کینسر (52) ۔ وائرس، جگر، خون اور ویکسین/وہاراامباکر

نہ ہی کیمیلز واحد کارسنوجن تھے اور نہ ہی ایمس کا ٹیسٹ اس کا جاننے کا واحد طریقہ تھا۔ باروچ بلومبرگ نے دریافت کیا کہ انسانی ہیپاٹائٹس وائرس سے ہونے والی طویل سوزش بھی کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔

بلومبرگ کی دلچسپی جینیاتی اینتھروپولوجی میں تھی۔ وہ جین اکٹھا کرنے، ان کی پیمائش اور کلاسیفیکشن کرنا چاہتے تھے اور ان کے بیماریوں سے تعلق کا پتا لگانے کے لئے 1960 کی دہائی کے آخر میں کام کر رہے تھے۔
مسئلہ یہ تھا کہ اس وقت تک ڈی این اے کا سٹرکچر بڑی حد تک نامعلوم تھا۔ اور انسانی جینیات کا تجزیہ نہیں کیا گیا تھا۔ جینیات کی ویری ایشن کا علم بالواسطہ مشاہدات سے لگایا جاتا تھا۔
خون کی پروٹین، اینٹی جن، میں افراد کے درمیان فرق تھا اور یہ خاندانوں میں وراثتی طور پر چلتی تھی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اس ویری ایشن کا سورس جینیاتی تھا۔ سادہ ٹیسٹ کے ذریعے ان پروٹینز کی پیمائش ہو جاتی تھی اور مختلف آبادیوں میں ان کا موازنہ کیا جا سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلومبرگ نے دور دراز سے خون اکٹھا کرنا شروع کیا۔ افریقہ میں فولانی قبیلے سے ہسپانوی باسک چرواہوں تک وہ اینٹی جن کا ریکارڈ منظم کر رہے تھے۔ انہیں امید تھی کہ بیماریوں سے ان کا تعلق بنایا جا سکے گا۔ یہ ایک عجیب اپروچ تھی۔
ایک اینٹی جن جس نے ان کی توجہ حاصل کی، آسٹریلیا کی ایب اوریجنل آبادی میں، کچھ ایشیائی اور افریقی آبادیوں میں پایا گیا تھا جبکہ یورپی اور امریکی آبادیوں میں نہیں تھا۔ بلومبرگ نے اسے آسٹریلیا اینٹی جن کا نام دیا۔ مختصراً اسے اے یو کہا جاتا ہے۔
بلومبرگ نے 1966 میں اس اینٹی جن کو زیادہ تفصیل سے پڑھنے کا کام شروع کیا۔ اور اس میں ایک عجیب تعلق نظر آیا۔ ایسے افراد جن میں یہ اینٹی جن پائی جاتی تھی، ان میں کرونک ہیپاٹائٹس کا شکار ہونا عام تھا۔ یہ جگر کی بیماری ہے۔ ان کے جگر کی پیتھالوجی بتاتی تھی کہ اس میں ضرر اور مرمت کے سائیکل جاری ہیں۔ کچھ جگہوں پر خلیات مرتے ہیں اور دوسرے خلیات کی ان مرمت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے جگر چھوٹا اور زخمی ہو جاتا ہے۔ یہ کرونک سائیروسس ہے۔
ایک قدیم اینٹی جن اور سائیروسس کا تعلق یہ بتاتا تھا کہ جگر کی بیماری میں وراثتی عنصر موجود ہے۔
یہاں پر ایک اتفاق ہوا جس نے بلومبرگ کی سٹڈی کا رخ تبدیل کر دیا۔
ان کی لیبارٹری ایک نوجوان مریض کو دیکھ رہی تھی جو ذہنی معذوری کے کلینک میں تھا۔ ابتدا میں اس کے خون کے ٹیسٹ نے بتایا تھا کہ وہ Au منفی ہے۔ لیکن بعد میں ہونے والے ایک ٹیسٹ میں اچانک ہی یہ مثبت میں تبدیل ہو گیا تھا۔ اور جب اس کے جگر کے فنکشن کو دیکھا گیا تو اس میں ہیپاٹائٹس دریافت ہو گیا۔
لیکن ایک جین اچانک تبدیل کیسے ہو گئی اور ہیپاٹائٹس کیسے ہو گیا؟ جینز خود ہی آن یا آف نہیں ہوتیں۔ بلومبرگ کی جینیاتی ویری ایشن کی خوبصورت تھیوری کے سامنے ایک بدصورت فیکٹ نمودار ہو گیا تھا۔
جلد ہی انہیں معلوم ہو گیا کہ اے یو نہ ہی انسانی پروٹین ہے اور نہ ہی خون کا اینٹی جن۔ یہ ایک وائرل پروٹین ہے جو انفیکشن کی علامت ہے۔ اس مریض میں یہ جرثومہ آ گیا تھا اور اس نے اے یو کو مثبت کر دیا تھا۔
بلومبرگ اب اس آرگنزم کو پتا لگانا چاہ رہے تھے جو اس انفیکشن کا ذمہ دار ہے۔ 1970 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ان کی ٹیم نے ایک نئے وائرس کے ذرات حاصل کر لئے۔ اس کو ہیپائٹاٹس بی کا وائرس یا HBV کہا گیا۔
اس وائرس کا سٹرکچر سادہ تھا۔ اور یہ انسان کو انفیکٹ کرنے والے چھوٹے ترین وائرس میں سے ہے۔ اس کا قطر تقریباً 42 نینومیٹر ہے۔ لیکن اس کے سادہ سٹرکچر سے غیرمعمولی طور پر پیچیدہ مظاہر برآمد ہوتے ہیں۔ انسانوں میں یہ بغیر علامت کے انفیکشن سے ایکیوٹ ہیپاٹائٹس سے سائیروسس تک بہت متنوع قسم کی بیماری کا باعث بنتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وائرس کی شناخت نے ماہرینِ امراض کے لئے ایکٹیویٹی کا طوفان کھڑا کر دیا۔ 1969 تک جاپانی محققین یہ معلوم کر چکے تھے کہ متاثرہ مریض کا خون لگوانے سے یہ ایک فرد سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔ اے یو اینٹی جن کو اگر سکرین کر لیا جائے تو ہیپاٹائٹس کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور بیماری کا تعلق ایچ بی وی سے مل گیا۔ یہ ایک مکار قسم کا کینسر تھا جو ایشیا اور افریقہ میں عام تھا۔ جب وائرس کی انفیکشن برسوں اور دہائیوں تک جگر پر گزند پہنچاتی لگاتی رہتی تھی تو ایسے زخمی جگر سے یہ اٹھتا تھا۔ زخم ہونے اور مرمت ہونے کا یہ سائیکل کینسر کے لئے رسک فیکٹر تھا۔ ہیپاٹائٹس بی کا شکار ہونے والوں میں اس کینسر کا خطرہ پانچ سے دس گنا زیادہ تھا۔
یعنی کہ ایچ بی وی کارسنوجن تھا۔ اور ایسا جو کہ ایک سے دوسرے میزبان میں منتقل ہو سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایچ بی وی کی دریافت نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کے لئے باعثِ شرمندگی تھی۔ ان کا بھاری فنڈنگ والا سپیشل وائرس کینسر پروگرام ہزاروں بندروں میں وائرس منتقل کرنے کی کوششوں کے باوجود ایک بھی ایسا وائرس ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہو تھا جس کا تعلق انسانی کینسر سے ہو۔ جبکہ ایک جینیاتی اینتھروپولوجسٹ نے اینٹی جن پر تحقیق میں ایسے وائرس کا پتا لگا لیا تھا۔
پہلے سے طے شدہ حدف کی تلاش کرنے والی ریسرچ کے طریقے میں یہ ایک ناکامی تھی۔ اور اس سے زیادہ بڑی ضرب یہ کینسر وائرس تھیوری کے لئے تھی۔ یہ وائرس کینسر کی بالواسطہ کاز تھا۔ وائرس جگر میں سوزش کرتا تھا جبکہ یہاں پر خلیاتی موت اور مرمت کا سائیکل تھا جو کینسر کا ذمہ دار معلوم ہوتا تھا۔ وائرس اور کینسر کے براہِ راست تعلق کی امید رکھنے والوں کے لئے یہ دھچکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلومبرگ کے لئے ایسے مباحث کا وقت نہیں تھا اور ان کا مطمع نظر پوائنٹ سکورنگ نہیں تھا۔ وہ عملیت پسند تھے اور انہوں نے اپنی ٹیم کو ایچ بی وی کے خلاف ویکسین کی تیاری پر لگا دیا۔ 1979 تک اس میں کامیابی ہو چکی تھی۔ یہ ایچ بی وی انفیکشن سے بچاتی تھی۔
وجہ سے بچاوٗ تک بنیادی تعلق بنا لیا گیا تھا۔ بلومبرگ نے وائرل کارسنوجن تلاش کر لیا تھا، اس کے پھیلنے کا طریقہ معلوم کر لیا تھا اور خون کے عطیے کے وقت سکریننگ سے انہوں نے اس کے پھیلاوٗ پر قابو پانے کا طریقہ بن گیا تھا۔ اور پھر ویکسین کی مدد سے اس کو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دینے کا طریقہ بھی مل گیا تھا۔
یہ خوبصورت سائنسی پیشرفت تھی۔
(جاری ہے)

Advertisements
julia rana solicitors
FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

(ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین ان افراد کو ضرور لینی چاہیے جو ہائی رسک ہیں۔ ان میں وہ نوزائیدہ بچے ہیں جن کی والدہ کو ہیپاٹائٹس ہو۔ اس کے علاوہ ذیابیطس کے مریض، ایچ آئی وی مثبت افراد اور وہ افراد شامل ہیں جنہوں نے کسی عضو کا عطیہ لیا ہو)۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply