انٹلیکچوئل ایلیٹ کا گروہ/حمزہ یعقوب

انٹیلیکچول ایلیٹ سے مراد وہ طبقہ ہے جو دانش ور ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی اعتبار سے بھی آسودہ حال ہوتا ہے۔سماجی تناظر میں اس طبقے کے افراد منجھے ہوئے بزنس مین، سرکاری افسر، اور اعلیٰ عہدوں پر فائض ہوتے ہیں۔ کوئی بھی مخصوص بیانیہ گھڑنے،اپنانے، اور اس کی ترویج کے لیے درکار تمام تر وسائل اور ذرائع انہیں میسر ہوتے ہیں۔ کون سا ناول نگا ر اول درجے کا ہے، اور کون سا تیسرے درجے کا، کس کے افسانوں پر گفتگو کرنی ہے اور کسے نظر انداز کرنا ہے، یہ سب بخوبی جانتے ہیں۔ان کی رائے عالمی ادب اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق درست بھی ہوتی ہے، اور ان کی تجزیاتی صلاحیت بھی انہیں پڑھنے اور سننے والے کم و بیش سب لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ان کی کتابیں ہمیشہ مشہور اور کاروباری پبلشر ہاؤسز سے چھپتی ہیں، ملک کے کسی بھی کونے میں کوئی ادبی میلہ ہو، کوئی تقریب ہو، ان کی کتاب پر بات ہوتی ہے،بلکہ اب تو کتاب آنے سے پہلے پری آرڈر کے ذریعے پورے کا پورا ایڈیشن فروخت ہو جاتا ہے۔ ایک دور تک میں اس غلط فہمی کا شکار تھا کہ اچھی کتاب اپنی جگہ خود بناتی ہے، لیکن پچھلے کچھ عرصے سے صورتحال کا از سرِ نو جائزہ لینے کے بعد ادراک ہوا کہ ایسا نہیں ہے۔ کتاب کا تاثر کیسا جائے گا ، اس میں بہت سے عوامل اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اور ان میں سب سے زیادہ اہم ایسے پبلشرز سے کتاب چھپوانا ہے جو براہِ راست اس انٹیلکچول ایلیٹ کا حصہ ہوں۔ کتاب کے فلیپ سے لے کر اشاعت کے بعد تقریبِ رونمائی وپذیرائی جیسی رسمیں پوری توجہ سے اد ا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ انٹیلیکچول ایلیٹ روایتی بزرگ ناقدین اور مقامی یا چھوٹی سطح کی ادبی لابیوں کی نسبت زیادہ فراخ دل ہوتی ہے۔ نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے ، اور جوہر شناس بھی ہوتی ہے۔ تاہم اس انٹیلیکچول ایلیٹ گروہ کا حصہ بننے کے لیے محض تخلیقی اعتبار سے مالا مال ہونا ضروری نہیں۔ سماجی اور معاشی سطح پر بھی تخلیق کار کو اپنا آپ منوانا پڑتا ہے، اگر کوئی تخلیق کار سماجی اور معاشی سطح پر ناکام ہے، تو اس کی تخلیقیت جتنی مرضی طاقتور ہو، انٹیلیکچول ایلیٹ اسے کبھی اپنے گروہ میں شمار نہیں کرتی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

پاکستانی ادبی منظر نامے میں اس انٹیلیکچول ایلیٹ کی نشاندہی کچھ خاص مشکل نہیں۔ جامعات کے چند اساتذہ، اور دو تین مشہور پبلشرز تو اس گروہ کے وہ ممبران ہیں جو ہمیشہ سامنے رہتے ہیں۔ کوئی بھی ادبی فیسٹیول ہو، ان کی شرکت پہلے سے طے ہوتی ہے، ان کی کتاب (اچھی/بری) جیسی بھی ہو، اس پر بھی سیشن رکھا جاتا ہے۔ ان پبلشنگ ہاؤسز سے بھی جیسی کتابیں مرضی شائع ہوں، ان پر بھی گفتگو ہوتی ہے۔یہ ادبی بیانیے بناتے بھی ہیں ، اور انہیں توڑتے بھی ہیں۔ بنیادی طور پر یہ کسی ملک کی ادبی کمیونٹی کا چہرہ ہوتے ہیں۔ بیرون ملک کانفرسنز پر بھی مدعو ہوتے ہیں۔اوریجنل تخلیق کاروں کو اکیلے میں یا کسی نجی محفل میں ضرور سراہتے ہیں لیکن کسی بھی بڑے پلیٹ فارم پر، پبلک کے سامنے نہیں سراہتے۔ چونکہ اس گروہ میں داخل ہونے کی شرائط اتنی سخت ہیں کہ شاذو نادر ہی کوئی عام تخلیق کار اٹھ کر وہاں تک جا پہنچے اس لیے عموماَ یہ عہدے اپنی اولاد یا شاگردوں میں بانٹ جاتے ہیں۔ اس ذیل میں بھی اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ شاگرد پہلے ان تمام شرائط کو پورا کرے، عام طور پر یہ کام یونیورسٹی یا سرکاری کالج میں شاگردوں کی تقرری سے ہوتا ہے۔شاگرد اس سنت کو جاری رکھتا ہے، اوراس ایلیٹ گروہ کے نظریات اور رسوم و رواج کی حفاظت کے لیے کام کرتا ہے۔ آپ بتائیے آپ کے ذہن میں یہ تحریر پڑھ کر کن لوگوں کی صورتیں ابھرتی ہیں؟

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply