ریاست یا متنجن؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

بچپن ہر کھانے سے کچھ دیر پہلے دروازے پہ دستک ہوا کرتی تھی۔ “کون؟” پہ جواب آتا “وظیفہ رؤڑئے خدائے دی او بخئی” یعنی “وظیفہ لے آئیے خدا (آپ کے گناہ) بخشے”۔ دروازہ کھلنے پر مسجد کے معصوم طالب علم، جنہیں مقامی زبان میں حقارت سے “چَڑیں” بھی کہا جاتا، اپنا پیالہ آگے کر دیتے جس میں پہلے ہی کئی گھر کے سالن پرت در پرت ڈلے ہوتے۔ ہم ہر بار یہ پیالہ دیکھ کر سوچا کرتے کے بھنڈی پہ کڑی، کڑی پہ عروی کی ترکاری، عروی پہ کل رات کی مرغی کا شوربہ، شوربے پہ کریلے اور کریلوں پہ کدو کیسا لگتا ہوگا۔ کئی بار تخیلاتی قوت کو زحمت دینے کی کوشش کی مگر مجال ہے جو کبھی تیسری پرت سے آگے کا ذائقہ ذہن میں آیا ہو۔ لگتا ہمیشہ یہی کہ جیسے مرغی کا شوربہ کریلے کا ذائقہ دیتا ہوگا اور کڑی میں بھنڈی کی آمیزش محسوس ہوتی ہوگی۔ 

ریاست آج کل کم و بیش وظیفے کا پیالہ ہی بنی ہوئی ہے۔ بچپن سے پڑھتے، سنتے اور دیکھتے آئے کہ عدلیہ کا کام ہر شہری کو انصاف کی فراہمی ہے۔ اب کی بار عدلیہ کے سالن میں الحمد للہ انتظامیہ کا تڑکا بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ قاضی القضاء نے اللہ کے کرم سے ملک کے لئے دو عدد ڈیم بنانے کا بیڑہ بھی سر پہ اٹھا لیا۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے 19 برس قبل کے ایک مقدمے کا فیصلہ دیتے ہوئے ایک ایسے ملزم کو بری کیا جس کی موت دو سال قبل جیل میں پہلے ہی ہوچکی تھی۔ یقیناً انصاف کی اس موت کا ذمہ دار محکمہ ڈاک ہوگا کیونکہ عدلیہ کے کرم فرماؤں کا اہم ترین مقصد انصاف کی فراہمی کو چھوڑ کر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ 

ڈیم بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ چ ج۔

ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں سیاحت کا شعبہ خوب ترقی کی راہ پہ گامزن تھا۔ ستر کی دہائی میں مرد مومن مرد حق کی آمد سے پہلے امریکی ہپی ہمارے یہاں سیر کرنے میں فخر محسوس کیا کرتے۔ فخر کی بات بھی تھی، بھلا اس قدر خالص چرس، بھنگ اور حشیش وغیرہ دنیا کے کسی اور ملک میں مہیا بھی کیسے ہوسکتی تھی؟ امریکی یقیناً پشاور پلٹ گورے گوریوں کے ہاتھ ضرور چوما کرتے ہوں گے کہ خالص چرس سے مس ہونے کی بھی الگ ہی فضیلت ہے۔

ستر کی دہائی میں پشاوری حشیش کے مزے لیتے امریکی ہپی

خیر پھر یوں ہوا کہ میاں ضیاء الحق کے جہاد نے باہر سے آنے والوں کے رنگ فق کر دیے اور ہمارے اندرونی مسائل اتنے بڑھ گئے کہ سیاحت کسی کھاتے میں نہ رہا۔ حال ہی میں اسی سیاحت کو فروغ دینے کا بہترین موقع ایک غیر ملکی پولش گوری چمڑی کی وطن یاترا تھی جس کے بعد امید تھی کہ باقی دنیا بھی شاید ہمارے شمالی علاقہ جات پہ نظر ڈالے۔ وہ تو بھلا ہو قومی احتساب بیورو کے سرغنہ کا جنہوں نے ایوا بیک نامی پولش خاتون کی جانب سے بنائی گئی ایک مکمل بے ضرر سے ویڈیو میں بھی کسی قسم کی مالی بے ضابطگی اور بدعنوانی ڈھونڈ لی۔ نیب کے سرغنے صاحب چونکہ کسی عالی شان محل میں بستے ہوں گے لہذا ہر سال یوم آزادی کے بعد سڑکوں اور نالیوں میں پھینکی جانے والی سبز ہلالی جھنڈیوں سے یقیناً لاعلم ہوں گے۔ ویسے بھی نیب کی موجودہ ملکی صورتحال تک پہنچنے میں جتنی گراں قدر خدمات ہیں ان کے بعد نیب سرغنہ کو سات خون معاف ہیں۔ 

ایوا بیک پاکستانی جھنڈے کے ساتھ کیکی چیلنج قبول کرتے ہوئے

عدلیہ اور قومی احتساب بیورو کے علاوہ محکمہ زراعت بھی الحمد للہ کئی شعبہ جات ہائے زندگی میں فعال ہیں جن سے دنیا بھر میں عموماً ان کا تعلق نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر محکمہ زراعت کا الیکٹیبلز گھیر کر ایک سیاسی دڑبے میں ہانک کر لے جانا، جو الیکٹیبلز بات نہ سنیں انہیں چانٹے رسید کرنے اور ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹیکل انجنیرنگ کی جانب سے ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ برائے سیاسی وزیراعظم کی تعمیر میں بھرپور کردار کردار رہا۔ محکمہ زراعت سیاسی کھیتی باڑی میں مکمل طور پہ ڈوبی ہوئی ہے۔ 

ریاست اس وقت مکمل طور پہ مساجد کے متنجن کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں عدلیہ کے سالن سے انتظامیہ کا ذائقہ، نیب کی پلیٹ سے پی آئی اے کی بوٹی اور محکمہ زراعت سے سیاست کی خوشبو آتی ہے۔ ہمیں البتہ یقین ہے کہ ستائیس رمضان المبارک کو آزاد ہونے والا یہ محبوب وطن الحمد للہ لکڑ ہضم پتھر ہضم خصوصیات کا حامل ہے لہذا انشاءاللہ تعالی قائم و دائم رہے گا۔ ملک کی گارنٹی میری البتہ آپ کی اور میری کوئی گارنٹی نہیں۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔ 

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *