ولیم کارلوس ولیمز نے ایک بار لکھا تھا، “جب ایک شخص مرتا ہے تو اس لئے کہ موت اس کے ذہن پر حاوی ہو چکی ہوتی ہے”۔ ایک ڈاکٹر کا کام مریض کے ذہن پر موت کو حاوی ہونے سے← مزید پڑھیے
میموگرافی سادہ تکنیک ہے جو ہائی رسک خواتین میں کینسر جلد تشخیص کر کے عمر بڑھا سکتی ہے۔ لیکن آخر ایسا کیوں ہے کہ اتنی سادہ، سستی اور آسان تکنیک سے ہونے والے فائدہ کو جانچنے میں پانچ دہائیاں اور← مزید پڑھیے
کیا میموگرافی کی سکریننگ کی مدد سے خواتین کو چھاتی کے کینسر سے بچایا جا سکتا ہے؟ اس کو ٹیسٹ کرنے کا بیڑا تین لوگوں نے اٹھایا۔ لوئی وینیٹ جو ایک سرجن تھے۔ سام شاپیرو جو ماہرِ شماریات تھے اور← مزید پڑھیے
ماہرینِ امراض بیماری کے بچاوٗ کو دو طریقے سے دیکھتے ہیں۔ پرائمری بچاوٗ میں بیماری کی وجہ پر قابو پایا جاتا ہے۔ مثلاً، پھیپھڑوں کے کینسر سے بچنا ہو تو سگریٹ کے دھویں سے دور رہا جائے۔ جگر کے کینسر← مزید پڑھیے
کینسر کی پیدائش (کارسینوجینیسس) اگر رفتہ رفتہ ہوتی ہے۔ ابتدائی سٹیج سے لے کر باغی خلیوں کے مجمع تک کا سفر اگر ایک ایک قدم لے کر ہوتا ہے تو کیا اس پیدائش کو شروع میں روکا جا سکتا ہے؟← مزید پڑھیے
کارسنوجن میں سب سے عجیب دریافت وائرس یا کیمیکل نہیں بلکہ ایک خلیاتی جاندار تھا، جو کہ ایک بیکٹیریا تھا۔ بیری مارشل اور رابن ولیم آسٹریلیا کے رائل پرتھ ہسپتال میں پیٹ کی سوزش، گیسٹرائٹس پر تحقیق کر رہے تھے۔← مزید پڑھیے
نہ ہی کیمیلز واحد کارسنوجن تھے اور نہ ہی ایمس کا ٹیسٹ اس کا جاننے کا واحد طریقہ تھا۔ باروچ بلومبرگ نے دریافت کیا کہ انسانی ہیپاٹائٹس وائرس سے ہونے والی طویل سوزش بھی کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔← مزید پڑھیے
کینسر کے خلاف جنگ میں ہونے والی سب سے بڑی اور اہم ترین تمباکو نوشی کے خلاف ہے۔ 1980 کی دہائی میں سگریٹ نوشی کے خلاف اقدامات نے کینسر کا شکار ہو جانے والوں میں نمایاں کمی کی لیکن اس← مزید پڑھیے
گیارہ جنوری 1964 کو واشنگٹن کھچا کھچ بھرے کمرے میں لوتھر ٹیری کی رپورٹ صحافیوں کے آگے پیش کی گئی۔ اگلی صبح یہ نہ صرف امریکہ میں بلکہ باقی ممالک میں بھی اخبارات کے فرنٹ صفحات پر تھی۔ یہ زبردست← مزید پڑھیے
امریکن کینسر سوسائٹی، امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن اور قومی تپدق کی تنظیم نے 1961 میں صدر کینیڈی کو مشترک خط لکھا۔ اس میں درخواست کی گئی کہ سگریٹ نوشی اور صحت کے تعلق کی تفتیش کے لئے کمیشن بنایا جائے۔← مزید پڑھیے
کیا تمباکو نوشی کینسر کی وجہ ہے؟ اس سوال میں بڑا مسئلہ “وجہ” کا لفظ ہے۔ سائنس کے فلسفے میں “کاز” ایک بہت پیچیدہ تصور ہے۔ جہاں تک بیماری کی وجہ کا تعلق ہے تو اس پر 1884 میں مائیکروبائیولوجسٹ← مزید پڑھیے
جنگ سے عام طور پر دو صنعتیں سب سے زیادہ ترقی کرتی ہیں۔ اسلحہ اور سگریٹ۔ دوسری جنگِ عظیم میں سگریٹ کی فروخت سب سے تیزی سے بڑھی۔ اور اس سے اگلی دہائی میں بھی بڑھنے کا سلسلہ جاری رہا۔← مزید پڑھیے
“انیسویں صدی میں شماریات کی مدد سے کئی بہت اہم دریافتیں کی گئی تھیں۔ لندن کے شماریاتی یونٹ کے سیمینارز میں دنیا بھر سے لوگ شرکت کے لئے آتے تھے۔ اس یونٹ کے کمروں میں بھاری بھرکم برونسویگا کیلکولیٹر کی← مزید پڑھیے
“برطانیہ میں پھیپھڑے کے کینسر کی شرح بڑھ رہی ہے۔ پچھلے بیس سال میں یہ پندرہ گنا بڑھ چکی ہے۔ اس معاملے پر تحقیق کئے جانے کی ضرورت ہے”۔ یہ برطانیہ میں محکمہ شماریات کی طرف سے 1947 میں محکمہ← مزید پڑھیے
سن 1761 میں لندن کے ایک نوجوان دواساز جان ہل نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک بظاہر بڑی معصوم لگنے والی شے کارسنوجن ہے۔ شائع کردہ پمفلٹ میں ہل نے دعویٰ کیا تھا کہ تمباکو ہونٹ، منہ اور گلے کے← مزید پڑھیے
سن 1775 میں پرسیوال پوٹ اپنے کلینک میں سکروٹم کینسر کے واقعات دیکھ رہے تھے۔ پوٹ ایک باریک بین شخص تھے۔ ان کو پہلے یہ خیال آیا کہ ان ٹیومرز کو ختم کرنے کیلئے سرجیکل پروسجیر بنایا جائے۔ لیکن ان← مزید پڑھیے
بیلار اور سمتھ نے کینسر کی شماریاتی رپورٹ میڈیکل جرنل میں شائع کی۔ اس کے مطابق میں 1962 سے 1985 کے درمیان کینسر سے ہونے والی اموات میں ساڑھے آٹھ فیصد “اضافہ” ہوا تھا۔ یہ رپورٹ اونکولوجی کے لئے تہلکہ← مزید پڑھیے
روزانہ کی خبریں پڑھنے اور سننے کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ روز کی خبریں یہ چھپا دیتی ہیں کہ ہو کیا رہا ہے۔ اور یہ جتنی زیادہ ہوں، منظر اتنا زیادہ دھندلا جاتا ہے۔ کینسر کے خلاف جنگ میں← مزید پڑھیے
اونکولوجی وارڈز میں “ایک وجہ، ایک علاج” کی ڈاکٹرائن کے تحت بلاتخصیص سائیٹوٹوکسک ادویات کا اسلحہ پورے زور سے استعمال کئے جانے کا طریقہ جاری تھا۔ اور اس کی تین وجوہات تھیں۔ ایک مریضوں کا تقاضا تھا کہ کچھ کیا← مزید پڑھیے
پال کاربون ایک تجربہ کرنا چاہتے تھے۔ ان کا سوال یہ تھا “ابتدائی سٹیج کے کینسر میں اگر آپریشن کے ساتھ کیموتھراپی بھی کر دی جائے تو کیا بہتر نتائج مل سکتے ہیں؟” لیکن انہیں ایک مسئلہ تھا۔ کینسر کے← مزید پڑھیے