انسانیت کا قلع قمع اور لاک ڈاؤن کے اثرات۔۔گُل رحمٰن

لاک ڈاؤن کہیے تو اُردو میں لغوی معنی ” روک دینا ” یا ” بند کرنا ” کے ہیں ۔حالات و واقعات کی رو سے ساری دنیا جانتی ہے کہ معمولاتِ زندگی پچھلے تقریباً دو ماہ سے درہم برہم سے  ہو کے رہ گئے  ہیں ۔کرونا کی وبا نے جیسے پوری دنیا کو نظر بند کر دیا ہو۔بلا شبہ یہ قید ہر ایک پر لاگو ہوتی ہے لیکن مٹھی بھر شہریوں کے علاوہ بیشتر دنیا بلاوجہ گھروں میں سزا کاٹ رہی ہے ۔ جب تک آزادی کا پروانہ سب کے ہاتھ نہیں آتا ایک بےچینی ، کشمکش اور خوف کی فضاطاری رہے گی۔

کرونا کی شدت اور حقیقت کو سمجھنے میں کچھ وقت لگا، لیکن پھر سب ہی نے اس بات سے سمجھوتا کر لیا کہ کم از کم اپنے لیے نہ سہی، اپنوں کے لیے ہی صبر شکر کر لیا جائے اور زندگی میں کچھ ٹھہراؤ لے آئیں ۔

چند ماہ پیچھے کے معمولات  پہ اگر  ذرا نگاہ ڈالیں اور جائزہ لیں تو انسان کا موازنہ ایک مشین سے کرنا غلط نہ ہوگا۔۔ عقل یہ سمجھنے سے قاصرتھی کہ کس کے دم سے کون چل رہا ہے۔ انسان تو روبوٹ کے باقائدہ آنے سے پہلے ہی اس کے فرائض انجام دے رہا تھا ۔ دن رات خود پرستی میں محو ، حقائق سے دور ، آنکھوں پر ضروریات کی پٹی باندھ کر جیے جا رہے تھے ۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ  احساس جیسے الفاظ معاشرے سے  کم ہوتے  محسوس ہو رہے تھے۔ سبھی شاید کسی ریس کا ٹکٹ کٹوا چکے تھے اور مقابلہ وقت سے تھا۔ جہاں دیکھتے بیجا بحث میں کود پڑتے اور  موضوع گھر کے مسائل سے لے کر ملک کے وسائل تک ہوتا۔ ہار جیت کا سوال کہاں رہ گیا تھا ،ہر کوئی صر ف خود کو فاتح ثابت کرنے پہ تُلا ہوا تھا۔ بھیڑ بکریوں کی طرح سب ایک دوسرے کو ہی ہانک رہے تھے ،یا جدھر منہ اُٹھتا وہیں جُگالی کرلیتے ۔۔میرے خیال سے میں اپنی ہی بات کو بہتر طریقے سے دوبارہ دہراتی ہوں ۔

“چند ماہ پیچھے کے معمولات  پہ اگر  ذرا نگاہ ڈالیں اور جائزہ لیں تو انسان کا موازنہ ایک مشین سے کرنا غلط نہ ہوگا۔”
زندگی کے چہرے   کو کتنی بے  رحمی سے ہم نے  بے حسی کے غازے سے بدصورت  بنا  رکھا تھا، لیکن جب ” بھیانک ” کا اصل مطلب سمجھ آیا تو سب کو ایسا جھٹکا لگا کہ اب  دُبکے  بیٹھے ہیں ۔
اگر ایک جملے میں اپنی بات کا خلاصہ لکھوں تو ” انسانیت کا قلع قلع ہو گیا تھا” ۔
انسانیت ۔۔۔کیا واقعی اس کا خاتمہ ہو رہا تھا؟

بیشک ابھی بھی دنیا بہت سے اچھے اور غیر مشروط عناصر پر چل رہی تھی لیکن جس احساس کی ضرورت تھی وہ شاید   اب  یونہی بیدار ہونا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے جب جب کسی بیرونی آفت نے حملہ کیا ،اندرونی آفات کا خاتمہ ہوا۔ یکجہتی قائم ہوئی اور انسانیت کو فروغ ملا۔ اس لیے حالات کی چکی میں جہاں پہلے سب پِس رہے تھے وہاں اب ایک دوسرے کی فکر بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ بات اپنے اور اپنوں سے  آگے نکل چکی ہے۔سوچ کا انداز بدل رہا ہے چاہے مشرق ہو یا مغرب ۔
علامہ اقبال نے جیسے کہا۔۔

؀ نہ مشرق اس سے بَری ہے،نہ مغرب اس سے بَری
جہاں میں عام ہے قلب و نظر کی رنجوری

بیشک بیروزگاری نے سب کو اپنی ذات کی خواہشات اور مسائل و مصائب کے گرداب سے نکال کر فرد و قوم کی بھوک کے بارے میں سوچنا سکھا دیا ہے۔ آج انفرادی طور پہ امداد اور سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں ۔ رشتہ داروں اور ہمسایوں کے حقوق کا پھر خیال کیا جا رہا ہے۔ ہر کوئی اپنی پسلی کے مطابق کارِ  خیر میں حصہ ڈال رہا ہے۔ بد امنی نے بازار اور سڑکوں کا راستہ ناپنا چھوڑ دیا ہے۔ گھر کی رونقیں دوبالا ہو رہی ہیں ۔ فاصلے سمٹ رہے ہیں ۔ گھروں میں مل بیٹھنے کی روایت دوبارہ قائم ہو رہی ہے۔ باقی سوچ کا زاویہ ہے، ان حالات میں بہت سے خوش نہیں بھی ہوں گے، لیکن کامیابی کا ایک اصول ہے کہ تبدیلی کا خیر مقدم کیا جائے۔” آڈیپٹ ٹو دا چینج” ۔ تبدیلی فطری عمل ہے اور ہم بھی فطرت کا ہی حصہ ہیں ۔

معلوم ہوتا ہے لاک ڈاؤن نے جیسے سب کو ناک ڈاؤن ہی کر دیا ہو ۔کیوں نہ ہو ،چیونٹی ہا تھی کے ناک میں جو چڑھی ہوئی ہے۔ مرنے کے ڈر سے مارنے والے بھی دم سادھے  پڑےہیں ۔ بہت خاموشی ہے ۔۔ کوئی بازار ، کوئی مدارس سر گرم نظر نہیں آ رہے ۔   ۔ شیر اور بکری  آج کل ایک ہی گھاٹ کا پانی پی رہے ہوں جیسے۔ ابھی تک تو خدا کی پناہ ! دیکھتے ہیں  آگے  آگے ہوتا ہے کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اب کہ جو یہ تبدیلی آئی ہے اس کے منفی اثرات بہت عرصے تک روح ِ زمین سے نہیں جائیں گے لیکن اس کی بدولت جو مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اس پہ انسانیت قائم رہ جائے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *