آگے بڑھنے سے پہلے ایک سوال۔ سماج آخر ہے کیا؟ سماج افراد کے گروہ ہیں جو نسل در نسل ساتھ رہتے ہیں۔ کسی سماج کا ممبر ہونا انتخاب نہیں۔ کسی بیرونی ممبر کے لئے اس میں داخلہ مشکل سے ہوتا← مزید پڑھیے
زمانہ قدیم سے انسانی سماج موجود رہے ہیں۔ اور انسان ایسے چند ایک جانداروں میں سے ہے جو اتنے بڑے گروہ بنا سکتا ہے۔ اور کسی فرد کے لئے یہ تعلق اسے طاقت بھی دیتا ہے اور شناخت بھی۔ اور← مزید پڑھیے
ہم ایک لامحدود کائنات میں موجود ہیں جو طبعی قوانین میں بندھی ہوئی ہے۔ اور اور میں ہمارا شعور گوشت پوست کے بنے فانی جسم میں قید ہے۔ ٹیکنالوجی اور جدتوں کے اس تیزرفتار دور میں کیا ایسا ممکن ہو← مزید پڑھیے
جیزہ کے عظیم ہرم کے درمیان میں “غرقة الملک” (بادشاہ کا کمرہ) ہے۔ اس کمرے میں صرف ایک ہی شے ہے۔ ایک مستطیل صندوق جو کہ اسوان کے سنگِ خارا سے بنا ہے اور ایک کونے سے ٹوٹا ہوا ہے۔← مزید پڑھیے
مشہور ترین تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک بچے کو ایک کمرے میں بٹھا دیا گیا اور سامنے ایک مارش میلو (ایک مٹھائی) رکھ دی۔ تجربہ کرنے والا کمرے سے باہر گیا اور جاتے ہوئے کہہ گیا کہ بچہ یہ کھا← مزید پڑھیے
میں 2012 میں انڈونیشیا چودہ برس بعد گیا۔ کئی جگہوں پر خوشگوار حیرت ہوئی۔ پہلا تو فضائی سفر تھا۔ انڈونیشیا کی ائیرلائن اپنی سروس کے بارے میں بدنام تھی۔ رشوت عام تھی۔ لیکن 2012 تک گاروڈا علاقے کی بہترین ائیرلائن← مزید پڑھیے
یکم اکتوبر 1965 انڈونیشیا کی تاریخ کا رخ موڑنے والا اہم دن تھا۔ انڈونیشیا میں اختیارات اور نظریات کی بنیاد پر کشمکش جاری تھی۔ یہ بابائے قوم سوئیکارنو، افواج اور کمیونسٹ کے درمیان کی سہہ فریقی کشیدگی تھی جس میں← مزید پڑھیے
انڈونیشیا میں بغاوت ناکام ہو چکی تھی۔ چار اکتوبر 1965 کو سوہارتو لوبانگ بویا کے علاقے میں گئے۔ یہاں پر اغوا کئے جانے والے جنرلوں کی لاشوں کو کنویں میں پھینکا گیا تھا۔ فوٹوگرافروں اور ٹی وی کیمروں کے سامنے← مزید پڑھیے
جب انڈونیشیا آزاد ہوا تو اس کے پاس کوئی جمہوری روایات نہیں تھیں۔ جمہوریت کے لئے بنیادی عوامل میں عام تعلیم کی ضرورت ہے۔ اختلافِ رائے کے حق کی ضرورت ہے۔ مختلف نقطہ نظر کو برداشت کئے جانے کی ضرورت← مزید پڑھیے
انڈونیشا ملک تو بن گیا لیکن نئے ملک کو سنگین مسائل کا سامنا تھا جو کہ آزادی کے وقت سے پہلے سے چلے آ رہے تھے۔ نیدرلینڈز کا اس کو کالونی بنانے کا مقصد خود کو فائدہ پہنچانا تھا۔ انڈونیشیا← مزید پڑھیے
کالونیل دور میں پرتگال، ڈچ اور پھر برٹش نے جزیروں پر قبضہ کرنا شروع کیا۔ پرتگال محض مشرقی تیمور پر قبضہ رکھ سکا۔ برٹش بورنیو پر۔ جبکہ ڈچ سب سے کامیاب رہے۔ انڈونیشیا کی نصف آبادی جاوا میں ہے۔ اور← مزید پڑھیے
جب دنیا میں مسلمان آبادی کی بات کی جاتی ہے تو کئی بار اس سے مراد مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو لیا جاتا ہے۔ اور یہ عجیب ہے۔ کیونکہ مسلمان آبادی کے بڑے پانچ ممالک مشرقِ وسطٰی میں نہیں ہیں۔← مزید پڑھیے
مندرجہ ذیل واقعہ ملاڈینو کا ہے۔ “دوسری جنگِ عظیم میں میرے والد مشقت پر لگائے گئے تھے۔ ان کو تیس بچوں کے گروپ کا نگران لگایا گیا تھا جن کا کام بکریوں، مرغیوں اور جانوروں کی رکھوالی تھا۔ ہر روز← مزید پڑھیے
مندرجہ ذیل واقعہ ملاڈینو نے لکھا ہے۔ میری والدہ ساتھ والے گھر میں رہتی ہیں۔ چند سال پہلے انہیں نیا بلینڈر چاہیے تھا۔ ان کی عمر نوے سال کے قریب تھی۔ وہ کوشش کرتی تھیں کہ مجھے کام نہ کہیں۔← مزید پڑھیے
بائیس ستمبر 1930 کو چرچ کی طرف سے نوجوان nuns کو کہا گیا کہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں تین سو الفاظ پر مشتمل ایک مضمون لکھیں۔ یہ خواتین زیادہ تر بیس سے پچیس سال کے درمیان کی تھیں۔← مزید پڑھیے
نوجوان سائنسدان نے چرس کا کش لیا تھا۔ اپنے دوست کے کمرے میں بستر پر لیٹے ہوئے چھت کو دیکھ رہا تھا۔ یہ ایک پودے کا سایہ تھا۔ آوارہ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے اسے اس سائے میں ایک گاڑی← مزید پڑھیے
جوڈتھ سسمین ایک کھلنڈری لڑکی تھیں۔ گھنٹوں تک غبارہ لے کر سیر کرنا، گڑیوں سے کھیلنا، کہانیاں اور کردار بنانا ۔۔۔ ان کی اپنی تصوراتی دنیا تھی۔ ان کی شادی ایک مختلف ذہن رکھنے والے اپنے ہم جماعت سے ہوئے۔← مزید پڑھیے
شاید آپ نے کھسکے ہوئے فنکاروں، فلسفیوں اور سائنسدانوں کے بارے میں سنا ہو۔ اور ایسا تاثر غلط نہیں اور یہ صرف فنکاروں یا سائنسدانوں تک محدود نہیں۔ ایسے شعبے جہاں پر لچکدار سوچ کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے، وہاں← مزید پڑھیے
“آپ کا منہ بالکل کشمش جیسا لگ رہا ہے”۔ جب میری بیٹی نے یہ بات اپنی دادی جان کو کہی تو وہ انہوں نے اسے معصومانہ فقرہ سمجھ کر مسکرا کر نظرانداز کر دیا۔ لیکن اس میں ایک باریک خوبصورتی← مزید پڑھیے
کیا آپ کے ساتھ کبھی ہوا ہے کہ آپ کی آنکھوں کے عین سامنے کوئی واقعہ ہو رہا ہو اور آپ کو اس کا پتا ہی نہ لگے۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہوتا تو یہ درست← مزید پڑھیے