سیلفیاں رے سیلفیاں۔۔۔کے ایم خالد

دنیا بیک کیمرہ لنز کی ’’تباہ کاریوں ‘‘ سے کہا ں محفوظ تھی کہ سائنس دانوں کو فرنٹ کیمرہ کا سوجھ گیا ۔حالانکہ وہ یہ حقیقت بھی بخوبی جانتے ہونگے کہ دنیا میں صرف ننا نوے فی صد عورتیں ہی خوبصورت ہیں ۔محلے میں واقع ایک دو فوٹو سٹوڈیوز اپنی ہی کھینچی جانے والی تصویر کی ڈویپلنگ پرنٹنگ کے سبب کتنی شادیاں بہ احسن طریقے سے کروانے میں کام یاب ہوئے یہ راز شادی سے پہلے وہی جانتے تھے یاپھر ولیمے کے دولہا دولہن کی اصل ’’قلعی ‘‘ کھل جاتی تھی اورپوری برادری جان جاتی تھی شادی والا دن تو دونوں طرف بیوٹی پارلر کی بدولت خیریت سے گزر ہی جاتا تھا ۔

دنیا کی پہلی سیلفی جو 1839ء میں رابرٹ نے دو سے تین منٹ کے دورانیہ میں کھینچی، آج کے اعتبار سے کس قدر ہولناک سلو سیلفی ہو گی جس میں چہرے کے تاثرات کو مسلسل تین منٹ تک قائم رکھنا تھا جب کہ آج سیلفی کے دوران تاثرات کو سیکنڈوں میں بھی قائم رکھنا جان جوکھوں کا کا م ہے ۔
موجودہ دور کی تیز رفتار سیلفی نے اپنی اچھائیاں برائیاں فیس بک ،ٹوئٹر سمیت سوشل میڈیا پر انڈیل دی ہیں ۔یہ بھی ایک بھیانک حقیقت ہے کہ آج کے دور کے میگا لنز نہ کچھ اپنی طرف سے دکھاتے ہیں اور نہ چھپاتے ہیں نہ عمر نہ خوبصورتی ، سوشل میڈیا کے دوست سب کچھ جانتے ہوئے دیکھتے ہوئے صرف دل رکھنے کو واہ واہ کئے جا رہے ہیں ۔
بعض کم عمر خواتین کی سیلفی اس قدر ’’خوبصورت ‘‘ ہوتی ہے کہ ان کی بھنوؤں   کے سفید بالوں سمیت ان کے ناک کے اندر بالوں کی موجودگی کو نہ صرف محسوس کیا جا سکتا ہے بلکہ انلارج کرکے کچھ تردد سے شمار بھی کیا جا سکتا ہے ۔

بہت سے فارغ البال دوست جو دوستوں کی محبت کی خاطر سیلفی اپ لوڈ کرتے ہیں بعض اوقات بے دھیانی میں دیکھ کر ان کا اپنا تراہ نکل جاتا ہوگا ۔نصف صدی سے کچھ اوپر والوں کی سیلفی دیکھ کر بے اختیار خیال آتا ہے بس گلاب کے سرخ پھولوں والے ہاروں کی کمی ہے باقی کا کام مکمل ہے ۔
سیلفی اسٹک  کافی کچھ چھپا ضرور دیتی ہے لیکن اوپر کی جانب دیکھتے ہوئے بے اختیار یہی محسوس ہوتا ہے جیسے وہ سارے ’’مفتی منیب ‘‘ ہوں اور اپنے اپنے چاند کی تلاش میں ہیں ۔

ایشیا کے سب سے بڑے ’’سیلفی ماسٹر‘‘ سید بدر سعید کا کہنا ہے سیلفی کا ماسٹر میں اس شخص کاو مانتا ہوں جو سیلفی لے اور نہ اس کا منہ کھلے اور نہ ہی ناک چوڑا نظر آئے ۔مستقبل میں ’’سیلفی ماسٹر ‘‘ امید کر رہے ہیں کہ حکومت ان کی لی گئی سیلفیوں پر کم از کم ماسٹر لیول کی ڈگری شروع کرائے گی ۔
بابا جی فرماتے ہیں پتر!سیلفی پرندوں اور بچوں کی ہی اچھی لگتی ہے جو معصومیت کی معراج پر ہوتے ہیں۔

Avatar
کے ایم خالد
کے ایم خالد کا شمار ملک کے معروف مزاح نگاروں اور فکاہیہ کالم نویسوں میں ہوتا ہے ،قومی اخبارارات ’’امن‘‘ ،’’جناح‘‘ ’’پاکستان ‘‘،خبریں،الشرق انٹرنیشنل ، ’’نئی بات ‘‘،’’’’ سرکار ‘‘ ’’ اوصاف ‘‘، ’’اساس ‘‘ سمیت روزنامہ ’’جنگ ‘‘ میں بھی ان کے کالم شائع ہو چکے ہیں روزنامہ ’’طاقت ‘‘ میں ہفتہ وار فکاہیہ کالم ’’مزاح مت ‘‘ شائع ہوتا ہے۔ایکسپریس نیوز ،اردو پوائنٹ کی ویب سائٹس سمیت بہت سی دیگر ویب سائٹ پران کے کالم باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔پی ٹی وی سمیت نجی چینلز پر ان کے کامیڈی ڈارمے آن ائیر ہو چکے ہیں ۔روزنامہ ’’جہان پاکستان ‘‘ میں ان کی سو لفظی کہانی روزانہ شائع ہو رہی ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *