باکو”آذربائیجان چلیں “(قسط1)۔۔سید کلیم اللہ شاہ بخاری

آذر بائیجان کاکیشیاممالک میں سے ایک ہے جو یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ہے ۔ کاکیشیا کے باقی ممالک میں آرمینیا، جیورجیا، اور یوکرین  شامل ہیں۔ کاکیشیا در اصل ایشیا اور یورپ کے درمیان پہاڑی سلسلے کا نام ہے۔ گزشتہ سال اگست میں عید کی چھٹیوں پر میں اور قریبی دوست بابر سرور کا پاکستان جانے کی بجائے آزربائیجان جانے کا منصوبہ بنا- ہم نے آذربائیجان ایئر لائن کے ٹکٹ خریدے اور آن لائن ہوٹل کی بکنگ کروا کر نکل پڑے۔ متحدہ عرب امارات کا رہائشی ویزہ رکھنے والوں کو آذربائیجان کا پہلے سے ویزہ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے ویزہ لینے کا تردد نہیں کرنا پڑا۔

آذربائیجان ایئر لائن کا سفر انتہائی آرام دہ اور شاندار رہا۔ جہاز بالکل نیا اور خوبصورت اندرونی آرائش کا شاہکار تھا۔ یہی حال خوبصورت اور دلربا آذربیجانی فضائی میزبانوں کا تھا۔تین گھنٹے کے سفر کے بعد ہم باکو ایئرپورٹ اُترے تو سیاحوں کی لمبی قطاریں تھیں جو دنیا بھر سے   آئے  ہو ئےتھے۔ باکو ائیرپورٹ نسبتاً  چھوٹا لیکن بہت خوبصورت  ہے،جو اسلام آباد ایئرپورٹ سے دس سال پہلے 2008 میں بنا تھا لیکن باکو ایئرپورٹ دیکھ کر اسلام آباد ایئرپورٹ آپ کو کھنڈر محسوس ہو گا۔ غلط ڈیزائن، اندرونی آرائش سے عاری اور سہولیات کے فقدان کے باعث آپ جان سکتے ہیں کہ اسلام آباد ائیرپورٹ کے 80 ارب میں سے کتنے ارب کا کھانچا لگا، اور بہتی گنگا سے گزشتہ دونوں حکومتوں نے ہاتھ دھوئے کیونکہ 2007 سے 2018 تک گیارہ سال اسلام آباد ایئر پورٹ بس بنتا ہی رہا اور گیارہ سال بعد جو شاہکار ظاہر ہوا تو دیکھتے ہی ایسا لگا کسی نے عجلت میں افتتاح کر دیا ہو اور محسوس ہوتا ہےابھی دو سال اور کام ہوتا تو ڈھنگ کا ائیر پورٹ بن سکتا تھا۔

آذربائیجان سترہویں صدی تک ایرانی بادشاہت کا حصہ تھا۔1828 میں ایران روس جنگ کے نتیجے میں روسی امپائر کے زیرِ  قبضہ چلا گیا ۔1918 میں روسی شہنشاہیت کے خاتمے کے ایک سال بعد آذربائیجان نےجدوجہد کے بعد روس سے آزادی کا اعلان کردیا ۔ اور آذربائیجان کو ڈیموکریٹک ریپبلک کا نام دیا گیا ۔ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا اسلامی ملک تھا جس نے ڈیموکریٹک ہونے کا اعلان کیا ۔ لیکن اسی دوران روسی بادشاہت کا خاتمہ کرنے والی کیمونسٹ پارٹی نے آس پاس کی ریاستوں پر حملہ کردیا اور گھمسان کی جنگوں کے بعد آذربائیجان سمیت جارجیا آرمینیا اور یوکرین پر بھی قبضہ کرلیا ۔ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد آذربائیجان نے دوبارہ ایک جد وجود کے بعد 18 اکتوبر 1991 میں آزادی حاصل کی۔ اس طرح آذربائیجان میں یہ دونوں دن آزادی کی یادگار کے طور پر منائے جاتے ہیں ۔

باکو ایئرپورٹ پر طویل قطار میں لگ کر 30منت  کا ویزہ لیا ۔ منت یہاں کی کرنسی کا نام ہے ۔ مًنت میں میم پر زبر لگانی ہے اگر آپ میم کے نیچے زیر لگا کے تیس بار مِنت کرتے رہیں تو بھی ویزہ نہیں ملے گا ۔ امیگریشن کی خوبصورت خاتون آفیسر سے پاسپورٹ پر انٹری کی مہر لگاتے وقت میں نے شکایت کردی کہ مسافروں کی تعداد کے حساب سے آپ کے کاونٹر کم ہیں جس کی وجہ سے 3 گھنٹے انتظار کرنا پڑا ۔ قاتل ادا نےخونخوار نظروں سے مجھے دیکھا اور نخوت سے فرمایا ہمیں پتہ ہے کہ کس وقت کیا کرنا ہے آپ کے مشورے کا شکریہ ۔ پاسپورٹ اس کے ہاتھ سے اچکتے ہوئے دل ہی دل میں اپنی ہوشیاری جس کو پنجابی میں “چولی” کہنا زیادہ مناسب ہوگا خود کو ملامت کی اور شکر ادا کیا کہ اس نے ویزا مسترد کرکے یہیں سے واپسی کا حکم  نامہ نہیں تھما دیا ۔ ایئرپورٹ کے باہر شدید ٹھنڈ کے ساتھ ایک نوسرباز قسم کے ٹیکسی ڈرائیورنے استقبال کیا ۔ ایئرپورٹ سے نکلتے ہی جس پریشانی کا سامنا کرنا پڑا وہ یہ تھی کہ کسی کو انگریزی نہیں آتی ۔

کئی ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ ناکام مغزماری کرنے کے بعد قرعہ فال نوسرباز کے نام نکلا جس نے رستے میں اپنے ایک جاننے والے موبائل شاپ سے ہمیں 35 منّت کی موبائل سم لے کر دی جو بعد میں پتا چلا صرف پانچ منّت کی تھی ۔ بہرحال سِم لے کر گھر والوں کو اپنے خیریت سے پہنچنے  کی اطلاع دی- ہوٹل پہنچ کر مایوسی ہوئی کہ جس طرح کے کمرے تصویروں میں نظر آئے ویسے نہ تھے اور نہ ہی سہولیات ہوٹل کے سٹار سے میل کھا رہی تھیں۔ دو دن کی بکنگ تھی لہذہ دو دن کسی نہ کسی طرح یہیں کاٹنے تھے۔ کچھ دیر آرام کر کے مغرب کے بعد تازہ دم ہوئے اور گوگل پر راستہ دیکھتے پیدل ہی نظامی سٹریٹ کو نکل پڑے۔ بابر سرور کے ساتھ سفر میں ٹانگوں میں اضافی توانائی سٹور کر کے نکلنا چاہے تھا کیونکہ موصوف باڈی بلڈر ہیں اور نوجوانی میں مسٹر راولپنڈی بھی رہ چکے ہیں۔ اس لیے دو چار کلومیٹر جانا ہو تو پیدل چلوائیں گے جبکہ اپنی عادت ہے کہ دبئی میں گھر کے سامنے والے لولو سپر  سٹور تک بھی کار پرجانا ہوتا ہے۔ ابھی چند گلیاں چلے تھے کہ ایک تاریک اور ویران سی گلی میں کسی نے دھیرے سے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ بابر سرور مجھ سے دو قدم آگے چل رہے تھے۔ میں نے رک کے دیکھا تو سولہ سترہ سال کی پتلی سی لمبی گوری لڑکی میرا ہاتھ پکڑے کندھے سے   کندھا ملائے کھڑی تھی۔ میں ہکا بکا رہ گیا۔ اجنبی ملک کا اجنبی شہر اور نزول کیے ہوۓ ابھی ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا، لمحوں میں دل میں گل و گلزار کھلنےکے ساتھ ساتھ پردیس میں لٹنے کا بھی ڈر لگا۔ جلدی سے عفیفہ کے پیر دیکھے کہ کہیں کوئی پچهل پیری  تو نہیں۔ لڑکی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بولی ” کچھ پیسے دے دو”۔ بابر صاحب نے آواز سن کے پیچھے مڑ کے دیکھا تو محترمہ کو میرا ہاتھ تھامے پایا، یا شاید  ملگجی انددھیرے میں مجھے اس کا ہاتھ تھامے دیکھا۔ بڑی مشکل سے اس کو دس درہم کا ایک نوٹ دے کر ہاتھ چھڑوایا اور ساتھ میں اس کو سلیس انگریزی میں دس درہم کو لوکل کرنسی میں تبدیل کرنے کے اسرار و رموز سمجھائے، جو کہ ظاہر ہے اس کے پلے نہیں پڑے، اور دھیرے سے ہاتھ چھڑوا کر رفتار بڑھا دی۔

نظامی سٹریٹ باکو شہر کا سب سے با رونق اور خوبصورت علاقہ ہے۔ ویسے سارا شہر ہی خوبصورت ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ سابق سوویت یونین کی تاریخ گلیوں میں بھری پڑی ہے۔ روسی طرز کی خوبصورت عمارتیں قطار اندر قطار سڑکوں کے دونوں اطراف موجود ہیں-

نظامی سٹریٹ میں میرے حیدر آباد سندھ کے ایک پیارے دوست ڈاکٹر محبوب الحق سے ملے جو ڈینٹل کاسمیٹک سرجن ہیں اور دو دن پہلے دبئی میں میرے پاس تھے۔ باکو گھومنے اپنے کزن کے ساتھ آئے اور دوسری صبح ہی پاکستان کی فلائٹ سے واپس جانا تھا-

ہم چاروں نے ساتھ کھانا کھایا اور نظامی  سٹریٹ میں تصاویر لینے اور گپ شپ کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا ۔

نظامی سٹریٹ ساری رات سیاحوں سے بھری رہتی ہے۔ جہاں سیاحوں کی تعداد کے قریبا ً برابر ہی مقامی حسینائیں ہر ایک مرد کو ٹکٹکی باندھے دیکھتے ہوئے اشاروں کنایوں میں مصروف تھیں – اور منچلے جگہ جگہ ان کے ساتھ رازونیاز کی قیمت طے کرنے میں مصروف تھے ۔ آذربائیجان کے لوگ دیکھنے میں دوسری آزاد شدہ منگول نسل کی ریاستوں جیسے ازبکستان کے لوگوں سے زیادہ خوبصورت ہیں ۔ یہ ترکی اور فارسی کا خوبصورت امتزاج ہیں۔

دوسرے دن صبح ہم ایک ٹورکمپنی کی وین پر کچھ اور سیاحوں کے ساتھ باکو شہر سے باہر کچھ تاریخی مقامات دیکھنے گئے – آذربائیجان کا اکثر علاقہ بنجر زمین پر مشتمل ہے جس میں پتھر کی آمیزش اسے کسی بھی فصل کے لیے ناقابل کاشت بنا دیتی ہے۔ باکو شہر سے باہر تاحد نگاہ بنجر اور پتھریلی میدانی زمین ہی نظر آتی ہے ۔ شہر سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر ہم تاریخی غاروں پر پہنچے جہاں چالیس ہزار سال پہلے لوگوں نے غاروں کی دیواروں پر اپنی اس وقت کی زبان میں کچھ نقش و نگار بنائے تھے ۔ یہاں سے تھوڑے سفر کے بعد کیچڑ کے آتش فشاں یعنی مڈ والکانو دیکھنے کے لیے گئے۔ مڈ والکانو حیران کن ہیں لیکن بعد میں پتا چلا ہمارے بلوچستان میں ان سے بھی بڑے موجود ہیں۔ ہر مقام پر سیاحوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ واپسی پر 700 سال پرانی مسجد بی بی ہیبت خان رُکے۔ روس نے اپنے قبضے کے بعد تمام مساجد گرا دی تھیں۔جن میں سے کچھ تاریخی مساجد کو آزادی کے بعد از سر نو تعمیر کیا گیا ۔ مسجد کے اندر بی بی ہیبت کا مزار بھی ہے جو سادات گھرانے کی اللہ کی ولیہ تھیں۔ زائرین کے علاوہ کچھ مقامی خواتین بھی مزار کی زیارت کو آئی ہوئی تھی ۔ یہ عالی شان مسجد ہے جس کو بالکل اسی انداز سے دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے ۔ یہاں سے ہم اندرون شہر دن کا کھانا کھانے کے لیے ایک بہت خوبصورت زیر زمین ریسٹورنٹ میں رکے۔

شام سمندر کے کنارے انتہائی خوبصورت اور پُر سکون کارنش پر تصویریں لیتے اور باکو کی خوبصورتی کا نظارہ کرتے ہوئے گزاری ۔

دوسرا دن باکو کا تاریخی قلعہ اور میدان ٹاور دیکھنے گئے ۔ ٹاور کے اوپر چڑھنے کے لئے ٹکٹ ہے جہاں سے باکو شہر کا حسن دیکھنے میں اور بھی دوبالا ہو جاتا ہے ۔

تاریخی قلعے کے اندر قدیم گلیوں میں پرانا بازار اور فن تعمیر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ قلعہ کے باہر ایک طویل فصیل نےپرانے شہر کو گھیر رکھا ہے ۔ بڑی تعداد میں سیاح ہر طرف نظر آتے ہیں ۔
پرانے شہر میں گھومتے ہوئے ایک چھوٹے سے بورڈ پر نظر رک گئی۔ مقامی رسم الخط میں لکھا تھا ” ملتانی کارواں سرائے” ۔ اتنی دور پردیس میں اپنے ملتان کا نام پڑھ کر جذباتی  ہو کر آنکھوں سے چوما۔ پتا چلا دور قدیم میں تجارت اور آتش گاہ کی زیارت کرنے کی غرض سے آنے والے ملتان کے لوگوں کے ٹھہرنے کی سرائے تھی جس کی عمارت اب بھی محفوظ ہے۔

90 فیصد سے زیادہ مسلمان آبادی والے اس ملک میں لوگوں کا اسلام سے صرف نام کا تعلق ہے ۔تقریباً سو سالہ روسی اقتدار نے ان کے اندر سے اسلام کو بالکل “ڈلیٹ” کر دیا ہے ۔ چھ دن کے قیام میں اذان کی آواز نہیں سنی ۔ ان لوگوں کی اکثریت کو بنیادی اسلامی عبادات کا بھی علم نہیں ہے ۔ ہمارے قیام کے چوتھے دن عیدالاضحیٰ  تھی ۔ اور عید سے ایک دن پہلے ہم نے کئی مقامی لوگوں سے پوچھا کہ عید کی  نماز کہاں پڑھ سکتے ہیں تو ان لوگوں کو عید یا عید  کی نماز کا علم نہیں تھا ۔ قدیم ایران کا حصہ ہونے کی وجہ سے نسلی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ یہ شعیہ ہیں لیکن شیعہ ہونے کی بنیاد پر ان کو بنیادی شیعہ عقائد کا بھی علم نہیں ہے ۔ بعد میں دبئی میں میرے عربی دوست نے بتایا کہ وہ رمضان میں باکو گیا تھا اور وہاں پر ایک دکاندار نے کچھ اس کو چکھنے کے لئے پیش کیا ۔ جب میرے دوست نے اس کو بتایا کہ وہ نہیں چکھ سکتا کیونکہ وہ روزے سے ہے تو دکاندار بہت حیران ہوا کیونکہ اس کو روزے کا بھی علم نہیں تھا ۔ ان کو صرف اتنا پتہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں ۔

گلی محلے کی کریانہ سٹور ٹائپ مقامی دکانوں میں آدھی دکان خوردونوش کے سامان اور آدھی دکان صرف “نوش” کرنے کے سامان سے بھری تھیں۔ یہی منظر میں دو سال پہلےاستنبول میں بھی دیکھ چکا تھا۔

سوشلزم اور سوشلسٹ ریاستیں مذہب سے کتنی نفرت کرتے ہیں اس کا اندازہ بھی ہوا۔ مذہب سے منسلک کسی بھی چیز کو اگلی نسلوں تک پہنچنے  سے پہلے ہی الحاد کے سمندر میں غرق کر دیا گیا۔ ایک صدی میں اسلام کو ان کے ذہنوں سے ختم کرنے کے لیے جبر کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام اور پتا نہیں کس کس میدان میں اتنی محنت کی گئی۔

آزری زبان ترکی اور فارسی کے الفاظ سے بھری پڑی ہے جس کا اندازہ وہاں مختلف عمارتوں اور کھانوں وغیرہ کے ناموں سے ہوا لیکن رسم الخط تبدیل کر دیا گیا۔ جس سے یہ زبان دونوں بنیادی زبانوں کی اصل سے کٹ گئی۔

دوپہر کے کھانے کے بعد شہر کے دوسرے سِرے پر واقع زرتشت مذہب کی قدیم عبادت گاہ ” آتش گاہ” پہنچے۔ یہاں صدیوں سے قدرتی آگ جلا کرتی تھی جس کی پوجا کی جاتی تھی ۔ 1969 میں قدرتی آگ ٹھنڈی پڑ گئی اور اب اس کو پائپ کے  ذریعے گیس فراہم کر کے سیاحوں کے لیے جلائے رکھا جاتا ہے۔ زرتشت لوگ عرصہ دراز سے غالبا ًروسی قبضے کے بعد ہندوستان ہجرت کر گئے لیکن گاہے اس عبادت گاہ کی زیارت کرنے آتے ہیں۔ لیکن یہ آگ صدیوں تک خود بخود کیسے جلتی رہی اس کا عقدہ کچھ دور ایک “جلتے ہوئے پہاڑ” پر جا کر کھلا ۔ زیرزمین گیس کے اتنے ذخائر ہیں اور اس گیس کا اتنا دباؤ ہے کہ یہ دوچھوٹی پہاڑیوں کے بیچ میں نکل کر جل رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کے سیکڑوں لیٹر پٹرول چھڑک کر کسی نے تازہ آگ لگائی ہو۔اور یہ آگ بغیر کسی وقفے کے جلتی چلی جارہی ہے۔ جلتا ہوا پہاڑ بھی سیاحوں کی دلچسپی کا بڑا مرکز ہے۔ قدیم زمانے میں ایسی ہی کسی آگ کے گرد آتش گاہ بنا کر اس کی پوجا شروع کردی گئی۔

مرکزی شہر سےآتش گاہ کی طرف جاتے ہوئےعجیب منظر دیکھا کہ شہر کے مضافات کی گلیوں، سڑکوں اور گھروں کے بیچ زمین سے تیل نکالنے والی مشینیں جنھیں رگ کہا جاتا ہے دھڑا دھڑ تیل نکال رہی ہیں۔ یہی حال باکو کے سامنے موجود سمندر کا ہے کہ ہر تھوڑے فاصلے پر تیل نکالنے کی سمندری مشینیں کام کر رہی ہیں۔ شہر کے مضافات کی ہوا میں تیل کی بو رچی ہوئی ہے جیسے آپ بندکار کے اندر بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ آذربائیجان تیل اور گیس پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔۔ لیکن ملک میں عام آبادی غریب ہے ۔مقامی بھکاری بھی آپ کو جابجا نظر آتے ہیں۔ اکثرخواتین اور مرد چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور لوگوں کی آمدنی بہت کم ہے۔ یہ تجسس ایک مقامی ٹیکسی ڈرائیور نے ختم کیا جو انگلش بولنے کے معاملے اندھوں میں کانا راجہ تھا۔

تیسرے دن ہم لوکل سیاحتی کمپنی کی بس پر گبالہ روانہ ہوئے جو باکو سے چار گھنٹے کی مسافت پر روس کی سرحد کے پاس ایک سرسبز پہاڑی مقام ہے۔ گبالہ سے پہلے سر سبز جنگلات شروع ہوگئے اور ایک گھنے جنگل کے اندر بنا ہوئے ریسٹورنٹ کا کھانا کھایا۔ ہلکی بارش ، ٹھنڈ ، گہرے سبز رنگ کے گھنے جنگل میں کھانا کھانے کا لطف ساری زندگی کے لیے ایک یادگار تجربہ تھا۔ کھانے کے مینیو میں سیخ کباب کا مقامی نام پڑھ کر ہم ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ ہمارے ساتھ سفر کرنے والی ایک مصری لڑکی جو دبئی سے اکیلی آذربائیجان آئی تھی گپ شپ کرتے ہوئےکھانے میں شریک ہوگئی۔ اس نے بہیترا ہمارے ہنسنے کی وجہ پوچھی لیکن سنسرشپ کی وجہ سے ہم کباب کے مقامی نام کا پنجابی مطلب اسے نہ بتا سکے۔ کچھ ماہ بعد جب میں اکیلا آذربائیجان کے ہمسایہ ملک جارجیا گیا تو وہاں بھی سیخ کباب کاوہی والا نام دیکھ کر میں نے مینیو کارڈ کی تصویر بابر کو بھیجی اور دونوں بہت ہنسے۔

گبالہ مزید ٹھنڈا اور سرسبز علاقہ ہے۔ وہاں پہاڑوں میں کیبل کار کے سفر سے لطف اندوز ہوئے لیکن باکو جیسا درجہ حرارت سمجھ کر گرم کپڑے ساتھ نہ لانے پر بہت پچھتائے۔ رات گئے جب باکو واپس پہنچےتو ٹھنڈ کی وجہ سے مجھے بخار ہو گیا۔

ہوٹل تبدیل کرکے نظامیہ سٹریٹ میں 4 ستارہ خوبصورت ہوٹل میں کمرہ لے لیا۔ اگلے دن ہم نے ایک مقامی ٹیکسی بک کی جس کی بنیادی وجہ باتونی ٹیکسی ڈرائیور جاوید سارام کی گلابی انگریزی تھی جو بہرحال سمجھ آ رہی تھی۔ ورنہ دکانداروں سے لے کر ٹیکسی ڈرائیور اور پولیس کسی کو انگریزی نہیں آتی۔ اس سے غربت کی وجہ پوچھی تو بتایا کہ ایک چھوٹا سا طبقہ جو حکومت میں ہے وہ وسائل پر قابض ہے۔ ملک میں آزادئ اظہار پر سخت پابندی ہے اور حکومت کے خلاف بات کرنے والے یا احتجاج کرنے والے غائب بھی کر دیے جاتے ہیں۔ وسائل پر قابض طبقہ تیل اور گیس کی دولت کے ثمرات محروم طبقےکی طرف نہیں آنے دیتا۔سرکاری اداروں میں بے انتہا کرپشن ہے اور کوئی بھی کام رشوت دیے بغیر کروانا بہت مشکل ہے ۔
جاری ہے

سیّد کلیم اللہ شاہ بخاری
سیّد کلیم اللہ شاہ بخاری
سید کلیم اللہ شاہ بخاری عرصہ تیرہ سال سے دبئی میں مقیم ہیں۔ ٹیلی کام انجینئر ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف دبئی کے جنرل سیکریٹری ہیں۔ دنیا گھومنے اور لکھنے لکھانے کے بھی شوقین ہیں۔ ان کے پہلے کئی مضامین اردو پوائنٹ پر شائع ہو چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *