ننھے فرشتے۔۔بنت الہدی

تم نے خدائے لم یزل کی نافرمانی کی ہے۔ جاؤ  اپنی زمین پر پلٹ جاؤ۔۔
اے ننھے فرشتوں خدا نے تمہیں سیارہ زمین کی جانب بھیجا تھا۔۔۔ اور تم چند ساعت میں ہی وہاں سے فرار ہو کر  اس نئی کہکشا میں تخلیقی مراحل سے گزرتے نئے سیارے پر آ بسے ہو۔
ابھی تو یہاں دھوئیں اور پانی کا ملاپ ہوا ہے۔۔ مختلف سپر نووا ستاروں سے نکلنے والی معدنیات کا یہاں آنا اور تہ در تہ بیٹھنا اور پھر ان پر پہاڑوں کی میخیں گاڑنا باقی ہے۔۔ تم یہاں نہیں رہ سکتے، جاؤ سیارہ زمین پر واپس پلٹ جاؤ۔

فرشتہ ابیض نے نئے ستاروں کے جھرمٹ سے سجی کہکشا میں ننھے فرشتوں کو اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ سیارہ کودک پر کھیلتے دیکھا تو انہیں وہیں روک کر یہاں سے جانے کی تلقین کی۔

کونسا سیارہ، زمین؟ وہ جو سورج نامی ستارے کے گرد گردش میں رہتا ہے۔۔۔ ننھے فرشتے نے معصومیت سے کہا۔

ہاں ننھے فرشتے وہی سیارہ زمین جسے خدا نے اشرف المخلوقات کی وقتی جائے پناہ اور آزمائش گاہ قرار دیا ہے۔۔ فرشتہ ابیض نے سوچا یہ ننھے فرشتے راہ گم کرگئے ہیں ، سو اشرف المخلوقات کا حوالہ دینا بہتر جانا کہ وہی اس سیارے کی اصل پہچان ہے۔

کیا وہ سیارہ زمین جسے تمام عالم کی ذہین ترین مخلوق کے سیارے کے نام سے جانا جاتا ہے؟ ننھے فرشتے نے سر اٹھا کرکہا جیسے وہ اس سے کچھ اقرار کروانا چاہتا ہو۔

ہاں ہاں وہی سیارہ زمین۔۔۔ فرشتہ ابیض نے تصدیق کی۔۔

حیرت ہے اس زمین پر بسنے والو کی ذہانت اس قدر مشہور ہے مگر یہ کوئی  نہیں جانتا  کہ اسی ذہین ترین مخلوق کی سرزمین پر میرا پہلا پیرہن لہو رنگ تھا۔۔ میری پہلی غذا ماں کا شفاف دودھ نہیں اس کی رگوں سے بہتا سرخ خون تھا۔۔ میرے کانوں میں آنے والی پہلی آواز بارودی دھماکوں کی تھی، میری مشام میں داخل ہونے والی پہلی بو لہو اور بارود کی آمیزش سے تیار کیا گیا عطر تھا۔

یہ کہتے ہوئے ننھے فرشتے اور اس کے ساتھیوں نے سسکیا ں لیکر روتے ہوئے اپنے زخمی اور جلے ہوئے، اعضاء دکھائے جسے دیکھ کر چند لمحے کو تو فرشتہ ابیض پر سکتہ طاری ہوگیا مگر چند ساعت بعد وہ پھر گویا ہوا۔۔

مجھے افسوس ہے تمہاری اس حالت پر خدا احسن الخالقین ہے اس نے تمہیں خوبصورت اور مکمل خلق کیا تھا مگر ہوسکتا ہے سیارے زمین پر ننھے فرشتوں کا استقبال اسی طرح کیا جاتا ہو۔۔

ابیض نے انہیں اپنے طور پر سمجھانا چاہا گرچہ اسے خود بھی انسان جیسی دانا مخلوق سے اس فعل کی توقع نہیں تھی، مگر وہ تو ایک فرشتہ ہے اور صرف یہی جانتا ہے کہ خدا کے دئیے گئے حکم کی خلاف ورزی کسی صورت ممکن نہیں۔۔۔

ننھے فرشتوں تمہاری زندگی اسی سیارے پر مقدر کی گئی تھی۔ تمہیں وہاں سے اس طرح نہیں آنا چاہیے تھا۔ سوچو ذرا جب خدا کو تمہارے اس امر کا علم ہوگا اسکے جلال سے تمہیں کون پناہ دے گا؟

جنت سے سیارہ زمین کا نظارہ  کرتے ہوئے  بھی چند فرشتوں نے ہمیں بتایا تھا کہ ہمیں بہت جلد اس زمین پر منتقل کردیا جائیگا جو بہت ہی خوبصورت اور پر امن ہے۔ خدا نے اس زمین کو اپنی خاص نعمتوں سے نوازا ہے اور ہمیں بھی وہ انسانوں کو عطا کی گئی عقل و شعور اور علم عطا کرے گا۔

لیکن جانتے ہو جب ہم وہاں گئے تو ہم نے دیکھا کہ وہاں تو اشرف المخلوقات نامی کوئی خلقت ہی نہیں۔۔ وہ سیارہ تو ایک شیطانی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔
سوائے ایک مخلوق کے، کہ جسے میں نے اس شیطان کے پنجوں سے زخمی پایا تو اسے بھی اپنے ہمراہ اس نئی کہکشا میں لے آیا ہوں کہ اسے شیطانی بغض سے بھرے لمبے تُرش ناخنوں کی کھرچن سے محفوظ کرسکوں۔۔
وہ بہت ہی معصوم اور مظلوم تھیں۔۔۔

پہلے پہل تو مجھے لگا اس مخلوق کو خدا نے اپنی خلق کرنے کی عظیم صفت سے نوازا ہے یقینا ً  اس نے اپنے کسی خاص عمل کی بناء پر خدا سے اس کی یہ نایاب صفت حاصل کی ہوگی۔۔ اور میرے دل میں اس مخلوق کی عزت و تکریم گھر کر گئی اور یوں لگا جیسے خدا کے بعد مجھ پر اسی کی اطاعت واجب ہونی چاہیے۔ مگر پھر اگلے ہی لمحے ہونے والے شیطانی وار سے جب وہ خود کو اور مجھے بچانے کی کوشش کرنے لگی تو علم ہوا۔۔۔ یہ ایک ماں ہے، میری ماں۔۔میں اپنے ننھے ہاتھوں اور پیروں سے اس کا اور اپنا دفاع تو نہیں کرسکتا تھا۔۔ میرے اختیار میں صرف یہی تھا کہ اسے اس شیطانی زمین سے نکال کر یہاں لے آؤں۔۔۔ ماں پرورش کرنا جانتی ہے اس سے بہتر خیال کوئی نہیں رکھ سکتا۔۔
ہم جانتے ہیں سیارہ کودک ابھی نامکمل ہے مگر میری ماں میرے ساتھ ساتھ اس کا بھی بہت خیال رکھے گی۔

ننھے فرشتے کی بات مکمل ہوتے ہی ابیض حیرانی سے اس ماں کو تکنے لگا جو ایک ننھے فرشتے کو اپنی آغوش میں لیے ساکت کھڑی تھی کہ زمین سے اس تکلیف و اذیت کے ساتھ رخصت ہونے کے صدمے سے اب تک باہر نہ آسکی ہو۔۔

ننھے فرشتوں سے زمین پر بسنے والی ذہین ترین مخلوق کا حال جان کر بھی ابیض کے لیے یقین کرنا مشکل تھا آخر اس نے وہ وقت بھی دیکھا تھا جب خدا نے آدم کو تخلیق کیا تھا۔۔

میں حیران ہوں کہ اب اس زمین پر انسانوں کی نہیں شیاطین کی حکومت ہے۔۔۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے؟ خدا نے ہم فرشتوں سے آدم کو سجدہ کروایا تھا اور جب ہم نے اعتراض کیا کہ یہ فساد کرے گا تو خدا نے آدم سے وہ اسم پڑھوائے جو اسے تعلیم دئیے گئے تھے۔۔ آخر کیا ہوا ان اسماء کا۔۔؟ وہ علم اب کہاں ہے؟

فرشتہ ابیض کے اس سوال پر ننھے فرشتے خاموش تھے اور تب ماں اپنی سرخ آنکھوں سے اشک صاف کرتے ہوئے مخاطب ہوئی

آدم کو سکھلائے گئے وہ مقدس اسماء تو بہت پہلے ہی شہادت کی نذر ہوچکے اور رہا علم تو وہ اپنے منبع نور سے جدا ہوکر بھلا کسے فیض پہنچا سکتا ہے سوائے اس کے کہ شیاطین اسے اپنی قید میں لے آئے اور من چاہی خواہش حاصل کرلے۔۔

فرشتہ ابیض نے یہ سن کر سر پیٹ لیا۔۔
اوہ خدایا۔۔۔ یہ انسان اس قدر احمق بھی ہوسکتا ہے۔۔۔ اسماء کی تعلیم ہی میں اس کی نجات تھی۔۔ اب تو انجام بد سے بدتر ہی ہوگا۔۔ زمین باسیوں سے اب خیر کی امید رائیگاں ہے۔۔ اب زمین پر واپس پلٹنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔۔ تم یہاں رہ سکتے ہو۔

سیارہ زمین پر رحمتوں کے نزول سے ابیض ناامید ہوچکا تھا مگر ننھے فرشتے اپنی ماں کے سکھلائے ہوئے اسماء جو آدم نے خدا سے سیکھے تھے جان لیے تھے۔۔ وہ ابیض کی امید بحال کرتے ہوئے مخاطب ہوئے

خدا کی ذات پر ایمان خیر کی امید کو کسی صورت منقطع نہیں کرسکتا ہے۔۔۔ آدم علیہ سلام کو سکھلائے گئے ان اسماء میں سے ایک اسم خدا کا راز ہے جسے ظاہر کرنے کا اس نے وعدہ کیا ہے میں اور میری ماں اب سیارہ کودک پر رہ کر انتطار کرینگے جس دن خدا اپنا وعدہ پورا کرے گا میں اپنی ماں کو لیکر سیارہ زمین پر جاوں گا اور ان شیاطین کے ٹولے سے سوال کروں گا۔۔

بأیّ ذنبٍ قتلت
ہمیں کس جرم میں مارا گیا ہے!

بنت الہدی
بنت الہدی
کراچی سے تعلق ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *