وہ جو قہقہوں کا امین تھا۔ مریم مجید

مجھے فیس بک  نامی اس ورچوئل ورلڈ نے   بے مثل  خزانوں جیسے تعلق، انمول رتن دوست اور بہت خوبصورت وابستگیاں عطا کی ہیں۔ مجھے ہمیشہ سے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو فیس بک دوستی یا تعلق کو “فیک” کہتے ہیں  ۔ مجھے زندگی کے بہترین دوست، استاد ، رہنما اور ساتھی اسی دنیا سے ملے ہیں   اور دلی تعلق  فاصلوں کے، ملاقاتوں کے محتاج بالکل نہیں ہوتے۔ فیس بک کے دوستوں  میں ایک نام  عمران حیدر بھی  ہیں(ان کے بارے “تھے” لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ جاتے  ہیں)۔ ایک  آرٹسٹ، ایک کارٹونسٹ اور ایک حساس انسان، ایک  گداز قلب نوجوان۔ جو  کبھی اپنے  لفظوں سے ہنساتا تھا تو کبھی اپنی محنت اور عرق ریزی سے بنائے ہوئے خاکوں سے  بھینچے لبوں کو  مسکراہٹ عطا کرتا تھاِ ۔ وہ باصلاحیت انسان جو حالات کو ہنسی کے پردے میں لپیٹ کر   مشکل پہ پھبتی  کسا کرتا تھا، وہ آج کس قدر بری طرح رلا گیا ہے کہ کہنے کو کچھ  رہا ہی نہیں۔  میرا  عمران حیدر سے تعارف و تعلق بہت پرانا نہیں تھا۔ مکالمہ کے توسط  سے بنا یہ تعار ف   سچ مچ دوستی میں یوں بدلا کہ آج عمران حیدر کے دنیا سے رخصت ہو جانے کی خبر میرے دل کا ایک حصہ تاریک کر گئی۔

آہ اے دوست! تم  اپنی  بائیک کے خراب شاکس کی پوسٹس لگاتے لگاتے ایسا شاک دے جاؤ گے، کس نے سوچا تھاَ ؟ کون جانتا تھا کہ  تمہارا بنایا گیا آخری کارٹون ہمیشہ رلانے کا اسباب کرے گا؟ مجھے اس لفظ “آخری” سے نفرت ہے مگر  تمہاری آخری پوسٹ بھی قہقہ بار تھی ۔ تم قہقہوں کے امین تھے اور معلوم نہ تھا کہ تمہارے  آخری قہقے کو آنسوؤں سے خراج تحسین پیش کرنا ہو گا۔   میرے یہ چند بے توقیر الفاظ   میرے غم کے ترجمان بالکل  بھی نہیں ہیں۔   اللہ  رب العزت تمہیں بلند محل  اور ابدی باغات میں جگہ دے ۔ منازل  آسان ہوں اے دوست!   سوچتی ہوں، تم باز تو نہیں آنے والے، تو جنتوں میں بھی  حوران و غلماں کے خاکے بنایا کرو گے؟    تم نے پنی جہت بدل لی اور ہنسنے والوں کے دلوں پر سدا  ہرا رہنے والا زخم  لگا گئے۔

الوداع عمران حیدر!   اللہ کے ہاں اونچے مقام پاؤ اور  اپنی ازلی مسکراہٹ کے ساتھ آسمانوں میں جگمگاتے رہو۔

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *