مریم مجید کی تحاریر

دو بوند انقلاب۔۔مریم مجید ڈار

پادری نے آخری دعائیہ کلمات ادا کیے اور سب لوگ دھیرے دھیرے قبرستان سے نکلنے لگے۔کچھ ہی دیر میں اس خستہ حال قبرستان میں بنی ایک تازہ قبر کے قریب فقط ایک ہی شخص رہ گیا ۔سر جھکائے،وہ شدید سرد←  مزید پڑھیے

طوائف۔۔۔ مریم مجید

دسمبر کی سرد اور کہر آلود رات نے ابھی نصف سفر بھی طے نہیں کیا تھا مگر پالے نے شہر کی سڑکوں پر جو ویرانی پھیلا رکھی تھی وہ نصف شب کا سماں باندھ رہی تھی ۔لوگ باگ اپنے اپنے←  مزید پڑھیے

چاند کا آنسو۔مریم مجید ڈار

چاند کی بڑھیا کی آنکھوں میں دو آنسو رہا کرتے تھے ۔ایک شام جب بڑھیا سوت کات رہی تھی تو یونہی اس نے زمین پہ جھانکا۔۔تو اس نے کیا دیکھا؟؟؟ اس نے دیکھا کہ زمین کی سبھی عورتیں بہت دکھی،←  مزید پڑھیے

محبت کی کہانی۔۔۔مریم مجید ڈار

میں اس سرد شام اپنے پسندیدہ ریستوران میں اپنے واحد دوست کے ساتھ بیٹھی تھی اور ہمارے سامنے رکھی سیاہ کافی اپنی ساری حرارت کھو چکی تھی۔۔ہم ہمیشہ کی طرح ریستوران کے باغیچے میں مروا کے پیڑ تلے اپنی مخصوص←  مزید پڑھیے

مقدمہ ابلیس و آدم و حوا۔مریم مجید

بہشت میں وہ صبح معمول سے بہت الگ تھی۔یوں جیسے کوئی طوفان آنے کو ہو۔بہشتی چرند پرند جو خوش الحانی سے رب عرش العظیم کی ثنا خوانی کرتے تھے وہ دم سادھے جنت کے پیڑوں پر دبکے بیٹھے تھے۔فرشتوں کے←  مزید پڑھیے

پرایا ہاتھ ۔مریم مجید

وہ صبح اپنے معمول کے مطابق جاگا تو اس نے محسوس کیا کہ اس کا دایاں ہاتھ کچھ بھاری سا ہو رہا ہے۔۔”شاید سوتے ہوئے جسم تلے دب کر خون کا دورانیہ متاثر ہو گیا ہے” اس نے سوچا اور←  مزید پڑھیے

احوال کاٹھ کی ہنڈیا کے دوسری بار نہ چڑھنے کا۔مریم مجید

اگر آپ اردو زبان سے واقفیت رکھتے ہیں تو مندرجہ بالا محاورے اور اس کے مطلب سے بھی بخوبی واقف ہوں گے۔ ویسے تو یہ محاورہ مشکوک سا لگتا ہے کہ کاٹھ یعنی لکڑی کی ہنڈیا  کا احوال  جو ایک ←  مزید پڑھیے

تلسی کے پتے۔مريم مجيد

نواب فیروز کی آنکھ آج پھر ایک مخصوص وقت پر اچٹ گئی تھی۔۔۔شمع دان میں ہلکی سی لو پھڑپھڑا رہی تھی۔۔انہوں نے گہری سانس لیتے ہوئے لو بڑھائی اور بستر کے برابر میز پر دھری گھڑی پر وقت دیکھا۔۔”رات کے←  مزید پڑھیے

بکھی۔مریم مجید

دن کی دھوپ خاصی پھیل گئی تھی ،جب شوکا کھولی سے باہر آیا،ایک بدبودار سانس فضا میں چھوڑ کر اس نے دونوں بازو پھیلا کر انگڑائی لی،اور پھر تھڑے پر بیٹھ گیا۔کچی بستی میں دن پورا چڑھ آیا تھا،جگہ جگہ←  مزید پڑھیے