فلم ریویو:ہندی ویب سیریز “پاتال لوک”۔۔ذوالفقار علی زلفی

پہلے ایک کہانی سنتے ہیں ـ ہمارے خطے کی عظیم رزمیہ داستان “مہا بھارت” کا بظاہر ایک غیر اہم حصہ ـ

مہا بھارت کے مطابق اچاریہ درون فنِ تیر اندازی کے ماہر ترین استاد تھے ـ ارجن ان کا ہونہار شاگرد تھا ـ اچاریہ درون کے آشرم کے نزدیک ایک شودر لڑکا ایکلاویا رہتا تھا ـ اس کی تمنا تھی وہ بھی اچاریہ درون سے فنِ تیر اندازی سیکھے ـ اس کی ماں اسے یاد دلاتی ہے وہ ایک شودر ہے، اچاریہ اسے کبھی بھی تربیت نہیں دے گا ـ شودر تھوڑی دور جنگل میں جا کر اچاریہ درون کا ایک مجسمہ بناتا ہے اور اسے اپنا گرو تسلیم کر کے از خود تیر اندازی کی مشق کرتا ہے ـ رفتہ رفتہ وہ ایک ماہر تیر انداز بن جاتا ہے ـ ایکلاویا اپنے فن کو اچاریہ درون کی روحانیت کا فیض گردانتا ہے اور صبح شام اس کے مجسمے کے سامنے بیٹھ کر اس کی تعظیم کرتا رہتا ہے ـ

ایک دن اچاریہ اور ارجن گھومتے گھومتے اس کی جھونپڑی تک پہنچتے ہیں ـ قریب بیٹا کتا انھیں دیکھ کر بھونکنے لگتا ہے ـ ایکلاویا کو اپنے استاد پر کتے کا بھونکنا پسند نہیں آتا اور وہ تیر چلا کر کتے کو ڈھیر کر دیتا ہے ـ اچاریہ درون اور ارجن حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ کون ہے جس نے ایک ہی تیر سے کتے کو خاموش کر دیا ـ قریب جا کر اچاریہ کو اپنا مجسمہ نظر آتا ہے ـ وہ اپنا مجسمہ دیکھ کر بھانپ جاتا ہے کہ یہ فن کہاں سے آیا ـ شودر انھیں بتاتا ہے کہ میرا فن آپ کی دین ہے، یہ سب کچھ میں نے آپ سے سیکھا ہے ـ

اچاریہ دل میں پیچ و تاب کھاتا ہے کہ بھلا ایک شودر ذات کا لڑکا کیسے ارجن کی ہمسری کر سکتا ہے ـ اچاریہ چالاکی کا مظاہرہ کر کے لڑکے سے کہتا ہے پھر میری گرو دکھشنا کہاں ہے؟ ـ شودر ادب سے پوچھتا ہے، کیا چاہیے گروجی؟ ـ اچاریہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شودر سے اس کا انگوٹھا مانگتا ہے ـ لڑکا بنا کوئی حیل حجت کیے اپنا انگوٹھا کاٹ کر دے دیتا ہے ـ

انگوٹھا کٹنے کے بعد شودر اب کبھی بھی تیر نہیں چلا سکتا ـ گویا وہ کبھی بھی ارجن کی برابری نہیں کر سکتا ـ

آگے بڑھنے سے پہلے ایک اور مختصر داستان کا ذکر بے جا نہ ہوگا ـ

ہندو مائتھالوجی کے مطابق ابتدا میں صرف “برہما” تھا ـ برہما کے علاوہ کچھ نہ تھا ـ برہما نے تین دنیائیں اور مختلف جاندار تخلیق کیے ـ سورگ لوک؛ جہاں دیوتا رہتے ہیں ـ دھرتی لوک؛ جہاں انسان بستے ہیں اور پاتال لوک؛ جو عفریتوں کا مسکن ہے ـ

مائتھالوجی انسان کی جمالیاتی، سیاسی، سماجی اور نفسیاتی زندگی کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ ہے ـ غالباً اسی لیے کارل مارکس نے اسے انسانیت کا قیمتی اثاثہ قرار دیا ہے ـ لینن نے بھی تخیلِ انسانی کو اہم سماجی ہتھیار گردانا ہے ـ

ہندی ویب سیریز “پاتال لوک” درج بالا مائتھالوجی سے غذا لے کر موجودہ ہندوستانی سماج کی تشریح کرتی ہے ـ اس سیریز میں بھی تین دنیائیں ہیں لیکن یہ دنیائیں چوں کہ متھ میں نہیں بلکہ معروض کا حصہ ہیں، اس لیے انھیں برہما کی تخلیق کا درجہ حاصل نہیں ہے ـ تاہم ان دنیاؤں کو برہما متھ کی برہمن تشریح سے متضاد بلکہ بڑی حد تک اس پر تنقید قرار دیا جا سکتا ہے ـ

پہلی دنیا جسے سورگ لوک کی مانند دکھایا جاتا ہے، وہ چمکتے بھارت کی نمائندگی کرتی ہے ـ یہ لبرل جمہوریت کی دنیا ہے جہاں سرمایہ دار، سیاست دان اور کارپوریٹ میڈیا مل کر لبرل جمہوری نظام تشکیل دیتے ہیں ـ وہ قیمتی زمینوں پر قبضے کرتے ہیں، خوب صورت خواتین سے لطف اندوز ہوتے ہیں، مہنگی شرابیں پیتے ہیں، لمبی لمبی کاروں میں گھومتے ہیں ـ پیداواری ذرائع پر قابض یہ طبقہ ہی دراصل تمام دنیاؤں کو چلا رہا ہے ـ

یہ طبقہ چوں کہ پیداوار پر قابض ہوتا ہے اس لیے اس کے مختلف گروہوں کے درمیان استحصال سے جمع ہونے والی دولت کے زیادہ سے زیادہ حصے پر اپنا تصرف برقرار رکھنے کے لیے جنگیں بھی ہوتی ہیں ـ ان جنگوں کی قیمت عموماً پاتال لوک کے باشندے ادا کرتے ہیں ـ

اس طبقے کی زندگی کو رومن پولنسکی نے 1974 کی شاندار تخلیق “چائنا ٹاؤن” میں نہایت گہرائی سے پیش کیا ہے ـ ہمارے خطے میں اس طبقے کے اندرونی تضادات کی زبردست منظر کشی ہدایت کار گووند نہلانی نے کی ہے ـ خاص طور پر ان کی فلم “پارٹی” اس حوالے سے کلاس ہے ـ

سیریز میں دھرتی لوک کی نمائندگی پولیس افسر ہاتھی رام کی صورت نظر آتا ہے ـ ہاتھی رام کا کردار سورگ اور پاتال لوک کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے ـ یہ طبقہ بنیادی طور پر پاتال لوک سے متعلق ہے لیکن اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح سورگ لوک کا ممبر بن جائے ـ اس کوشش میں وہ بے خبری میں ایلیٹ کلاس سے ٹکرا جاتا ہے حالاں کہ اس کا ہدف محض ترقی پانا اور اس ترقی کے بل پر اپنے بیٹے کو ایلیٹ کلاس زبان، انگریزی کے ذریعے اوپر پہنچانا ہے ـ ہاتھی رام کی یہ غیرشعوری کوشش سیریز کو آگے بڑھانے اور ایلیٹ و محنت کش طبقے کے درمیانی تضادات کو ابھارنے کا کام کرتی ہے ـ

مائتھالوجی میں پاتال لوک عفریتوں کا مسکن ہے لیکن سیریز میں دکھائے گئے معروض میں یہ سماج کا وہ طبقہ ہے جس کے استحصال سے سورگ کی رونق قائم ہے ـ ایلیٹ کلاس ایسے حالات پیدا کرتی ہے جس سے محنت کش طبقے کی زندگی سخت سے سخت تر ہو جاتی ہے ـ انقلابی موضوع کی عدم موجودگی کے باعث محنت کش بنیادی تضاد کو سمجھ نہیں پاتا ـ ایلیٹ کلاس اویکلا (درج بالا اساطیری شودر) کی مانند اس کا انگوٹھا کاٹ کر اسے اس کے اپنے ہی طبقے کے خلاف کھڑا کرتی ہے ـ استحصال اور بے بسی اس میں بے پنا غصہ بھر دیتے ہیں، اس کا یہ غصہ اسے دیوتاؤں پر حملے پر اکساتا ہے مگر درست موضوع کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ انفرادیت کی جانب نکل جاتا ہے، اسی موقع پر ایلیٹ کلاس اس کا رخ بدلنے میں کامیاب ہو جاتی ہے ـ

“پاتال لوک” طبقاتی تضادات کی درست نشان دہی کرتی ہے لیکن گہرائی میں نہیں جا پاتی ـ لبرل ، سیکولر اور چمکتے بھارت کے اندر جھانک کر متحارب طبقات کا بے لاگ تجزیہ کرتی ہے لیکن کوئی حل پیش نہیں کرتی ـ یقینی طور پر اسے کسی مصنوعی اور کام چلاؤ حل کو پیش کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے ـ

سورگ اور پاتال لوک کے درمیان ہر چند تضاد طبقاتی ہے لیکن اسکرین پلے کی ترتیب ذات پات کا تاثر ابھارتا ہے ـ طبقاتی تضادات کو دلت، برہمن اور کھشتریہ کی علامتوں کے ذریعے بیان کیا گیا ہے ـ اس کی وجہ غالباً مائتھالوجی کی ساخت کو جارحانہ انداز میں نشانہ بنانا ہے ـ اس جارحیت کی وجہ سے اسکرین پلے محض مذہب کی برہمن تشریح پر تنقید بن جاتی ہے ـ بالخصوص وشنو بھگوان اور مہا بھارت کے کشتری سورما یدھشٹر کے کتوں کی امتزاجی علامت معروضی مفہوم پر اثر انداز ہو کر معنی کے بدلاؤ کا سبب بن جاتے ہیں ـ اساطیری کتوں کی تشریح ہمیشہ برہمن نکتہِ نظر کے تحت ہوتی رہی ہے ـ ایک شودر کی ان کتوں سے والہانہ محبت اور پھر نظرانداز شدہ لبرل خاتون کے بانجھ پن کے درد کی کتوں سے تشفی وہ رخنہ ہے جس نے طبقاتی تضاد کو متھ میں گڈمڈ کر کے اوجھل کر دیا ہے ـ

متھ میں شودر، کتے کو قتل کرتا ہے جب کہ کھشتری کتے کو اپنا رہنما تصور کرتا ہے ـ سیریز میں شودر اور کشتری دونوں کتے کے ذریعے ایک فضول رشتے میں بندھ جاتے ہیں ـ یہ رخنہ بلاشبہ نظرانداز کیے جانے کے قابل نہیں ہے ـ بظاہر ایسا لگتا ہے ہدایت کار نے جان بوجھ کر اس قسم کے خانے چھوڑ دیے ہیں تانکہ ناظر ذات پات کی برہمن تقسیم میں ہی الجھا رہے ـ

سیریز میں صنفی جبر کا ذکر ملتا ہے لیکن وہ مجرمانہ حد تک کم رنگ ہے ـ سمجھوتہ کرنے والی بیوی جو ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے کے باوجود مرد سے تحفظ کی خواہاں ہے، گینگ ریپ کا شکار ہونے والی کسان ماں یا سمجھوتہ کرنے والی مڈل کلاس محبوبہ ـ یہ موجود ہونے کے باوجود حاشیے میں ہی رہتے ہیں ـ ہندو مائتھالوجی کی ایک خاصیت یہ ہے کہ اس میں مرد دیوتاؤں کے ساتھ ساتھ خواتین دیویاں بھی پُرقوت نظر آتی ہیں ـ یہ یقیناً مردانہ بالادستی کے خلاف سماجی شعور کا اظہار ہے ـ افسوس “پاتال لوک” نے اس اہم عنصر کو نظر انداز کر کے پوری سیریز کو پدر شاہیت کے دائرے میں رہ کر پیش کیا ـ جہاں عورت کا ذکر آیا، اسے جلدی جلدی لپیٹ دیا گیا ـ نتیجہ یہ کہ ناظر لبرل اینکر پرسن کی نفسیاتی و سماجی ساخت کو سمجھ پاتا ہے لیکن اس کی بیوی کا زاویہ نگاہ غائب رہتا ہے ـ یہی حال توپ سنگھ کی ریپ شدہ ماں اور وشال تیاگی کی روندی گئیں بہنوں کا ہے ـ وہ منظرنامے سے غائب ہو کر محض مردانہ افعال کا محرک بن کر رہ جاتی ہیں ـ

دیگر معاملات

فنی لحاظ سے اسکرین پلے کی ترتیب دلنشیں ہے ـ درمیان سے اختتام، پھر آغاز سے درمیان تک کی جو تکنیک استعمال کی گئی ہے اسے ماہرانہ انداز سے آگے بڑھایا گیا ہے ـ ہدایت کاری بھی اچھی ہے ـ ہدایت کاری پر بیشتر انوراگ کیشپ اور کسی حد تک کوانٹین ٹرنٹینو کے انداز کی چھاپ نظر آتی ہے ـ

اداکاری کا شعبہ بھی مضبوط رہا ـ بالخصوص ہاتھی رام کے کردار میں جے دیپ اہلاوت اور سنجیو مہرا کے کردار میں نیرج کَبی نے دیے گئے کرداروں کو احسن طریقے سے نبھایا ہے ـ وشال تیاگی کے کردار میں ابھیشک بینرجی بھی کھرے اترے ہیں لیکن میرا خیال ہے ان کی صلاحیتوں کو زیادہ سنجیدگی سے استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ـ ابھیشک کے ساتھ ویب سیریز “مرزا پور” میں بھی یہ زیادتی کی جا چکی ہے ـ

حاصلِ کلام

مجموعی طور پر “پاتال لوک” ایک بہترین سماجی سیریز ہے ـ اگر اسے ویب سیریز کی دنیا میں ایک رجحان ساز قدم قرار دیا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا ـ

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *