• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • رمضان المبارک اور ہمارے عمومی رویوں میں تربیت کا فقدان۔۔مریم مجید

رمضان المبارک اور ہمارے عمومی رویوں میں تربیت کا فقدان۔۔مریم مجید

ماہ مبارک اپنی تمام تر خیر و برکت کے ساتھ  آخری عشرے میں داخل ہو چکا ہے۔ ملک کے زیادہ تر حصوں میں شدید درجہ حرارت کے ساتھ سترہ گھنٹوں سے زائد روزہ رکھنا اور افطاری تک معمولات کو نمٹانا ہی خاصا صبر آزما کام ہوتا ہے کجا کہ کچھ لکھا یا پڑھا جائے اور خوبی قسمت سے اگر ایسا نادر موقع دستیاب ہو ہی جائے تو حالت روزہ کی تمام تر “کڑواہٹ” تحریر میں منتقل ہونے لگتی ہے اور ہر کوئی دائرہ اسلام سے خارج کیے جانے کے قابل لگنے لگتا ہے ورنہ خارج از انسانیت لگنا تو معمول کی بات ہے۔

سوشل میڈیا پر دیکھا جائے تو جو دو گروہان روزہ دار مصروف عمل نظر آتے ہیں ان میں سے ایک تو وہ طبقہ ہے جو روزہ کے متعلق مزاحیہ”سٹیٹس” لکھ لکھ کر اپنا اور اپنے ہم خیالوں کا روزہ،بشرطیکہ انہوں نے رکھا ہو، گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسرا وہ طبقہ ہے جو اس مقدس فریضے کو ہر کس و ناکس،اہل و نااہل پر زبردستی تھوپنے،  روزہ کی نازکی، اس کے آداب، احتیاطیں، مکروہات و ممنوعات کے بارے میں ایسی ایسی تفاصیل فراہم کرنے میں مگن ہوتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے گویا روزہ ایک شیشے کے نازک برتن میں رکھی ہوئی برف کی ڈلی ہے اور اسے اپنے سر پر رکھے ہوئے آپ نے انگاروں پہ چل کے دوسرے سرےپہ جانا ہے ۔

یہ شرائط اور نازک مقامات ایک روزہ دار کے لیے استنجا کرنے سے لیکر زوجہ کو لگاوٹ کی نظر سے دیکھنے تک کے معمولات میں اس قدر تواتر سے آتے ہیں کہ ہر مقام سے گزرنے پر شک پیدا ہوتا ہے کہ آیا روزہ محفوظ ہے یا قضا ہو چکا؟اور روزہ دار معمولات زندگی نمٹاتے ہوئے رک رک کر سوچتا ہے کہ “ذرا تھم اے رہرو کہ پھر کوئی مشکل مقام آیا”۔۔

صاحبان! یہ دونوں طرز عمل افسوسناک ہیں، ناپسندیدہ ہیں! روزہ ایک مقدس فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری گیارہ مہینوں کی بدنظم حیات اور اصول و قواعد کی درستی کی ایک صورت بھی ہے، ہماری ذاتی تربیت کے لیے ایک لائحہ عمل ہے۔ یوں سمجھیے  کہ پورا سال پڑھائی سے جان چرانے والے نالائق طالبعلموں کے لیے یہ ایک مہینے کا وہ خصوصی ٹریننگ کورس ہے جس میں آپ پورے تعلیمی سال کی کوتاہیوں کا ازالہ کر سکتے ہیں۔ بشرطیکہ آپ کرنا چاہیں!

روزہ قطعی کوئی ایسی شے نہیں کہ اس کے متعلق مزاحیات گھڑی جائیں اور پھکڑ پن میں سبقت لے جانےکی کوشش کرتے ہوئے روزہ اور روزہ داروں کے متعلق فضول لطیفے کہہ سن کر لطف اندوز ہوا جائے۔ اس لیے کوشش کیجئے کہ مزاحیات پیدا کرنے کے لیے  دوسرے موضوعات مثلاً  سیاست،عمران،نواز و دیگر پر ہی نظر عنائیت مرکوز ہو اور روزہ و روزہ دار آپ کی لطیف جراحت سے بچے ہی رہیں تو بہتر ہو گا۔

اب بات کچھ دوسرے گروہ کی! تو خواتین و حضرات! روزے کے احکامات، مکروہات و ممنوعات اللہ کریم نے بے حد عام فہم انداز میں بیان فرما دی ہیں، یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ کن کن لوگوں پر روزہ رکھنا فرض ہے، کون لوگ ہیں جن کو چھوٹ حاصل ہے اور اس کے بدلے میں انہیں متبادل راستے اختیار کرنے کے لیے بھی مکمل راہمنائی فراہم کی گئی ہے۔ تو پھر ایسے میں کیا ضروری ہے کہ آپ ہاتھ میں محدب ایمانی عدسہ لیے سوشل میڈیا پر صبح سے شام کر دیں ۔ ہر ایک کو اپنے تیار کردہ لٹمس پیپر کی مدد سے پرکھتے رہیں اور لوگوں کو ایمان میں داخل یا خارج کرتے رہیں؟۔

روزہ اس قدر نازک شے تو بالکل بھی نہیں کہ آپ کو باتھ روم میں سانس روکنا پڑے، کھانے پینے والی اشیا کے قریب سے آنکھیں بند کر کے گزرنا پڑے، نہاتے ہوئے منہ اور کانوں پہ واٹر پروف ٹیپ لگانی پڑے، دو گھڑی کے آرام کوروزہ کی توہین سمجھنا پڑے یا اپنی منکوحہ سے سر دبوانے کی بے ضرر خواہش کرنے کے بدلے کفارے ادا کرنے پڑیں۔ اس لیے  کیا بہتر نہ ہو گا کہ ان سارے جھمیلوں اور خدا واسطے کی ایمان افروز تحقیقات کرنے کے بجائے آپ اور ہم اپنے روزوں کو اپنا ٹریننگ کورس بنائیں؟ اپنی عادات کا محاسبہ کریں، اپنے رویوں میں وہ سب ضروری تبدیلیاں لائیں جن کا تقاضا روزہ کرتا ہے ؟۔۔

روزہ ہمیں کیا سبق دیتا ہے؟؟ سب سے پہلے ضبط! صبر! برداشت اور تحمل! اور خدا لگتی کہیے! کیا ہم میں سے کوئی بھی یہ دعوی کر سکتا ہے کہ اس نے آج کا روزہ مکمل صبر،ضبط،برداشت اور تحمل سے گزارا؟؟ کیا روزہ فقط ہماری بھوک پیاس اور شہوت پر ضبط کا نام ہے؟ یا اس کا اطلاق ہماری زبان،ہمارے اخلاق اور ہمارے عمومی رویوں پر بھی ہوتا ہے؟ ہم صرف کھانے پینے سے ہاتھ کھینچ کر خدا پہ منوں احسان چڑھائے پھرتے ہیں کہ لیجئے اللہ! آپ کی خاطر اس قدر گرمی اور سخت موسم میں میں روزہ رکھتا ہوں!

لیکن ذرا دو منٹ کو فلیش بیک میں دیکھیے ! آپ نے روزہ رکھا، بھوک پیاس اور شہوت پہ بند باندھا مگر! آپ نے اپنی بیوی کو اپنے بچوں کو اپنے ماتحتوں کو مسلسل دہلائے اور بولائے رکھا ،اپنے دوستوں ساتھیوں،ملنے جلنے والوں، رشتہ داروں،پڑوسیوں کو سرخ آنکھیں دکھاتے ہوئے، معمولی باتوں کو تنازعہ بناتے ہوئے آپ اپنے غصے پر بند نہ باندھ سکے تو کہیے؟؟ کیا صبر و ضبط کا سبق ادھورا نہ رہا؟ بینک میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے، بجلی گیس اور ٹیلیفون کے بل جمع کرواتے ہوئے یا اپنے روٹ کی بس میں سوار ہوتے ہوئے، آپ نے قطار میں موجود لوگوں کو دھکم پیل کرتے ہوئے، آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے دوسروں کو اذیت پہنچائی، معمولی باتوں پر سیخ پا ہو کر بدزبانی کی یا بھدے طرز تخاطب کا استعمال کیا تو کہیے ! کیا آپ نے “روزہ صبر تحمل برداشت سکھاتا ہے” کی روح کو فوت نہ کر دیا؟؟

میرے چچا محترم جو روزہ تو رکھتے ہیں مگر رمضان ان کے بیوی بچوں اور ماتحتوں کے لیے ایک مستقل آزمائش بن کر گزرتا ہے کہ حالت روزہ میں وہ اپنے کمرے کے باہر سے اڑتی چڑیا کے پروں کی آہٹ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کی موجودگی میں ان کے بچے سرگوشیوں میں بات کرتے ہیں بیوی پنجوں کے بل چلتی ہے اور ماتحت دعا کرتے ہیں کہ یااللہ آج رفیق صاحب روزے سے نہ ہوں۔ کل ہی کی بات ہے کہ ان کے بیٹے کو کسی نے درخواست کی کہ” یار اپنے ابا کا روزہ نہ رکھوایا کرو، عید تک دو چار  قتل کر بیٹھیں گے”

تو کیا اس طرز عمل اور روئیے کے ساتھ رکھے جانے والے روزوں کی عملی اہمیت کنڈم نہیں ہو جاتی؟ کیا ہم روزہ دوسروں کی آزمائش بننے کے لیے  رکھتے ہیں؟اسی طرح دیگر رویوں کی بات کی جائے تو ہمیں کسی بھوکے کی بھوک کا احساس ہوتا ہے نہ پیاسے کی پیاس ہمیں کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ رویہ نرمی کے بجائے مزید سختی اور اکڑفوں لیے ہوئے ہوتا ہے۔

رحم،مودت، الفت،رقیق القلبی کے وہ لطیف احساسات جو حالت روزہ سے پیدا ہونے چاہیں تھے،ان کا نام بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ اللہ کریم نے روزے تزکیہ نفس کے لیے فرض کیے ہیں۔ کیا ہم یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں؟ کیا عمومی رویوں میں تربیت کا فقدان ہمیں اس ماہ مبارکہ سے پوری طرح فیضیاب ہونے سے معذور نہیں کر دیتا؟ اللہ ہماری بھوک پیاس کو نہیں دیکھتا ۔ وہ دیکھتا ہے تو اس اصل مقصد کے حصول کے لیے کی جانے والی کوشش کو کہ جس کا سبق روزہ سکھاتا ہے۔

یقین کیجئے! روزہ سے خوبصورت، پرحکمت اور مدلل ذاتی تربیت اور کوئی نہیں ہے  ۔ یہ تیس دن وہ کسوٹی ہیں  جن پہ ہم اپنے رویوں کے کھرے اور کھوٹے پن کو جانچتے ہوئے اپنے اعمال اپنی شخصیات اور اپنی عادات کو کندن  بنا  سکتے ہیں۔ یہ وہ امتحان ہے،وہ عملی مشق ہے جہاں ممتحن بھی آپ خود ہیں اور طالب علم بھی خود ہیں۔ آپ نے اپنے آپ کے ساتھ مکمل ایماندار رہتے ہوئے اپنا امتحان لینا ہے اور نتائج کی روشنی میں اپنی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرنا ہے۔

سیلف ٹریننگ کے اس ماڈیول کے بیس دن گزر چکے ہیں۔ آئیے! باقی رہ جانے والے دنوں میں اپنے عمومی رویوں کی تربیت کا عہد کرتے ہوئے رمضان کی اصل روح سے شناسائی حاصل کریں اور روزہ کو صرف بھوک پیاس کے لیے  ہی نہیں بلکہ ہر طرح کی اخلاقی کجی کے لیے ڈھال بناتے ہوئے اپنے نفس کی تربیت مستقل بنیادوں پر کرنے کی سعی کریں تا کہ روز آخرت اس باب الریان سے سرخرو اور شاد ہو کر گزر سکیں جس سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔۔

دعا اور کوشش کیجئے کہ اس ماہ مبارک کو دوسروں کی آزمائش نہ بننے دیں گے بلکہ خود کا محاسبہ کرتے ہوئے اپنی عادات میں وہ سب ضروری تبدیلیاں لائیں گے جن کے حصول کی خاطر روزہ رکھنے کا حکم ہے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *