کٹ پیس۔۔۔ذیشان نور خلجی

جمیعت علماء اسلام ف کے مرکزی راہنما حافظ حمداللہ کا کہنا ہے ” ن لیگ اور پیپلز پارٹی پلان بی میں شامل نہیں تھیں۔” اور تو اور دونوں پلان اے میں بھی شامل نہیں تھیں۔ بس ہمیں ہی اندھیرے میں رکھ کے مروایا گیا۔ چھت کا رستہ دکھا کے نیچے سے ہماری سیڑھی کھینچ لی گئی۔
انہوں نے کہا “دھرنا کسی معاہدے کے تحت ختم نہیں کیا گیا۔” بس ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی طوطا چشمی، دھرنے کے خاتمے کا سبب بنی۔

حافظ حمداللہ نے مزید کہا “دھرنے سے عام شہریوں کو تکلیف نہیں ہوئی۔” اور سچ پوچھیں تو حکومت نے بھی ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کیا۔ سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کر کے، کھلے آسمان تلے موسم کے رحم و کرم پر پڑے، جو کچھ تکلیف ہوئی تو صرف مولانا فضل الرحمن مع اہل و عیال کو ہوئی۔ اسی لئے ہم بوری بسترا گول کیے، لوٹا بغل میں دبائے اٹھ کے چلتے بنے ہیں۔

رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی کا کہنا ہے ” آئندہ سے شاہراہیں بند نہیں کریں گے کیونکہ عوام کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔” عوام یہ فیصلہ کرنے میں انتہائی تذبذب کا شکار نظر آ رہے ہیں کہ اپنی گالیاں اگلتی توپوں کا رخ سترہ روپے کلو والی حکومت کی طرف کریں یا ہماری طرف۔ اس لئے ہم نے عوام کی آسانی کے لئے ن لیگ کی طرح منظر عام سے کھسک جانے میں ہی عافیت جانی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے راہنما میاں افتخار کا کہنا تھا “جب آزادی مارچ تھا اس وقت حکمران کمیٹیاں بنا کر ہم سے بات کر رہے تھے اور جیسے ہی آزادی مارچ ختم ہوا حکمرانوں کا لہجہ بدل گیا” جیسے ہماری صوبائی حکومت میں عوام کی کہیں داد رسی نہیں ہوتی تھی۔بالکل ایسے ہی آج موجودہ حکومت نے دھرنے کے خاتمے کے بعد آنکھیں پھیر کے ہمیں ہمارے ماضی کے رویے کی یادیں تازہ کرا دی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے ” بہبود اطفال پیپلز پارٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے” لیکن ہماری کوشش ہے کہ تھر کے بھوک سے بلکتے معصوم بچے اس میں شامل نہ ہوں۔ اس ضمن میں ہماری پالیسیاں کامیابی سے ہم کنار ہورہی ہیں۔اور امید کی جاتی ہے مستقبل قریب میں وہاں کوئی بچہ نہیں بچے گا اس لئے ہماری پارٹی کی اولین ترجیحات میں شامل بہبود اطفال کے منشور میں تھر کے بچوں کو ہر گز ہر گز شامل نہ سمجھا جائے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ مصباح الحق نے کہا ہے “قومی کرکٹرز کی برسبین میں پریکٹس تاریخ رقم کر سکتی ہے۔” جس طرح ورلڈ کپ 2011ء کے سیمی فائینل میں بھارت کے خلاف، اور اس کے بعد بھی تسلسل سے میں نے ٹک ٹک کی تاریخ رقم کی ہے۔ اور امید ہے میرے زیر سایہ شاہین ایسی تاریخ ہر تاریخ کو رقم کیا کریں گے۔

چلتے چلتے ازلی دشمن بھارت کا بھی کچھ ذکر خیر ہو جائے۔
وطن عزیز کی قریباً سبھی جمہوری حکومتیں اس عزم کا اظہار کرتی آئی ہیں کہ ہمیں ترقی کی دوڑ میں بھارت سے آگے نکلنا ہے۔ آگے نکلنے کی بات گو کہ کافی دور کی کوڑی ہے، اور کہیں آس پاس اس کے آثار نظر نہیں آتے۔ لیکن موجودہ عمران خانی حکومت بھارتی سرکار کی برابری کرتی نظر آ رہی ہے۔ وہ ایک محاورہ تھا نا کہ ‘ہنوز دلی دور است’
لیکن ایسا لگتا ہے کہ دلی اب قریب آ چکی ہے۔

بھارتی میڈیا پہ ایک خبر نشر ہوئی ہے کہ راجدھانی دلی میں سموگ کا راج ہے۔ فضا کافی آلودہ ہوچکی ہے۔ شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ادھر ہمارے پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں بھی اس وقت کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ترقی کی ان راہوں پہ ہم بھارت کی برابری کرتے نظر آرہے ہیں۔
امید کی جاتی ہے جناب بزدار مہاراج کے طفیل، کہ وہ اگر مزید چند سال تخت لاہور پہ کرم فرمائی کریں، کم از کم اس محاذ پہ ہم بھارت کو پیچھے چھوڑ جائیں گے۔
دھنے واد !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *