مریم مجید کی تحاریر

احوال ذلالت بطرز جدید چال چلن ۔۔مریم مجید/ آخری قسط

اگلی سویر جب میں دوکان کھول کر جھاڑ پونچھ کر رہا تھا تو محلے کی مسجد کمیٹی کے رکن حاجی دلبر نازل ہو گئے۔ حاجی صاحب کا سراپا نعمتوں کے کثرت استعمال سے ایسا ہو چکا تھا کہ جناب سر←  مزید پڑھیے

احوال ذلالت بطرز جدید چال چلن۔۔مریم مجید/قسط1

صاحبان دنیا میں خدا اور جنس کے بعد جو شے قدامت میں بازی لیے  جاتی ہے وہ ہے ذلالت ۔ آپ کو یاد ہو تو میں وہی ہوں جو نے کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل←  مزید پڑھیے

چھوٹا گوشت۔۔مریم مجید ڈار

شہر میں چھوٹے اور نازک ماس کی مانگ اتنی بڑھ گئی تھی کہ لوگ اپنے تھان کے جنور ہی چابنے لگے تھے۔ بڈھا سخت ریشوں والا گوشت دانتوں کے درمیان موجود خلا میں پھنستا تھا ۔ مزہ بھی خراب ہو←  مزید پڑھیے

مکڑی صفت۔۔مریم مجید ڈار

مین ہٹن کے نواحی قصبے میں یہ ایک بادلوں سے گھری صبح کا آغاز تھا۔گھنے بادل برسنے کو تیار نظر آتے تھے۔۔ مسلسل بجتے الارم نے گہری نیند سوئی ہوئی پاؤلا کو گویا جھنجھوڑ کر اٹھا دیا ۔ اس نے←  مزید پڑھیے

برزخ سے براہ راست __مریم مجید

مجھے آپ سب کا تھوڑا سا وقت درکار ہے۔۔ گھبرائیے نہیں، مجھے آپ سب سے کوئی مالی، جذباتی یا کسی بھی کسی کی قسم مدد درکار نہیں کیونکہ میں ہر طرح کی مدد سے بے نیاز ہو چکی ہوں ۔←  مزید پڑھیے

مردوں پر روا رکھے جانے والے ذہنی تشدد ۔۔مریم مجید ڈار

انسان چاہے مرد ہو یا عورت یہ طے ہے کہ وہ احساسات، جذبات و محسوسات سے عاری نہیں ہو سکتا۔ قدرت نے انسانی ذہن کی بنت میں جہاں ہمت قوت ارادی اور مضبوط حواس استعمال کیے ہیں وہیں دوسری طرف←  مزید پڑھیے

ادھوری عورت کی کتھا ۔۔مریم مجید ڈار

خود کلامی ۔۔۔ باہر کتنی ٹھنڈک ہے ناں ۔!!اور اندر اس آتش دان میں سلگتی آگ سے اڑتے جلتے بجھتے شرارے میں تمھاری آنکھوں میں دیکھتی ہوں ۔۔ تمھاری آنکھوں میں اس لیے کہ۔۔مجھے تمھارا قرب۔۔تمھاری بانہوں کی گرفت کسی←  مزید پڑھیے

بندر کا تماشا اور تصویری معجون۔۔مریم مجید ڈار

صاحبان! کیا آپ نے کبھی بندر کا تماشا دیکھا ہے؟ یقیناً  دیکھا ہو گا۔یہاں میری مراد سات سے نو بجے والے نیوز چینلز کے ٹاک شوز نہیں بلکہ سچ مچ بندر کا تماشا ہے جو اکثر ہمیں کسی فٹ پاتھ←  مزید پڑھیے

حرافہ۔۔مریم مجید ڈار

آٹھ سالہ منی نے بودی لکڑی کے پھٹوں سے بنے جھولتے دروازے کو دیکھا تو مسرت  سے  آنکھیں  چمک  اٹھیں ۔باہر کچی گلی کے پار والے میدان سے اس سڑی شکر دوپہر میں گونجتی بانو،گڈی، پینو اور شاداں کی “کیکلی←  مزید پڑھیے

دو بوند انقلاب۔۔مریم مجید ڈار

پادری نے آخری دعائیہ کلمات ادا کیے اور سب لوگ دھیرے دھیرے قبرستان سے نکلنے لگے۔کچھ ہی دیر میں اس خستہ حال قبرستان میں بنی ایک تازہ قبر کے قریب فقط ایک ہی شخص رہ گیا ۔سر جھکائے،وہ شدید سرد←  مزید پڑھیے

طوائف۔۔۔ مریم مجید

دسمبر کی سرد اور کہر آلود رات نے ابھی نصف سفر بھی طے نہیں کیا تھا مگر پالے نے شہر کی سڑکوں پر جو ویرانی پھیلا رکھی تھی وہ نصف شب کا سماں باندھ رہی تھی ۔لوگ باگ اپنے اپنے←  مزید پڑھیے

چاند کا آنسو۔مریم مجید ڈار

چاند کی بڑھیا کی آنکھوں میں دو آنسو رہا کرتے تھے ۔ایک شام جب بڑھیا سوت کات رہی تھی تو یونہی اس نے زمین پہ جھانکا۔۔تو اس نے کیا دیکھا؟؟؟ اس نے دیکھا کہ زمین کی سبھی عورتیں بہت دکھی،←  مزید پڑھیے

محبت کی کہانی۔۔۔مریم مجید ڈار

میں اس سرد شام اپنے پسندیدہ ریستوران میں اپنے واحد دوست کے ساتھ بیٹھی تھی اور ہمارے سامنے رکھی سیاہ کافی اپنی ساری حرارت کھو چکی تھی۔۔ہم ہمیشہ کی طرح ریستوران کے باغیچے میں مروا کے پیڑ تلے اپنی مخصوص←  مزید پڑھیے

مقدمہ ابلیس و آدم و حوا۔مریم مجید

بہشت میں وہ صبح معمول سے بہت الگ تھی۔یوں جیسے کوئی طوفان آنے کو ہو۔بہشتی چرند پرند جو خوش الحانی سے رب عرش العظیم کی ثنا خوانی کرتے تھے وہ دم سادھے جنت کے پیڑوں پر دبکے بیٹھے تھے۔فرشتوں کے←  مزید پڑھیے

پرایا ہاتھ ۔مریم مجید

وہ صبح اپنے معمول کے مطابق جاگا تو اس نے محسوس کیا کہ اس کا دایاں ہاتھ کچھ بھاری سا ہو رہا ہے۔۔”شاید سوتے ہوئے جسم تلے دب کر خون کا دورانیہ متاثر ہو گیا ہے” اس نے سوچا اور←  مزید پڑھیے

احوال کاٹھ کی ہنڈیا کے دوسری بار نہ چڑھنے کا۔مریم مجید

اگر آپ اردو زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو مندرجہ بالا محاورے اور اس کے مطلب سے بھی بخوبی واقف ہوں گے۔ ویسے تو یہ محاورہ مشکوک سا لگتا ہے کہ کاٹھ یعنی لکڑی کی ہنڈیا  کا احوال  جو ایک ←  مزید پڑھیے

تلسی کے پتے۔مريم مجيد

نواب فیروز کی آنکھ آج پھر ایک مخصوص وقت پر اچٹ گئی تھی۔۔۔شمع دان میں ہلکی سی لو پھڑپھڑا رہی تھی۔۔انہوں نے گہری سانس لیتے ہوئے لو بڑھائی اور بستر کے برابر میز پر دھری گھڑی پر وقت دیکھا۔۔”رات کے←  مزید پڑھیے

بکھی۔مریم مجید

دن کی دھوپ خاصی پھیل گئی تھی ،جب شوکا کھولی سے باہر آیا،ایک بدبودار سانس فضا میں چھوڑ کر اس نے دونوں بازو پھیلا کر انگڑائی لی،اور پھر تھڑے پر بیٹھ گیا۔کچی بستی میں دن پورا چڑھ آیا تھا،جگہ جگہ←  مزید پڑھیے