دو چشمی ہا (ھ) کا استعمال۔۔۔ حافظ صفوان محمد

 اردو کے قدیم تحریری نظام میں عربی کا چلن زیادہ ہونے کی وجہ سے “ہ” اور “ھ” میں فرق نہیں کیا جاتا تھا اس لیے بھاری/بہاری، بھائی/بہائی، شھر/شہر، گھر/گہر، دھن/دہن، دھلی/دہلی، گھن/گہن، وغیرہ وغیرہ میں کوئی فرق نہیں رکھا جاتا تھا، اور یہ پڑھنے والے کی صوابدید اور فہم پر چھوڑ دیا جاتا تھا کہ مثلًا گھر اور گہر میں سے مقصودِ مصنف کیا ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز میں اس موضوع پر سنجیدہ اور مستقل تحریریں آنا شروع ہوئیں اور رفتہ رفتہ “ہ” اور “ھ” میں یوں فرق کیا گیا کہ مختلف حروفِ تہجی کی بھاری آوازوں کے لیے “ھ” کو مخصوص کر دیا گیا. ان آوازوں کو ہکار یا ہائیہ آوازیں کہتے ہیں۔ چنانچہ ب+ہ کو بھ، ت+ہ کو تھ، ٹ+ہ کو ٹھ، وغیرہ لکھا جانا دھیرے دھیرے قبولِ عام پانا شروع ہوگیا۔ چنانچہ اب ە اور ھ دو الگ الگ حروف کے طور پر لیے جاتے ہیں.

“ھ” کے بارے میں پانچ اصولی باتیں ہیں.

1. پہلی بات یہ ہے کہ جمل میں ھ کا عدد 5 شمار ہوتا ہے یعنی ہائے ہوز ە کے برابر. چنانچہ بھ کی قدر 2 جمع 5 برابر 7 ہے، دھ کی قدر 4 جمع 5 برابر 9 ہے. وغیرہ. اس لیے بھ، پھ، تھ، ٹھ، وغیرہ حروف تہجی نہیں ہیں بلکہ مخلوط حروف ہیں جو ب، پ، ت، ٹ، وغیرہ کی بھاری آوازوں کی تحریری علامت کے طور پر مخصوص کر دیے گئے ہیں. ھ پر حرکت نہیں ہوتی بلکہ یہ اپنے سے پچھلے حرفِ تہجی کی حرکت کے تابع ہوتی ہے. یاد رہے کہ یہ بھاری آوازیں صرف اردو میں پائی جاتی ہیں اور اردو کا امتیاز ہیں.

2. ھ کے بارے میں دوسری بات یہ ہے کہ یہ کسی لفظ کے شروع میں نہیں آ سکتی. چنانچہ ھوگا، ھونا، ھے، ھم، ھمارا، ھمدرد، ھندو، ھمیشہ، ھوا، ھمسایہ، ھجے، ھدایات، ھدایت، ھادی، ھبوط، ھوس، ھونٹ، ھٹنا، ھٹانا، ھوش، بے ھوشی، ھاضمہ، ھجر، ھاجرہ، ھلنا، ھولناک، ھیبت، ھونق، ھبڑ دبڑ، ھچر مچر، ھوائی جہاز، ھوائی چپل، بادشاھی مسجد، ھونڈا، ھنڈائی، وغیرہ سب نادرست ہیں. اسی طرح اردو-فارسی مرکبات/لفظوں میں بھی ھ استعمال نہیں ہوتی چنانچہ باھم، تاھم، فراھم، وغیرہ، نادرست ہیں۔ ان سب لفظوں میں ە آئے گی.

3. ھ کے بارے میں تیسری بات یہ ہے کہ جن لفظوں میں یہ بطورِ حرفِ اصلی آتی ہے وہاں اسے بہرحال لکھا جائے گا خواہ بولنے میں یہ بھاری آواز کے طور پر بولا یا سنا نہ بھی جاتا ہو. چنانچہ چڑھنا (چڑھ)، پڑھنا (پڑھ)، لڑھکنا (لڑھک)، مڑھنا (مڑھ)، بھارت، بوڑھا/ بوڑھی/ بڑھاپا، وغیرہ سب اسی طرح لکھے جائیں گے.

4. کچھ لفظوں میں املا کے اصولیوں نے ھ کو اس لیے شامل کیا ہے کہ ان میں ہ کی آواز آتی ہے لیکن ە ان کے اندر حرفِ اصلی نہیں ہے. چنانچہ کمھار، کلھاڑا، چولھا، کولھو، دولھا، دولھن، وغیرہ، اسی طرح لکھے جائیں گے. اور اسی طرح گیارھواں، بارھواں، تیرھواں، چودھواں، پندرھواں، سولھواں، سترھواں، اٹھارواں کی یہی صورتیں درست ہیں. لیکن جہاں ە حرفِ اصلی ہے وہاں یہ برقرار رہے گی جیسے دوہرانا، شوہر، لوہار، چاہنا، چاہت، چاہیے، سراہنا، رہنا، رہن سہن، واہیات، جمہوریت، سہولت، وغیرہ. البتہ نباہنا/نبھانا دونوں چلن دار ہیں لہذا دونوں بیک وقت درست ہیں.

جن مرکب لفظوں میں “ہیں” یا “ہوں” یا “ہارے” یا “ہاری” وغیرہ کی واضح آواز آتی ہے لیکن یہ الفاظ اصلی نہیں ہیں ان میں ھ لگتی ہے جیسے انھوں، انھیں، تمھیں، جنھوں، جنھیں، تمھارا، تمھارے، تمھاری، وغیرہ. اس اصول پر کبھی (کب+ہی)، سبھی (سب+ہی)، ابھی (اب+ہی)، جبھی (جب+ہی) وغیرہ کو ە سے لکھنا چاہیے یعنی کبہی، سبہی، ابہی، جبہی، وغیرہ. لیکن انھیں آنکھوں سے نامانوس ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں لکھا جاتا بلکہ کبھی، سبھی، ابھی، جبھی ہی درست ہیں. سہولت کے لیے آپ انھیں مستثنیات کہہ لیجیے. تاہم انہی، جونہی، یونہی، یہی اور وہی کو اسی طرح لکھا جاتا ہے کیونکہ یہ اصل میں ان+ہی، جوں+ہی، یوں+ہی، یہ+ہی اور وہ+ہی ہیں. اسی طرح یہاں/یہیں، کہاں/کہیں اور وہاں/وہیں بھی ھ کے بجائے ە سے لکھے جائیں گے. ہم+ہی کو “ہمہی” یا “ہمی” لکھنا رواج میں نہیں ہے البتہ اس کی ایک صورت “ہمیں” کچھ استاد شعرا نے باندھی ہے، چنانچہ اسے صرف شعری ضرورت کے لیے برتا جانا درست ہے. “ہمہ ہمی” ایک مستقل سرلفظ ہے.

5. عربی میں ە اور ھ میں کوئی فرق نہیں ہے اور ھ محض ایک مختلف font کے طور پر استعمال ہوتی ہے، اس لیے اللھم، اشھد ان لا الہ الا اللہ، علیھم، وغیرہ وغیرہ سب درست ہیں کیونکہ ان سے اردو والوں کی آنکھیں مانوس ہیں۔ تاہم اردو میں عربی کے جو لفظ ہ کے ساتھ دیکھے لکھے جانے مانوس ہیں انھیں اسی طرح لکھا جائے گا جیسے مشہور، جمہور، مہجور، اہم، اہمیت، مبہوت، نہایت، جاہل، وغیرہم، کلہم، وہم، اوہام، موہوم، یہودی، وغیرہ وغیرہ کا یہی املا درست ہے۔

(حافظ صفوان محمد ٹیلی کام سے وابستہ ہیں۔ اردو زبان و کلام ان کا پسندیدہ موضوع ہے اور آپ “مقتدرہ” کے ساتھ وابستہ ہیں۔ حافظ صفوان محمد، تبلیغی جماعت کے ” نیکسٹ جنریشن مبلغ” ہیں۔)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”دو چشمی ہا (ھ) کا استعمال۔۔۔ حافظ صفوان محمد

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *