انڈونیشیا (6) ۔ سوہارتو/وہاراامباکر

انڈونیشیا میں بغاوت ناکام ہو چکی تھی۔ چار اکتوبر 1965 کو سوہارتو لوبانگ بویا کے علاقے میں گئے۔ یہاں پر اغوا کئے جانے والے جنرلوں کی لاشوں کو کنویں میں پھینکا گیا تھا۔ فوٹوگرافروں اور ٹی وی کیمروں کے سامنے ان لاشوں کو نکالا گیا۔ پانچ اکتوبر کو جنرلوں کے تابوتوں کو جکارتہ کی سڑکوں پر گھمایا گیا۔ ہزاروں لوگوں نے اس کو دیکھا۔ ان کی موت کا ذمہ دار کمیونسٹ پارٹی کو قرار دیا گیا (اگرچہ یہ بغاوت فوج کے اندر سے ہوئی تھی)۔ ملک میں پراپیگنڈہ مہم شروع ہوئی جس نے ملک میں ہسٹیریا کا ماحول بنا دیا۔ بدلہ لئے جانا اب ملک کی پہلی ترجیح تھی۔ صدر سوئیکارنو نے یہ سب روکنے کی کوشش کی لیکن صورتحال ان کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ پانچ اکتوبر کے بعد ملٹری نے پارٹی سے منسلک ہر شخص کے خلاف ایکشن شروع کر دیا۔ نہ صرف ممبران کے خلاف، بلکہ ان کے گھر والوں کے خلاف بھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دوران کتنے لوگ مارے گئے؟ اس کی گنتی موجود نہیں۔ کچھ لوگ بیس لاکھ بھی بتاتے ہیں لیکن عام طور پر پانچ لاکھ کا عدد سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ عدد ہے جو صدر سوئیکارنو کے قائم کردہ کمیشن نے بتایا تھا۔ قتل کا طریقہ سادہ تھا۔ ڈنڈوں سے کیا جاتا تھا۔ یا پھر گلا دبا کر مارا جاتا تھا۔ یہ ایک سال تک جاری رہا۔ اور یہ ہجوم کے اشتعال میں کئے گئے قتل نہیں تھے۔ یہ فوج کے سب سے مضبوط حریف کو ختم کرنے کیلئے کیا گیا تھا اور یہ مہم کامیاب رہی۔
سوئیکارنو نے خوو کو تاحیات صدر بنایا تھا۔ اور عوام میں حمایت بھی رکھتے تھے۔ سوہارتو آرمی کے ایک جنرل تھے۔ لیکن وہ ایک ماہر سیاستدان نکلے۔ بغاوت میں فوج کی سینئیر قیادت ماری گئی تھی۔ سوہارتو نے دوسرے ملٹری لیڈرز کی حمایت حاصل کر کے اگلے ڈھائی سال میں آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنائی۔ مارچ 1966 میں سوئیکارنو کو اپنے اختیارات سوہارتو کے حوالے کرنے پر دستخط کروا لئے۔ مارچ 1967 کو قائم مقام جبکہ مارچ 1968 میں سوئیکارنو کو باقاعدہ طور پر ہٹا کر صدر بن گئے۔
سوہارتو اگلے تیس سال تک انڈونیشیا کے صدر رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوہارتو کا حکومت کرنے کا انداز سوئیکارنو سے مختلف تھا۔ ان کی توجہ اندرونی مسائل پر تھی۔ ملیشیا سے جنگ ختم کی۔ واپس اقوامِ متحدہ میں شمولیت اختیار کی۔ چین سے دوستی کم کی اور مغربی ممالک سے روابط بڑھائے۔
سوہارتو کو خود معیشت کی سوجھ بوجھ نہیں تھی۔ معیشت کا کام انہوں نے انڈونیشیا کے ماہرین کے حوالے کر دیا۔ سب سڈیاں ختم کرنے، بجٹ متوازن کرنے، مہنگائی کم کرنے، قومی قرض کم کرنے میں کامیابی ہوئی۔ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آئی۔ انڈونیشیا کے معدنیات اور تیل سے فائدہ اٹھایا گیا۔
سوہارتو کا دوسرا کام فوج کو کارِ سرکار میں بڑا کردار دینا تھا۔ یہ متوازی حکومت تھی جس کے پاس بھاری بجٹ تھا۔ صوبائی گورنر، شہروں کے مئیر، مقامی انتظامیہ میں بڑی تعداد فوج افسروں کی تھی۔
جوابدہی نہ ہونے کا مطلب بے لگام کرپشن تھا۔ سوہارتو خود تعیش پسند نہیں تھے۔ لیکن ان کی بیوی اور بچوں پر بھاری کرپشن کے الزامات تھے۔ سوہارتو کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان کی دولت ان کے بزنس میں مہارت کی وجہ سے ہے۔ سوہارتو کی بیوی کو ایبو ٹین (مادام 10 پرسنٹ) کہا جاتا تھا۔ کیونکہ افواہ تھی کہ ہر سرکاری معاہدے کا دس فیصد انہیں جاتا ہے۔ جب سوہارتو کا دور ختم ہوا تو انڈونیشیا دنیا میں کرپشن میں نمبر ون تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
سوہارتو کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا کے لوگ غیرمنظم اور جاہل ہیں۔ انہیں آسانی سے گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ ملک جمہوریت کے لئے تیار نہیں۔ اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں “ہمارے ملک میں مغرب کے طرز کی حزبِ اختلاف کی گنجائش نہیں۔ اس سے ملک میں بڑی لڑائی پیدا ہوتی ہے۔ ہم مشرقی لوگ ہیں اور اتفاقِ رائے سے کام کرتے ہیں۔ سب میں اتفاق ہونا چاہیے ورنہ ملک میں کنفیوژن رہے گی”۔
سوہارتو نے اپنے اس نظریے کا ملک میں سختی سے نفاذ کیا۔ احتجاج اور ہڑتال کی گنجائش نہیں تھی۔ علاقائیت پسندی کی گنجائش بھی نہیں تھی۔ آپ صرف انڈونیشیائی کہلا سکتے تھے۔ ملک میں سیاسی جماعتوں کی اجازت رہی لیکن حکومتی جماعت گولکار ہمیشہ ستر فیصد سے زائد ووٹ لیتی تھی۔ دوسری جماعتوں میں اسلامی جماعت تھی اور ایک سیکولر جماعت لیکن یہ الیکشن میں ہار جاتی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ وہ وقت تھا جب انڈونیشیا سات جنرلوں کی یاد پر قائم تھا جو “انقلاب کے ہیرو” تھے۔ ان کی یاد میں ہر سال سرکاری تقریبات ہوا کرتی تھیں۔ تیس ستمبر کے دن کو تمام ٹی وی چینل پر اور تمام سکولوں میں اس واقعے پر بنی چار گھنٹے کی فلم دکھائی جاتی تھی (جسے دیکھنا لازم تھا)۔ سرکاری بیانیے کے مطابق یہ وہ دن تھا جب ملک نے حقیقی آزادی حاصل کی تھی۔
ہر نئی پارلیمنٹ سوہارتو کو مزید پانچ سال کے لئے صدر منتخب کرتی تھی۔ انہیں ساتویں بار منتخب کر لیا گیا تھا لیکن پھر اچانک اور غیرمتوقع طور پر ان کی حکومت مئی 1998 میں گر گئی۔ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ ایک تو ایشیائی کرنسی کا بحران تھا۔ دوسرا یہ کہ 77 سالہ سوہارتو اپنی سیاسی مہارت کھو بیٹھے تھے۔ دو سال پہلے ان کی بیوی کی وفات ہوئی تھی جس نے انہیں ہلا دیا تھا۔ کرپشن پر عوامی غم و غصہ تھا۔ سوہارتو نے انڈونیشیا کو جدید صنعتی ملک بنا دیا تھا جس کے شہری اب یہ دعویٰ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ وہ خود پر حکومت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ انڈونیشیا کی فوج نے سوہارتو کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا اور سوہارتو اقتدار سے باہر ہو گئے۔
ان کے جانے کے ایک سال کے بعد 1999 میں انڈونیشیا میں چالیس سال بعد پہلی بار باقاعدہ انتخابات ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
جمہوریت اب بلاتعطل جاری ہے۔ کرپشن اب پہلے کی طرح نہیں۔ ہر پانچ سال بعد انتخاب ہوتے ہیں۔ 2014 میں صدر جوکو ویدودو آرمی جنرل کو شکست دے کر صدر منتخب ہوئے تھے۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ خیالات رکھنے والے اس صدر نے نہ صرف اپنے اقتدار کی مدت پوری کی بلکہ 2019 کے انتخاب میں پھر کامیابی حاصل کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوہارتو کی حکومت کا اگر مختصر جائزہ لیا جائے تو اس میں اچھی بری چیزیں نظر آتی ہیں۔ سب سے بری چیز تو پانچ لاکھ لوگوں کا قتل اور ایک لاکھ لوگوں کو دی جانے والی طویل اسیری۔ بھاری کرپشن۔ فوج کو دی گئی بلاروک ٹوک چھوٹ اور بھاری بجٹ۔ سوہارتو کا اس بار پر اصرار کہ عام لوگ اس قابل نہیں کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ کر سکیں۔ ایک اور مسئلہ مشرقی تیمور کے لوگوں کے ساتھ کیا گیا سلوک تھا۔ اور اس وجہ سے بعد کے برسوں میں یہ انڈونیشیا سے علیحدہ ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ان سب منفی چیزوں کو دیکھتے ہوئے شاید کوئی کہے کہ پھر مثبت کیا رہ گیا۔
اگر آپ سیاسی جانبدار ہوں تو یہ دنیا آسان ہے جہاں پر narrative سادہ ہوتے ہیں۔ اور آسانی سے آپ لوگوں کو اچھے اور برے میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ لیکن یہاں پر ہماری دلچسپی سیاست سے نہیں تاریخ سے ہے اور یہ ہم جانتے ہیں کہ تاریخ اس طرح نہیں ہوتی۔ اور لوگوں کو ولن یا ہیرو کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔
سوہارتو کی وراثت میں بہت کچھ مثبت ہے۔ اس میں معاشی ترقی ہوئی۔ بیرونی دنیا کی لڑائیوں سے بالکل الگ ہو جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ملک میں اندرونی طور پر دی جانے والی توجہ ایک بڑا اہم فیصلہ تھا۔ ملیشیا سے جنگ بندی کر کے امن اور دوستی کا معاہدہ کیا گیا۔ خواہ مخواہ کی چھیڑ چھاڑ سے بچ کر ملک پر توجہ دی گئی۔ ملک میں فیملی پلاننگ کے بہت موثر پروگرام چلائے گئے جس نے انڈونیشیا میں آبادی کے خوفناک اضافے کے سب سے بڑے مسئلے کو حل کیا۔ ملک میں سبز انقلاب آیا۔ کھادیں اور بیج کی ٹیکنالوجی سے زرعی پیداوار بڑھی۔ انڈونیشیا میں بھوک ختم ہوئی۔ انڈونیشیا کا قومی تشخص بنایا گیا۔ آج انڈونیشیا میں علیحدگی پسندوں کا کوئی بڑا خطرہ نہیں۔ یہ ملک بہت سے جزیروں میں بٹا ہے۔ سینکڑوں زبانوں اور ثقافتوں اور مذاہب کے لوگوں کے ملک کا ملک جہاں پر کوئی قومی تشخص یا تاریخ نہیں تھی، اس کا شیرازہ بکھر جانا حیرت کی بات نہ ہوتی۔ آج یہاں کا شہری اپنی انڈونیشائی شناخت پر فخر کرتا ہے۔
سوہارتو کے ناقدین کہتے ہیں کہ اگر سوہارتو کی جگہ پر کوئی اور ہوتا، تب بھی یہ سب کچھ حاصل کر لیا جاتا اور ملک زیادہ آگے ہوتا لیکن دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے ملک کا منہدم ہو جانے کا امکان بہت زیادہ تھا۔
(جاری ہے)

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply