حسرت۔۔۔ فضل قدیر خان

وہ اک عام سی شام تھی مگر میرے لئے اچانک خاص ہوگئی ابھی سورج غروب ہونے میں کچھ لمحے باقی تھے.افق کی سرخی اور سورج کی زردی بتارہی تھی کہ اندھیرے کچھ لمحوں میں اپنے پر پھیلادینگے ..

میں سر جکائے سوچوں میں گم تھا کہ مجھے قدموں کی آہٹ سنائی دی سر جو اٹھا کر دیکھا تو مبہوت رہ گیا اور افکار تو جیسے ہوا ہوچکے تھے

اک ادا سے وہ قدم پر قدم رکھتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی اور میری نظریں مسلسل تعاقب کر رہی تھی

بلا کی معصومیت خود میں سموئے جب اس نے مڑ کر دیکھا تو شائد روایات کے مطابق اس کے نینوں سے نین ملنے پر میں اس کا اسیر ہوچکا تھا اس کی وہ سیاہ آنکھیں تو جیسے سینے میں پڑے دل پر نقش ہوگئی

رات بھر میں اس کی خیالوں کو لئے تخیل کی دنیا کی میں گھومتا رہا .. پھر اک معمول سا بن گیا ہر شام میرے لئے چاند رات بن گئی اس کا انتظار کرتا اور جب قدموں کی آہٹ سنائی دیتی تو آنکھیں بے اختیار راہ پر پڑتی اس کو نا پا کر عجیب سی کیفیت ہوجاتی …

اور جب وہ شانِِ بے نیازی سے میرے پاس گزرتی تو دل عجیب سی طمانیت سے لبریز ہوجاتا اک انوکھی سی خوشی جس سے دل کا رواں رواں روشن ہوجاتا …. دل کو دل سے راہ ہوتی ہے شائد وہ میرے کیفیت کو سمجھ چکی تھی۔ اب اس کا گزرتے ہوئے دیکھنے کا انداز بدل چکا تھا اس کی آنکھوں میں بلا کی انیسیت تھی … مگر کچھ بے بسی بھی جھلکتی تھی۔

میں روز خود سے ہی لڑتا جھگڑتا کہ وہ میری ہو کر رہے گی … اس کی بے بسی مجھ سے اسکو دور نہیں لے جاسکتی شائد وہ رات میرے عہد کو پختگی بخشنے کی سعی کر رہی تھی جب بارش کی بوندوں کی ٹپ ٹپ سے میری آنکھ کھلی میں کچھ وقت تک تخیل کی وادی میں اس کو ساتھ لئے پھرتا رہا اور جوں جوں بڑھتا رہا مجھے خود پر اعتماد بڑھتا رہا … تب میں نے دل میں پختہ عہد کر لیا کہ کچھ بھی ہو دل کی بات منظر عام پر لے ہی آؤ .

اباجی کی سخت طبیعیت کی وجہ سے انکے سامنے تو اس بات کو زبان پر لا نہیں سکتا تھا۔ بلآخر ہمت کرکے امی کو بتا ہی دیا سب کچھ صفائی کے ساتھ۔ امی منصوعی غصے کے بعد مان ہی گئی اور ساتھ یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ابا جی کو میں منا لوں گی۔

وہ دن جب ابو ان کے گھر گئے مجھ پر شادئ مرگ کی سی کیفیت طاری تھی خود کو فاتح سمجھتے ہوئے بڑے شان گلی کے اک سرے سے دوسرے سرے تک فاتحانہ انداز میں چہل قدمی کرتا رہا۔ وہ عصر کا وقت تھا جب ابو گھر میں داخل ہوئے … مرجھائے ہوئے چہرے کو دیکھ اپنی فتح شکست میں بدلتی ہوئی محسوس ہوئی …. پھر ابوں گویا ہوئے کہ حاجی صیب بڑے تپاک سے ملے جب میں نے بات آگے بڑھائی تو اس نے کہا خان صیب آپ کا بیٹا ہمارا بیٹا کاش کہ آپ تھوڑی سی عجلت دکھاتے ہوئے اک مہنے قبل ہی بتا دیتے میں کبھی ایسا نا کرتا کیونکہ آپ کا بیٹا بہت پُر خلوص اور نہایت خیال رکھنے والا ہے۔ بس اس سے آگے کے جملے نے میرے ارمانوں کا گھلا گھونٹ دیا اور میرے وہ تمام بنائے گئے خوابوں کو مٹا گیا۔ کہنے لگے کہ حاجی صیب نے کہا

“خان صیب وہ بکری ہم نے اس عید پر ذبح کردی ہے”

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *