آئیں ،آپ کو پنجاب گھماؤں۔۔عارف خٹک

پوری دنیا کورونا سے دہشت زدہ ہے، اور میں اپنے ناول کے سلسلے میں پنجاب کی خاک چھان رہا ہوں۔ قریہ قریہ، گلی گلی اور نگر نگر گھوم رہا ہوں۔ ملتان، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سمندری، گوجرہ، پینسرہ اور فیصل آباد کی  دیہاتی زندگی کا بہت قریب سے مشاہدہ کررہا ہوں۔۔پیدل نکل جاتا ہوں، نہر کنارے کپڑے دھوتے ہوئے، گھر کے دروازے کے سامنے بڑی بوڑھیاں بہوؤں کی غیبت کرتے ہوئے، خواتین ایک دوسرے کے  سروں سے جوئیں نکالتے ہوئے ملتی ہیں۔ وہیں زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتا ہوں اور ایک ایک کردار  کو بغور دیکھتا اور جانچتا رہتا ہوں۔

وڑائچوں کی بدمعاشیاں، رانوں کی کی  اکڑہوئی گردن، شیخوں کے کاروباری گُر، پتہ نہیں کیا کیا دیکھ رہا ہوں اور سیکھ رہا ہوں۔

سرزمین پنجاب پر محبت اور امن کے گیت گانے والوں کی کمی نہیں ہے۔ بشرط   یہ کہ آپ مخصوص نظریات کا چشمہ  اُتار کر گھر  رکھ  آئیں۔

پنجاب کے دیہاتوں میں گھومتے ہوئے پہلی بار ایسے ایسے پنجابیوں سے ملاقاتیں ہوئیں، جن کا تعلق ہندوستان کے دہلی، بہار، میرٹھ اور علیگڑھ سے ہے، جو خود کو مہاجر کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ یہ میرے لئے حیرت کی بات ہے، ورنہ آج تک ہم تو سندھ اور خصوصا ًکراچی کو مہاجروں کی آماجگاہ سمجھتے آئے ہیں۔

پنجاب میں شدید طبقاتی تقسیم محسوس کررہا ہوں۔ غریب یا کمی کمین کی زندگی بہت مشکلات سے دوچار ہے۔ برادری ازم اور طبقاتی گروہ بندیاں بہت خطرناک ہیں۔ ان پر ایک مفصل مضمون لکھنے کا ارادہ ہے۔

پنجاب میں برائیاں   ہیں مگر اچھائیاں ان سے کہیں  زیادہ ہیں ۔ پنجاب کے لوگ ملنسار، مخلص اور بَلا کے مہمان نواز ہیں۔ زندگی کے چالیس برسوں تک مہمان نوازی کو ہم صرف خیبر پختون خوا  کا خاصا سمجھتے آئے ہیں، مگر پنجاب کی مہمانوازی نے ہمارا یہ نظریہ بھی ڈگمگا دیا۔ پنجاب کی سرزمین میں وسیع النظری اور وسیع القلبی پائی جاتی ہے۔ یہاں آپ کو قبول کیا جاتا ہے۔

مجھے پنجاب کے ہر گاؤں اور ہر چک میں سلیمان خیل افغانیوں کے لوگ ملے جو محنت مزدوری کرتے ہیں،یا سود پر کام کرتے ہیں۔ جن کے پاس شناختی دستاویزات تک نہیں ہیں، مگر وہ یہاں کھلے عام محنت مزدوری اور کاروبار کررہے ہیں۔  میں  نے ان سے پوچھا آپ کو پولیس یا مقامی لوگوں کی طرف سے کوئی مشکلات تو پیش نہیں آرہیں ؟۔۔۔ تو ہنس کر جواب دیا۔ بالکل بھی نہیں۔

اگر میں کابل سے کسی پنجابی کیساتھ طورخم کی طرف محوِ سفر ہوں تو رستوں میں بیس پولیس ناکوں پر اس پنجابی کیساتھ کیا ہوتا ہے یہ میں جانتا ہوں۔ کندھار اور  سپین بولدک کا تو سوچیے بھی مت،  جہاں پنجابی کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ یہی حالت کم و بیش خیبر پختونخوا  اور بلوچستان میں بھی ہے، مگر پنجاب میں کوئی پنجابی آنکھیں میچ کر نخوت بھرے لہجے میں آپ سے یہ نہیں پوچھتا کہ “اوئے ایتھے کیھتے؟”۔

پنجاب میں مجھے ایک حیرت انگیز بات دکھائی دی۔۔ یہاں داماد کو باقاعدہ پوجا جاتا ہے۔ داماد کے سامنے بیٹی کی حیثیت بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ ادھر ہمارے علاقوں میں تو داماد کو سور کی  نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ دل میں کہیں پھانس ضرور چبھی ہوتی ہے کہ یہ مرد ہماری بیٹی اور بہن کیساتھ بدکاری کرتا ہے۔ میں نے خیبر پختونخوا میں کافی لوگوں کو داماد سے ہاتھ ملانا معیوب گردانتے دیکھا ہے اور داماد کی عزت کا اس سے زیادہ کیا کہوں کہ ساس بھی داماد سے پردہ کرتی ہے۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی تینوں بہویں پنجاب سے  لاؤں گا، کیونکہ ابا جتنا ذلیل ہوا ہے انشاءاللہ بیٹوں کو ذلیل نہیں ہونے دوں گا۔

پنجاب کی سرزمین ایک طلسم کدہ ہے۔ ایک بار آپ اس طلسم کدے میں قدم رکھ کر تو دیکھیں ،آپ کے ہوش ٹھکانے  آجائیں گے۔
میں اپنا ناول “چھٹکی” پانچ دریاؤں کی سرزمین کے نام کرتا ہوں۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”آئیں ،آپ کو پنجاب گھماؤں۔۔عارف خٹک

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *