مسئلہ جبرو قدر ۔ سید ابوالاعلی  مودودی۔۔۔عبدالغنی محمدی

مسئلہ جبروقدر پر مولانا مودودی کی کتاب پڑھنے سےبندے کے اپنے افعال میں مجبور محض اور بالکل آزاد  ہونے کے حوالے سے مختلف گروہوں کے مذہب اور استدلال کا علم ہوتاہے، وہاں آدمی یہ دیکھ کر حیران رہ جاتاہے کہ قرآن کو اس نظر سے دیکھنے والوں نے پورے قرآن کو  جبرو قدر کی کتاب بنادیا ۔بہت سی آیات سے اپنے مذہب کے حق میں استدلال کیا گیا  اور کتنی آیات ہیں جن  کا جواب دیا گیا اور ان میں تاویلی منہج کو اپنایا گیا  ۔ ایسے لگنے لگتا ہے کہ قرآن تو بس جبرو قدر کے مسئلہ پر مشتمل کتاب ہے ۔ قرآنیات کے طالب علم کے لئے اس کتاب کا مطالعہ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ گروہی کشمکش میں قرآن سے مختلف گروہوں نے کس طرح کے استدلال کیے اور ان کے استدلا ل کی قوت و ضعف کو بھی دیکھنے کا موقع ملتاہے ۔ جبر و قدر کے دونو ں مذاہب نے قرآن سے استدلال کرکے آیات میں جو تعارض و تناقض ثابت کردیا ہے وہ بھی حل کا متقاضی ہے۔ اس کی ایک کوشش مولانا مودودی بھی کرتے ہیں ،  اس کوشش میں یہ سب کو جمع کردیتے ہیں ۔

سائنسدانوں اور فلاسفہ   میں جبر و قدر کے حوالے سے کیا نظریات پائے جاتے ہیں  اور پھر اس کے بعد مسلم فلاسفہ و متکلمین کیا رحجانات رکھتے ہیں ان سب کو بیان کرتے ہیں ، بعض جگہ حاشیہ میں مولانا نے عیسائی متکلمین  کابھی ذکر کیا ہے کہ وہ جبر و قدر کی کڑیوں کو کس طرح ملاتے اور حل کرتے ہیں ۔ مولانا مودودی کی نظر میں در حقیقت دو ہی گروہ ہیں  جبریہ اور قدریہ ۔ درمیان والے جس قدر بھی گروہ ہیں ان کو  بعض سوالوں کے جواب میں کسی ایک جہت کو اپنانا ہی پڑتا ہے ۔ امام ابولحسن اشعری نےبندے کا اختیار ثابت کرنے کے لئے خلق کے ساتھ کسب کو تسلیم کیا  ، کہ چیزوں کی پیدائش تو اللہ پاک کی طرف سے ہوتی ہے لیکن اس کو کرتا بند ہ ہی ہے لیکن یہ  قدرت محض ایک آلہ ہے ارادہ الہی کے فعل میں آنے کا ، درحقیقت خود اس قدرت میں کوئی تاثیر نہیں جو فعل کے وجود میں آنے کی علت ہو اور یہ آلہ کبھی خلق کے مخالف نہیں ہوسکتا ۔ اشاعرہ اور ان کے ہم خیال حضرات خواہ کسب کے قائل ہو ں یا نہ ہوں اور قدرت حادثہ کے لئے کسی قسم کی تاثیر مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں ۔ ان کے استدلال کا منطقی نتیجہ خالص جبر ہی ہے ۔ کیونکہ بندہ کے کسب میں خلق کے خلاف کرنے کی قدرت ہوگی یا نہیں ؟ جبر کے مقدمات کو تسلیم کرکے بیچ کی راہ نہیں اختیار کی جاسکتی ۔ مسیحی متکلمین میں سے سینٹ آگسٹائن ، سکوٹس   اور دیگر نے بھی جبریت خالصہ سے بچنے کی کوشش کی ہے  لیکن  ا ن کی کوششیں بھی اس معاملے میں رائیگاں ہیں ۔ ڈانس اسکوٹس نے صرف معتزلہ کی طرح قدریت کا مذہب اختیار کیا ہے ۔

مولانا مودودی کی اپروچ اہل الحدیث والی ہے ، جیسا کہ احادیث میں زیادہ غور و خوض اور تقدیر کے معاملا ت میں پڑنے سے منع کیا گیا ۔ مولانا اس سلسلے میں متعدد احادیث نقل کرتے ہیں  جن میں تقدیر اور ایسے معاملات میں علم کو خدا کے حوالےکرنے کا حکم دیاگیا یا ان میں مزید الجھنے سے سختی سے منع کردیاگیا ۔ مولانا اس مسئلہ میں اجمال میں رہنے کے قائل ہیں تفصیل میں نہ جایاجائے ۔  مولانا انسانی عقل کی محدود بساط کو دلیل بناتے ہیں  ۔ محدود قوائے ذہنی سے غیر محدود چیزوں کی وسعتوں کو نہیں پایا  جاسکتا ۔ مولانا مودودی اس وسعت اور انسانی ذہن کی تنگ دامنی کو بھی نصوص سے استدلال کرتے ہیں ۔

مسئلہ جبرو قدر کے جس قدر اشارات قرآن  کریم میں وار دہوئے  ہیں وہ انسان میں قناعت ، توکل ، صبر و استقامت اور دنیوی طاقتوں سے بے خوفی پیدا کرنے کے لئے ہے ۔ غرض ان کا دینی مقصد ہے ۔  حدیث میں آتا ہے ایک عورت اپنی بہن کے لئے طلاق کا سوال نہ کرےکہ اس کے حصے کا فائدہ اٹھا سکے ۔ اس کے لئے تو وہی ہے جو ا س کے لئے مقدر کردیا گیا ہے ۔ اب اس میں تقدیر کا تذکرہ ایک خاص مقصد کے لئے ہے  اور وہ مقصد اخلاقی ہے ۔ عزل کے مسئلہ پر اللہ کے نبی نے فرمایا جس کا پیدا ہونا طے ہے وہ تو پیدا ہوگا ۔ غرض ایسی آیات و احادیث سے اخلاقی و عملی فوائد مطلوب تھے ۔

ایک چیز کی مختلف علتیں ہوسکتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی طرف منسوب کیاجاسکتاہے لیکن اس کی تفصیلات ہمارے علم میں نہیں کہ کس علت کا کس قدر حصہ ہے ۔ خواہش اور اقدام فعل کے درمیان کس قدر قوتیں کام کرتی ہیں ظاہری و باطنی طور پر میں ان کو نہیں جانتا اور نہ جان سکتاہوں ۔ میرا وجدان کہتاہے کہ میرے ارادے و اختیار کا بھی کہیں دخل ہوتا ہے اس لئے اس کی نفی نہیں کی جاسکتی ۔

ہر انسانی فعل کو خدا ، انسان ،شیطان ، یا خدا اور انسان دویا تین علتوں کی طرف منسوب ہے لیکن ان کی تاثیر کی مقدار ہم نہیں جانتے ۔ ہر انسان میں یہ تاثیر جدا ہے  کیونکہ انسانی طبیعتیں ملکوتی و شیطانی اعمال کی طرف راغب ہونے کے اعتبار سے مختلف قسم کی ہیں ۔ قرآن کریم کی آیات میں مختلف طرف جو نسبت کی گئی ہے مولانا مودودی سب کو جمع کردیتے ہیں ۔

مولانا مودودی نے یہ مقدمہ قائم کیا تھا کہ جبر و اختیار کے بیچ کا کوئی مذہب نہیں اصل میں یہ دو ہی ہیں لیکن خود ان کے بیچ کی راہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جبر و قدر میں تاویلی راہ اپناتے ہیں ۔ مولانا مودودی جبر و قدر دونوں کی آیات کو ملا کر جبر وقدر ملا ایک مذہب بنانے کی کوشش کرتے ہیں  جس میں خدا کا اختیار بھی رہتاہے اور بندے کا بھی ۔ لیکن غور سے دیکھنے پر اس پر بھی وہی اعتراضات ہوتے ہیں جو خود مولانا ایسے مذاہب پر کر چکے ہیں جنہوں نے بیچ کی راہ اختیار کرنا چاہی ۔ مولانا کہتے ہیں کہ  انسان کو محدود پیمانے پر آزادی دی گئی ہے  یہ ودیعت کردہ ہے ، انسان خود آزاد نہیں ہے  لیکن کتنی ہے اس کا تعین نہیں کیا جاسکتا ۔

مولانا اس مسئلے کو ایک اور اعتبار سے بھی تقسیم کرتے ہیں مسئلہ جبرو قدر کی اخلاقی اور طبیعی گتھیاں تو سلجھ  سکتی ہیں  لیکن اس کے ما بعد الطبیعاتی مسائل کی گھتیاں نہیں سلجھ سکتی ۔ لیکن طبیعی اور مابعد الطبعی کا تعین بھی اس باب میں خاصہ مشکل ہوتاہے ۔

عبدالغنی
عبدالغنی
پی ایچ ڈی اسکالر پنجاب یونیورسٹی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *