کے ایم خالد کی تحاریر
کے ایم خالد
کے ایم خالد کا شمار ملک کے معروف مزاح نگاروں اور فکاہیہ کالم نویسوں میں ہوتا ہے ،قومی اخبارارات ’’امن‘‘ ،’’جناح‘‘ ’’پاکستان ‘‘،خبریں،الشرق انٹرنیشنل ، ’’نئی بات ‘‘،’’’’ سرکار ‘‘ ’’ اوصاف ‘‘، ’’اساس ‘‘ سمیت روزنامہ ’’جنگ ‘‘ میں بھی ان کے کالم شائع ہو چکے ہیں روزنامہ ’’طاقت ‘‘ میں ہفتہ وار فکاہیہ کالم ’’مزاح مت ‘‘ شائع ہوتا ہے۔ایکسپریس نیوز ،اردو پوائنٹ کی ویب سائٹس سمیت بہت سی دیگر ویب سائٹ پران کے کالم باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔پی ٹی وی سمیت نجی چینلز پر ان کے کامیڈی ڈارمے آن ائیر ہو چکے ہیں ۔روزنامہ ’’جہان پاکستان ‘‘ میں ان کی سو لفظی کہانی روزانہ شائع ہو رہی ہے ۔

وجہ ‘ان کہی کہانی ‘۔۔۔کے ایم خالد

رات بارہ بجے میں نے گاؤں جانے کے لئے قبرستان کا چھوٹا رستہ اختیار کیا۔ ’’پتر خالد!‘‘ یہ آواز چاچے خیر دین کی تھی۔ میرے قدم تیز ہو گئے۔ ’’بات تو سنو‘‘۔ چاچا کب مرا میں نے سوچا۔ ’’میں اکیلا←  مزید پڑھیے

آئیڈیا ‘ان کہی کہانی ۔۔۔۔کے ایم خالد

وہ آئیڈیا سب سے چھپاتا پھر رہا تھا۔ وہ اس آئیڈیئے پر ایک طویل ڈرامہ لکھنا چاہ رہا تھا، اس نے سوچا کہ پہلے اس کی کہانی کہیں چھپوا لوں ، تاکہ کوئی آئیڈیا چوری نہ کر لے ۔ یہ←  مزید پڑھیے

ایڈیٹر کی ڈاک (جدید)۔۔۔۔کے ایم خالد

ڈرون سروس بند کی جائے مکرمی! میں آپ کے موقراخبار کے حوالے سے سے ارباب اقتدار کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مرکوز کروانا چاہتا ہوں۔جیسا کہ کمپنیوں نے مخلف کاموں کے لے لئے ڈرون سروس شروع کر رکھی←  مزید پڑھیے

مری کا مال روڈ اور بھاپ اڑاتی چائے۔۔۔کے ایم خالد

 ایوبیہ میں قریباً سات بجے کا وقت ہوچکا تھا او رعلی عمران جو نیئر کے چہرے سے ماحول میں پھیلی ہو ئی خنکی صاف محسوس ہو رہی تھی انکے دانت تو نہیں البتہ تھوڑی تھوڑی دیر بعدہلتے ہو ئے کاندھے←  مزید پڑھیے

متفکرات۔۔۔۔کے ایم خالد

  کھانا کھل گیا ہے کچھ عرصہ سے پرنٹ ،الیکٹرونک اور سوشل میڈیا جیالے، متوالے اورسر فروش قسم کے پارٹی ورکرزکو ’’ایکسپوز‘‘کرنے پر تلا ہوا ہے۔ظاہر ہے جہاں پر کھانا ہو گا ،وہاں پر افراتفری تو مچے گی۔آپ پورے پاکستان←  مزید پڑھیے

شاہی قلعہ اور گائیڈ پہ گائیڈ۔۔۔کے ایم خالد

  قریباً پانچ بجے کا وقت ہوا چاہتا تھا جب ہم قلعے میں داخل ہوئے ۔ٹکٹ لے کر جب اوپر پہنچے تو مزید آدھ گھنٹہ ضائع ہو چکا تھا ۔تباہ حال قلعے کے آثار سے اندازہ ہوا کہ مغل جا←  مزید پڑھیے

اضطراب (سو لفظوں کی کہانی )۔۔۔کے ایم خالد

’’وزیر طلسمی امور رعایا کس حال میں ہے، شاہی جاسوس خبریں اچھی نہیں لا رہے‘‘۔ بادشاہ نے بے چینی سے کہا ۔ ’’ابھی رعایا سے ملوا دیتے ہیں‘‘۔ وزیر نے طلسمی آئینہ سے پردہ اٹھایا۔ آئینے پر نعرے مارتی رعایا←  مزید پڑھیے

سیاسی بیماریاں ۔۔مزاح مت/کے ایم خالد

شوگر! یہ بیماری تقریباً سارے سیاست دانوں میں پائی جاتی ہے۔حتی کہ کرخت قسم کے سیاستدان بھی اس بیماری میں مبتلا ہیں۔اس بیماری کے جراثیم عام حالات میں سوئے رہتے ہیں۔اور الیکشن سے چند ماہ قبل اس کا حملہ شدت←  مزید پڑھیے

صفائی ۔۔کے ایم خالد/سو لفظوں کی کہانی

سیٹھ صاحب تھرڈ کلاس خوردنی آئل اس ڈیل پر لے بیٹھے تھے کہ سرکاری کاغذات میں اسے اے کلاس آئل بنا کر امپورٹ کیا جائے گا۔ اب وہ ایسی پارٹی کی تلاش میں تھے، جو اسے ریفائن کرکے اے کلاس←  مزید پڑھیے

جدید درخواستیں۔۔۔کے ایم خالد(مزاح مت)

جنا ب وزیر اعظم صاحب! عنوان :درخواست برائے اجازت سیاسی ہلہ گلہ جناب عالی! گزارش ہے کہ فدوی کوآپ جناب اور آپ کی پارلیمنٹ نے مملکت خداداد پاکستان کا صدر منتخب کیا ہوا ہے ۔چونکہ شہر اقتدار میں ان دنوں←  مزید پڑھیے

تجزیہ کار ۔۔۔۔۔کے ایم خالد(سو لفظوں کی کہانی)

’اویار۔۔۔! یہ مبشر علی زیدی لاہور شفٹ ہو گئے ہیں؟‘‘ بونگے بغلول نے ٹیب پر انگلی مارتے ہوئے پوچھا ۔ ’’تمہیں کیسے پتہ چلا ۔۔۔؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔ بونگے نے ٹیب پر تحریر کو بڑا کرتے ہوئے کہا۔←  مزید پڑھیے

شہزادے ۔۔۔۔( سو لفظوں کی کہانی) کے ایم خالد

باباجی کے ڈیرے پر محفل عروج پر تھی۔ حقے گڑ گڑ انے کے ساتھ ساتھ، عدالتوں کے کئے جانے والے فیصلوں ، پر تبصرے بھی کئے جا رہے تھے۔ ’’بابا جی ۔۔۔!یہ جو الف لیلہ کی کہانیوں میں، جہاں شہزادیوں←  مزید پڑھیے

سیاسی کریلے۔۔(سو لفظوں کی کہانی) کے ایم خالد

’’یار، نہ بہت بڑے اور نہ ہی چھوٹے کریلے ڈالنا، آج بھرے ہوئے قیمہ کریلے پکانے کا موڈ ہے‘‘۔ میں نے سبزی والے کو ہدایت کرکے، اس کے ہاتھ پر نظر رکھی ۔ مگر وہ میرے کہنے کے باوجود ،←  مزید پڑھیے

’’خبرناک‘‘ کے میزبان ۔۔۔ایک تجزیہ

آفتاب اقبال کے ’’حسب حال‘‘ چھوڑنے کے بعد جنید سلیم کچھ انداز سے فٹ ہوئے کہ محسوس ہی نہیں ہوا کہ پروگرام میں اینکرتبدیل ہوا ہے۔آفتاب اقبال کی نسبت سہیل احمد کی جنید سلیم کے ساتھ ’’دانشوری‘‘ کی صلاحیتیں کچھ←  مزید پڑھیے

’’ڈیل‘‘ (سو لفظوں کی کہانی )

چاچے بوٹے کی بانو نے پرائمری پاس ہونے پرکے ایف سی ڈیل مانگی تھی ۔ کے ایف سی کاونٹر سے بوٹے نے بروشر لیا، اور بیٹی سے کہا۔ ’’کونسی ڈیل ۔۔۔؟‘‘ ’’ابا۔۔۔! یہ ڈیل تین سو میں آجائے گی، تصویر←  مزید پڑھیے

’’ تھر کے پھول‘‘(سو لفظوں کی کہانی )

ڈی سی صاحب رونق افروز تھے۔ تھر سے آئے ہوئے لوگ ان سے دبے محسوس ہو رہے تھے۔ ’’ بھئی سناؤ ،تھر کے موروں کا ، کیسا دلفریب منظر ، جب مور رقص کرتے ہیں، اور تھر کے فنکار آواز←  مزید پڑھیے

’’آب حیات ‘‘ ( سو لفظوں کی کہانی )

شاہی قافلے کوآب حیات کی تلاش کئی دنوں کے پر خطر سفر کے بعد ایک پہاڑی کٹیا میں لے آئی تھی۔ ’’ ہوں، کونساآب حیات چاہتے ہو؟‘‘ بزرگ استغراق میں تھے۔ ’’ فرعون تھے ،جنہوں نے اس سوچ کے ساتھ←  مزید پڑھیے

’’ہماری دوغلی تعلیمی پالیسی‘‘

یہ یقیناً1974ء کی بات ہے جب تعلیم کے لئے ہمیں ’’اشتہاری‘ قرار دے دیا گیا۔یہ اس علاقے کا سب سے اچھا سر کاری سکول تھا۔دیواروں سے بے نیاز گیٹ پر بندھے ایک گدھے نے ہمارا با آواز بلند استقبال کیا←  مزید پڑھیے

الٹا پہیہ گھوم گیا جی۔۔۔۔۔۔۔!

کوئی دور تھا جب مخلوط نظام تعلیم صرف پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پایا جاتا تھا، اور غریب لوگ کو-ایجوکیشن کا حسرت سے تذکرہ کرتے تھے اور پرائیویٹ تعلیمی ادارے خوب مال کما رہے تھے اب یہ دور ہے کہ سرکاری←  مزید پڑھیے

’’دوائی پیک ‘‘(سو لفظوں کی کہانی )

’’لے اماں! ہاتھ آگے کر ‘‘۔ فیصل آباد کے جنرل ہسپتال کے ڈسپنسر نے دوائی اماں کے ہاتھ میں پکڑانے کی کوشش کی۔ ’’ ناں پتر !دوائی گیلی ہو جائے گی‘‘۔ ’’پھر اپنی چادر کے پلو میں لپیٹ لو ‘‘۔←  مزید پڑھیے