ان سے استعفے کی توقع رکھتے ہیں۔ چونکہ وہ فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں کرتے اس لئے امن مذاکرات میں کچھ بھی طے کرنے کا فائدہ نہیں ہو گا۔
ان وجوہات کی بنا پر اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ جلد امن مذاکرات بحال ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلسطین کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ نئی جنریشن نہ ہی پی ایل او اور نہ ہی حماس پر بھروسہ کرتی ہے۔ ان کو مفاد پرست اور کرپٹ قیادت سمجھا جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ دونوں جماعتیں شدید اختلافات رکھتی ہیں۔ دونوں الگ حصوں پر حکمران ہیں اور یہ حصے آپس میں منقطع ہیں۔ اس صورتحال میں یہ بھی طے نہیں کہ فلسطینی نمائندگی کا مطلب کیا ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اگر مذاکرات کسی طرح سے شروع ہو جاتے ہیں تو یہ ایسی کوئی وجہ نہیں کہ یہ توقع رکھی جائے کہ نتیجہ پہلے سے مختلف ہو گا۔ مرکزی ایشو ۔۔۔ یروشلم، مہاجرین، سرحدیں اور سیکورٹی ۔۔۔ ویسے ہی حل طلب ہیں۔ وقت کے ساتھ اگرچہ ان میں حل کی امید نظر آئی تھی اور دونوں اطراف کے اختلافات میں کمی ہوئی تھی لیکن اختلافات تو برقرار ہیں۔
اور ان کو پُر کرنے کے لئے کسی جذباتی طور پر تکلیف دہ اور سیاسی طور پر غیرمقبول سمجھوتے کرنے پڑیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو ریاستی حل پر اتفاق کرنا ایک بڑا چیلنج ہے لیکن اس کا عملی نفاذ اس سے بھی بڑا۔ امن کے معاہدے کی اپنی عوام سے قبولیت لینا پڑی گی جو یقینی نہیں۔ تاریخی طور پر ایسے واقعات ہو چکے ہیں کہ مشکل سے طے کردہ امن ڈیل کو ووٹروں نے مسترد کر دیا (قبرص میں 2004 میں اور کولمبیا میں 2016 میں)۔
ایک طرف تو دو ریاستی حل کی عوامی مقبولیت کم ہو رہی ہے لیکن اس تک پہنچنے کی جزئیات پر حمایت حاصل کرنا اصل بڑا مسئلہ ہے۔ مہاجرین کے مسئلے پر اتفاق کا کیا مطلب ہو گا؟ یروشلم پر کس کا کنٹرول ہو گا؟ یہ بڑے حل طلب مسائل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن رائے عامہ جامد نہیں ہوتی۔ ٹھیک سیاسی ماحول ہو تو اس کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی حل تک پہنچ سکا جائے تو دونوں طرف سے لوگوں کی بڑی تعداد اسے مسترد کر دے گی۔ یہ تعجب کی بات نہیں، ایسا ہی ہوتا ہے۔ صرف یہ کہ یہ مخالفت کس قدر قوت سے کی جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب اسرائیل نے فیصلہ لیا تھا کہ اس نے غزہ کی بستیاں چھوڑ دینی ہیں تو اسرائیلی ڈیفنس فورس نے صرف پانچ روز میں آٹھ ہزار اسرائیلیوں سے ان کو کامیابی سے خالی کروا لیا تھا۔ زیادہ تر آبادکاروں نے انہیں خالی کرنے سے انکار کر دیا تھا اور سختی سے ڈٹے رہے تھے لیکن انہیں قوت سے گھروں سے نکال دیا گیا تھا۔ ان کی حمایت کرنے مغربی کنارے سے بھی آبادکار آئے تھے۔ خدشہ تھا کہ مزاحمت مسلح تصادم کی طرف جا سکتی ہے لیکن یہ آرام سے ہو گیا تھا۔ صرف یہ کہ لوگوں کو کھینچ کر اور گھسیٹ کر گھروں سے نکالنا پڑا تھا جو چیخ چلا رہے تھے۔ لیکن ایک گولی بھی نہیں چلی تھی۔
یہ دکھاتا ہے کہ آبادیاں خالی کی جا سکتی ہیں۔ اگرچہ امن کی صورت میں اس سے کئی گنا زیادہ آبادیاں خالی کرنا پڑیں گی لیکن اسرائیلی حکومت ایسا کرنے کی اہل ہے، اگرچہ کہ یہ بہت مہنگا سودا ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر اسرائیل کے لئے معاہدے پر عملدرآمد مشکل ہے تو فلسطینی اتھارٹی کے لئے مشکلات زیادہ ہیں۔ خاص طور پر مخالف سیاسی جماعت کے ہارڈلائنرز سے۔
حماس کو انتہاپسند گروپ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن یہ تاثر اس تنظیم کی ٹھیک عکاسی نہیں کرتا۔ اس نے بہت سے معاملات پر معتدل پوزیشن لی ہے۔ اسکی طرف سے دو ریاستی حل کی حمایت کی ضرورت نہیں، صرف یہ کہ کسی بھی معاہدے کے عملدرآمد میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ حماس کی پوزیشن یہ ہے کہ اگر کوئی بھی معاہدہ ہوا جس کو ریفرنڈم میں لوگوں نے قبول کر لیا تو وہ اس کا احترام کرے گی۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ پی ایل او یہ صلاحیت نہیں رکھتی کہ حماس سے زبردستی کچھ بھی منوا سکے۔
دوسرا یہ کہ اگر حماس مغربی کنارے میں بھی حکومت میں آ جاتی ہے تو پھر دو ریاستی حل کا امکان بالکل ہی ختم ہو جائے گا، کیونکہ حماس فلسطینی اتھارٹی کا کیا گیا کوئی معاہدہ تسلیم نہیں کرتی۔
(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply