فیڈریشن اور کنفیڈریشن کا تقابلی جائزہ۔۔۔۔نصیر اللہ خان

پاکستان کا آئین ’’کنفیڈریشن‘‘ کی بجائے ’’فیڈریشن‘‘ یعنی وفاقیت کا تصور پیش کرتا ہے۔ فیڈریشن در اصل ایک سیاسی ادارہ ہوتا ہے، جو مرکزکے سخت آئینی قانو ن کے تحت تفویض کردہ قوانین کو صوبائی یونٹس یعنی صواب دیدی مراعات باقی اکائیوں کو دیتا ہے۔ جو اختیار مرکزی حکومت اکائیوں کو دیتی ہے، اس میں ڈیفنس اور خارجہ پالیسی کے اختیارات شامل نہیں ہوتے۔ مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم میں جو اختیارات صوبوں کو دیے گئے ہیں، وہ بھی تاحال مکمل طور پر نہیں ملے۔
فیڈریشن کے برعکس کنفیڈریشن وہ سیاسی ادارہ ہوتا ہے جو مرکزئیت کی بجائے اکائیوں کو رضاکارانہ طور پر دفاع اور خارجہ کے علاوہ خود مختاری کی حیثیت سے کلی طور پر انفرادی مقام دیتا ہے۔ یورپی یونین اس کی واحد مثال ہے۔ نیز فیڈریشن اور کنفیڈریشن دونوں کثیر الحکومتی نظام فراہم کرتے ہیں۔ فیڈریشن میں اکائیوں کی بہ نسبت مرکز تمام تراختیارات کا منبع ہوتا ہے، جب کہ کنفیڈریشن میں مرکز کمزور ہوتا ہے۔ اس میں خود مختار ریاستیں اپنے قوانین بنانے اور دوسرے ممالک سے آزادانہ معاہدات کرنے کی مجاز ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس فیڈریشن میں صوبائی اکائیاں محدود پیمانے پر دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدات اور معاملات کرتی ہیں۔ خودمختار ریاستوں کا تصور دنیا میں نہیں ہے، اس پر عمل کم ہی کیا جاتا ہے اور جتنے بھی کنفیڈریشن بنے ہیں یا جو دعویٰ کرتے ہیں، وہ بھی عملاً وفاقیت اور مرکزئیت سے نزدیک تر واقع ہوئے ہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ وفاق میں صوبوں کو برائے نام اختیارات تفویض کیے جاتے ہیں، تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ پاکستان کی تما م صوبائی اکائیوں نے مسلم اکثریتی علاقوں اور زیادہ تر لوگوں کے مسلمان ہونے کی وجہ سے فیڈریشن میں شمولیت یا الحاق کیا تھا۔ اب آزادی کے بعد تمام صوبوں پر عملاً اختیار مرکز کا چلا آ رہا ہے۔ ایک طرف اگر تمام اکائیوں میں مختلف قومیں آباد ہیں، تو دوسری طرف ان کے کلچر اور زبان میں کافی حد تک تفاوت موجود ہے۔ جو چیز صوبوں میں مشترک پائی جاتی ہے، وہ اسلامی اقدار اور دین اسلام ہے۔ اس لیے قدرتی طور پر ہمسائے اور ایک دین و مذہب کے پیرو ہونے کی وجہ سے ان میں باہمی رضامندی سے الحاق کا سوال بے معنی ہوگا۔ البتہ ان قوموں میں مختلف لسانی اور قومی تفاوت اور ان کی فطری جائے پیدائش ہونے کی نسبت جغرافیہ اور ان یونٹوں میں وسائل پر اختیار ان کا قدرتی و فطرتی حق ہے۔ اس لیے اگر کوئی دوسرا ان وسائل پر اپنا حق جتائے گا، تو لازمی بات ہے ان میں دوریاں اور نفرت بڑھے گی۔ بنگلہ دیش کے مسئلہ کی دیگر کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، لیکن ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ملک میں ’’ون یونٹ‘‘ کا نظام تھا۔ بنگلہ دیش اپنی آبادی اور اکثریت کے لحاظ سے وفاقی مرکز میں نمائندگی چاہتا تھا، لیکن مرکز اس کو اختیارات اور نمائندگی میں برابر کا شریک نہیں مانتا تھا۔اس لیے پاکستان کے تناظر میں ہمارے سامنے مذکورہ مثال آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔
یہ خوش آئند ہے کہ مسلمان اکثریت میں ہونے کی وجہ سے یا دیگر کئی ایک وجوہات کی بنا پر پاکستان کے صوبوں نے اب تک فیڈریشن پر اکا کیا ہوا ہے، لیکن یہاں یہ ذکر کرناضروری سمجھتا ہوں کہ دنیا میں کئی دوسرے اسلامی ممالک بھی ہیں، پھر وہ کیوں کنفیڈریشن میں مرکزی حکومت میں آکر حصہ نہیں لیتے؟
پاکستان کا آئین بھی مذہبی ہونے کے ساتھ سیکولر، سرمایہ دارانہ، جمہوری اور سوشلسٹ جیسے کثیر الجہت سیاسی نظاموں کو لیے ہوئے ہے۔ ایک طرف اگر آئینِ پاکستان اپنے نظام اور نظریہ کے ساتھ ہم آہنگ نہیں، تو دوسری طرف مرکز میں اختیارات کی مرکزیت نے سب کچھ مبہم بنایا ہوا ہے۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ آئینِ پاکستان میں اختیارات کو تفویض کرنے یا بنیادی حقوق مثلاً رہائش، نوکری، تعلیم، صحت، صاف پانی، بے روزگاری الاؤنس اور زبان کی ترویج جیسے بہترین اجز ائے ترکیبی پائے جاتے ہیں (جو کہ عملاً ناپید ہیں) تو وہاں دوسری طرف وفاقی حکومت فیڈرل ’’لے جسلیٹیو کنکرنٹ لسٹ‘‘ اور صوبائی کنکرنٹ لسٹ میں صوبائی اکائیوں کی حصہ داری برائے نام موجود تھی۔ آئین کی اٹھارہویں ترمیم سے بھی صوبوں کو گورننس کے مکمل طور پر اختیارات دینا اور شیڈول دوم سے کنکرنٹ لسٹ جس میں سترہ سبجیکٹ اور شیڈول فورتھ لے جسلیٹیو کنکرنٹ لسٹ جس میں سینتالیس سبجیکٹ موجود تھے، کو ختم کرنا ایک طرح سے سود مند تھا، لیکن بد قسمتی سے صوبوں کو وہ اختیارات نہیں ملے یا دیدہ دانستہ نہیں دیے گئے جو کہ صوبائی حکومتوں کا دیرینہ مطالبہ تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اختیارات کی منتقلی میں وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں بشمول وفاقی ادارے اور عدالتیں ذمہ دار ہیں۔ لہٰذا وفاقی مرکزیت کو جو لامحدود اختیارات حاصل ہیں، لیکن آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے توسط سے کمی دیکھنے میں آئی، اب مذکورہ آئینی ترمیم کو مکمل طور پر نافذکرنا چاہیے۔ذیل میں کچھ گذارشات ہیں، جن پر عمل کرنا از حد ضروری ہے۔
* آئین کو نیا بنانے کے لیے قومی حکومت کی تشکیل ضروری ہے۔
* صوبائی حکومتوں کو وفاق کے تناظر میں وسائل پر خودمختار حیثیت دیناملکی بقا اور سالمیت کے لیے ناگزیر ہے ۔
* اسلامی ممالک کے تعاون اور اتفاق کے لیے ضروری ہے کہ ’’اُو آئی سی‘‘ کو فعال بنایا جائے اور اسلامی ممالک کے مابین کنفیڈریشن کے تصور کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔
* ہونا تو یہ چاہیے کہ فیڈریشن اپنے ’’فیڈریٹنگ یونٹ‘‘ کو بااختیار بنائے، تاکہ فیڈریشن پر مزید بوجھ نہ پڑے۔

نصیر اللہ خان
نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *