ابھے کمار
ابھے کمار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں شعبہ تاریخ کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ ان کی دلچسپی ہندوستانی مسلمان اور سماجی انصاف میں ہے۔ آپ کی دیگر تحریرabhaykumar.org پر پڑھ سکتے ہیں۔ ان کو آپ اپنے خط اور اپنی رائے debatingissues@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں.
چوٹ بھلے ہی آپ پر کی گئی ہو، مگر درد ہر طرف محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہ کیسا دن دیکھنے کو مل رہا ہے جب تعلیم کے ادارے خون سے لت پت ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور آسام← مزید پڑھیے
بشکریہ The Truth کیا ہوتا اگر 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد کے بجائے رام مندر کو منہدم کردیا گیا ہوتا؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تب بھی ایسا ہی ہوتا؟ کیا آپ← مزید پڑھیے
بھارت میں ان دنوں پیاز کی قیمتوں میں زبردست اچھال دیکھنے کو ملا ہے۔ تہوار کے موسم میں اگر رسوئی گھر میں پیاز نہ ہو تو سارا ذائقہ بگڑ جاتا ہے۔ لہٰذا عوام میں غصہ ہونا لازمی ہے۔ ایک طرف← مزید پڑھیے
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ۱۹۴۰ کی دہائی میں ہندو مسلم تعلقات کشیدہ ہونے لگے۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر ایک کے بعد ایک گہری چوٹ کی گئی۔ فرقہ پرستوں نے خوب پروپیگنڈا پھیلایا کہ ہندو اور مسلمان کے آپسی← مزید پڑھیے
ایک طویل عرصے تک کانگریس اعلیٰ ذات بالخصوص برہمنوں کی پارٹی سمجھی جاتی تھی۔کانگریس کی ٹاپ لیڈرشپ ہمیشہ برہمنوں کے ہاتھ میں رہی ہے وہیں دلت اور مسلمان اُن کے روایتی حمایتی رہےہیں۔۱۹۹۰ کی دہائی تک اعلیٰ ذات کانگریس کے← مزید پڑھیے
جسٹس مارکنڈے کاٹجو صاحب کا ایک متنازعہ مضمون (’’انقلاب‘‘ 6 جولائی شمارہ) قارئین کرام کی نظروں سے گزرا ہوگا۔ اس مضمون میں انہوں نے مسلمانوں کی پسماندگی اور اس کی وجوہات کی نشان دہی کرنے کی کوشش کی اور اس← مزید پڑھیے
اپنی وفات سے صرف دو مہینے قبل، دلتو ں و پسماندوں کے مسیحا اوربھارتی آئین کے معمار بابا صاحب امبیڈکر نے ہندو دھرم کو ترک کر دیا۔ 14 اور 15 نومبر 1956 کے روز ناگپور میں لاکھوں کی تعداد میں← مزید پڑھیے
آزادی ملنے سے دو سال قبل بمبئی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے، دلتوں اور دیگر محروم طبقات کے مسیحا ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے سیاسی جماعت کو یہ نصیحت کی تھی کہ اکثریت حاصل کرنے کا یہ قطعی← مزید پڑھیے
نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی دوبارہ سرکار بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اس بار تو بھگوا سیاسی جماعت کا مظاہرہ پہلے سے کافی بہتر رہا ہے۔ حزب اختلاف کی کون کہے، خود حکمران بی جے پی← مزید پڑھیے
ہندوستانی فوج کے موضوع پر کئی دہائیوں سے تحقیق کر رہے مؤرخ اسٹیفن ولکنسوں کے مطابق، ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہرلال نہرو نے سیاست میں فوج کی مداخلت کو روکنے یا کم کرنے کے لئے بہت سارے اقدامات اٹھائے.← مزید پڑھیے
گزشتہ پانچ سالوں میں اگر خوب ‘وکاس’ ہوا ہے، تو پھر انتخابی تشہیر کے دوران بھگوا لیڈران ذات برادری، دھرم اور مذہب کا کارڈ کیوں کھیل رہے ہیں؟ اگر مودی حکومت کے دور اقتدار میں ملک میں اتنی ترقی ہوئی← مزید پڑھیے
ہندوستانی جمہوریت کے لیے یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ میڈیا کا ایک بڑا حصہ برسر اقتدار مودی حکومت کی کارکردگی کا احتساب کرنے سے کترا رہا ہے. اکثر اوقات وہ خود سرکار کے دفاع میں کھڑا نظر آتا ہے۔← مزید پڑھیے
پارلیمانی انتخابات اب کچھ ہی دنوں کی بات ہے۔ امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے۔ یہ موقع بے محل نہیں ہوگا اگر ہم یہاں محروم طبقات ، با لخصوص مسلمانوں ، کی پارلیمنٹ اوردیگر قانون ساز← مزید پڑھیے
تاریخ تھی 23مارچ 1931 اور مقام تھا لاہور جیل۔اس دن 23سال کے ایک نوجوان کو پھانسی دے کر برطانوی حکومت اور ان کے دیسی ایجنٹوں نے سوچا تھا کہ ان کے استحصالی نظام کے خلاف اب کوئی بھی علم بغاوت← مزید پڑھیے
صحافت کا مقصد کیا ہو؟ اس سوال پر لوگوں کی ایک رائے نہیں رہی ہے۔ کچھ لوگ اس کو خالص منافع کمانے سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ دیگر کاروبار کی طرح ہے ۔مگر دیگر افراد جمہوریت← مزید پڑھیے