• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • باکو”آذربائیجان چلیں “(دوسری،آخری قسط)۔۔سید کلیم اللہ شاہ بخاری

باکو”آذربائیجان چلیں “(دوسری،آخری قسط)۔۔سید کلیم اللہ شاہ بخاری

آذربائیجان کے مقامی لوگ پاکستانیوں کی بہت عزت کرتے ہیں ۔ اگر آپ یہ بتائیں کہ آپ پاکستان سے آئے ہیں تو ضرور پیار بھرا ایک آدھ فقرہ بولنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستانی کب تک آذربائیجان میں اپنی عزت کرواتے ہیں ۔ کیونکہ جس طرح کی حرکات ہمارے بھائی خلیجی ممالک میں کبھی کبھار کرتے رہتے ہیں وہ اگر یہاں بھی شروع ہوگئیں تو یہ محبت حقارت میں بدلتے دیر نہیں لگے گی۔

پاکستان سے اس انس کی وجہ میرے خیال میں مذہبی نہیں سیاسی ہے ،جیسے چینی اور پاکستانی قومیں ایک دوسرے کے ساتھ انس محسوس کرتی ہیں۔ آذربائیجان کو آزاد ملک تسلیم کرنے والے اوّلین تین ممالک میں پاکستان شامل تھا۔ اس کے بعد پاکستان کے کئی طرح کے دفاعی اور تجارتی معاہدے آذربائیجان سے ہو چکے ہیں۔ بنیادی وجہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان نگورنو کارابخ کے علاقے کا ایک دیرینہ تنازعہ ہے جس میں پاکستان ہمیشہ اقوام متحدہ میں آذربائیجان کی حمایت کرتا چلا آیا ہے۔ بدلے میں آزربائیجان کشمیر پر پاکستان کے موقف کی تائید کرتا ہے۔
آرمینیا اور آزربائیجان کے آپس میں سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔ وقتا فوقتا لائین آف کنڑول کے جیسے آپس میں فائرنگ اور جھڑپیں بھی کرتے رہتے ہیں۔
یعنی یہ دونوں ممالک اس علاقے کے انڈیا اور پاکستان ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو آرمینیا کو بطور آزاد ملک تسلیم نہیں کرتا۔ لہذا پاکستانیوں کو سیاحت کے لئے آرمینیا جانے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آرمینیا اور جارجیا کے آپس میں تعلقات کی وجہ سے پاکستانیوں کو جارجیا میں بھی داخلہ کے وقت ایئرپورٹ پر کبھی کبھار تنگ کیا جاتا ہے۔ اور کئی بار ایئرپورٹ سے ہی واپس بھی بھیج دیا جاتا ہے۔ مجھے خود جارجیا کےدارالحکومت تبلیسی ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد دو اور پاکستانیوں کے ساتھ قطار سے ہٹا کر پاسپورٹ لیکر آدھے گھنٹے سے زیادہ انتظار کرایا گیا۔ لیکن پھر داخلے کی اجازت مل گئی۔

باکو”آذربائیجان چلیں “(قسط1)۔۔سید کلیم اللہ شاہ بخاری

باکو میں قیام کے چوتھے روز ٹیکسی ڈرائیور صبح صبح ہی ہوٹل کے سامنے آدھمکا ۔ گبالا سے واپسی پر مصری حسینہ آمنائی ہم سے وعدہ لے چکی تھی کہ کل کا دن جہاں بھی جائیں گے اس کو ساتھ لے جائیں گے کیونکہ غالبا ً اس کو ہم دونوں مردان ِ با وفا سے اپنی عزت کا فوری طور پر کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا تھا۔ ہم نے نظامی  سٹریٹ کے ایک ہوٹل سے اس کو بھی ٹیکسی میں ساتھ لیا۔ باکو کے مضافات میں ایک مسجد میں پہنچے جہاں پر حضرت علی علیہ السلام سے منسوب پتھر پر دو پاؤں کا نقش ہے۔ شیشے کے ایک بکس میں یہ پتھر رکھا ہوا ہے اور مسجد کے صحن میں ہی ایک خوبصورت کمرے میں یہ بکس رکھا ہوا ہے۔ محمد شاہ رنگیلا کے دور کی لکھی گئی تاریخ “مرقع دلی” میں بھی سترویں صدی میں دلی میں ایک مقام پر حضرت علی کے قدم مبارک کے نشان کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن ان کی تاریخی طور پر کوئی سند نہیں ہے۔

اسی طرح باکو سے ساڑھے چار سو کلومیٹر دور ایک قصبے میں حضرت نوح کا مزار ہے اور اصحاب کہف کی غار ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ دونوں مقدس مقامات غلط منسوب ہیں اس لیے ساڑھے چار سو کلومیٹر کا فاصلہ یکطرفہ طے کرنے کی چنداں ضرورت نہیں صرف یو ٹیوب پر دیکھ لیجیے۔

ملحقہ قدیم مسجد میں ہم نےظہر کی نماز ادا کی اور پھر شہر کے دوسرے حصے میں گرینڈ بازار پہنچے۔ یہ لوہے کی  چھت اور عارضی طرح کی دکانوں پر مشتمل ایک بہت بڑا بازار ہے جس کی دو چار گلیوں میں چل کر ہی آدمی تھک جاتا ہے۔ سارا بازار ترکی کے سامان سے بھرا پڑا ہے اور زیادہ تر بڑے برانڈز کی نقل شدہ چیزیں جن میں خواتین کے بیگ، کپڑے، پرفیومز اور روزمرہ کی اشیاء شامل ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بشمول عرب امارات میں برانڈز کی نقل بنانا اور اس پر اصل کمپنی کا نام اور نشان بنا کر بیچنا جرم ہے لیکن تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں ایسا عام ہے جیسے پاکستان میں ایڈی ڈاس وغیرہ کی شرٹس اور جوگرز ریڑھیوں پر بک رہی ہوتی ہیں۔ یہ وہ بازار ہے جس کے بارے میں کہا جاتا  ہے کہ اپنی خواتین کو اس میں سے باہر نکالنا اور چھپڑ میں گئی بھینس کو باہر نکالنا ایک سا جان جوکھوں کا کام ہے۔

لیکن ترکی میں ان کاپی آئٹم کی قدرے بہتر کوالٹی بنائی جاتی ہے اور میں نے استنبول کے سفر میں فٹ پاتھوں پر مڈل کلاس انگریزوں اور انگریزنیوں کو جتھوں کی شکل میں کاپی آیٹم خریدتے دیکھا جو اصل لینے کی سکت نہیں رکھتے۔
بہرحال باکو میں اگر گھر والوں کے لیے کچھ خرید کر لے جانا ہو تو گرینڈ بازار کا چکر لگانا ضروری ہے۔

مقامی ٹیکسی ڈرائیور سے دوستی کا یہ بھی فائدہ ہوا کہ وہ ہمیں چند ایسی جگہوں پر لے گیا جہاں عام طور پر ٹور کمپنیوں والے نہیں لے کر جاتے۔

دن ڈھلے نظامی سٹریٹ اور ساحل کی بتیاں گنتے رہے۔ شام کو باکو کی پہچان شعلے کی شکل کی تین طویل عمارتیں دیکھنے گئے۔ آتش گاہ اور قدرتی گیس دونوں کی نسبت سے ان کی شکل آگ کے شعلے جیسی بنائی گئی ہے اور نام بھی “فلیم ٹاورز” رکھا گیا ہے۔ رات کے وقت تینتیس منزلہ ان عمارتوں کے شیشوں پر مختلف رنگوں کی روشنیاں شعلے کے انداز میں رقص کرتی ہیں جن کا عکس نیچے سمندر میں اور بھی دلفریب لگتا ہے۔

آخری دن باکو کا ساحل دیکھنے گئے۔ آزربائیجان کیسپئین سمندر (بحر قزوين) کے کنارے واقع ہے ۔ یہ چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ایک بند سمندر ہے جو کہ بڑے سمندر یعنی اوشن سے ملاپ نہیں رکھتا۔ روس آزربئجان اور ایران کے درمیان یہ سمندر دنیا کی سب سے بڑی جھیل کی شکل رکھتا ہے لیکن اس کے کھارے پانی کی وجہ سے سمندر شمار کیا جاتا ہے۔ چند دریا اس کے پانی کا ذریعہ ہیں لیکن گزشتہ دو دہائیوں سےعالمی حدت کے باعث اس کا پانی خشک اور سمندر کی سطح کم ہو رہی ہے۔ یہ پہلے ہی عالمی سمندی سطح سے نوّے فٹ نیچے واقع ہے۔

ساحل پر لہروں کا وہ شور بھی نہیں محسوس ہوتا جو بڑے سمندروں کے ساحلوں کا خاصہ ہے۔ بس یوں سمجھیں سارا سال انہی دوتین ملکوں کے بیچ میں پڑا رہتا ہے۔ لیکن آذربائجان کے تیل اور گیس کا بڑا ذخیرہ اسی سمندر کے نیچے ہے اور ساحل سے ہی دور دور تک ہر چند کلومیٹر پر سمندری رگ کے پلیٹ فارم پر تیل نکالتی مشینیں نظر آتی ہیں۔

قطار اندر قطار سیاح اور مقامی گوریاں پیراکی کے برائے نام لباس میں دھوپ سینکتی کتابیں کھولے مطالعہ اور سن باتھ کے مزے لے رہی تھیں۔ ہمارے دیسی جنوبی ایشیائی نوجوان بھی کن اکھیوں سے اور گاہے باقاعدہ گھورتے ہوئے ان کی” کھلی کتابوں” کے مطالعے میں مشغول تھے۔ ان کم بخت گوریوں نے ہر ساحل پر دھوپ میں اپنا وٹامن ڈی ضرور پورا کرنا ہوتا ہے چاہے ان کی وجہ سے ہمارے دیسی جوان اپنے وٹامن A سے لیکر وٹامن E سب حیاتین سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

بابر سرور جیسے کوتوال صفت دوست کے ساتھ ہم بن کھلے غنچوں جیسی حسرتیں دل میں ہی لیے پھرے۔ ذرا سا خیال ادھر ادھر ہوا تو ڈپٹ کر بولتے ” خبردار حج کے مقدس ایام چل رہے ہیں” بندہ یہ کہتے کہتے رہ جاتا کہ حضور حج تو مکہ مکرمہ میں ہو رہا ہے باکو کے لوگوں کو تو عید نماز کا بھی نہیں پتا۔

کسی بھی ساحل پر یہ منظر دیکھ کر دبئی کا ایک واقعہ یاد آ جاتا ہے۔پاکستان کے ایک مشہور  سیاستدان  میرے دوست دبئی تشریف لائے اور چند دن ان کی سیاسی مصروفیات میں ان کے ساتھ رہا۔ ایک دن اپنا ٹھیٹھ دیہاتی سیکریٹری میرے حوالے کیا اور اس کو دبئی کا چکر لگوانے کو کہا۔ برج خلیفہ سے دبئی مرینا گھماتے گھماتے اس کو برج العرب کے ساتھ والے ساحل پر لے گیا۔ وہاں پر باکو کے ساحل والا منظر دیکھ کر اس کا دل مچل گیا۔ریت پر دراز نیم برہنہ گوریوں کے بیچوں بیچ کھڑا ہو کر سرائیکی میں بولا ” اتھاں میڈی فوٹو چھک”۔ مرتا کیا نہ کرتا ایک تصویر بنائی۔ بھاگ کر ایک اور کی ٹانگوں کے پاس تقریبا ً ڈھیر ہوتے ہوئے پھر چیخا۔ ” وت اتھاں وی چھک” ( اور یہاں بھی بناؤ)۔ میں نے “اتھاں” بھی اس کی فوٹو “چھکی”۔ شرمندگی سے میں پسینہ پسینہ ہو چکا۔ مجھے ایسا لگا برج العرب سمیت ساحل کی ہر شے مجھے اس حرکت پر گھور رہی ہے، ہر کلک پر گویا میری ناک کٹ کر خلیج فارس میں جا گرتی۔ اس وقت میری سب سے بڑی خواہش تھی کہ زمین پھٹ پڑے اور یہ پاس والی گوری سمیت زمین میں دفن ہو جائے یا الہ دین کا جن آئے اور فی الحال مجھے مزید شرمندگی سے بچانے کے لیے اٹھا کر کہیں بھی لے جائے۔

ذرا تصور کریں کہ میں دفتری لباس میں اور وہ بھائی صاحب بڑی شلوار قمیض میں درجنوں گوروں اور گوریوں کے بیچ میں ساحل پر ان کی تصویریں لے رہے ہیں۔ بڑی مشکل سے پولیس کا ڈراوا دے  کر باہر نکالا۔

پاکستان سے نئے آنے والے عموما اور دیہاتی خصوصا ً جب تک تصویر کے پس منظر میں ادھ ننگی ، جوان ، بوڑھی زندہ یا مردہ گوری اپنے ہم وطنوں کو نہ دکھائیں ان کی دبئی یاترا میں رنگ نہیں بھرتا۔

ساحل سے ہم “اندرون باکو” قلعے کے ساتھ ایک پاکستانی ریسٹورنٹ پہنچے جو ڈرائیور نے ہمارے لیے دریافت کیا تھا کیونکہ پانچ دن بغیر مصالحے کے کبابی کھانے کھا کھا کر تنگ آ گئے تھے۔ دو نوجوان بھائیوں نے ریسٹورینٹ حال ہی میں کھولا تھا۔ دال چاول اور مٹن کی کئی پلیٹیں کھاتے ہوٙئے ریسٹورنٹ کے مالک اویس سے گپ شپِ میں باکو میں کاروبار کرنے، ٹیکس، دکانیں اور مکانوں کے کرایہ جات کی بابت معلومات لیں۔

حیرانی ہوئی کہ باکو میں دبئی سے آٹھ دس گنا کم کرائے ہیں۔ یہاں تک کہ مکانوں ، فلیٹ اور دکانوں کے کرائے اسلام آباد سے بھی کم ہیں۔ کاروباری لاگت بھی کم ہے لیکن اسی شرح سے کاروباری منافع اور ریٹرن آف انوسٹمنٹ بھی کم ہے۔

کھانا کھاتے کھاتے فون پر بات کرتے ہوئے مصری لڑکی جو دو دن سے “کمپنی” کی خاطر ہمارے ساتھ چپکی ہوئی تھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ہم بے وقوفوں کے جیسے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
پتا چلا کہ دبئی میں ساتھ کام کرنے والے آذربائیجانی لڑکے سے محبت ہو گئی۔ وہ نوکری چھوڑ کر باکو آیا تو اس سے اکیلے ملنے چلی آئی۔ لیکن تین دن سے وہ فون پر ٹرخا رہا تھا اور ملنے نہیں آیا۔ آج رات کو لڑکی کی دبئی کی واپسی تھی اور آخری بار لڑکے کی منت کرتے کرتے مایوس ہو کر ضبط کے بندھن توڑ کر رونے لگی۔

ہم دونوں غالبا ً “ایام حج” یا پھر شدید شادی شدہ ہونے کی وجہ سے اس کو رونے کے لیے اپنا کندھا تو نہ پیش کر سکے لیکن اس کو دلاسہ دینے کی کوشش میں باکو کے تمام مردوں کو زنانہ گالیاں دیتے ہوئے ٹشو پیپر پیش کرتے رہے۔ ظاہر ہے ایک روتی ہوئی زنانی کے آگے مردانہ گالیاں نہیں دی جا سکتیں تھیں۔

وہاں سے حیدر الیوو سنٹر نامی میوزیم گئے جو سمندری لہر کی شکل کی منفرد عمارت کی وجہ سے باکو کی عالمی پہچان ہے۔ اس کے اندر ان کے بابائے قوم حیدر الیوو کے زیر استعمال کاریں اور دیگر چیزیں ہیں۔ آپ باکو جائیں اور اس سفید عمارت کے باہر وسیع سبزہ زار میں لگے “مجھے باکو سے پیار ہے” کے بڑے حروف کے سامنے تصویر نہ بنائیں تو باکو یاترا ادھوری ہے۔ لیکن میوزیم کی ٹکٹ کی قیمت اندر موجود سیاحوں کی دلچسپی کے سامان سے بہت مہنگی محسوس ہوئی۔ اسی دوران باکو سے رخت سفر باندھنے کا وقت ہوا۔ اپنے اپنے ہوٹلوں سے سامان لے کر  ہم باکو ایئرپورٹ پہنچے۔ مصری لڑکی آمنائی کی فلائٹ فلائی دبئی کی تھی اور ہماری آزربائیجان ایئر لائین سے۔ سو ائیرپورٹ کے اندر داخل ہو کر اسے الوداع کیا۔

پھر باکو ائیرپورٹ کی اندرونی آرائش اور خوبصورتی دیکھ دیکھ کر اسلام آباد کے نئے ایئر پورٹ کا سوچ کر کڑھتے رہے۔ جہاز میں دلنشین آزربائیجانی ائیر ہوسٹس مہنگی وہسکی ” تھوڑی سی جو پی” لینے کی بار بار فرمائش کرتی رہی جسے ہم “ایام حج” کی وجہ سےام الخبائث کا درجے میں ڈالتے ہوئے رد کرتے رہے۔

تو ساتھیو اس طرح ہمارا قصہ ہائے آزربائیجان تمام ہوا۔ کئی ملک گھومے لیکن اپنے پیارے پاکستان جیسا متنوع زمین اور موسم جیسا ملک نہیں دیکھاجہاں ایک ہی وقت میں ملک کے ایک طرف 45 درجہ پر سورج آگ برسا رہا ہو اور اسی لمحے دوسرے سرے پر لوگ برف سے کھیل رہے ہوں۔ خان کا مذاق اڑاتے ہو کہ سال میں بارہ موسم گنواتا ہے۔ میں کہتا ہوں بارہ سے بھی زیادہ موسم ہیں جب ایک ہی وقت میں ملک کے مختلف حصوں میں مختلف موسم ہوتا ہے تو بارہ سےکہیں زیادہ گنتی بنتی ہے۔

جن ملکوں کے پاس دکھانے کو کچھ بھی نہِیں لیکن ان کے یہاں سیاح سنبھالے نہیں جارہے جو اپنے ساتھ، رزق، روزگار اور خوشحالی کے وسیلے لاتے ہیں۔ اس لیے آپ کے علاقے میں بھی کوئی ملکی یا غیر ملکی سیاح آئے تو ان کی خدمت کر کے ثواب بھی کمائیں اور اپنا اچھا اثر چھوڑیں۔ چند پیسوں کی خاطر استادیاں نہ آزمائیں۔

ہمارے نوجوان دل والے بزرگ دوست سعید صدیقی، صدیقی ریسٹورنٹ گوادر والے فرماتے ہیں کہ عنقریب گوادر کے ساحل پر باکو اور پیرس کی گوریاں سن باتھ لیتے ہوئے کتابیں پڑھا کریں گی۔وہ غالباً  گوادر میں ریسٹورنٹ بھی اسی امید پر بنا کر بیٹھ گئے لیکن دبئی کو داغ مفارقت دے گئے۔

ہمارے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر وہ کتابیں پڑھتی ہیں تو ہمارے نوجوانوں میں بھی “کھلی کتابوں” کے مطالعے کے ذوق کی کمی نہیں۔

سیّد کلیم اللہ شاہ بخاری
سیّد کلیم اللہ شاہ بخاری
سید کلیم اللہ شاہ بخاری عرصہ تیرہ سال سے دبئی میں مقیم ہیں۔ ٹیلی کام انجینئر ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف دبئی کے جنرل سیکریٹری ہیں۔ دنیا گھومنے اور لکھنے لکھانے کے بھی شوقین ہیں۔ ان کے پہلے کئی مضامین اردو پوائنٹ پر شائع ہو چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”باکو”آذربائیجان چلیں “(دوسری،آخری قسط)۔۔سید کلیم اللہ شاہ بخاری

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *