کی تحاریر

ایک شعر کے ضمن میں شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کا مکتوب/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ کہ جب دل میں تمہی تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو؟ مرزا غالب اگر میں یہ کہوں، اے محتسب نقّاد ، ستیہ پال کہ پورے شعر←  مزید پڑھیے

ٹرین ٹو پاکستان (خشونت سنگھ).۔۔محسن علی خاں

ننانوے سالہ ڈرٹی اولڈ مین۔۔ نروس نائنٹی کا شکار ہوا۔ سنچری کا خواہش مند تھا، لیکن پوری نہ ہوئی۔۔۔ 20 مارچ 2014 ء کو دہلی میں تقدیر کے یارکر کو روک نہ سکا، آؤٹ ہو گیا۔ رسم و رواج کے←  مزید پڑھیے

ویلنٹائن ڈے وتھ نائٹ ۔۔مرزا یاسین بیگ(تنزومظاہ)

پہلے جوڑے والدین بناتے تھے اب ویلنٹائن بناتا ہے ۔ پتہ نہیں چلتا کہ یہ دن منایا جارہا ہے یا اپنی پسند کو منایا جارہا ہے ۔ ویلنٹائن اتنا مشکل لفظ ہے کہ اگر اس سے محبت وابستہ نہ ہوتی←  مزید پڑھیے

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔۔کشمالہ صدیقی

کہتے ہیں کہ اپنی تکلیف تو جانور بھی محسوس کرتا ہے لیکن انسان کو اشرف الخلومات اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کے درد کو بھی بالکل ویسا ہی محسوس کرے جس طرح اپنی کسی تکلیف کو کر←  مزید پڑھیے

آفات ارض و سماء: خداؤں کی کارستانیاں اور انسانی کمالات۔۔قیصر عباس فاطمی

قدرت کے حسین اور دلچسپ مناظر میں کچھ واقعات جو کبھی کبھار رونما ہوں، یا جو عام طور پرانسانوں کے لیے منفی نتائج کا سبب بنیں، اور انسان ان کی علت کو جاننے میں علمی طور پر ناکام ہو جائے،←  مزید پڑھیے

نظم ِ نو سیریز/تصویریں کب عمر رسیدہ لگتی ہیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

وقت کا بوڑھا جپسی یہ کہتا ہے مجھ سے لوگ جو اتنی جلدی بوڑھے ہو جاتے ہیں تو کیسے لگنے لگتے ہیں رخساروں پر زردی آنکھوں کے نیچے بد رنگ گڑھے سے ۔۔۔ کاجل جیسے بہہ کر دھبوں کی صورت←  مزید پڑھیے

گھبرانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔۔زین سہیل وارثی

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل جرمنی کی ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو 1993ء میں قائم کی گئی، اس کے قیام کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر معاشرہ میں بدعنوانی کا انسداد ہے، نیز عالمی بدعنوانی سے نمٹنے اور اسکی وجہ سے ہونے←  مزید پڑھیے

واٹس ایپ اور فیس بک پر کاروبار کیسے شروع کریں؟۔۔میاں جمیشد

کاروبار کرنے کا سادہ سے اصول یہی ہوتا ہے کوئی بھی چیز خود بنا کر یا کہیں سے لے کر ، پھر اس میں اپنا منافع شامل کر کے دوسروں کو فروخت کرنا ہے ۔ اگر آپ اس بنیادی عمل←  مزید پڑھیے

پسنی کے آرٹسٹ گروپ نے ساحل سمندر کو کینوس بنا لیا۔۔ظریف بلوچ

بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی کے لوگوں کو آرٹ وراثت میں ملی ہے، اور یہاں کے نوجوان آرٹ کے نت نئے شاہکار ایجاد کرکے ساحل سمندر کو اپنا کینوس بنالیتے ہیں۔ نیلگوں سمندر کی مست موجوں کے قریب ریت سے←  مزید پڑھیے

جدیدیت کی مرگ ناگہانی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اپنے آنجہانی دوست شمس الرحمٰن فاروقی کی بے وقت رحلت کے بعد میں نے ضروری سمجھا ہے کہ ان کے توسط سے معرض ِ وجود میں آئی (اور تیس چالیس بر سوں تک ار دو ادب پر محیط) ر، (جسے←  مزید پڑھیے

مکالماتِ افلاطون۔۔آغرؔ ندیم سحر

افلاطون کا شمار سقراط کے ان قریبی شاگردوں میں ہوتا ہے جنھوں نے سقراط کے فلسفے کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے اور سقراط کو دریافت کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔یوں تو افلاطون کے تمام مکالمات کو ہی بہت←  مزید پڑھیے

ضرورت ہی نہیں میری۔۔شاہین ڈیروی

محبت ڈھونڈنے نکلی تو جنگل میں۔۔۔۔۔ کئی وحشی درندے لوبھ کے مارے جناور راہ کو روکے ہوئے اپنے بدن کے خفتہ حصوں کو کھجاتے، گھورتے جاتے تھے صدیوں سے۔۔۔۔میری جانب کئی قرنوں سے میں اپنے بدن کو اپنی باہوں میں←  مزید پڑھیے

انگریزی بول چال ہُنر یا ایک نفسیاتی الجھن۔۔عارف خٹک

ہمارے ہاں ایک طبقہ آج بھی اس احساس محرومی کا شکار ہے کہ انگریزی میں بول چال ترقی اور روشن خیالی کی ضمانت ہے۔ ان کی اس طرز ِ فکر  نے ہماری چار نسلوں کو تباہ و برباد کرکے رکھ←  مزید پڑھیے

مسٹر ہنڈرڈپرسنٹ۔۔عارف انیس

ہم پہاڑ کو نہیں اپنے آپ کو فتح کرتے ہیں۔ سر ایڈمنسڈ ہیلری نے یہ جملہ دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کے بعد کہا تھااور سچ تو یہ ہے کہ یہ جملہ اسی شخص←  مزید پڑھیے

اُلٹی۔۔سیف الرحمٰن ادیب

میں باتیں کرنے کا بہت شوقین ہوں۔ دفتر میں کام کے ساتھ ساتھ باس کے پیچھے باتیں کرتے کرتے سارا وقت گزر جاتا ہے۔ دوستوں کی محفل میں باتوں ہی باتوں میں کسی ایک کا تذکرہ چھیڑ دیتے ہیں، اس←  مزید پڑھیے

خوش اخلاقی-تُو کہاں ہے؟۔۔سعید چیمہ

یہاں سبھی کے اندر رعونت بھری ہوئی ہے، ہر کوئی اپنی ذات میں فرعون ہے، کوئی چھوٹا تو کوئی بڑا۔ نرم مزاجی یہاں عنقا ہے، خوش اخلاقی سے دور کا واسطہ بھی نہیں، غور کیجیے یہ کن کی اُمت ہے←  مزید پڑھیے

تامل ٹائیگرز کے دیس میں (پہلا حصہ)۔۔خالد ولید سیفی

جیسے ہی سری لنکن ائیر لائن کے پچھلے پہیوں نے رن وے کو چھوا، ہم ایک انجانے شہر کی رطوبت بھری فضاؤں سے آشنا ہوئے، ایک نیا ملک، نئی تہذیب، نئے لوگ اور ایک نئی سرزمین۔ سری لنکا! جہاں ابنِ←  مزید پڑھیے

مژگائی کا آخری وقت۔۔وہارا امباکر

مژگائی یک خلوی جاندار ہے۔ اس کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ موت، جو سب کو ہی آنی ہے، فرق صرف ٹائم سکیل کا ہے۔ مژگائی ہو، میں، کوہِ ہمالہ یا سورج۔۔۔ ہم سبھی اس کائنات میں ایک بلبلے کی←  مزید پڑھیے

غزل پلس(7)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

​غزل پلس تھی ازل سے نہاں اولاً ثانیاً اک صــــدا، کُن فِکاں، اولاً ثانیاًا ایک نا سُوت تھا، ایک لاہُوت تھا یہ جہاں، وُہ جہـاں، اولاً ثانیاً جسم تھا، جان تھی،روح تھی، جوع تھی لا مکاں۔ ۔۔۔۔ لا زماں۔۔ ۔۔۔۔اولاً←  مزید پڑھیے

انتخاب۔۔وہاراامباکر

وہ ایک عجیب دنیا میں داخل ہو گیا تھا۔ اس میں تمام لوگ ۔۔۔ وہ خود ہی تھا۔ بلکہ جو وہ خود ہو سکتا تھا۔ اس آبادی میں اس سے زیادہ کامیاب بھی تھے۔ وہ، جس نے تعلیم مکمل کی←  مزید پڑھیے