اقبال کے ساتھ ظلم ۔۔۔عمار یاسر

پاکستانی قوم روایتی طور پر بےمروت پائی گئی ہے.اپنے ہیروز کو بےمول کرنا ہماری اجتماعی بیماری ہے۔دنیا بھر کی اقوام اپنے لیڈرز کو مختلف اطوار سے سراہتی ہیں.بنگلہ دیش کا بابا ہو , جو انگریز کے دیار میں مدفون تھا , دفن ہونے کے سینکڑوں سال بعد اسے واپس اپنی مٹی میں لا کر دفنایا گیا.جبکہ خالقِ اسم پاکستان چوہدری رحمت علی آج بھی سرِزمین مغرب میں مدفون ہیں.کون انہیں اپنے ملک لا کر عزت دینے کی کوشش کرے !

میرا یہی ماننا ہے کہ آج اگر علامہ اقبال رح ظاہری طور پر زندہ ہوتے تو ان کا حال بھی وہی ہوتا جو آج ان کی شاعری کے ساتھ ہو رہا ہے !!اولین کو اقبال کی شاعری آج کے سقراط اور ارسطو کو سمجھ نہیں آتی جس کی بنیادی وجہ ادرو ادب کی ناپیدی ہے۔دوئم ستم ظریفی یہ کہ اقبال کے نام سے ہر بےخصمہ شعر مربوط کر دیا جاتا ہے!راولپنڈی کے عمار چوک میں لگے بنیر پر لکھا ایک غیر اقبالی شعر جسے اقبال سے جبری جوڑا گیا۔۔

” یہی سبق دیتا ہے ہمیں ہر شام کا سورج اقبال
مغرب کی طرف جاؤ گے , تو ڈوب جاؤ گئے  ”

بحوالہ آصف محمود صاحب (کالم نگار ) ایچ ای سی اجلاس میں اقبال کے نام سے یہ شعر جوڑ دیا گیا۔

” ضمیر زندہ ہو تو جاگ ہی جاتا ہے اقبال
کبھی گناہ سے پہلے , تو کبھی گناہ کے بعد ”

مذہبی طبقہ بھی اقبال کو اپنے  مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے.ماتم کے مخالفین , اقبال کے نام سے محرم الحرام کے خلاف اشعار منسوب کر کے پوسٹ کرتے ہیں۔

” روئیں وہ جو منکر ہیں شہادتِ حسین کے​
ہم زندہ جاوید کا ماتم نہیں کرتے۔۔۔۔​ ”

جو سنی مسلک کے خلاف , پیری فقیری کے خلاف ہیں وہ مندرجہ ذیل شعر اقبال سے جوڑ دیتے ہیں۔۔

” کیوں منتیں مانگتا ہے اوروں کے دربار سے اقبال
وہ کون سا کام ہے جو ہوتا نہیں تیرے پروردگار سے؟ ”

اقبالیات کے ساتھ اس سفاک رویے کی بنیاد پر میں یہ مفروضہ قائم کرتے ذرا نہیں ڈرتا کہ اگر آج اقبال زندہ ہوتے تو شاید عبدالقدیر خان کی طرح کسی سڑک کے کنارے  بیٹھ کر انٹرویو دے رہے ہوتے!!

وہ الگ بات کہ ہم اپنے معاشرتی , مذہبی , روحانی معلم کو وہ عزت نہیں دے سکے مگر یہ حقیقت حرفِ روشن ہے کہ اقبال تاقیامت زندہ رہنے والی شخصیت ہے۔اقبال کی شخصیت کا اندازہ یوں لگائیں کہ بےخصمے لوگ خصی اقسام کے الفاظ اقبال سے  جوڑ کر ان الفاظ میں وزن و معانی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یعنی شعر کے ساتھ اقبال لکھا ہونا اس کے معنی خیز ہونے کا راوی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *