Salma Awan کی تحاریر

میں تو چلی چین/عظیم شہر سپاہ (قسط11) -سلمیٰ اعوان

اس وقت اس اجنبی سرزمین پر چمکتا سورج تیز ہواؤں سے جس جس انداز میں دھینگا مشتی میں جُتا ہوا تھا۔ اس نے مجھے ہَوا اور سورج کی لڑائی والی کہانی یاد دلائی تھی کہ میں بار  بار اپنے کوٹ←  مزید پڑھیے

میں تو چلی چین/جانا میرا شاہراہ ریشم کی جانب (قسط10) -سلمیٰ اعوان

سفرناموں کی دنیا کے شہنشاہ مستنصر کے لہجے میں کچھ تھا۔ جب انہوں نے شی آنxianکا ذکر کیا ۔دراصل قصہ کچھ یوں تھا۔فخر زمان کے بیٹے کی دعوت ولیمہ تھی ۔ مستنصر وہاں مدعو تھے اور ہم بھی تھے۔جہاں مستنصر←  مزید پڑھیے

میں تو چلی چین/مادام عمران خان کیا پیسے مانگنے آیا ہے؟ (قسط9) -سلمیٰ اعوان

میری اور بہار کی آمد چین میں کم و بیش بس ساتھ ساتھ ہی ہوئی تھی۔اِس جیالی قوم کی بہار اور اس سے جڑا جشن بہار ہم پاکستانیوں کی عیدالفطر کی طرح قمری شمسی کیلنڈر سے جڑا ہوتا ہے۔اپریل کا←  مزید پڑھیے

میں تو چلی چین/ چینی پاکستانی کلچر کی مشترکہ روایات و رسومات(قسط8) -سلمیٰ اعوان

اُس صبح فضا میں بہت خنکی تھی۔کبھی کبھی سردیوں کی صبحوں میں بھی ایک اداسی سی گُھلی نظر آتی ہے۔وہ صبح بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ہواؤں میں سراٹے مارتے تیز بلّھوں کی آمیزش تھی۔میں عقبی جانب کے ٹیرس پر آئی۔دھوپ←  مزید پڑھیے

میں تو چلی چین/ تھین آن من سکوائر سے جڑی یادیں(قسط7) -سلمیٰ اعوان

اس وقت میں کہاں کھڑی ہوں؟تھین آن من سکوائر میں۔اس کی وسعتیں باپ رے باپ۔ایک سمت سے دیکھنا شروع کرو تو دوسری طرف جاتے جاتے شام پڑ جائے۔بیچاری آنکھیں کیا کریں۔آج کل تو ان غریبڑیوں کی شامت آئی پڑی ہے۔←  مزید پڑھیے

میں تو چلی چین/دیوارِ چین- ڈاکٹر تھانگ منگ شنگ سے ملاقات(قسط6 ) -سلمیٰ اعوان

بیجنگ میں مجھے کِس ادیب اور کِس شخصیت سے ملنے کی ضرورت ہے؟شعیب بن عزیز سے بہتر بھلا میرا کون صلاح کار ہوسکتا ہے ؟ شعیب کے لیے چین تو بس گھر آنگن والی بات تھی۔ وہ صلاح کار بھی←  مزید پڑھیے

میں تو چلی چین/دیوارِ چین- جانا ہمارا مسجد نیوجیا Niujieمیں(قسط5 ) -سلمیٰ اعوان

ڈھلتی شام کی دھوپ میں پھیکا پن تھا۔ کچھ ایسا ہی جو اداس کرنے والا ہو۔ پتا نہیں مجھے دوسرے ملکوں کی شامیں کیوں ہمیشہ افسردہ کرنے والی لگتی ہیں؟ چلو یہاں تو جذبات کی یہ کیفیت نہیں ہونی چاہیے←  مزید پڑھیے

میں تو چلی چین/دیوارِ چین- چینی ثقافت و کلچر کا نمائندہ، اس کا لینڈ مارک اور تاریخی ورثہگ(قسط4-ب) -سلمیٰ اعوان

میں اپنے گھوڑے کو کوڑا مارتا ہوں اور نیچے نہیں اترتا حیرت زدہ سا پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں آسمان تو صرف تین فٹ پرے ہے واقعی ایسا ہی تھا۔جیسے ہاتھ بڑھاؤں گی تو چھولوں گی۔دیر تک اس منظر سے←  مزید پڑھیے

میں تو چلی چین/دیوارِ چین- چینی ثقافت و کلچر کا نمائندہ، اس کا لینڈ مارک اور تاریخی ورثہگ(قسط4-الف) -سلمیٰ اعوان

بلند آسمان اور نظر نواز بادلو! جنوب کی جانب سے آنے والی قازوں کا انتظار ختم ہوا۔ عظیم دیوار تک اُن کا نہ پہنچنا کوئی بہادرانہ فعل نہیں۔ تاریخ ساز چینی رہنما ماؤزے تنگ Mao Zedongکی یہ خوبصورت نظم مجھے←  مزید پڑھیے

میں تو چلی چین/چھلانگیں مارتا آسمان کو چھوتا بیجنگ(قسط3) -سلمیٰ اعوان

بیجنگ ایرپورٹ بہت بڑا اور مشکلات سے بھرا ہوا تھا۔ابھی ابھی تو یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ اس سے بھی دس گنا بڑا نیا ایرپورٹ تیار ہوچکا ہے۔ بس کوئی دم میں افتتاح ہوا چاہتا ہے۔اور وہ خیر سے←  مزید پڑھیے

میں تو چلی چین/تھوڑا تھوڑا احوال ائیرپورٹوں کی دنیاؤں کا(قسط2) -سلمیٰ اعوان

سفر کے دو موڈ ہمیشہ سے میرے لئے بڑی کشش، عجیب سی سنسنی اور کچھ کچھ تھرل جیسے جذبات و احساسات کا نمائندہ رہے ہیں ۔ٹرین اسٹیشن کی دنیا کا اپنا حسن اور ایئرپورٹ دنیا کی رنگینیاں اپنی جگہ، تاہم←  مزید پڑھیے

میں تو چلی چین(قسط1) -سلمیٰ اعوان

وہ مشہور زمانہ کہاوت تو آپ نے ضرور سُنی ہوگی۔ارے بھئی وہی نا۔ایک دیہاتی خوبصورت چادر اوڑھ کر میلہ دیکھنے گیا اور وہاں اس کی چادر کِسی نے چھین لی۔ واپسی پر ہمسائے نے پوچھا۔ ‘‘ ہاں تو بھئی سُناؤ←  مزید پڑھیے

دوست پبلیکشنز اسلام آباد نے لکھاریوں کو رسوا کردیا ہے/سلمیٰ اعوان

مجھ نگوڑی پر تو وہی مثال صادق آرہی تھی کہ تیرا لٹیا شہر بھنبوڑنی سسیئے بے خبرے جمعے کی شب طاہرہ اقبال کو ان کے نئے ناول ہڑپہ جسے جہلم بک کارنر نے چھاپا ہے پر مبارک باد دینے کے←  مزید پڑھیے

انعام راناکی شخصیت اور اس کا فن/تبصرہ-سلمیٰ اعوان

انعام رانا سے پہلا تعارف ان کی’’مکالمہ‘‘سوشل میڈیا کی ایک پاپولر ویب سائٹ سے ہوا۔ مضمون بھیجا۔فوراً چھاپا ہی نہیں گیا،بلکہ چند خوبصورت سطور بھی تعارفی طور پر شامل کی گئیں۔ مکالمہ سے تعلق کا آغاز ہوا تو کبھی کبھی←  مزید پڑھیے

اردو فکشن کو امیر کرنے والے‘‘ سب رنگ’’ کا احیاء ۔۔سلمیٰ اعوان

اپنے تہیں تو اب تک یہی سمجھتی تھی کہ میں ‘‘سب رنگ’’کی بڑی جیالی اور سچی عاشق ہوں۔ایسا سمجھنا کچھ غلط بھی نہ تھا کہ خمیر میں کہانی کا رچاؤ ماں کے پیٹ سے ہی تھا۔جنجال پورہ جیسے باڑے میں←  مزید پڑھیے

قاسم؛ میں کس کے ہاتھ پر تیرا لہو تلاش کروں ؟۔۔سلمیٰ اعوان

قاسم کھڑا رہا۔ایک نے رعونت سے بھری ہوئی مگر مدھم آواز میں کہا۔سُنتے نہیں ہو۔جو کہہ رہے ہیں وہ کرو۔ وہ بیٹھ گیا۔اس کے کندھے پر ریوالور رکھ کر گولی چلائی گئی؟جس کی کوئی آواز نہیں تھی۔قاسم کے منہ سے چیخ نکلی۔دونوں نے اپنے اردگرد دیکھا اور بھاگتے ہوئے قاسم کی آنکھوں سے گم ہوگئے۔←  مزید پڑھیے

جہیزمیں عفت نوید کی ‘‘دیپ جلتے رہے’’دی جائے تو بہتوں کا بھلا ہوگا۔۔۔ سلمیٰ اعوان

ارے بھئی مبالغے والی کوئی بات نہیں۔بہتشی زیور جیسے ہدایت ناموں والے زمانے تو لدلدا گئے ہیں۔وقت آگے نکل گیا ہے۔اب نوجوانوں نے محبتیں تو کرنی ہیں اور شادیاں بھی۔مسلکی اختلاف ،سماجی اور معاشرتی مسائل سبھوں سے ان کا واسطہ←  مزید پڑھیے

بچوں کی نفسیاتی تربیت بھی ازحد ضروری ہے۔۔سلمیٰ اعوان

بچوں دادا دادی ماں باپ پر مشتمل گھرانہ جو دو کمروں میں رہتا ہے۔والدین کی لاپرواہی اِس سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔۔اب یہ بھی نہیں تھا کہ میں کوئی بڑی معصوم سی لڑکی تھی۔لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ میرا جنس سے متعلق علم بڑا سطحی سا تھا←  مزید پڑھیے

اب میں بولوں کہ نہ بولوں؟-بولو بولو۔۔سلمیٰ اعوان

قصور کے قریب بھتیجے اسامہ عثمان کے فارم ہاؤس پر افطاری تھی۔ اور کزن کو والٹن سے لینے کا حکم ملا تھا۔ایک گرمی،رش اوپر سے خالدہ کی عمران خان پر ہونے والے سازشی ظلم پر رقت بھری تقریریں۔اس پر ستم←  مزید پڑھیے

بشری رحمٰن ایک عہد تمہارے ساتھ رخصت ہوا۔۔سلمیٰ اعوان

کیسے من موہنے سے ہنستے مسکراتے لوگوں سے ہماری ادبی دنیا خالی ہوتی جا رہی ہے۔ ممتاز احمد شیخ کے لیے ابھی تو ہونٹوں پر یہ لفظ نوحہ خواں ہی تھے کہ شیخ صاحب آپ کے ابھی جانے کے دن←  مزید پڑھیے