حضورِ والہ کی عجب مزاجی۔۔۔۔عابد حسین

پرانے وقتوں میں بادشاہ کےلیے باقاعدہ آدابِ تسلیمات کی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا جس میں ریاست کے تمام ذمہ داران وزیر ـ مشیر ـ قاضی ـ سپہ سالار ـ رفقاء سمیت   عوام بھی شرکت کیا کرتے ـ۔
بادشاہ سلامت جب جلسہ گاہ میں جلوہ گر ہوتے تو تمام حاضرینِ محفل نہ  صرف کھڑے ہو جایا کرتے بلکہ جھک کر تعظیمِ واجبیہ بھی ساتھ بجا لاتے ـ
بادشاہ سلامت مسند نشیں ہونے کے بعد اکثر اوقات چشمِ حاکمانہ سے اور تھوڑا بہت سر کو ہلا جلا کر بیٹھنے کی اجازت دیتے ـ ماحول اور مزاج میں اگر ہم آہنگی اور ایک سا رجحان آ جاتا تو ہاتھ کے اشارے اور زبان سے بھی کبھی کبھار کام لے لیا جاتا ـ۔
دربار میں پھیلے سناٹے اور سکوت کو توڑنے کا اختیار صرف بادشاہ سلامت اپنے پاس رکھتے جسے چاہتے بولنے کی اجازت دیتے اور جب چاہتے اسے چپ کرا دیتے ـ
ایسی تقاریب میں محفل موسیقی ـ رقص و مے خواری کا اہتمام ایک عام اور معمول کی بات ہوتی جس کا مقصد بادشاہ سلامت کے مزاج عالیہ سے غیض  و غضب کو کم کرنا ہوتا جو کہ کوئی آسان کام ہرگز نہ سمجھا جاتا ـ۔
ان محفلوں کا اختتام اس طرح ہوتا کہ کچھ لوگوں کو انعام و اکرام کا حق دار ٹھہرایا جاتا کچھ کو بڑے عہدوں سے نواز دیا جاتا اور کچھ کو وہیں پر بلا کر مجرم قرار دیا جاتا اور ان کے حق میں بادشاہ سلامت  کڑی سزاؤں کے فیصلے سنایا کرتےـ۔
اس عمل میں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ عہدوں پر تقرری اور انعامات کی تقسیم کے فیصلے ہرگز کارکردگی اور قابلیت دیکھ کر نہیں کیے جاتے تھے بلکہ جس میں جتنی زیادہ جی حضوری ہوتی جو جتنا اچھا تجربہ کار چاپلوس ہونے کے ساتھ ساتھ بےجا جھوٹی تعریف کرنے کا ماہر ہوتاـ بادشاہ کے ہر غلط صحیح حکم اور شوق کو ہر حال میں  آمین کہہ کر بجالانے کا گردہ بھی رکھتا وہ چاہے احمق نالائق اور نااہل ہی کیوں نہ ہوتا وہ اعلیٰ عہدے اور بڑے انعام کا حق دار ٹھہرتا ـ
(حضور کا شوق سلامت رہے شہر اور بہت)
جبکہ سزاؤں کے حقدار اکثر اوقات وہ لوگ بنتے جن کا جرم شاہی مزاج کے ساتھ مطابقت نہ رکھنا ہوتا یا جو کبھی اپنے حقوق اور مسائل کی بات کر دیتےـ کسی سپہ سالار کے ظلم و زیادتی پر چیخ اٹھتے یا کسی قاضیء وقت کی ناانصافی کا گلہ کر دیتے ـ ۔۔ان کی بات چاہے حقیقت ہوتی مگر حقیقت کو پسِ پشت ڈال کر انہیں گستاخ ـ باغی اور مجرم قرار دے دیا جاتا. اور سزا دی جاتی ـ۔۔
ایسی کرم نوازیوں اور سزاؤں کا سلسلہ صدیوں کے زمانوں پر محیط ایک نظام رہا ہے جسے عوام جھیلتی رہی ہے ـ وقت بدلنے کے ساتھ عطا و جفا کے یہ انداز اور سلسلے بھی بدلتے آئے مگر ماضی کے وہ سلسلے اب بھی کسی دیگر نئی صورت میں موجود ہیں جنہیں عوام جھیل رہی ہے ـ
سرزمینِ پاکستان کے حالات   کو اگر بغور دیکھا اور سمجھا جائے تو یہ رائے قائم کرلینا
(آپ رائے سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں)
غلط نہیں ہے کہ ہم آج بھی صدیوں پہلے گزرے زمانے کے لوگوں جیسی روش اور رفتار میں زندگی بسر کر رہے ہیں ـ اور ہمارے عہد کے ارباب بااختیار عامِلوں(عہدیداروں) میں سابقہ زمانوں کے بادشاہوں کے مزاج کی جھلک بھی خوب نظر آتی ہے ـ
جو رد ہوئے تھے جہاں میں کئی صدی پہلے
وہ لوگ ہم پہ مسلط ہیں اس زمانے میں
حضور والا کے مزاج پر اگر خوش طبعی اور نواز دینے کا جِن غالب ہو تو ارض وطن کے امن و امان کی دھجیاں اڑانے والوں کو ـ
معصوم بچوں اور خواتین کو شناخت کر کے سینوں میں بارود داغنے والوں کو ـ زیریں عدالتوں سے سزا یافتہ اور سینکڑوں مقدمات میں مفرور مجرموں کو جو اس دھرتی پر ناپاک عزائم لیے پھرتے ہیں ـ بین المذاہب ہم آہنگی   اور بھائی چارے کی سودے بازی کرتے ہیں ـ  نفرتوں کے بیج بوتے ہیں ـ اس ملک کے اندر اس ملک کے دستور تک کا سرِعام مذاق اڑاتے ہیں آئے روز دستورِِ پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے نظر آتے ہیں ـ اور  وطن کے باسیوں کیلئے اصل خوف اور خطرہ ہیں لیکن انہیں نگاہِ مہر و معشوقانہ سے نواز دیا جاتا ہے ـ۔
تین تین سو افراد کے قاتل کا حفاظت کے نام پر پروٹوکول اور ہر آسانی میسر لانے کا خیال رکھا جائے ـ۔
اس وطن کے دستور کو ردی کے ایک کاغذ کا ٹکڑا سمجھنے والے اسے پامال کرنے والے مجرم کو باقاعدہ محفوظ ہونے کی اور  ـ کاروبار کرنے کی نویدیں  سنائیں
اور اگر حضور والا کا مزاج برہم ہو تو قوم کے ایک بزرگ معمار(پروفیسر) پر محض کوئی الزام ہو اور حضور والا خود ابھی اس معاملے پر شک کے شیشوں والی عینک چڑھائے خرد و دانائی کو کام میں لانے کے مرحلوں میں ہوں مگر ضعیف العمر اور نحیف معمار بیساکھیوں کا سہارا لیے اور  ہاتھوں میں آہنی ہتھکڑیاں پہنے پیش ہو اور قید میں رکھنے کا حکم نامہ جاری ہو ـ۔
توہینِ علم سے بڑھ کر اور کیا توہین ہوگی اور اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا اس سے بڑھ کر اور کیا  ناانصافی ہوگی ـ۔۔
اور اگر کوئی حضور والا کی کوتاہیوں پر چیخ پڑا ـ کاندھوں پر موجود ذمہ داری کا حق صحیح ادا کرنے کی بات کر دی کچھ مسائل پر خاموشی توڑنے کا تقاضا کردیا تو بجائے اپنے گریبان میں جھانکنے کے اور ان مسائل کو دیکھنے اور شکایات کو دور کرنے کے اسی کی گردن دبوچ لینے کا حکم نامہ جاری ہو ـ۔
اگر کوئی بہن  برسوں سے گم بھائی کی جبری گمشدگی کا دکھ بتانے سڑک پر بین کرنے آ بیٹھے اور اپنے بھائی کا جرم پوچھتی پھر رہی ہو تو ان زیادتیوں کے باوجود بجائے اس کے زخموں کا مرہم بننے اور چارہ جوئی کرنے کے حفظِ مراتب اور حدِ ادب کی دیوارکھڑی کر دی جائےـ
حضور والا جہاں قوم کے معمار ڈاکٹر مجاہد کامران صاحب پر محض الزام لگنے پر ان کی ضعیفی کا کوئی احترام تک نہ کیا جا رہا ہو ـ۔جہاں فیصل رضا عابدی کا سوال اٹھانا اور سچ سے آگاہ کرنا جرم قرار دیا جا رہا ہو ـ۔
جہاں فرزانہ مجید اپنی ہی ریاست سے پانچ سال سے لاپتہ بھائی کا جرم پوچھتی پھر رہی ہو ـ۔۔
حضور والا ایسی صورتحال میں نہ فقط سوال اٹھیں گے بلکہ حضور والا پر انگلیاں بھی اٹھیں گی اور ہر با شعور فرد مصلحت پر ضمیر کی آواز کو ترجیح دے گاـ
ہم لوگ ترے حاشیہ بردار نہیں ہیں
مملوک ترے تیری جہالت کو سراہیں
یا بھر دو میرے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ
یا کہہ دو نحیفوں سے کہ آہستہ کراہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *