مریم مجید کی تحاریر
مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

محبت کی چوتھی کہانی۔۔۔۔۔مریم مجید ڈار

میں  صبح جب ایک بے خواب نیند سے بیدار ہوئی تو فضا میں کچھ انوکھا پن تھا۔ ہوا بوجھل تھی اور دور پہاڑوں پر سنہرے ہوتے گھاس اور زرد، سرخ،  آتشیں خزاں رسیدہ پیڑوں کے باعث منظر ایک ایسی پینٹنگ←  مزید پڑھیے

مکالمہ۔ایک تعلق۔۔ مریم مجید

تقریبا سال بھر پہلے، جب لکھنے کے شوق نے سوشل میڈیا سٹیٹس یا گروپ پوسٹس سے ایک قدم آگے بڑھنے کے لئیے اکسایا تو خیال آیا کہ کیوں نہ کسی باقاعدہ ادارے میں اپنی تحاریر بھیجی جائیں تا کہ معلوم←  مزید پڑھیے

بٹن۔ مریم مجید

یوں تو دنیا میں کوئی متنفس بھی ایسا نہ ہوا جو جھنجھٹوں اور قضیوں کی علت کے بنا اپنا وقت کاٹ کر چلتا بنا ہو مگر ثریا کا خیال تھا کہ جو جھنجھٹ اور قضیہ اس کی چھوٹی سی زندگی←  مزید پڑھیے

ایک تنہائی کی سلطنت اور نم جادوگری۔ مریم مجید

یہ ایک ہلکے پھلکے سفر کی داستان ہے۔ یوں ہی چہل قدمی سے ملتا جلتا سمجھ لیجئے ۔ رواں مہینے کے دو عشرے کچھ نجی خاندانی مصروفیات میں گزارنے کے بعد ، اعصاب شکن مراحل سے بخیر و خوبی نکل←  مزید پڑھیے

وہ جو قہقہوں کا امین تھا۔ مریم مجید

مجھے فیس بک  نامی اس ورچوئل ورلڈ نے   بے مثل  خزانوں جیسے تعلق، انمول رتن دوست اور بہت خوبصورت وابستگیاں عطا کی ہیں۔ مجھے ہمیشہ سے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو فیس بک دوستی یا تعلق کو “فیک”←  مزید پڑھیے

آخری منظر۔ مریم مجید

پہلا منظر۔ “جوان بیٹی کو  گھربٹھانے کا مطلب؟ بارود کے ڈھیر کو سلگتے انگاروں کی انگیٹھی پر رکھ دینا! بر تلاش کرو اور امانت حقدار کے حوالے کرو جلد از جلد!”۔ دوسرا منظر- “وہ نہیں مانتی! کہتی ہے اسے ابھی←  مزید پڑھیے

واہمے۔۔۔۔مریم مجید

دہر و آنات کے طلسم سے نکل کر وہ دونوں زمانی جکڑبندیوں کی آخری فصیل پر بیٹھے تھے۔ سرخ، بوسیدہ اینٹوں کی فصیل کے سب اطراف کو ایک ہلکا نیلگوں دود گھیرے ہوئے تھا اور اس میں فصیل پر پاوں←  مزید پڑھیے

کال کلیچیاں۔ مریم مجید

تپتی گرم دوپہر تھی ، جون کا مہینہ اور شوکتی لو کے تھپیڑے بدن کی کھال اتار لے جانے کے درپے تھے۔ اور ایسی گرم جہنم دوپہر میں وہ اینٹوں کے چوبارے پر کہنیاں ٹکائے غلیل سے نشانہ باندھے بالکل←  مزید پڑھیے

محبت کی مرغابی۔۔۔مریم مجید

وہ سرد فضاؤں کا دیس تھا ۔ جہاں مجھے وہ عورت ملی تھی جو راکھ کی ہلکی پرت میں محفوظ نارنجی اور خفتہ آگ کی لپٹوں سے بھرپور انگیٹھی کی مانند تھی۔ دنیا کے کئی خطے ایسے ہیں جہاں موسم←  مزید پڑھیے

رمضان المبارک اور ہمارے عمومی رویوں میں تربیت کا فقدان۔۔مریم مجید

ماہ مبارک اپنی تمام تر خیر و برکت کے ساتھ  آخری عشرے میں داخل ہو چکا ہے۔ ملک کے زیادہ تر حصوں میں شدید درجہ حرارت کے ساتھ سترہ گھنٹوں سے زائد روزہ رکھنا اور افطاری تک معمولات کو نمٹانا←  مزید پڑھیے

قاتل رویے۔۔۔۔مریم مجید ڈار

قارئین! گزرے دنوں میں میں نے ایک تحریر”سیاہ تتلی” کے عنوان سے لکھی تھی جو بنیادی طور پر ایک آرٹیکل یا مضمون تھا جسے تھوڑا سا ادبی رنگ اس لئیے دیا گیا کہ ادب اپنی فطرت اور گہرائی و چاشنی←  مزید پڑھیے

سیاہ تتلی۔۔۔مریم مجید ڈار

وہ چار سال کی تھی جب اسے ماں سے پہلا تھپڑ پڑا ۔ وہ کچھ دیر روئی، سنبھل گئی! سرخ گال بھی کچھ دیر بعد اپنی اصل رنگت میں آ گیا۔ تکلیف رفع ہو گئی، نفرت اس بچی کے گال←  مزید پڑھیے

محبت کی تیسری کہانی۔ ۔۔مریم مجید

کشمیر جنت نظیر و ایران صغیر کا وہ ایک چھوٹا سا چناروں اور چیڑھوں سے گھرا گام (گاوں) تھا جہاں کچی بانڈیوں کی چھوٹی سی آبادی تھی۔ چندراہار نامی یہ گاوں آنے والے وقتوں میں اپنا نام بدل لینے والا←  مزید پڑھیے

محبت کی دوسری کہانی۔۔۔مریم مجید ڈار

شب کے اس پہر ، جبکہ چاند اخروٹ کے درخت کی پھننگ پہ آن ٹھہرا ہے اور دور جنگل میں کسی شب بیدار پرندے کے مسلسل کوکنے کی آواز بوند بوند خاموشی کے درون چھید کرتی ہے تو میں اپنے←  مزید پڑھیے

مڑھیاں دا دیوا۔۔۔مریم مجیدڈار

شکر دوپہری سروٹاں دے ذخیرے دے اندرو اندر کوئی ٹریا جاندا سی۔ ہاڑ دی دھپ تے ساہ پھٹ گم دا چار چفیری پہرہ سی ۔ او جو وی کوئی سی، اوہدے پیراں دی آواز توں شاید اس ذخیرے دے سارے←  مزید پڑھیے

محبت کی پہلی کہانی۔ ۔۔۔مریم مجید ڈار

وہ برف زمانے تھے جب گہری نیند سوئی ہوئی لڑکی کے کمرے کی مشرقی کھڑکی کے پاس اس بیل نے ننھے پتے پیدا کرنے کا آغاز کیا تھا جو خزاں میں سرخ ہو جاتے ہیں۔وہ اپنی کھڑکی کی چوکھٹ پر←  مزید پڑھیے

اپنا اپنا جہنم۔۔۔مریم مجید ڈار

وہ سیانوں سے سنتی چلی آئی تھی کہ بیٹا جنمے تو لوگ بدھائیاں دینے آئیں نہ آئیں،  در و دیوار سے پھوٹتی خوشی اور دروازوں پہ ٹنگی شرینہہ کی ٹہنیاں ہی اعلان کرتی پھرتی ہیں کہ نعمت خداوندی کا ،اولاد←  مزید پڑھیے

حرامی ۔۔مریم مجید ڈار

شہر میں جگہ جگہ سسکیوں والے ریستوران کھل چکے تھے ۔ وہاں کوئی خاص خوراک تو نہیں بنتی تھی مگر پھر بھی سب سے زیادہ ہجوم وہیں پایا جاتا تھا۔ نوجوان جوشیلے لڑکے اور امنگوں سے لبریز نمکین دھندلے مرغولوں←  مزید پڑھیے

سوہانجنا ،ایک کرشماتی پودا۔۔۔۔مریم مجید ڈار

کائنات میں موجود ہر جاندار و بے جان شے کی پیدائش کا مقصد صرف اور صرف بنی نوع انسان کی خدمت بجا لانا ہے۔ دیوہیکل معدنیات اگلتے پہاڑ ہوں یا نظر نہ آنے والے جرثومے، چرند پرند حیوانات و نباتات←  مزید پڑھیے

سرخ مسیحا۔۔۔مریم مجید ڈار

گاؤں والوں نے آج پھر ایک اور باسی کی لاش جنگل کو جانے والے راستے سے اٹھائی تھی اور رات کی سیاہ خاموشی میں اب وہ اسے دفنانے آئے تھے۔ ہاتھوں میں مشعلیں تھامے وہ اس لکڑی کے تختے کے←  مزید پڑھیے