• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستان اور دہشتگردی، منظور پشتین،بیان خاتمہ۔۔۔عامر کاکازئی

پاکستان اور دہشتگردی، منظور پشتین،بیان خاتمہ۔۔۔عامر کاکازئی

جب بھی کوئی  واقعہ یا کہانی ضبطِ تحریر میں لائی  جاتی ہے تو وہ ماضی سے شروع ہو کر حال میں آتی ہے۔ ٹی وی کے مشہور ڈائریکٹر بابر جاوید ہمیشہ اپنی کہانی حال سے شروع کرتے ہوۓ ماضی میں  لے جاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ حال سے ماضی کی طرف اگر سفر کیا جاۓ تو عام بندے کو آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے۔ آئیے آج ہم بھی پاکستان میں برسوں کی پھیلی دہشتگردی کی داستان حال سے شروع کر کے ماضی کی طرف لوٹتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایک پُرامن ملک ایک دہشتگرد ملک بن گیا۔ یہ کچھ اقساط پر مبنی پاکستان کی دہشتگردی کی جنگ کی تاریخ ہے۔

ایک عام انسان جس کو کوئی  نہیں جانتا، پہچانتا، ایک دم کیسے لاکھوں انسانوں کا اگوا بن جاتا ہے۔ لوگ کیسے اسے اپنا دیوتا، اپنا رہنما اور اپنا نجات دہندہ ماننے لگتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کچھ جھلکیاں تاریخ کے آئینہ سے۔۔

ماٹن لوتھر کنگ ایک نسل پرست معاشرے میں پیدا ہوا۔ اس کی مقبولیت کی صرف ایک وجہ تھی کہ اس نے نسل پرستی کے خلاف آواز  اٹھائی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ تمام رنگدار نسل کی آواز بن گیا۔
لینن جس نے بالشیک انقلاب کو لیڈ کیا تھا۔ وہ روسی عوام کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوا صرف اور صرف روس کے بادشاہ کے ظلم و ستم کی وجہ سے۔

خمینی، ایران کا وہ رہنما جس نے ایک غیر ملک میں ہوتے ہوۓ ایک مضبوط بادشاہ کا تختہ الٹ دیا، کیا وجہ تھی کہ ایک آزاد خیال معاشرہ ایک مُلا  کے پیچھے چل پڑا؟ اس کی وجہ بھی ایک ہی تھی، ایران کے بادشاہ کا ظلم و ستم تھا۔ جس کی وجہ سے ایک آزاد خیال معاشرہ پلک جھپکتے میں قدامت پرست بن گیا۔

جناح۔۔ جو کہ ایک آزاد خیال، انگریزوں کے حلیے میں رہنے والے، پائپ پینے والے کے جلسے میں کسی نے ایک غریب، مفلوک الحال سے پوچھا کہ بابا جی  آپ کو ان کی تقریر سمجھ  آتی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں مگر یہ جو کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے۔ جناح کے پیچھے مسلمان دیوانہ وار بھاگتے تھے کہ صرف وہ ہی ان کو ایک مسلمان ملک دلوا سکتا ہے؟ وجہ صرف ایک تھی کہ اس وقت کے مسلمان انگریز کے ظلم و ستم سے تنگ تھے۔

مجیب۔ ۔ایک دیش بھگت انسان جو قائد اعظم کے گارڈ کے طور پر منظر عام پر آیا۔ اس کا عشق پاکستان اور قائد اعظم سے ایسا تھا کہ پورے ایسٹ پاکستان میں قائد کی بہن کی انتخابی مہم چلائی   مگر اس عام انسان میں ایسی کیا بات تھی کہ پورا ایسٹ پاکستان اس کا دیوانہ ہو گیا؟ صرف ایک وجہ تھی،ناانصافی کی، بنگالیوں کو اپنے سے حقیر جاننے کی، اور پھر اس ایک عام انسان نے عوام کی طاقت سے خطے  کی ایک مضبوط فوج کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ اس ہار کے پیچھے صرف اور صرف نا انصافی اور حقارت تھی اور کچھ نہیں۔

بھٹو۔۔ جس کے پیچھے ویسٹ پاکستان والے دیوانے ہو گئے  کیوں، وجہ تھی کہ اس نے غریب عوام کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے  ان کو روٹی، کپڑا اور مکان دینے کا وعدہ کر دیا تھا۔ ان کویقین دلا دیا کہ وہ پاکستان کے بائیس خاندانوں کی دولت ان میں بانٹ کر ان کو ناانصافی سے نجات دلا  دیں گے۔

چیرمین ماو زے  تنگ۔۔ چینی عوام ایک مالدار انسان کے پیچھے کیوں دیوانہ وار چل پڑی؟ وجہ تھی صرف ایک اور وہ تھی، چیانگ شیک کے ظلم و ستم جس نے چیني عوام کو مجبور کیا کہ وہ چیئرمین ماؤ  کے  لانگ  مارچ میں شامل ہوں اور آزادی حاصل کریں۔

اس طرح کے بے شمارعام انسان تاریخ کے پنے سے آ پ کو ملیں گے جن کو کوئی  نہیں جانتا تھا مگر انہوں نے جب عوام پر ہونے والے ظلم و ستم پر آواز اُٹھائی  توعوام کو محسوس ہوا کہ صرف یہ عام انسان ہی  اُن کو حکمرانوں کے ظلم سے نجات دلوا سکتا ہے۔ اِن سب کی مقبولیت کی صرف ایک وجہ تھی” ظلم”۔

دسمبر 2014 میں جب  مذہبی  دہشتگرد  تمام حدیں پار کر لیتے ہیں تو تب فیصلہ کیا جاتا ہے کہ سانپ کا سر کچلنا چاہیے۔ہونا تویہ چاہیے تھا کہ  د ہشتگردوں کو ختم کرنے کے بعد ادھر کی عوام سکھ کا سانس لیتی مگر اس کے بعد تو شروع ہوتی ہے یہاں کی عوام کے ساتھ ایک اور سختی، ایک اور زیادتی۔۔  ان کو اپنے علاقوں سے بےدخل کیا جاتا ہے۔ ان کی جگہ جگہ سکیورٹی  کے نام پر ناکے لگا کر بے عزتی کی جاتی ہے۔ پورے خطے کے لوگوں کوان کے حلیے کی وجہ سے مشکوک سمجھا جاتا ہے۔ ادھر سے انٹری ہوتی ہے پھر ایک عام انسان کی جس کی عمر محض چوبیس سال ہے، پیشے  کے اعتبار سے جانوروں کا ڈاکٹر، مگر جب وہ اپنے ہی ہم وطنوں کے اوپر سکیورٹی کے نام پر جانوروں سے بھی بدتر ظلم دیکھتا ہے تو اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ عام انسان، جس کو نہ تقریر آتی ہے نہ ہی اس کے پاس الفاظ ہیں۔ مگر جب اس نے عام عوام کی دل کی آواز کو سمجھتے ہوئے  اپنے ہی حکمرانوں سے اپنے ہی لوگوں کے لیےصرف دو چیزیں مانگیں اور وہ ہیں”امن اور عزت”  تو لوگ ٹوٹ پڑے، ہجوم اکھٹا ہو گیا، کیونکہ ان کی بھی   امن اور عزت کی ہی  خواہش  ہے۔

جی ہمیں صرف دو چیزیں چاہئیں امن اور عزت!
ہمیں جنگلہ بس یا موٹر وے نہیں چاہیے، ہمیں امن اورعزت چاہیے!
ہمیں روٹی یا روزگار نہیں چاہیے، ہمیں امن اورعزت چاہیے!
ہمیں مکان یا فیکٹریز نہیں چاہئیں ، ہمیں امن اورعزت چاہیے!
ہمیں بجلی یا گیس نہیں چاہیے، ہمیں امن اورعزت چاہیے!

اگر حکمران سمجھتے ہیں کہ منظور پشتین ایک سانپ ہے تو اس کے  زہر کا تریاق صرف دو باتوں میں ہے۔”امن اورعزت “میں۔ عوام کو امن اور عزت دیجیے، منظور پشتین خود بخود کینچوا بن جائے  گا۔ ڈی سروانٹس نے کہا تھا ’’وجہ یا سبب کو ختم کردیں، اثر خود بخود جاتا رہے گا‘‘

حکمران، حضرت علی کا فرمان  ذہن میں رکھیں کہ “کفرکا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں”۔ کسی بھی معمولی انسان کو لیڈر بنانے سے روکنے کا بس ایک ہی حل ہے کہ اس علاقے کے لوگوں کے اوپر سے ظلم ختم کرتے ہوئے  انصاف پر مبنی معاشرہ قائم کر دیجیے۔ وہ لیڈر اپنی موت آ پ مر جائے گا۔

ایمرسن کہتا تھا کہ ’’تم جوکچھ ہو اس ہونے کا  شور میرے کانوں میں اسی قدر زیادہ ہے کہ تم جو کچھ کہتے ہو وہ مجھے سنائی نہیں دیتا۔‘‘ ہمارے وہ لوگ جن کے علاقوں میں عزت، امن اور روزگار ہے، ان کو جس عینک سے دکھایا جاتا ہے،اس عینک سے ہم ان کو دہشتگرد اور غدار لگتے ہیں، اگر یہ لوگ اپنی عینک بدل کر دیکھیں کہ دوسری طرف کتنی بے چارگی، کتنی مظلومیت اور کتنا ظلم ہے۔ ہم پر نسل پرستی کا الزام لگتا ہے۔اپنے بھائیوں سے سوال ہے کہ کیا ہم مارٹن لوتھرکو نسل پرست کہیں گے یا پھر ان کو جو انسانوں پر اس کے رنگ کی وجہ سے ظلم کرتے تھے؟

یاد رکھیں کہ مسائل باہر سے نہیں آئے  نہ ہی کسی بیرونی وجہ سے آئے  ہیں۔ یہ مسئلہ  ہمارے ہی ڈیکٹیٹروں کا پیدا کردہ ہے۔ اور اس مسئلہ  کو ہم اور   آپ جیسے سولین نے مل کر حل کرنا ہے۔ ظالم حکمرانوں کو پہچانیے، کہ یہ ہمارے اور آپ کے مشترکہ مجرم ہیں۔

آخر میں نویدن ہے اپنے حکمرانوں سے کہ خدارا منظور پشتین کو ایک عام انسان ہی رہنے دیں۔ اپنی غلطیوں سے اسے لیڈر نہ بنائیں ۔ہمارے لوگوں کو امن اور عزت دیں کہ وہ کہہ سکیں کہ “ہاں یہ وہ آزادی ہے” جس کا وعدہ قائد اعظم  نے 47 میں آزادی کے وقت کیا تھا۔

ہم آفتاب احمد اخوندزادہ کے شکر گزار  ہیں کہ ان کے کالم سے کچھ مدد ملی!

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *