میری “مَیں”، میری “اَنا”۔۔جمال خان

چینی فلسفی لاوزہ کہتا تھا ۔ آج تک دنیا میں مجھے کوئی ایک شخص بھی ذلیل اور رسوا نہیں کرسکا ۔۔کیوں؟؟ کیوں کہ میں نے کبھی بھی کسی سے عزت اور تکریم کی توقع رکھی اور نہ ہی خواہش کی ۔میں کسی محفل میں آج تک رسوا نہیں ہوا کہ میں وہاں جاکر بیٹھتا جہاں کوئی دوسرا بیٹھنا پسند نہیں کرتا !

آج کا انسان جذبہ مسابقت میں بری طرح مبتلا ہے۔ وہ دوسروں پر ہر طرح سے چھانے کی تگ و دو میں ہلکان ہورہا ہے ۔ہماری بے مثال اقتصادی اور سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ ہماری ایک دوسرے کو گھاؤ لگانے اور ایک دوسرے کو زک پہنچانے کی صلاحیت میں بھی کوئی کم اضافہ نہیں ہوا ۔

اپنے آپ کو دوسرے کے مقابلے میں برتر سمجھنے کا جذبہ ہماری”میں” ہماری ” انا” کی مسلسل اونچی ہوتی دیواروں نے اس دنیا کا خوبصورت چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا ہے ۔

یہ ہماری”مَیں” ہی تو ہے، ہماری انا ہی تو ہے کہ ہم ہر حال میں جیتنا چاہتے  ہیں ،ہم ایک دوسرے کو گھاؤ لگانے، ایک دوسرے کو شکست دینے اور جیتنے کی دُھن میں تمام  قواعد وضوابط کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے صرف چند لمحوں کے احساس برتری اور اپنی “میں” کو تروتازہ رکھنے کے لئے کتنے ارمانوں کا خون کرتے ہیں، کتنے لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں، کتنے دل دکھی کرتے اور توڑتے ہیں ۔کیا ہم لوگوں نے کبھی اس اہم نقطے پر غور کیا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے اردگرد موجود ہزاروں لوگ چاہے وہ قریبی عزیز و اقارب ہوں، دوست ہوں، یا دوستوں کے دوست ان کی کامیاب زندگیوں اور روپے پیسے کی ریل پیل کے باوجودِ ان کے پاس اطمینان سکون اور مسرت کی دولت میسر نہیں ۔ایسے کسی شخص سے بھی بات کریں تو اس کی آواز کسی گہری کھائی میں سے آتی ہوئی محسوس ہوگی ۔بظاہر وہ آپ سے بات کر رہا ہوگا ، مگر اس دوران اس کے دماغ میں چالیس اور معاملات بھی بیک وقت چل رہے ہوں گے ۔جو اس کے پورے بدن کو گیلی لکڑی کی طرح سلگا رہے ہوں گے۔یہ خیالات کیا ہوتے ہوں گے ۔ یہی نہ کہ فلاں شخص فلاں خاندان کا فرد یا فلاں دوست مجھ سے ترقی کی دوڑ میں آگے نکل گیا ۔ فلاں کی شادی بڑے خاندان میں ہوگئی، فلاں ابن فلاں کسی بڑی پوسٹ پر چلا گیا ۔فلاں دوست کی مقبولیت مجھ سے زیادہ ہوگئی ۔فلاں نے مہنگی گاڑی لے لی فلاں کا کاروبار مجھ سے بڑھ گیا، فلاں مجھ سے زیادہ خوبصورت، فلاں کے بچے میرے بچوں سے زیادہ ذہین، فلاں مجھ سے زیادہ ٹیلنٹڈ ،فلاں مجھ سے یہ ،مجھ سے وہ ،وغیرہ وغیرہ۔۔

اور پھر ایک دن یہی شخص اپنے اندر کی آگ میں جل کر اپنے آپ کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دیتا ہے۔پھر وہ وقت آتا ہے جب وہ دوسروں کے سامنے معزز اور نامور ” انسان” بننے کے جنون میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے عزت و شہرت طلب کرتا ہے ۔اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب وہ خدا کے اس فرمان کو بھی مکمل نظر انداز کردیتا ہے کہ”وہ   جسے چاہے عزت عطا کرے اور جسے چاہے ذلت” ،مگر جس طرح خدا کی عدالت میں توبہ واستغفار کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے بالکل ویسے ہی انسان جب اور جس وقت چاہے اپنی سچی خوشیاں ،اپنا ذہنی سکون اور اطمینان واپس لاسکتا ہے ۔ مگر کیسے؟

سب سے پہلے تو ہمیں فطرت اور سادگی کی طرف پھر سے لوٹنا چاہیے۔
صحیح معنوں میں فطرت سے ہم آہنگ ہوکر زندگی بسر کرنا کتنا خوشگوار اور سادہ کام ہے،کہ آپ ہر دور میں ہر طرح کے حالات میں پُرسکون اور سادہ زندگی بسر کرتے ہیں ۔سادگی اور فطرت سے ہم آہنگی ،زندگی ویسے ہی بسر کریں جس طرح زندگی کے اصول اس سے تقاضا کرتے ہیں ۔لوگوں سے محبت کرنا شروع کردیں۔
لوگوں کے سامنے پیار ومحبت کے گیت گنگنانا شروع کردیں۔دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ دوسرے کے درد کو اپنا درد اپنی تکلیف اور دوسرے کے آنسوؤں کو اپنے آنسوؤں میں جذب کرلیں۔
دوسروں کی غلطیوں زیادتیوں ان کی طرف سے دی گئی تکلیفوں پر انہیں معاف کرنا شعار بنالیں۔
دل سے کہنہ حسد بغض نفرت کی دیواروں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گرا دیں۔
اپنی “مَیں” اپنی اس اَنا جو تمھیں تکبر غرور اور دوسرے انسان سے برتری کا احساس دلائے اس کو مار ڈالیں، دوسرے کی ان غلطیوں کو بھی معاف کردیں جو ابھی ان سے سرزد ہوئی ہی نہیں۔
فقیروں یتیموں اور مسکینوں کی داد رسی بلااعلان کرنا  شروع کردیں ۔اپنے ظاہر کی نہیں باطن کی صفائی کریں۔–تمہارے اُجلے شفاف چہرے کی وقعت دو کوڑی کی بھی نہیں اگر تمہارا اندر تمہارا باطن سیاہ کار ہے ۔
اگر تمہارا دل آتش فشاں ہے ،تو تمہارے ہاتھوں میں پھول بھی سانپ ہیں۔

“اپنے جیسے دوسرے “انسانوں”سے عزت اور شہرت کی بھیک مانگنا بند کردیں، اپنی خودی کو بلند کریں، اپنے آپ سے ملاقات کریں کبھی اپنے  آپ سےملاقات کرکے تو دیکھیں۔
چینی فقیر لاوزہ کہتا تھا ۔ آج تک دنیا میں مجھے کوئی ایک شخص بھی ذلیل اور رُسوا نہیں کرسکا ۔۔کیوں؟؟ کیوں کہ میں نے کسی سے عزت اور تکریم کی توقع رکھی اور نہ ہی خواہش کی ۔
میں کسی محفل میں آج تک رُسوا نہیں ہوا کہ میں وہاں جاکر بیٹھتا جہاں کوئی دوسرا بیٹھنا پسند نہ  کرتا ،جہاں لوگ محفل میں جوتے اتارتے میں وہاں  بیٹھتا ہوں ۔وہاں سے مجھے کوئی نہیں بھگا سکتا ۔مجھے تم ہرا نہیں سکو گے، کیوں کہ میں ہارا ہوا ہی ہوں اور میں بھلا ہاروں بھی کیوں کہ مجھے تو جیتنے کی خواہش ہی نہیں۔۔
یاد رکھیں دوسرے انسانوں کی تذلیل کرکے خدا کی تعظیم نہیں کی جاسکتی ۔
خدا کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں ۔ فرمان الٰہی ہے۔۔
” اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے کلام کریں تو وہ سلام کرکے کنارہ کش ہوجاتے ہیں ۔سورہ الفرقان ۔دوسری جگہ ارشاد ہے ” معاف کرنے کی خصلت اختیار کریں ۔۔اچھی بات کا حکم دیں اور جاہلوں سے کنارہ کش رہیں، سورہ الاعراف “۔

انسان کی تحقیر کسی حالت میں نہیں کرنی چاہیے ،آئیے آج سے ہی ہم اپنی ذات اور نفس کا محاسبہ شروع کرتے ہیں اور دوبارہ سے ان کھوئی ہوئی خوشیوں کے پانے کی جستجو کریں جو کہیں ہمارے آس پاس ہی موجود ہیں مگر ہماری ” میں” اور ہماری انا انہیں دیکھ نہیں پا رہی۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *