مریم مجید کی تحاریر
مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

کال کلیچیاں۔ مریم مجید

تپتی گرم دوپہر تھی ، جون کا مہینہ اور شوکتی لو کے تھپیڑے بدن کی کھال اتار لے جانے کے درپے تھے۔ اور ایسی گرم جہنم دوپہر میں وہ اینٹوں کے چوبارے پر کہنیاں ٹکائے غلیل سے نشانہ باندھے بالکل←  مزید پڑھیے

محبت کی مرغابی۔۔۔مریم مجید

وہ سرد فضاؤں کا دیس تھا ۔ جہاں مجھے وہ عورت ملی تھی جو راکھ کی ہلکی پرت میں محفوظ نارنجی اور خفتہ آگ کی لپٹوں سے بھرپور انگیٹھی کی مانند تھی۔ دنیا کے کئی خطے ایسے ہیں جہاں موسم←  مزید پڑھیے

رمضان المبارک اور ہمارے عمومی رویوں میں تربیت کا فقدان۔۔مریم مجید

ماہ مبارک اپنی تمام تر خیر و برکت کے ساتھ  آخری عشرے میں داخل ہو چکا ہے۔ ملک کے زیادہ تر حصوں میں شدید درجہ حرارت کے ساتھ سترہ گھنٹوں سے زائد روزہ رکھنا اور افطاری تک معمولات کو نمٹانا←  مزید پڑھیے

قاتل رویے۔۔۔۔مریم مجید ڈار

قارئین! گزرے دنوں میں میں نے ایک تحریر”سیاہ تتلی” کے عنوان سے لکھی تھی جو بنیادی طور پر ایک آرٹیکل یا مضمون تھا جسے تھوڑا سا ادبی رنگ اس لئیے دیا گیا کہ ادب اپنی فطرت اور گہرائی و چاشنی←  مزید پڑھیے

سیاہ تتلی۔۔۔مریم مجید ڈار

وہ چار سال کی تھی جب اسے ماں سے پہلا تھپڑ پڑا ۔ وہ کچھ دیر روئی، سنبھل گئی! سرخ گال بھی کچھ دیر بعد اپنی اصل رنگت میں آ گیا۔ تکلیف رفع ہو گئی، نفرت اس بچی کے گال←  مزید پڑھیے

محبت کی تیسری کہانی۔ ۔۔مریم مجید

کشمیر جنت نظیر و ایران صغیر کا وہ ایک چھوٹا سا چناروں اور چیڑھوں سے گھرا گام (گاوں) تھا جہاں کچی بانڈیوں کی چھوٹی سی آبادی تھی۔ چندراہار نامی یہ گاوں آنے والے وقتوں میں اپنا نام بدل لینے والا←  مزید پڑھیے

محبت کی دوسری کہانی۔۔۔مریم مجید ڈار

شب کے اس پہر ، جبکہ چاند اخروٹ کے درخت کی پھننگ پہ آن ٹھہرا ہے اور دور جنگل میں کسی شب بیدار پرندے کے مسلسل کوکنے کی آواز بوند بوند خاموشی کے درون چھید کرتی ہے تو میں اپنے←  مزید پڑھیے

مڑھیاں دا دیوا۔۔۔مریم مجیدڈار

شکر دوپہری سروٹاں دے ذخیرے دے اندرو اندر کوئی ٹریا جاندا سی۔ ہاڑ دی دھپ تے ساہ پھٹ گم دا چار چفیری پہرہ سی ۔ او جو وی کوئی سی، اوہدے پیراں دی آواز توں شاید اس ذخیرے دے سارے←  مزید پڑھیے

محبت کی پہلی کہانی۔ ۔۔۔مریم مجید ڈار

وہ برف زمانے تھے جب گہری نیند سوئی ہوئی لڑکی کے کمرے کی مشرقی کھڑکی کے پاس اس بیل نے ننھے پتے پیدا کرنے کا آغاز کیا تھا جو خزاں میں سرخ ہو جاتے ہیں۔وہ اپنی کھڑکی کی چوکھٹ پر←  مزید پڑھیے

اپنا اپنا جہنم۔۔۔مریم مجید ڈار

وہ سیانوں سے سنتی چلی آئی تھی کہ بیٹا جنمے تو لوگ بدھائیاں دینے آئیں نہ آئیں،  در و دیوار سے پھوٹتی خوشی اور دروازوں پہ ٹنگی شرینہہ کی ٹہنیاں ہی اعلان کرتی پھرتی ہیں کہ نعمت خداوندی کا ،اولاد←  مزید پڑھیے

حرامی ۔۔مریم مجید ڈار

شہر میں جگہ جگہ سسکیوں والے ریستوران کھل چکے تھے ۔ وہاں کوئی خاص خوراک تو نہیں بنتی تھی مگر پھر بھی سب سے زیادہ ہجوم وہیں پایا جاتا تھا۔ نوجوان جوشیلے لڑکے اور امنگوں سے لبریز نمکین دھندلے مرغولوں←  مزید پڑھیے

سوہانجنا ،ایک کرشماتی پودا۔۔۔۔مریم مجید ڈار

کائنات میں موجود ہر جاندار و بے جان شے کی پیدائش کا مقصد صرف اور صرف بنی نوع انسان کی خدمت بجا لانا ہے۔ دیوہیکل معدنیات اگلتے پہاڑ ہوں یا نظر نہ آنے والے جرثومے، چرند پرند حیوانات و نباتات←  مزید پڑھیے

سرخ مسیحا۔۔۔مریم مجید ڈار

گاؤں والوں نے آج پھر ایک اور باسی کی لاش جنگل کو جانے والے راستے سے اٹھائی تھی اور رات کی سیاہ خاموشی میں اب وہ اسے دفنانے آئے تھے۔ ہاتھوں میں مشعلیں تھامے وہ اس لکڑی کے تختے کے←  مزید پڑھیے

ہائیڈروپونکس۔ زراعت کے سفر میں ایک اہم سنگ میل۔۔۔۔مریم مجید ڈار

زراعت کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے اہم ترین سیکٹر ہے چاہے وہ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر خطے، زراعت ملکی ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک کے لئے،←  مزید پڑھیے

چھپر کھٹ کا ناگ۔۔۔مریم مجید ڈار/افسانہ

سہاگ کی سیج پر بیٹھی شمع کا دل ہر گزرتی گھڑی کے ساتھ آنے والے لمحات کی رنگینی و سنگینی کے تصورات کے بھاری پتھر سے بندھا ایک عجیب سی کیفیت کے سمندر میں غوطے کھا رہا تھا۔ اس کا←  مزید پڑھیے

فاحشہ۔۔۔مریم مجید ڈار

(ایڈز کی مریضہ طوائف ) گاہک کی مٹھیوں میں اس کے بال کسے ہوئے تھے۔۔ اور مسہری کی سلوٹوں میں اس کا صدیوں پرانا بدن درزوں اور ریخوں کے بیچ سے جھانکتا تھا۔ ۔۔۔۔ گاہک نے جو نوٹ نائیکہ کو←  مزید پڑھیے

چڑے، بٹیرے اور نور فاطمہ۔۔۔مریم مجید ڈار

دسمبر 2014 کی ایک سرد اور دھند آلود شام تھی جب مجھے اپنی کچھ روم میٹس کے ساتھ چند ضروری اشیا کی خریداری کے لیے جانا پڑا ۔ ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد کی لمبی سڑک پر جو یونیورسٹی سے سیدھا←  مزید پڑھیے

گمشدہ خدا۔۔۔مریم مجید ڈار/افسانہ

پرانے وقتوں کی بات ہے۔۔کتنی پرانی؟؟ اب یہ کیا معلوم مگر اتنا جان لو کہ تب خدا کو مظاہر میں تلاش کیا جاتا تھا۔ کبھی سورج تو کبھی چاند ،کبھی آگ تو کبھی پانی! کیا کہا؟؟خدا کو تلاش ہی کیوں←  مزید پڑھیے

ابن الوطن۔۔مریم مجید ڈار

رات کا دم انہونی کے خوف سے گھٹا ہوا تھا۔۔گرم اور تاریک جنگل میں مہاجرین کو لے جانے والی ریل کسی بھوت کی مانند چل رہی تھی۔۔زندہ اور مردہ انسانوں کے تن سے اٹھتی بساند ایسی بھیانک تھی کہ پل←  مزید پڑھیے

لفافے کی موت۔۔مریم مجید ڈار

رات دبے پاؤں بنا کوئی چاپ پیدا کیے گزرتی جا رہی ہے۔ اور صبح ہونے میں چند ہی گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔۔صبح جو مجھے نجات دلانے کو چلی آتی ہے۔ مجرم چھوٹنے والا ہے ۔۔ وقت کا ٹھیک علم←  مزید پڑھیے