بٹن۔ مریم مجید

یوں تو دنیا میں کوئی متنفس بھی ایسا نہ ہوا جو جھنجھٹوں اور قضیوں کی علت کے بنا اپنا وقت کاٹ کر چلتا بنا ہو مگر ثریا کا خیال تھا کہ جو جھنجھٹ اور قضیہ اس کی چھوٹی سی زندگی پہ گرہ کا سانپ بنا بیٹھا تھا، درحقیقت وہی سب سے گھمبیر اور تھکا دینے والا تھا۔۔
اب آپ سوچیں گے کہ ثریا کو شاید محنت مشقت سے زندگی کو رام کرنا پڑتا ہے تو آپ بالکل غلط ہیں۔ بھلا ایک آسودہ حال اور خوش بخت گھرانے کی نو سالہ لڑکی کو خدانخواستہ محنت مشقت سے کیا علاقہ؟ اماں ابا بھی خدا رکھے، حیات ہیں اور بھائیوں بھابیوں اور آپاوں کی سر چڑھی لاڈلی سی بچی ہے ۔
تو پھر ثریا کا قضیہ کیا ہے؟؟ سناتے ہیں بھئی!ذرا دم لیجئے۔ دراصل ثریا پر ایک چھوٹی سی ذمہ داری ڈال دی گئی تھی اور وہ یہ کہ اسے گھر میں سب افراد کی قمیضوں پر لگے بٹنوں کا دھیان رکھنا تھا۔ دھوبی کو دھلنے کے لئیے دئیے جانے والے کرتے اور دھل کر واپس آنے والے کرتوں کے گریبان پر دھیان دینا تھا مبادا کوئی بٹن ٹوٹ کر گر گرا نہ گیا ہو اور اس پر یہ ذمہ داری کوئی یونہی تو نہیں ڈال دی گئی تھی۔
شاہ صاحب کو آخری عمر میں ، جب پوتے اور نواسے بھی پائجامہ خراب کرنے کی عمر سے نکل چکے تھے، قدرت نے ثریا سے نواز دیا تھا ۔ پہلے پہل تو بیگم خوب سٹپٹائیں، چہکوں پہکوں روئیں کہ بہووں، بیٹوں اور پوتے نواسوں کے ہوتے اب یہ جگ ہنسائی بھی مقدر کا لکھا سمجھ کر کاٹنی پڑے گی۔ ڈرتے ڈرتے دائی کی خدمات حاصل کرنی چاہیں تو شاہ صاحب کی سرخ انگارہ آنکھوں نے رگوں میں بہتا خون تک سہما کر رکھ دیا” خبردار جو قتل ناحق کا سوچا بھی! کوٹھڑی میں گاڑ دوں گا اور چیونٹی، چوہیا کو بھی خبر نہ ہونے پائے گی۔” انہوں نے حقہ گڑگڑاتے ہوئے بیگم کو خبردار کیا اور وہ چپکی بیٹھ رہیں۔
ثریا کی پیدائش جب تک ہوئی، منجھلے بیٹے کے بیاہ کو چار روز گزر چکے تھے اور بڑی بہو کی گود میں چھ ماہ کا ننھا غاوں غوں کرتا تھا۔ شاہ صاحب کو یہ آخری عمر کی اولاد بڑی ہی پیاری تھی اور ہم عمروں میں ابھی تک ان کے جوان ہونے کا منہ بولتا ثبوت بھی۔
بیگم تو منہ چھپائے چھپائے پھریں مگر شاہ صاحب اسے فخریہ اٹھائے رہتے۔ “لو اور سنو! دنیا کیا کہے گی ، پوتا پوتی کے برابر بٹیا کھلائے پھر رہے ہیں” بیگم نے چھالیہ کترتے ہوئے اپنا دکھڑا بڑی بہو کے گوش گزار کیا جو بیٹے کو دلیہ کھلانے کی کوشش میں ہلکان ہوئی جا رہی تھی۔ “پریشان کیوں ہوتی ہیں خالہ بیگم ! بھیڑ کے اون میں اگی سرسوں بھی لوگ چار دن میں بسرا دیتے ہیں اور یہ تو ایسا انوکھا امر بھی نہیں” اس نے مسکرا کر کہا اور باہر نکل گئی۔
اور سچ ہی تو کہا تھا ! گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ نوکرانیوں کا ایک دوسرے کو ٹہوکے دے دے کر معنی خیز انداز میں دیدے مٹکانا بھی ختم ہوا اور اماں بھی ممتا کے فطری جذبے سے مجبور ہو کر ثریا کے لاڈ اٹھانے لگیں۔ اندر کہیں ایک ہلکا سا تفاخر انہیں بھی سہلاتا رہتا تھا” میں تو اب بھی زرخیز ہوں بھئی! بیج سینچنے اور پھل دینے کی صیلاحیت سے مالامال!” وہ غسل خانے میں خود کو غور سے دیکھتیں اور شرما کر کرتے کے بٹن لگانے لگتیں۔
قصہ مختصر ثریا اپنے ہم عمر بھتیجوں بھانجوں کے ساتھ پروان چڑھتی رہی ۔ دوستی بھی خوب تھی اور جھگڑے بھی! بڑی آپا مائیکے آتیں تو ان کے شرارتی بچوں کے ساتھ مل کر خوب ہی ہلڑ مچتا۔
آتے جاتے موسموں کے ساتھ بڑے، بڑھیانے لگے اور بچے تاڑ کے پیڑوں کی مانند بڑھنے اور پھلنے پھولنے لگے۔
ثریا نے بڑی ہی نٹ کھٹ اور منچلی طبعیت پائی تھی اور گھڑی بھر کے لئیے نچلا بیٹھنا اسے گوارا نہ تھا۔ ابھی جامن کے پیڑ سے جھول رہی ہے تو ابھی فالسے کی جھاڑیوں کی شامت آئی ہے۔ کبھی باغیچے میں اینٹیں جوڑ کر ہنڈ کلیا جھونکنے کی کوشش ہے اور اگلے ہی لمحے باورچی خانے میں گھس کر چپاتیاں بنانے کا سودا سر میں آ سمایا ہے۔ اور اس سے بھی جی اکتایا تو اماں کی محنت سے گوندھی چوٹیوں کو نوچ نوچ کر کھولنے کے بعد بھتنی بنی دالان اور چھت میں چکرانے لگی ۔
مالی اور باورچن نے معدودے چند دن تو اس کے بگاڑ سہے پھر عاجز آ کر بیگم کے سامنے آن کھڑے ہوئے۔
“مالکن چھوٹی بٹیا نے ٹماٹر کی ساری پود اکھاڑ ڈالی اور قلمی آموں کے قطعے میں جگہ جگہ دیا سلائی دکھاتی پھر رہی ہیں۔ آپ جانیں! شاہ صاحب کا عتاب مجھ نگوڑے پر ہی ٹوٹے گا” مالی نے دوہائی دی تو باورچن بھی آگے بڑھی۔ ” دوپہر باورچی خانے میں گھس آئیں اور مٹھی بھر بھر کر ریت آٹے میں جھونکتی رہیں۔ منع کرنے پر میرے بال کھسوٹ لئیے” اس نے بھی مقدور بھر رونا رویا تو وہ جو خود بھی اس کی شریر طبعیت کے ہاتھوں اکتائی بیٹھی تھیں، سر تھام کر رہ گئیں۔
“کچھ خبر اس مزاج کی اب لینا ہی ہو گی۔ لاڈ پیار نے خوب ہی سر چڑھا رکھا ہے۔ مالی! ذرا بھیجیو گستاخ کو”! اور گستاخ کچھ ہی دیر میں میلے لباس اور اجڑے بالوں کے ساتھ ان کے سامنے کھڑی ایک ٹانگ سے دوسری پر پہلو بدلنے میں مصروف تھی۔ اودے کرتے اور سفید پائجامے کا خوب ہی حلیہ بگاڑ رکھا تھا ۔ گریبان کی پٹی پر بس دو بٹن جھول رہے تھے اور باقی جانے کہاں گرا چکی تھی۔ انہوں نے سخت نظروں سے اسے گھورا۔
“یہ میں کیا سن رہی ہوں ثریا!؟؟ گھر بھر کو تم نے اپنی شرارتوں کے چلتے ضیق کر رکھا ہے۔ موا وہ مالی اور باورچن بھی تم سے پناہ مانگتے ہیں۔ ارے میں پوچھتی ہوں ، تمہارا یہ بے ڈھنگا پن آخر کس گھڑی رخصت ہو گا؟ ” انہوں نے پھٹکارنے کا آغاز کیا تو ثریا کے موٹے موٹے پھولے گال مزید پھول گئے۔ ” جھوٹ بکتا ہے مالی اور باورچن تو ہے ہی ایک فتیلہ”!! آٹھ سالہ ثریا کی کتر کتر چلتی زبان پر انہوں نے ملامت بھری نظروں سے اسے دیکھا ” اماں جان! میں تو بس بھابی اماں اور آپا بی کی مانند کام کرنا چاہتی ہوں مگر کوئی کرنے ہی نہیں دیتا ” بات کے اختتام تک لہجہ بھرا آیا تو اماں نے بے ساختہ ہاتھ بڑھا کر تخت پہ بٹھا لیا۔
“ارے بٹو! بس اتنی سی بات!؟؟ تم کو کام کرنا اچھا لگتا ہے ؟؟ ” انہوں نے لاڈ سے پوچھا تو اس نے جھٹ سے گردن ہلائی۔
“جی اماں جان! جیسے بھابی اماں کرتی ہیں۔۔ سینیوں میں چمچے ہلاتی ہیں اور جیسے آپا بی ڈھیروں کرتے کاڑھا کرتی ہیں” اماں نے اس معصوم جواب پر ہنس کر اسے لپٹا لیا۔
“اچھا تو یوں کرتے ہیں کہ تم کو بھی ایک کام سونپے دیتے ہیں۔ مگر دیکھو! جی لگا کر کرنا ہو گا!” انہوں نے لہجہ گھمبیر بنایا تو اس کی ذہین آنکھیں چمکنے لگیں۔ ” جی اماں جان ! میں دل لگا کر کروں گی آپ دیکھ لیجئے گا! بس آج سے باورچن کی چھٹی”! وہ ایک پاوں پر اچھلتی ، ذمہ دار اور معزز محسوس کرتی باہر کو لپکنے لگی مگر انہوں نے بازو سے تھام لیا۔ “ارے سن تو لو نیک بخت! باورچن غریب کے پیٹ پر کاہے لات مارتی ہو۔۔؟ تمہارا کام کچھ الگ ہے ۔ ” پھر وہ اسے پیار سے سمجھانے لگیں۔
“دیکھو! تمہیں بس یہ کرنا ہے کہ دھوبی کو جو کپڑے دھلانے دئیے جاتے ہیں، ان کی واپسی پر سبھی کرتوں کے گریبان جانچنے ہیں آیا بٹن پورے ہیں یا ٹوٹ رہے ہیں ‘” ۔ اور ثریا جو کسی بھاری بھرکم ذمہ داری سونپے جانے پر دل ہی دل میں دیگر بچوں پر رعب جھاڑنے اور سیان پن دکھانے کے خیال سے پھولے نہیں سما رہی تھی ، کچھ بدمزہ سی ہو گئی۔ “بس! اتنا معمولی کام!؟” ہونٹ لٹک کر ٹھوڑی سے جا ملا۔
“بٹیا! جب تم یہ اچھے سے کر لو گی تو پھر تم کو ہنڈیا کی ذمہ داری بھی سونپ دیں گے ۔ اب جاو اور دالان میں جو گھٹڑ آیا رکھا ہے۔ ان کے بٹن دیکھو” انہوں نے بہلایا اور وہ ننھی بچی بہل بھی گئی۔ اماں نے بھی اس کی شرارتوں میں کمی کے خیال سے سکھ کا سانس لیا کہ کچھ تو توجہ بے ڈھنگے کاموں سے ہٹے گی۔
ادھر ثریا نے پوری تندہی سے کرتے دیکھنے شروع کئیے۔ وہ ایک ایک کرتا اٹھاتی، اسے جانچتی اور ٹوٹے بٹنوں کا حساب لگانے لگتی۔ بظاہر آسان دکھائی دینے والا یہ کام اتنا آسان بھی نہیں تھا۔ وہ بار بار بھول جاتی اور نئے سرے سے کپڑے گھسیٹنے لگتی۔ اس دوران دو مرتبہ بھیا کا منو اسے باغیچے میں کنواں کھودنے کے لئیے بلانے آیا مگر اس نے ڈپٹ کر بھگا دیا۔ “دیکھتے نہیں! میں کام کر رہی ہوں۔” گردن اکڑا کر بولی تو وہ زبان چڑاتا بھاگ گیا۔
عصر کی نماز کے وقت تک وہ اپنا کام مکمل کر چکی تھی۔ “اماں! آپ کے چار کرتوں کے ایک ایک بٹن ٹوٹے ہوئے ہیں۔ ابا میاں اور بھیا کے کرتے پر پورے بٹن ہیں اور بھابی اماں کے کرتوں پر ایک آدھ بٹن ٹنگے ہیں ۔ دھوبی بہت ہی نکما ہے ” اس نے اپنی کارگزاری سینہ پھلا کر پیش کی تو اماں نے تکئیے تلے رکھی شیرینی اسے انعام کے طور پر کھانے کو دی اور پیار کرتے ہوئے بولیں۔ “بہت خوب! تم تو بڑی ہی سیانی ہو۔ چلو اب وضو بناو ، استانی جی آتی ہی ہوں گی”۔
وہ خوشی خوشی باہر نکل گئی تو انہوں نے اپنی عقل کو داد دیتے ہوئے تسبیح اٹھا لی ۔
سچ ہے کہ اگر بشر کو آنے والے وقتوں کا علم ہو چکتا تو جن منصوبوں پر وہ خود کو داد دیتا نہیں تھکتا، ان کے خیال کو بھی کہیں دور جھٹک دیتا جو وہ عواقب اور اثرات کو پہنچنے کی تاب رکھتا تو!۔
دھوبی کے دھلے کرتوں پر بٹن جانچتے جانچتے ثریا لاشعوری طور پر گھر کے سبھی افراد کے لباس بھی پرکھتی رہتی۔ اماں، بھابی، بھیا ! یہاں تک کہ ابا کے سفید دودھ کی جھاگ سی قمیضیں بھی اس کی نگاہ کی پکڑ میں رہتیں اور آہستہ آہستہ اس کی یہ عادت اتنی پختہ ہو گئی کہ کچھ باتیں اسے عجیب لگنے لگیں۔ وہ دیکھتی کہ گھر کے مردوں کے لباس پر لگے بٹن تو کم ہی ٹوٹے یا کھوئے ہوتے مگر عورتیں؟ ان کے کرتے اکثر ہی بٹنوں سے محروم پائے جاتے ۔ بڑی بھابی تو بیشتر اوقات رنگ برنگے ، مختلف بٹن ٹانکتے پائی جاتیں، چھوٹی کے ہاں ٹانکوں سے کام چلایا جاتا اور آپا کے اکثر اوندھے سیدھے لگے ہوتے۔ اسے سمجھ نہ آتا کہ اتنی سلیقے والی بھابیاں اور آپا اپنے لباس کے معاملے میں اتنے بے ڈھنگے پن کا مظاہرہ کیوں کرتی ہیں؟ اور ایک دوپہر جب سبھی دوپہر کے کھانے کے لئیے دسترخوان پر موجود تھے تو اس نے ناسمجھی اور نادانی میں پوچھ بھی ڈالا۔ ” بھابی اماں! ایک بات پوچھیں آپ سے “؟ روٹی کا لقمہ توڑتے ثریا بولی تو انہوں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ “ضرور پوچھو منی! ” ۔ وہ کھانا کھانے لگیں۔ ” آپ موٹی ہوتی جا رہی ہیں کیا”؟؟ وہ معصومیت سے بولی تو سبھی ہنس پڑے۔ “اے لو! تمہیں کس نے کہا” وہ ہنس کر گویا ہوئیں اتنے لوگوں کی ہنسی سے ثریا تھوڑا خفیف سی ہو گئی۔ “کہے گا کون!؟ وہ آپ کے کرتوں کے بٹن ٹوٹے رہتے ہیں ناں! تو اس لئیے۔۔۔۔ ” دستر خوان پر یکدم خاموشی چھا گئی۔ انہوں نے غیر ارادی طور پر اپنا دوپٹہ اچھی طرح سے پھیلا لیا اور بھیا خوامخواہ ہی کان سہلانے لگے۔
“خاموشی سے کھانا کھاو ثریا! ہر وقت بے معنی باتیں اور بے کار ٹھٹھول کرنے کی یہ تمہاری عادت کب ختم ہو گی”؟ اماں نے اسے بری طرح لتاڑ دیا اور معصوم ثریا اپنا قصور کھوجتی، آنکھوں میں آنسو لئیے سر جھکا کر نوالے توڑنے لگی۔ “لو بھئی! اب ایسا بھی کیا کہہ دیا تھا میں نے جو اماں نے اتنا فصیحتہ کر ڈالا” وہ اداسی سے اپنے پلنگ پر لیٹی سوچتی رہی ۔دھیرے دھیرے اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں اور جلد ہی وہ بچپن کی بے فکری نیند کی پناہ میں چلی گئی ۔
شام میں اس نے اماں کو کہتے سنا” تھوڑا دھیان کر لیا کرو۔ وہ نگوڑ ماری تو بچی ہے، بھولپن میں کہہ بیٹھی مگر تم تو سیانی ہو بہو”! بھابھی کھسیا کر کچھ منمنائیں مگر ثریا کو خاک سمجھ نہ آیا۔
اس دن کی جھاڑ کا خاصا اثر ہوا اور ہر گھڑی کتر کتر چلنے والی ثریا کی زبان کسی قدر قابو میں آنے لگی تھی ۔ مگر یہ تو زبان تھی جو خاموش رہنے لگی، ذہین نگاہیں مسلسل اپنا کام کئیے جاتی تھیں۔
بھادوں کے حبس بھرے دن تھے جب باورچن کے شوہر کو کھیتوں میں کام کرتے ہوئے سانپ نے ڈس لیا۔ جان تو بچ گئی مگر دیکھ بھال کے لئیے کچھ دن اسے گاوں جانا پڑا مگر مالکوں کو تنگی نہ ہو، اس لئیے اگلی شام ہی گاوں سے اسکی چھوٹی بہن آ گئی تھی۔
سولہ سترہ برس کی یہ لڑکی بڑی پھرتیلی تھی ۔ ڈھیروں ڈھیر روٹیاں دیکھتے ہی دیکھتے بنا ڈالتی اور آم کا گڑمبا تو اس قدر لزیذ بنایا کہ کھانے والے انگلیاں چاٹتے رہ گئے ۔
ننھی ثریا کو نوراں بہت اچھی لگی۔ وہ باورچن کی طرح بدمزاج نہیں تھی۔ ہنستی مسکراتی اور بڑی ہی بے ساختگی سے ثریا کی بے معنی باتوں اور معصوم سوالوں کے دلچسپ جواب دیتی تھی۔ اس نے ثریا کو ننھی ننھی ٹیڑھی روٹیاں پکانے سے بھی نہیں روکا۔ اور تو اور! اس نے وعدہ کیا کہ وہ واپس جانے سے قبل ثریا کو روئی بھری گڑیا اور گڈا بھی بنا کر دے گی ۔ “ارے واہ! تم کتنی اچھی ہو! کہیں سے بھی اس گائے کی بہن نہیں لگتیں”! اس نے زور سے اس کے گال پہ چٹکی لی اور باہر بھاگ گئی۔
نوراں گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ باورچی خانے کے علاوہ دیگر ذمہ داریاں بھی سنبھالنے لگی تھی۔ کئی کام وہ بیگم کے کہے بغیر ہی کر ڈالتی۔ چھوٹے بچوں کو سنبھالنا اسے بہت اچھے سے آتا تھا ۔ آپا اور بھابیوں کو اس کے ہونے سے بڑی بے فکری ہو گئی تھی مگر شاہ صاحب کی پیشانی کے بل اسے دیکھ کر ہمیشہ دگنے ہو جاتے۔ “لاحول ولا قوت! مردوں کے بھرے گھر میں کیسے دندناتی پھرتی ہے ” وہ کڑوے لہجے میں دھیمے سے بڑبڑا کر نگاہ پھیر لیتے۔ باورچن کو تو خدا موقع دے، دو ہفتے ہونے کو آئے مگر وہ نہ لوٹی اور ثریا تو دل سے چاہتی تھی کہ نوراں اب کبھی واپس نہ جائے۔ اسے دبلی پتلی، گہری سانولی نوراں بہت اچھی لگتی تھی جو ہاتھوں میں کہنیوں تک بھری تابنے کی چوڑیوں اور پیروں میں کانسی کے چھروں والی چوڑی پازیبیں پہنے بجلی کی مانند یہاں سے وہاں لپکتی رہتی تھی۔
“اے نوراں! تم ہماری مانند کرتا پائجامہ کیوں نہیں پہنتیں”! ایک دن ثریا نے اس سے پوچھا تو وہ جو اپنے لہنگے نما لباس کی مرمت کر رہی تھی، کھلکھلا کر ہنس دی۔ “ارے پگلی ! میں دیہاتن ہوں اور وہاں دیہات میں سب یہی پہنتے ہیں ۔ “اس کی گھنٹیوں سی ہنسی چوکھٹ کے پار پھیلی تو بھیا کے دل میں خوامخواہ ہی ترنگ سی جاگ اٹھی اور دل میں آئے کسی خیال کا عکس شاید چہرے پر بھی ابھر آیا تھا جبھی تو بھابھی چوکنی ہو گئی تھیں۔ اور ایک وہی کیوں؟ منجھلی بھابھی، چھوٹی بھابھی بھی مردوں کے گھر لوٹنے کے بعد نوراں کو کسی پاتال میں چھپا دینے کی سعی کرنے لگتیں۔ آپا خوامخواہ کے بکھیڑے اس کے حوالے کر دیتیں اور ثریا کو خوب ہی غصہ آتا” یہ سب کام بچاری نوراں کے سر ہی کیوں ڈال دئیے گئے ہیں آخر” ! ایسے تو میری گڑیا اور گڈا کبھی نہ بن پائیں گے۔ “وہ کلس کر سوچتی ۔
برسات کے بے اعتبار سے دن گزر رہے تھے ۔ گھڑی میں تولہ، گھڑی میں ماشہ! ابھی دھوپ اور حبس جی کا آزار بنی ہے تو اگلے ہی لمحے موسلا دھار بوندوں نے ہڑبڑی مچا دی ہے۔
ایسی ہی ایک شام جو جھڑی لگی تو عشا کا وقت آن پہنچا مگر بارش میں کمی نہ آئی۔ سبھی کھا پی کر اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے چلے گئے ۔ نوراں بھی اپنی کوٹھڑی میں پڑ رہی۔ آج اس نے مرچیں اور چاول دھوپ میں سکھائے اور پھر سمیٹے تھے، ایندھن کی کوٹھڑی صاف کی تھی اور لحافوں میں ڈورے ڈالے تھے جو دھنئیے کے ہاں سے بھر کر آئے تھے۔ وہ تھکن اور نیند سے بےحال تھی اور جلد ہی اس کی آنکھ لگ گئی۔
رات کا جانے کون سا پہر تھا۔ جب بادل زور سے گرجے اور اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ ڈر کر اٹھ بیٹھی اور تبھی اس نے چوکھٹ پر کسی کا سایہ دیکھا۔ بجلی ایک بار پھر زور سے چمکی اور بادلوں کی گڑگڑاہٹ میں بہت کچھ دب گیا۔
فجر کی اذان کے ہوتے ہوتے بارش تھم گئی تھی۔ ثریا اپنے کمرے سے باہر آئی تو اس نے بت بنی نوراں کو نیم کے پیڑ کے پاس کھڑے پایا۔ زرد چھوٹی سی قمیض اور نیلا لہنگا ! اوڑھنی کچھ بے ترتیب سی تھی ۔ وہ اس کے پاس چلی آئی۔ ” ارے نوراں! کیچڑ میں کیوں کھڑی ہو؟ پیر رپٹ گیا تو کیچڑ میں گر جاو گی۔ “ثریا نے کہا تو وہ ہنس دی۔ “گر بھی چکی !” وہ مڑ کر باورچی خانے میں چلی گئی ۔
تھوڑی ہی دیر میں گھر کے سبھی افراد جاگ گئے اور آہستہ آہستہ چہل پہل میں اضافہ ہونے لگا۔
ناشتے سے فراغت ہوئی تو بارش کے پھیلاوے کو سمیٹنے سمٹوانے کی مصروفیت بڑھ گئی ۔ مالی کیاریوں کی درستگی کرنے لگا اور بھابیاں سیلے بستر دھوپ میں پھیلانے لگیں۔ کچھ دیر گزری تو ہر کام میں مدد کے لئیے نوراں کے نام کی پکاریں پڑنے لگیں۔ ” ارے کہاں غائب ہے یہ نکمی ؟ دو گھنٹے ہونے کو آئے! ” بستر کھینچتی بڑی بھابھی نے چڑ کر کہا تو باقیوں کو بھی خیال آیا۔ ارے واقعی! کہاں گئی وہ؟” ۔ گھر بھر میں ڈھنڈیا مچ گئی۔ ہر کمرہ، دالان، کوٹھڑیاں اور چھت تک چھان ماری مگر نوراں کو نہ ملنا تھا نہ ملی۔ سب پریشان بیٹھے تھے کہ جوان لڑکی کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟
“ارے آنکھ لڑ گئی ہو گی کسی کے ساتھ، جو یوں نکل پڑی۔ مجھے تو اس کے لچھن شروع سے خراب نظر آتے تھے۔ جاو دیکھو کیا کیا سمیٹ کر لے گئی ہے” ۔ شاہ صاحب نفرت سے بولے تو اماں نے جھرجھری لی” ایسی لگتی تو نہیں تھی “۔ شاہ صاحب نے اپنی بات سے اختلاف کرنے پر انہیں کڑی نظروں سے گھورا تو وہ سٹپٹا گئیں” میں سامان دیکھتی ہوں”۔ مگر گھر سے ایک تنکا بھی غائب نہ تھا۔ مالی کو پوچھ پڑتال کے لئیے باہر بھیجا تو اس نے بتایا کہ اس حلیے کی لڑکی کو کچھ دیر قبل تانگوں کے اڈے کی جانب جاتے دیکھا گیا ہے۔ یوں چپ چاپ گھر سے چلے جانے پر سب اسے برا بھلا کہہ رہے تھے مگر ثریا کا دکھ سب سے سوا تھا۔
“ابھی تو نوراں نے میرے لئیے گڑیا اور گڈا بنانے تھے۔ جھوٹی مکارہ”! وہ مسہری کے نیچے گھس کر سسکتی رہی۔
دوپہر گزری تو سبھی اپنے اپنے معمول پر آ گئے۔ آخر ایک بے حیثیت نوکرانی کی خاطر کتنا فصیحتہ ہو سکتا تھا۔؟۔
ثریا اداس اداس سی باغیچے میں ٹہلتی رہی ۔ اسے نوراں بہت یاد آ رہی تھی۔ ۔
“ثریا! دھوبی آیا بیٹھا ہے! ذرا جلدی سے اپنے ابا کے کپڑے سمیٹ لاو! ” اماں نے اسے کہا تو وہ سر ہلاتی شاہ صاحب کے کمرے میں آ گئی۔ ایک عرصے سے انہوں نے اپنا کمرہ الگ کر رکھا تھا۔ بڑی سی الماری میں موٹی موٹی کتابیں بھری تھیں اور پلنگ کے ساتھ دیوار پر لگی کھونٹی سے ان کے لباس ٹنگے تھے۔ اس نے انہیں اتارا اور باہر آنے لگی تو تبھی اس کی نظر پلنگ کے پاس گرے بٹنوں پر پڑی۔ گہرے نیلے! نقلی سیپ کے چار بٹن!
اس نے جھک کر چاروں بٹن اٹھا لئیے ۔
باہر دالان میں اماں دھوبی کو کپڑے گن کر دے رہی تھیں۔ اس نے کپڑے تخت پر ڈھیر کئیے اور مڑ کر باہر جانے لگی تو جانے کس شے سے پیر اٹکا اور اگلے ہی لمحے وہ اوندھے منہ فرش پہ گر پڑی۔ جھٹکا لگنے سے بند مٹھی کھلی اور بٹن گر کر گول گول گھومنے لگے۔
“ارے نیک بخت کچھ تو دھیان کیا کر!” انہوں نے ڈپٹا تو وہ شرمندگی چھپاتی کپڑے جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ بٹن جانے کہاں کھو گئے تھے۔ وہ تخت کے نیچے جھانکنے لگی تو اماں نے پوچھ لیا” اب کون سا خزانہ کھوج رہی ہو “۔ اسے ایک بٹن مل گیا تھا۔ اس نے اسے ہتھیلی پر رکھا اور ان کے سامنے پھیلا دیا۔ “ایسے تین اور بٹن اماں! ” وہ بسور کر بولی۔ “یہ نوراں کے کرتے کے ہیں” اس کے الفاظ پر اماں نے اسے ہول کر دیکھا” کہاں سے ملے؟اس کی کوٹھڑی سے؟” ان کی آواز کانپ رہی تھی۔ کسی انہونی کے خدشے سے وہ سرسوں کا پھول ہوئی جا رہی تھیں۔ جوان لڑکے! نوجوان نوکرانی! “یا اللہ ایسا کچھ نہ ہوا ہو ۔۔” بٹن انہوں نے ثریا سے لے لیا ۔
“ارے نہیں اماں! یہ تو ابا کے کمرے سے ملے ہیں ” وہ بٹن نہ ملنے پر مایوس سی ہو کر باہر نکل گئی اور “ابا کے کمرے سے ملے
ہیں ” کا دیو بھیانک ہنسی ہنستا شاہ بیگم کا گلا گھونٹنے لگا۔ ان کی مٹھی میں دبا اکلوتا نیلا بٹن فرش پہ گرا اور لڑھکتا ہوا کسی درز میں کھو گیا۔

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *