انڈونیشیا (1) ۔ انڈونیشیا/وہاراامباکر

جب دنیا میں مسلمان آبادی کی بات کی جاتی ہے تو کئی بار اس سے مراد مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو لیا جاتا ہے۔ اور یہ عجیب ہے۔ کیونکہ مسلمان آبادی کے بڑے پانچ ممالک مشرقِ وسطٰی میں نہیں ہیں۔ اور ان میں سے سب سے بڑا انڈونیشیا ہے جو کہ دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ عالمی سرخیوں سے دور ترقی پذیر ملک جو کہ اپنے خوبصورت باتک کپڑوں اور ساحلوں کی وجہ سے مشہور ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انڈونیشیا دلچسپ تاریخ رکھنے والا ایک اہم ملک ہے۔ کسی وقت میں عالمی سیاست میں فعال تھا اور سرد جنگ میں “غیرجانبدار ممالک کی تحریک” کا بانی تھا۔ بعد میں عالمی سرخیوں سے دوری اس کا اختیاری فیصلہ تھا۔ اس کی آزادی کے 77 سال کی تاریخ کے اتار چڑھاؤ کئی قسم کے رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیرڈ ڈائمنڈ لکھتے ہیں کہ “پہلی بار میں 1979 میں انڈونیشیا گیا۔ جس ہوٹل میں ٹھہرا تھا، وہاں کی لابی کی دیواروں پر انڈونیشیا کی تاریخ کی تصاویر بنی تھیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی زیادہ پرانی نہیں تھی۔ اور سب سے نمایاں واقعہ 1965 میں ہونے والی کمیونسٹ بغاوت تھی۔ تصاویر اور ان کے نیچے لکھی تحریر میں دکھایا گیا تھا کہ کمیونسٹوں نے کس طرح ساتھ جنرلوں کو تشدد کر کے مارا۔ بچ جانے والے ایک جنرل دیوار کود کر فرار ہوئے۔ لیکن ان کی پانچ سالہ بیٹی چند روز بعد گولی لگنے سے ماری گئی۔ اس نمائش سے جو تاثر ابھرتا تھا، وہ یہ کہ جنرلوں اور اس بچی کا قتل انڈونیشیا کی تاریخ میں ہونے والا بدترین ظلم تھا۔
ان تصاویر میں جو چیز شامل نہیں تھی، وہ یہ کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ یہ انڈونیشیا کی افواج کے ہاتھوں یا ان کے اکسانے پر ہونے والے پانچ لاکھ لوگوں کا قتل تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ہونے والی بڑی انسانی ٹریجڈی میں سے ایک۔
یہ انڈونیشیا کی تاریخ کا حصہ نہیں تھا”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انڈونیشیا میں اس وقت جو ہوا تھا، وہ سیاسی مفاہمت سے انکار اور پھر اس کے نتیجے میں ہونے والا نظام کا انہدام تھا۔ انقلاب لانے کی بھرپور کوشش۔ اور پھر اس کے ردِعمل میں ملک پر چھا جانے والی طویل ڈکٹیٹرشپ کا دور اس کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں۔
اس کے علاوہ انڈونیشیا میں دو کامیاب راہنما رہے ہیں جنہوں نے قومی مفاہمت بنانے میں کامیابی حاصل کی۔
انڈونیشیا کم سِن ہے۔ اور دنیا میں کسی بھی ملک سے زیادہ جلد اور حیران کن کامیابی سے قومی شناخت حاصل کرنے والا ملک ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انڈونیشیا ایک نیا ملک ہے جس نے 1945 میں آزادی حاصل کی۔ 1910 سے پہلے یہ ایک اکٹھی کالونی بھی نہیں تھا۔ اس میں اونچے پہاڑ ہیں اور دنیا کے سب سے زیادہ متحرک آتش فشاں۔ ان میں سے ایک کراکوٹوا ہے جس کے 1883 میں پھٹنے نے اگلے سال دنیا کا موسم بدل دیا تھا۔ اس کے جزیروں میں مشہور جاوا، بالی، سماٹرا اور سلاویسی ہیں۔ بورنیا اور نیوگنی کے جزائر یہ دوسرے ملکوں سے شئیر کرتا ہے۔
ہزاروں آباد جزائر ہیں جو مشرق سے مغرب میں 3400 میل تک پھیلے ہیں۔ پچھلے دو ہزار سال تک ان میں سے کئی میں مقامی حکومتیں رہی ہیں۔ کوئی بھی ان سب پر حکمرانی نہیں کر سکا۔ نہ ہی اس ملک کا تصور اور نہ ہی یہ نام رہا ہے۔ یہاں پر 700 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ مذہبی لحاظ سے متنوع ہے۔ اکثریت مسلمانوں کی ہے لیکن مسیحی اور ہندو بڑی تعداد میں ہیں۔ بدھ، کنفیوشین اور کئی مقامی روایتی مذاہب موجود ہیں۔ کبھی کبھار مذہبی کشیدگی سر اٹھاتی ہے لیکن چھوٹے سکیل پر۔ عام طور پر مذہبی رواداری پائی جاتی ہے۔ مسلمان اور مسیحی گاؤں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ بنے ہیں۔
(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply