بے شرم نونی ، سپہ سالار اعظم اور قاضی القضاء

SHOPPING

پچھلے دنوں نااہل ترین کی مٹی پلید کی گئی۔ اپنا حق رائے دہی بلا کسی دباؤ استعمال کرنے پر آپ مجھے نونی بے  غیرت کہہ سکتے ہیں لیکن سچ پوچھیے تو ترین کی نااہلی پہ دکھ ہوا۔ وجوہات کئی ساری ہیں مگر اس قدر سیاہ سفید نہیں کہ تفصیلات میں جائے بغیر بیان کی جا سکیں، تاہم توجیہات میں نے دینی نہیں کیونکہ اپنا ووٹ دے کر کسی کے باپ کا کیا بگاڑا۔ ترین کی نااہلی پہ دکھ یوں کہ غلطی بابا آدم نے بھی کی اور اس کے باوجود خدا  کی جانب سے روئے زمین پر خلیفہ ٹھہرے۔ پھر ہم انسان کس کھیت کی مولی ،خاص کر اس وقت جب ترین کے حلقے والوں کو کوئی اعتراض نہیں۔ آپ ایسے میں اور کسی قسم کی پابندی لگا سکتے ہیں، آئندہ کے لیے فیلڈنگ ٹائٹ کر سکتے ہیں مگر نااہلی عدلیہ کا اپنے اختیارات کی روح سے تجاوز ہے۔ اگلے دن کسی قدر خوشی بھی ہوئی جب ترین نے پارٹی عہدہ چھوڑ کر نواز شریف کے منہ پر طمانچہ مارا۔ ایک اصول ہوا کرتا تھا جس کی بنیاد پہ چار حلقوں کا فیصلہ آنے تک نواز شریف سے استعفی مانگا جاتا تھا۔ ایک اصول تھا جس کی بنیاد پر پانامہ تحقیقات کے دوران بھی وزارت اعظمٰی سے استعفٰی مانگا جاتا رہا۔ لیکن وہ اصول ہی کیا جو خان صاحب پر لاگو ہو؟ سوال اٹھانے پر البتہ آپ ٹھہریں گے نونی بےغیرت۔

عاشقان آمریت ہمیں سپہ سالار اعظم کا حالیہ بیان سنا کر اپنے تئیں تپا رہے ہیں کہ دیکھو جرنیل کتنا احتساب پسند ہے کہتا ہے دھرنے میں کوئی کردار ثابت ہوا تو استعفی دے دوں گا۔ چیف صاحب پہ کوئی انصافی بھائی اپنا من پسند اصول لاگو کروائے تو صحیح کہ جب تک آپ چیف ہیں کیسے آئی ایس آئی آپ کے خلاف جاسکتی ہے؟

چند لمحے گزرے کہ ایک محترم دوست نے آئین کی شق قلم بند کرتے ہوئے یہ جتلانے کی کوشش کی کہ قاضی القضاء کا دورہ میو ہسپتال قانون کی رو سے بالکل جائز ہے۔ دوسری بات حضرت نے یہ فرمائی کہ ایسے دورے یورپی ممالک میں عام ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ پاکستان بھر سے قاضیوں کے اسی قسم کے کوئی چھتیس دورے ماضی میں ثابت ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے بھی سیاسی و صحافتی دیوتا ہوا کرتے تھے لیکن پھر مین سٹریم میڈیا ایک ڈیجیٹل ہیرا منڈی کی سی شکل اختیار کر گیا اور کئی قد آور شخصیات کے الفاظ کا گھنگرو کی طرح دماغ میں گونجنا عام ہوگیا۔ یوں آج کے دور میں اپنے محترم کو ہم پرانی والی عقیدت تو نہ دے پائیں گے البتہ چند حقائق ضرور یاد دلاتے چلیں گے تاکہ آئین اور قانون کا  رونا تھوڑا کم ہوسکے۔

یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ چیف جسٹس صاحب کا دورہ میو ہسپتال مکمل طور پر قانونی ہے تاہم موقع محل یا ٹائمنگ کی اہمیت آپ مریض سے پوچھ لیں تو وہ بتائے گا کہ بعض اوقات ٹھیک عمل غلط وقت پہ کرنے پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قانون کی آڑ میں عدلیہ کا ننگ بچانے والوں کو یاددہانی کراتے چلیں کہ فیصلہ تو بھٹو کی پھانسی پہ بھی دیا گیا، آپ نے کتنی بار صفائیاں پیش کیں؟ کیا آپ اس فیصلے کو آزاد اور منصفانہ مانتے ہیں؟ نہیں تو دوہرے معیار کیوں؟ یورپ کی مثال دینے سے پہلے ذرا یورپی معاشرے پہ نظر ڈالیے، کتنی بار یورپ میں نظریہ ضرورت کو منتخب حکومت پہ لشکر کشی کے لیے استعمال کیا گیا؟ پاکستان میں چھتیس چھوڑیے سات سو چھتیس دورے بھی ہوئے ہوں، ایک ایسے وقت میں دورہ کس قدر ضروری تھا جب عدلیہ کا اپنے پاجامے سے باہر نکلنا پہلے ہی زیربحث ہو؟

SHOPPING

حق و باطل کے اس معرکے میں آپ سیاسی ابلیس کا درجہ رکھتے ہیں بشرطیکہ آپ حضرت نیازی کے پیچھے نہ کھڑے ہوں۔ ایک وقت تھا کہ ترس آیا کرتا تھا بھلے مانس فاروق ستار پر، کہ رات کی بلیک لیبل کا دفاع جوئے شیر لانے کے مترادف ہو جایا کرتا۔ پھر ہم نے ایک قول سنا کہ “ہر وہ چیز جو آپ کو موت تک نہیں پہنچاتی دراصل آپ کو مزید طاقتور بناتی ہے”۔ بعد ازاں وقت نے یہ ثابت کیا کہ اکثر من الانصافی یہ بات بحوالہ غیرت دل پہ نقش کر چکے ہیں۔

SHOPPING

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *