ڈاکٹر مجاہد مرزا
ڈاکٹر مجاہد مرزا معروف مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ وائس آف رشیا اور روس کی بین الاقوامی اطلاعاتی ایجنسی "سپتنک" سے وابستہ رہے۔ سماج اور تاریخ آپکے پسندیدہ موضوع ہیں
ہاں سوچتے ہیں، ترقی یافتہ ملکوں میں عوام کو سہولتیں بہم پہنچانے کی خاطر ہسپتال اور یونیورسٹیاں بناتے ہیں۔ سائنسی تحقیقی مراکز قائم کرتے ہیں۔ اہلکاروں کی فی گھنٹہ اجرت بڑھانے کی خاطر مقننہ میں قراردادیں منظور کرواتے ہیں۔ نادار← مزید پڑھیے
بھارت، یوکرین، جارجیا، تھائی لینڈ، بنگلہ دیش،پاکستان اور اسی قبیل کے دوسرے ملکوں کے عوامی ایوانوں (اسمبلیوں) میں اگر طعن و تشنیع، سبّ و شتم اور دھینگا مشتی دیکھنے سننے میں آتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں← مزید پڑھیے
خدا اس قوم پر ویسے ہی حکمران مسلّط کر دیتا ہے جیسی وہ خود ہوتی ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام لوگ، حکمران افراد یا اشرافیہ کے دوسرے لوگوں کی مانند امیر اور بے← مزید پڑھیے
کھڑکی میں رکھے گملے پر نظر پڑی تو خوبصورت پھول ٹوٹ کر گملے کی زمین پر بے بس پڑا دکھائی دیا۔ اتنا دکھ ہوا کہ منہ سے “اوہو” نکلا۔ پھول کی لاش اٹھائی اور ٹھکانے لگا دی۔ آپ کے ذہن← مزید پڑھیے
17 اکتوبر 2015 کے انگریزی زبان کے پاکستانی اخبار “ایکسپریس ٹریبیون” میں شائع شدہ خبر کے مطابق پاکستان کے وزیر برائے پٹرولیم شاہد خاقان عباسی اور روس کے وزیر برائے توانائی الیکساندر نوواک نے اسلام آباد میں، کراچی سے لاہور← مزید پڑھیے
جس طرح مجھے اپنے گھر کے صحن میں سرخ پھولوں سے لدا گڑھل کا پودا، اس کے ساتھ بچھا زمین سے چھ انچ بلند مسطح لکڑی کا جائے نماز جتنا تخت، اس پر سفید ساٹن کی شلوار، سبز بڑے بڑے← مزید پڑھیے
” چننا بس کی بات جو ہوتی سارے ہی شبنم چنتے ” یہ میری ایک نظم کی دو سطریں ہیں۔ یعنی ہر شخص پرسکون، مستحکم اور برقرار رکھے جانے کے قابل زندگی کا خواہش مند ہوتا ہے لیکن اختیار خدائی← مزید پڑھیے
میں حقوق کے سلسلے میں جنس کی تخصیص کا مخالف ہوں۔ مردوں اور عورتوں کے حقوق یکساں ہونے چاہییں لیکن کیا کبھی یہ یکساں تھے بھی؟ کیا کہیں یکساں ہیں بھی؟ کیا کبھی یکساں ہونگے بھی؟ ایسا ہو نہیں سکتا۔← مزید پڑھیے
عقیل عباس جعفری کسی دوست کے ہاں تھے، انہوں نے زاہد کاظمی کو ملنے کے لیے وہیں آنے کو کہا۔ میں فارغ تھا۔ زاہد کے کہنے پہ میں بھی ساتھ چلا گیا۔ کھانے کے لیے ڈائننگ ہال میں گئے۔ میں← مزید پڑھیے
ایک زمانے میں امریکہ نے ” رشینز آر کمنگ ” یعنی روسی آ رہے ہیں، کہہ کر دنیا کو کمیونزم کے ہوّے سے ڈرایا ہوا تھا مگر سوویت یونین کا مقصد دنیا میں ہاہاکار مچانا تھا ہی نہیں، تبھی ایک← مزید پڑھیے
اگر لوگوں کی اکثریت سوچتی ہو کہ وہ ملک کے مستقبل کو سنوارنے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی تو ایسا سوچنے کی وجوہ ہوں گی۔ جیسے کہ لوگ ایک دوسرے پر اعتبار کرنا چھوڑ دیتے ہیں اسی طرح← مزید پڑھیے
میں گھر پہنچا اور تقریبا” چیختے ہوئے کہا،” اگر بیاہ پر پابندی لگانا ممکن نہیں تو کم از کم ایک بچے سے زائد پیدا کرنے پر پابندی لگا دینی چاہیے ۔” ہمارے گھر کی عقبی دیوار کے پیچھے کھیت ہوا← مزید پڑھیے
اگر سچ بولا جائے تو جنگیں نہیں لڑی جا سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ جنگ میں پہلا وار سچ پر ہوتا ہے یعنی ruth is the first causality of war تو causality کا ترجمہ مقتول ہو← مزید پڑھیے
جب میں سورج طلوع ہوتے دیکھ چکا تو میری توجہ کسی کمرے میں کسی شخص کے بری طرح کھانسنے کی جانب مبذول ہوئی۔ اتنے میں پہلی منزل کے جس صحن کی دیوار کے پردے کے ساتھ کھڑا میں سورج کی← مزید پڑھیے
کئی سال پہلے، شکار پور سندھ میں اپنے مہربان دوست رحیم بخش جعفری سے کہا کہ میں نے آج تک بلوچستان نہیں دیکھا۔ وہ بولے ابھی دکھا لاتے ہیں پھر وہ مجھے سندھ کی سرحد سے پار بلوچستان کے ایک← مزید پڑھیے
جی ہاں اگر موت حقیقت نہ ہوتی تو زندگی کو زندگی نہ کہا جاتا، شاید دوام کہا جاتا یا پھر کچھ نہ کہا جاتا یا کچھ نہ کچھ کہا جاتا مگر زندگی یا حیات بہر حال نہ کہا جاتا یوں← مزید پڑھیے
اتفاق سے سے گذشتہ چند دنوں میں میں نے یکے بعد دیگرے تین ناول پڑھے۔ ایک اصغر ندیم سید کا اور دو ترجمہ شدہ، ایک ہندی سے ترجمہ کردہ بلکہ میں تو سمجھتا ہوں صرف اردو رسم الخط میں ڈھالا← مزید پڑھیے
میں ان کی آمد کے انتظار کے دوران باکو گائیڈ دیکھتا رہا تھا اور میں نے حسین سے پوچھ کر وہ لے بھی لی تھی چنانچہ فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کام تمام کرنے کے بعد کچھ مقامات دیکھ لیں← مزید پڑھیے
جب کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر نے اپنی کتاب ” قسطنطنہ سے عمر خیام کے شہر تک” میں لکھا تھا کہ ” باکو دنیا میں استعمال کیے جانے والے تیل کا پانچواں حصہ پیدا کر رہا ہے” تب مامید امین رسول← مزید پڑھیے
شکر ہے کہ میں اور میرے جیسے بہت سے تارکین وطن مہاجر نہیں ہوئے۔ اپنی جنم بھومی میں جا سکتے ہیں، لوٹ سکتے ہیں۔ یہ شکر ستیہ پال آنند صاحب کا مضمون ” میری جنم بھومی اور میں” پڑھ کے← مزید پڑھیے