مکالمہ کانفرنس لاہور اور بندے دے پتر

مکالمہ کانفرنس لاہور اور بندے دے پتر
عارف خٹک
مجھے رانڑے نے کہا لالے طوفان آئے یا زلزلہ آپ نے 17 دسمبر کو کانفرنس میں شرکت کرنی ہے. بیگم نے بہیترا سمجھایا کہ رانڑے سے دور رہو اس میں سب کی بھلائی ہے. میں نے بیگم سے پوچھا کہ رانڑے سے آپکو کوئی پرابلم نہیں ہونی چاہیئے وہ میرا ہم عمر ہے اور بے بال و بے بچہ ہے بیگم نے کہا پریشانی اس بات کی ہے آپ پھٹان ہو اور وہ راجپوت کہیں گل نہ کھلا دینا. ………. اور گل کھل گیا.
کانفرنس میں جو آئے تھے وہ لوگ ہی تھے شکر ہے کوئی بندہ نہ ٹکرایا. عابد بھائی عرف مخبوط الحواس اور مستنصر حسین تارڑ کا نیا ورژن عبداللہ خصوصی طور مجھ سے ملنے آئے اور چلے گئے.
پشاور سے عامر کاکازئی آئے تھے گلے مل کر دو باتیں میں نے اس میں نوٹ کی پہلی کہ وہ نرم ہے اور دوسری کہ وہ شدید نرم ہے.
عزیر سالار کو دیکھا تو مجھے اپنے خوابوں پر آفسوس ہوا کہ موصوف لڑکا نہیں پورا مرد ہے.
وقاص خان کو دیکھا تو مایوس ہوگیا کہ جمعیت میں بھی اتنے معصوم اور شریف بندے پائے جاتے ہیں.
رانا کو گوشت پوست سمیت دیکھ کر یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہ راجپوت ہے جو دادا کے گھوڑوں کا انتقام انگریز سے لے رہا ہے اور لندن رہ رہا ہے. انگریز سے ایسا بدتر انتقام شاید ہی کوئی لے سکیں.
حافظ صفوان بھائی جیسے سنا ویسا دیکھا اور اس سے زیادہ پایا.
ہاشمی صاب کو پہلی نظر میں دیکھ کر دھوکہ کھا گیا کہ بندہ کشمیری ہے بعد میں پتہ چلا پٹھان ہے.
مفتی زاہد صاب کی داڑھی مبارک کے آر پار دیکھا تو موصوف خوبصورتی میں بنوں لختئی سے بھی دو ہاتھ اگے نکلے. جناب کی کاجل بھری آنکھیں بھولوں گا نہیں.
نعیم کاکاخیل کے قہقہے اف چھ گھنٹوں سے اس آس پر رہا کہ چاچا جی کی آواز سنو مگر قہقہہ وہ بھی اتنا سیکسی کہ مجبوراً ہر لڑکی کو خبردار کرنا پڑتا ہے کہ اس سے دور رہیں.
عامر خاکوانی صاب کو دیکھ کر مجھے میری بیگم یاد آگئی. موصوف کی شکل اور قد کاٹھ اور ڈیل ڈول میری بیگم جیسی ہے اور لفظوں کی کاٹ اس سے بھی زیادہ ہے.
سہیل اکبر کروٹانہ نہایت ہی نفیس اور خوبصورت و وجیہہ مرد ہے بس افسوس اس بات کا ہوا کہ کاش اسکی داڑھی نہیں ہوتی تو بنوں سے اچھی افر آسکتی ہے.
غلام فرید میرے لئے کشتہ اور سلاجیت لیکر آئے تھے وہاں موجود ایک خاتون نے مجھ سے وہ دونوں لے لئے.
جواد شیرازی دو گھنٹے تک بس یہی کھوج لگاتے رہے کہ میں واقعی والا عارف خٹک ہوں یا نہیں جب اس کے گلے میں بانہیں ڈال دیں تو شکریہ ادا کرکے چلا گیا کہ میں میں ہی ہوں کوئی دوسرا نہیں.
ژان سارترے جناب کمال رانا صاب جن کا میں حد درجہ احترام کرتا تھا. پتہ چلا یہ میں اپنا ہی احترام کررہا ہوں. موصوف عارف خٹک کا ہی دوسرا ورژن ہے.
ثاقب ملک انتہائی شریف بندے ہیں گلے ملتے ہی شکوہ کیا کہ میرا پیٹ اس کیساتھ کیوں ٹکرایا کچھ اور کیوں نہیں ٹکرایا. جواب دیا بچہ آج مونچھیں سخت ہیں باقی سب کچھ نرم ہے.
حسنین جمال اپنے نام کیطرح حسن و جمال کا مرقع دیکھتے ہی میں اسکے پیروں میں گر پڑا. اور جواباً وہ میرے پیروں میں گر پڑا تو واللہ…………… چس آگئی تھی بس یہی دیکھنا چاہ رہا تھا.
قادر غوری کیساتھ پیٹ ٹکرانے کا بھرپور مقابلہ ہوا بالاخر دونوِں اس بات پر متفق ہوئے کہ چلو اب زچہ و بچہ پر رحم فرماتے ہیں.
فخر حسین بھٹی نے کامیابی کا طریقہ پوچھا اسے بتایا کہ دوسروں کے بیگمات پر ڈورے ڈالنا بند کرو کامیابی آپکے قدم چومے گی.
عظمت کمینے کو جب بتایا کہ رات اس کیلئے پی سی میں بندوبست کیا ہے تو بندہ غائب.
زرقا آپا اور معروف شاعرہ فرح رضوی آپا نے بھائی کہہ کر مجھے گلے لگایا تو واللہ سکون سا آگیا. والدہ حضور انعام رانا نے بیٹا جی اور ہمشیرہ انعام رانا عائشہ آذان نے جب بھیا کہا تو میں مطمئن ہوا کہ اب رانڑے تم مجھ سے بچ نہیں سکتا اب تیرے ساتھ بھائی والا رشتہ قائم ہوگیا اب اکیلے اکیلے بچیاں پٹا کر دیکھا چیر کر رکھ دوں گا.
بس دوستوں کانفرنس کا کیا بتاؤں پوری میلاد کی محفل تھی. ….

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *