• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پہلا تبلیغی دورہ۔چندایک یاداشتیں ( دسویں ،آخری قسط)۔۔علیم رحمانی

پہلا تبلیغی دورہ۔چندایک یاداشتیں ( دسویں ،آخری قسط)۔۔علیم رحمانی

ہم نے بائیک رکتے ہی ایک زوردارچیخ مار کراپنی دانست میں شہادت سے پہلے آخری احتجاج ڈائیور صاحب اور کتے سے بالترتیب کرلیااور آنکھیں موند کرزیرلب کلمہ پڑھنے لگےکیونکہ یہ دیکھناہی بے کار تھاکہ کتاپہلے کس پہ حملہ کرتاہے یاکس کے جسم نازنین کے کس حصے کوپہلے پھاڑناپسند کرتاہےاور نہ وہ ہمارے کسی مشورے کامحتاج یاپابندتھالیکن بائیک رکنے کے آدھ منٹ بعد ابھی ہماراکلمہ مکمل ہی نہ ہواتھاکہ بائیک پھر چلنے لگی توہماری جان میں جان آئی اور ہم نے کن انکھیوں سے گردوپیش کامختصر جائزہ لیاتویہ دیکھ کر اطمینان ہوگیاکہ ہمارادوموٹرسائیکلوں پہ مشتمل قافلہ حسب سابق سڑک پہ رواں دواں تھااورکتے نے کسی کوچھواتک نہ تھااب اس کی وجہ کیاتھی ہم نے فوراڈرائیور سے استفسار کیاتووہ بولے کہ یہ گاوں میں موجود سب سے بڑاپالتوکتاہے دن میں یہ کسی کوکچھ نہیں کہتامگر رات کواسکے قریب سے بائیک پہ گزرنے والوں سے اس کاغیرتحریری مطالبہ ہوتاہے کہ وہ ایک لمحہ بریک لگاکر اس کے سامنے رک جائےجوشاید “جھک جائے” کے مترادف ہے ورنہ یہ غراتے ہوئے آدمی کواس کے گھر تک ہی چھوڑ آتاہےیہ سن کر ہم نے شکر خدابجالایا،امام بارگاہ پہنچ کرلمبی تان کے سوگئے کیونکہ اس وقت نہ کوئی لوڈ شیڈنگ کاعذاب تھا، نہ ہی موسم بہت زیادہ گرم اورنہ ہی دہشتگردی کے عفریت نےابھی سر اٹھایاتھااوپر سے نیند بھی بے فکری کی ۔۔۔۔ہائے کیادن تھےجب گل خان فاختہ اڑایاکرتاتھا۔
اکثر نمازمغربین کے لئے جاتے ہوئے ہم مسجدسے متصل کھیت میں چندایک ساعت کے لئے ضرور رکتے اور تازہ بنےہندو دوست موہن داس سے کچھ گپ شپ کرتے جو اسی وقت کھیت سے گھاس کاٹ رہے ہوتےوہ مجھے سامنے والے ہوٹل سےچائے پلانے کی پیشکش کرتے مگرمیں ٹال جاتاآخر ایک دن وہ ہوٹل جاکے چائے کھیت میں ہی لے آیامرتے کیانہ کرتے ہم نے چسکی لینے کی ناٹک شروع کردی کیونکہ ہوٹل کی نازک صورتحال سے ہم واقف ہوچکے تھے اور موہن بھائی کادل رکھنابھی تھااور دوسری طرف اپنااسلام بھی بچاناتھایوں ایک مخلص انسان کےدل اور اسلام کے بیچ مولوی صاحب پھنس کررہ گئے مگر وہ مولوی ہی کیاجواتنی آسانی سے پھنس جائےسو ہم نے” رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی” کے بمصداق ایک طرف تو ان سے نظریں بچاکر چائے کھیت میں ہی انڈیل دی اور دوسری طرف جھوٹ موٹ کی چسکیاں بھرتے ہوئے ان کے ساتھ ہی کپ خالی کرکے آگے رکھ دیاوہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے مہمان نوازی کاموقع دینے پہ شکریہ بھی اداکیایوں ہم نے کمال مولویت سے کام لیتے ہوئے نہ ان کادل توڑااور نہ اسلام کوچھوڑا۔
آٹھ محرم کی رات کواس کشتی والے نہر کے اس پار مجلس وماتمداری کے لئے جاناتھا جہاں سے ہم گزرکے آئے تھے،ہمیں بھی اس کی اطلاع اور دعوت دی گئی چنانچہ اپنی مجلس کے بعد علم کادستہ تیار ہوگیا اور ہم چاندنی رات کو بذریعہ کشی اس پار اتر گئے جبکہ گاوں کے سارے نوجوان اور جوان ہمارے ساتھ تھے ، گندم اور سبزیوں کے کھیتوں سے گزر کر ہم مطلوبہ جگہ پہنچے توخوشی کی انتہانہ رہی کہ ہمارے ہمسفر جناب مولاناناصر حسین ناصری وہیں تبلیغی فرائض انجام دے رہے تھےجن سے ہمیں بچھڑے ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ ہوچکاتھااور دونوں کوایک دوسرے کاکوئی اتہ پتہ نہیں تھاکیونکہ اس وقت تک موبائل نامی ایجاد ہمارے ہاں نہیں پہنچی تھی ۔
ان سے مل کربہت اچھالگااور وہ ہمیں لے کر علم کے قریب ایک الٹی چارپائی تک لے آئے ہم نے تواضع کامظاہرہ کرتے ہوئے ان سے پہلے آگے بڑھ کرچارپائی سیدھی کرنے کے لئے ہاتھ ہی لگائے تھے کہ ہاہاکار مچ گیا۔ارے۔۔۔ ارے ! یہ کیاکررہے ہیں آپ ؟ کمال کرتے ہیں آپ بھی ! استغفراللہ۔۔۔۔! ارے مولوی صاحب کوتودیکھو ۔۔۔۔! مختلف آوازوں کے نرغے میں گھرے ہوئے ہمارے ہاتھ خود ہی رک گئے اور مولاناناصری نے ہاتھ پکڑ کر ہمیں اسی الٹی چارپائی پہ بٹھادیااور خود بھی جلدی سے بیٹھ گئے جبکہ ہماری سمجھ میں نہیں آرہاتھاکہ آخر اس چارپائی کوسیدھاکرنے میں قباحت کیاہے؟
ہم نےیہی سوال آہستہ سے مولاناناصری کےگوش گزار کیاتووہ بولے آغاصاحب ،یہ چارپائی سیدھاکرنےسے زیادہ غم مانپنے کاپیمانہ ہے،ہم نے دنیاجہاں کی حیرت لہجے میں اتار کے پوچھا: کیامطلب ؟ کہنےلگے آپ کاکیاخیال ہے کہ ہمیں الٹی چار پائی پہ سونے میں کوئی مزہ آتاہے جو اس کو الٹی رکھے ہوئے ہیں بات دراصل یہ ہے کہ سندھ میں جس گھر میں کوئی فوتگی ہوتی ہے وہ اظہار غم کے طور پہ وہاں چارپائیاں الٹی کردیتے ہیں اس لئے محرم الحرم میں غم کے اظہارئیے کی یہ ثقافت آپ کوپورے سندھ میں نظر آئے گی یوں یہاں بھی چارپائی عاشوراتک ایسی ہی رکھی جائے گی۔اوہو۔۔! ہم نے معذرت خواہانہ انداز میں اپنی لاعلمی کااعتراف کیامگر مولاناکہہ رہے تھے کہ انہیں اس سےتو کوئی خاص مسئلہ نہیں مگر یہاں رات کوعلم کے نیچے الٹی منجی پہ جب وہ سوتے ہیں تورات بھر آوارہ کتے انہیں سونگھتے ہوئے گزرتے ہیں اور ان کی پوری رات بے چینی میں گزرجاتی ہے یہ سن کر ہمیں بغیرایک پٹ کے دروازے والی امام بارگاہ میں لمبی تان کے سونے کی قدروقیمت اور نعمت کااندازہ ہوا۔
قارئین کرام !بہت سے دوست یہ سوال کررہے ہیں اور بجاکررہے ہیں کہ اس پورے منظر نامے میں تبلیغ کہاں ہوئی تھی؟
بھئی ! ہم کوئی لٹھ یاجتھہ لے کرنہیں گئے تھے کہ زورزبردستی لوگوں کو اپنے برینڈ مارکہ اسلام کی طرف ہانکیں ،ہمارے پاس نوجوانی کاجذبہ ،اساتذہ کی عطاکرہ ابتدائی دینی معلومات اورانہی سے کشیدکردہ خلوص اور اخلاق تھاجنہیں ہم بقدر ضرورت خوب استعمال کرتے رہے، رات کو اس گاوں میں پہلی بار مجالس کاپوراعشرہ منعقد ہوا جس میں فضائل محمد وآل محمد کیساتھ دینی معارف حتی المقدور بغیر کسی شدت اور جہنم کی آگ دکھائے بیان کرتے رہے ،نماز ظہرین اور مغربین باقاعدہ باجماعت ہوتی رہیں ،نمازجمعہ اور خطبہ میں ضروری دینی مسائل کیساتھ تربیت اولاد اور عصری ودینی تعلیم کی ضرورت اور اہمیت کواجاگر کیااس کے علاوہ نوجوانوں کے ساتھ دن میں کسی باغ کی طرف گھومتے ہوئے اور شام یارات کوبارگاہ کے صحن میں منعقدہ کچہری میں ہرقسم کے دینی اور عصری مسائل پہ تفصیل سے تبادلہ خیالات ہوتارہا اور یہی ہمارامدعاتھاجس میں ہم اپنے مطابق الحمد للہ کامیاب ہی رہے۔ہماری دانست میں ایک عشرے میں اسلام کااتناڈوز کافی ہے۔
آج نومحرم الحرام ہے اور صبح سے ہی پورے گاوں کی فضاپہ کربلاکی اداسی اور غم چھایاہوا ہےکیونکہ عاشوراکوسب مرد حضرات حیدر آباد کے مرکزی جلوس میں شرکت کریں گے اس لئے یہاں ماتمی جلوس آج برآمد ہوگااور اطراف وجوانب کے بہت سے چھوٹے چھوٹے گاوں کے لوگ چھوٹے بڑے ماتمی دستوں کی شکل میں ماتم کرتے ہوئے یہاں پہنچ رہے ہیں ان سب کے لئے امام بارگاہ اور اس کے صحن کے ساتھ لمبی سی گلی میں نیاز کااہتمام کیاگیاہے جلوس کے شرکاء میں ہندوبھائیوں کی ایک معتدبہ تعداد بھی نظر آرہی ہے،نیاز کے بعد خوب زنجیززنی ہوئی ۔جلوس کےدوران ہم نے دیکھاکہ دوسرے گاوں سے لائے گئےدیوقامت ذوالجناح پچھلے ٹانگوں پہ قابل اعتراض حالت میں بار بار کھڑا ہوجاتاہ جبکہ لوگ زبردستی اس کی لگام کھینچ کر نیچے کردیتے ہیں مگروہ چند قدم چل کر پھر اسی پوزیشن میں کھڑاہوجاتاہے۔میں نے قریب کھڑے کسی عزادار سے پوچھاکہ اس ذوالجناح کوکیاہوگیا
آخر یہ بار بار پچھلی ٹانگوں پہ اس حالت میں کیوں کھڑاہوجاتاہے؟ وہ بھی کوئی مخلص سے مومن تھے ،ترنت کہنے لگے کہ سائیں !یہ ذوالجناح ماتم کررہاہے۔۔۔۔دھت تیری کی۔۔۔۔!
اللہ اس ماتم کے انداز سے بچائے رکھے ،ہمارے ساتھ موجود وہ نوجوان جس نےہم ہمیشہ نماز پڑھنے کاوعدہ کیاتھا اور پچھلی قسطوں میں جن کاتذکرہ ہواوہ کہنے لگے مولوی صاحب ،اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود بھی بھنگ پی کے آئے ہیں اور اپنے ساتھ ذوالجناح کوبھی پلالائے ہیں تب سے یہ ہوش میں ہی نہیں اس لئے اب اسےسنبھالنامشکل ہورہاہے۔
ہم نے مزید کھوجنے کی بجائے وہاں سے کھسکناہی بہتر سمجھا۔
جلوس کے اختتام پہ ہم امام بارگاہ کے باہر بچھی دریوں پہ بیٹھ گئے ،وہاں سے گزرتے ایک جوان کی طرف اشارہ کرکے کئی ایک لوگوں نے ہمیں بتایاکہ وہ جوان حرامی ہےہم حیران پلس پریشان کہ یہ الہی یہ ایسے یقین سے کیسے کسی کوحرامی کہہ سکتے ہیں؟
ہم نے ذراٹٹولاتویہ عقدہ کھلاکہ اس بیچارے کوحرامی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے سال لطیف آباد میں آگ پہ ماتم کے دوران اس کے پاوں میں چھالے پڑگئے تھے اوران کے بقول اگر حلالی ہوتاتوباقی لوگوں کی طرح اس پہ آگ کااثر نہ ہوتا۔ہم نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کرکے ان کے سامنے یہ اعلان کیاکہ اب کل شام غریباں کویہاں بھی آگ کاماتم ہوگا،یقین کیجئے بہت سے نوجوان خوش ہوگئے مگر ہم نے یہ شرط بھی رکھی کہ ہر شخص دومنٹ اس آگ میں کھڑے ہوکر ماتم کرے گاتاکہ سب کے بارے میں پتہ چل جائے کہ کون کون حلالی ہے؟یہ سن کر سب کہنے لگے اس طرح توسب کے پیر چھل جائیں گےہم نے کہابھائیو۔۔۔! یہی ہواہے اس عزادار بھائی کیساتھ باقی توتیز بھاگتے آگ سے نکل گئے ہونگے یہ بے چارہ ذراآہستہ چلاہوگایوں اس کے پاوں میں چھالے پڑگئے اور آپ سب نے ایک مومن کی ماں پہ بے جااتنی بڑی تہمت لگائی ،سب کوتوبہ کرلینی چاہئیے،الحمد للہ سب نے اپنی غلطی تسلیم کرلی اور آئیندہ ایسے بے اصل معیارات پہ لوگوں کوجانچنےسے اجتناب کاعہد کیا۔
عاشوراکےدن دس بجے صبح ہم سب حیدر آباد شہرکے مرکزی جلوس میں شرکت کے لئے روانہ ہوئے یہ بھی کراچی کی طرح بہت بڑاجلوس تھا۔نماز ظہرین ہم نے قدم گاہ مولاعلی علیہ السلام سے متصل مسجد میں اداکی اور شام کوواپس ہوئے۔نماز کے بعد مختصر سی شام غریباں کی مجلس اور ماتمداری ہوئی اور ہم کل واپسی کاپروگرام بنانے لگے،گاوں کے بہت سے نوجوان تھکاوٹ کے باوجودہم سے خداحافظی کرنے آئےیوں ہم نے اگلے روز صبح کوبہت سے تجربات ،امیدیں،دعائیں ،محبتیں ،اگلے سال پھر آنے کے وعدے اور دوکریٹ کیری کے ساتھ واپسی کے لئے رخت سفر باندھا،سائیں خدابخش سمیت کئی ایک جوانوں پہ مشتمل کارواں نے ہمیں حیدر آباد کراچی بس اسٹینڈ پہ الوداع کہااورہم دوڈھائی گھنٹے بعد پھر سے روشنیوں سے جگمگ جگمگ کرتے اپناکراچی اور اپنے مادرعلمی جامعہ تعلیمات اسلامیہ پہنچ گئے۔
اس کے بعد توتسلسل سے کئی سال ہم ماہ رمضان اور محرم الحرام میں اندرون سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاتے اور پورامہینہ ٹھہرتے رہےجن میں سےکچھ علاقے بجلی اور رہائش کی سہولت سے بھی عاری تھے مگرخوشی خوشی ہم نے پورامہینہ گزارا،ان میں سے ہردورے کی روداد پہ مختصر کتاب لکھی جاسکتی ہے لیکن فی الحال اسے رہنے دیتے ہیں ، چونکہ ہمارایہ پہلاتبلیغی سفر گیارہ دنوں پہ محیط تھاسوہم نے بھی گیارہ قسطوں میں اسے صفحہ کتاب چہرے میں سمودیا،اللہ تعالی حقیر کی اس تبلیغی کاوش کوذخیرہ آخرت قرار دے اوران یاداشتوں کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کوسلامت رکھے ۔۔آمین

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *