سوال تو بنتا ہے۔۔ محمد اسلم خان کھچی ایڈووکیٹ

چینی بحران پر 25 اپریل کو پیش کی جانے والی فرانزک رپورٹ نظریہ ضرورت کے تحت مصلحت پسندی کا  شکار ہوتی نظر آتی ہے، آج 12 مئی ہے ,17 دن گزر چکے ہیں لیکن رپورٹ پیش نہیں کی جاسکی۔

لگتا ہے حکومت مافیا کے دباؤ میں آکے فیصلہ بدلنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ جب آٹا اور چینی پر ایف آئی اے کی رپورٹ پبلش کی گئی تو پورے ملک میں عمران خان کے” نہ جھکنے والا ” کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے ۔

میں خود گلا پھاڑ پھاڑ کے نعرے لگانے والوں میں پیش پیش تھا ۔جب رپورٹ پبلش کی گئی تو حکومت کے نقطہ نظر کے برعکس کچھ ٹی وی چینلز کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ رپورٹ لیک ہوئی ہے، اس لئے مجبوراً اسے پبلش کرنا پڑا ،لیکن حکومتی ترجمانوں نے یہ دعویٰ یکسر مسترد کر دیا۔

موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو نجی ٹی وی چینلز کا دعویٰ درست لگتا ہے۔ عام فہم سی بات ہے کہ اگر حکومت نے خود ہی اس رپورٹ کو پبلش کیا تھا تو وہ فرانزک رپورٹ بھی عوام کے سامنے ضرور پیش کرتی لیکن حکومت کی طرف سے خاموشی اس بات کا پیغام ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے نظریہ ضرورت کے ماتحت رہا ہے اور اسے کسی “تبدیلی ” کی ضرورت نہیں۔
ہمیشہ کی طرح کرائم میں ملوث لوگ بڑے بڑے عہدوں پہ براجمان ہیں۔
تو پھر گلہ کس ہے ؟

جب نوازشریف صاحب کے دور حکمرانی میں اسی نوعیت کے  سکینڈلز میں ملوث لوگوں سے چیخ چیخ کر استعفیٰ طلب کیا جاتا تھا ،تو قوم اب کیوں خاموش ہے ؟
اس وقت بھی اسی نوعیت کے جرائم کے الزامات پر نوازشریف صاحب کو نکال باہر کیا گیا لیکن اب عدلیہ اور حکومت خاموش ہے۔
سوال تو بنتا ہے۔۔

اربوں کی کرپشن کرنے والے لوگ اپنے عہدوں پہ براجمان ہیں۔ کوئی  سپیکر پنجاب اسمبلی ہے، تو کوئی فیڈرل منسٹر ہے۔
بقول عمران خان صاحب ” عہدوں پہ براجمان لوگوں کا احتساب مشکل ہے”۔یہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے احتساب کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ان کو استعفیٰ دینا چاہیے” وغیرہ وغیرہ۔

ہم بھولے بھالے لوگوں نے اسی نعرے کی دلفریبی پر  ہی عمران خان صاحب کو اپنا نجات دہندہ مان لیا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ سارے نعرے ہوا ہوتے جارہے ہیں۔ ہمارا نشہ اترتا جا رہا ہے۔حکومت تقریباً دو سال مکمل کرنے کو ہے، نہ قرضہ اُترا ،نہ سٹیٹس کو ٹوٹا، نہ ہی  کسی کی حالت بہتر ہوئی، بلکہ حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔

یہاں پہ بہت پرانا گھسا پٹا ایک شعر یاد آرہا ہے، جو میں اکثر اپنےکلاس فیلوز کو سنایا کرتا تھا۔۔
ڈوبی ہیں میری انگلیاں خود اپنے لہو میں
یہ کانچ کے ٹکڑوں کو اٹھانے کی سزا ہے!

عمران خان صاحب کا ایک کلپ اکثر سننے کو ملتا ہے۔۔۔
” یہ حکومت چھوڑنا تو معمولی سی بات ہے،ان مافیاز سے لڑنے کیلئے اپنی جان بھی دے سکتا ہوں “۔۔لیکن یہ نعرہ بھی نظریہ ضرورت کی کسی موٹی کتاب کے وزن تلے دب گیا ہے۔
عمران خان صاحب سے گزارش ہے کہ،ہم نے کب جان مانگی,اللہ رب العزت آپکو لمبی زندگی عطا فرمائے،ہم تو بس اتنا چاہ رہے ہیں کہ کوئی ایک وعدہ تو وفا کر دیجیے۔چھوڑیئے 50 لاکھ گھر, ایک کروڑ نوکریاں, 10 ارب درخت،بس ایک کام کر دیجیے، سٹیٹس کو ، کو توڑ دیجیے،جس کا آپ نے پوری قوم سے وعدہ فرمایا تھا۔کیونکہ ابھی تک پوری قوم ” شیرو “کی طرح آپ کی طرف نظریں اٹھائے آپکے اشاروں کی منتظر ہے ۔

سچ تو یہ ہے۔۔۔اسلامی جمہوریہ پاکستان جسے آج کل ریاست مدینہ کا نام دیا جاتا ہے ۔ موجودہ حکمران کے بلندوبانگ دعوؤں کے باوجود ریاست مدینہ تو درکنار ,اسے صرف پاکستان بھی نہیں بنا سکے
اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہ ملک ہمیشہ مافیاز کے تسلط میں رہا ہے،آٹا مافیا ,شوگر مافیا, ڈالر مافیا,پولٹری مافیا اور اسکے علاوہ ہزاروں مافیاز اس ملک میں سرگرم عمل ہیں،حکومت ہو یا اپوزیشن, انکے ذاتی مفادات کا ٹکراؤ کبھی نہیں ہوا۔ ان کا بس ایک ہی نعرہ ہوتا ہے، اس پرچم کے سائے تلے سب ایک ہیں,سب ایک ہیں ۔
مذاق مذاق میں   بس اتنا کہتے ہیں کہ یار کوئی 10 ،20 ارب کی دیہاڑی لگائیں،پورا سسٹم حرکت میں آتا ہے اور چند ہی دن میں 10 ،20 ارب اکھٹے ہو جاتے ہیں۔
کبھی کسی نے سوچا ؟
پاکستان ایک چھوٹا سا ملک ہے
انڈسٹری نام کو نہیں
بجلی مہنگی
عوام بیروزگار
زراعت برائے نام, زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم کھانے کی چیزیں باہر سے امپورٹ کرتے ہیں
لیکن چند لوگ امیر ترین ہیں، ذاتی ہیلی کاپٹرز ہیں، ذاتی جہاز ہیں، ایسے لوگ بھی ہیں  جن کے لیے  تازہ دودھ کی سپلائی کے لیے  ایک سپیشل جہاز مختص ہے جو سینکڑوں میل دور سے روزانہ دودھ لاتا ہے اور دو مختلف شہروں میں لینڈ کرتا ہے۔

کہنے کو بہت کچھ ہے ،لیکن کچھ دوست  تحریر  کی طوالت کا گلہ کرتے ہیں اس لیے مختصر کرتا ہوں۔
عمران خان کی الیکشن مہم میں کچھ لوگوں نے اربوں روپے خرچ کیے، کیا عمران خان اتنا بھولا آدمی تھا کہ اسے اندازہ نہیں ہو سکا کہ یہ پرانے گھاگ بزنس مین  ایک کے دس بنائیں گے ؟
ایسا ہی ہوا۔۔۔
راتوں رات کوئی نہ کوئی بحران پیدا کر کے غریب عوام کی جیب پہ ڈاکہ مار کے اربوں روپے نکال لیے  جاتے ہیں۔ یہ مافیا اتنا بے لگام ہے کہ حکومت بے بس نظر آتی ہے۔عمران خان کی دیانتداری پہ کوئی دو  رائے نہیں لیکن اس کی یہ دیانتداری ملک کو سالوں پیچھے کی طرف دھکیل رہی ہے،پہلے اچانک چینی کا بحران پیدا کیا گیا اور اربوں روپے لوٹ لئے گئے اور اچانک ایک پلاننگ کے تحت غریب کی بنیادی ضرورت” آٹا” ناپید کر دیا گیا۔
انگلی تو اٹھے گی ۔۔

پاکستان میں یوں تو کئی بار اس نوعیت کے بحران آئے مگر آخری بار یہ کیفیت جنرل پرویز مشرف کے دور میں سامنے آئی جب پہلے گندم اور پھر چینی کا بحران پیدا ہوا،کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں گندم اور چینی کا بحران آیا تو جہانگیر ترین، چوہدری پرویز الٰہی، خسرو بختیار، زبیدہ جلال، عمر ایوب اور شیخ رشید جیسے لوگ پرویز مشرف کی ٹیم کا حصہ تھے اور اب بھی یہی لوگ حکومت کا حصہ ہیں؟ تو پھر مان لیجیے کہ یہ گندم اور چینی کا فقدان نہیں،یہ اہلیت کا فقدان ہے۔
سوال تو بنتا ہے ۔۔!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *