• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • چیئرمین سی پیک اتھارٹی کی بطور معاون خصوصی اطلاعات تقرری بمقابلہ سی پیک فیز 2 پیش رفت؟۔۔ غیور شاہ ترمذی

چیئرمین سی پیک اتھارٹی کی بطور معاون خصوصی اطلاعات تقرری بمقابلہ سی پیک فیز 2 پیش رفت؟۔۔ غیور شاہ ترمذی

وزیر اعظم عمران خان کے اہم ترین فیصلوں میں سے ایک گزشتہ روز تاریخ کے پنوں پر رقم ہوا ہے کہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کے عہدہ پر تقرر کر دیا گیا ہے- اپوزیشن راہنماؤں کے ابتدائی ردِعمل کا خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ جنرل صاحب کی بطور معاون خصوصی اطلاعات تقرری سے وزارت اطلاعات کے تمام اہم امور انہی کی نگرانی میں سر انجام دئیے جائیں گے مگر سیاسی حکومت کی اتھارٹی کو بظاہر سامنے رکھنے کے لئے وفاقی وزیر اطلاعات کے طور پر تحریک انصاف کے سینٹ میں پارلیمانی لیڈر شبلی فراز کو تعینات کیا گیا ہے- وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کے طور پر جنرل عاصم سلیم باجوہ سے پہلے ذمہ داری محترمہ فردوس عاشق اعوان نبھا رہی تھیں جن پر مبینہ طور پر کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے کے کچھ الزامات کی بازگشت کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے- تحریک انصاف سے پیچھے ہٹنے والوں یا نکال دئیے جانے والوں کی قسمت میں سوشل میڈیا ٹرولنگ تو تاریخی ہوا کرتی ہے، اس لئے فردوس عاشق اعوان بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں- جس پارٹی اور حکومت کے دفاع کے لئے وہ زوروشور سے ہفتہ وار اور دھواں دار پریس بریفنگز کیا کرتی تھیں، اسی پارٹی کے سوشل میڈیا پہلوانوں نے ان پر سرکاری اشتہارات میں کمیشن لینے، ایک سے زیادہ گاڑیاں استعمال کرنے اور پی ٹی وی میں کچھ لوگوں کی بھرتی کے الزامات لگا دئیے ہیں جبکہ ابھی اس عہدہ سے ان کی علیحدگی کو چند گھنٹے ہی ہوئے ہیں-

یہاں محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ کی صفائی دینا مقصود نہیں ہے مگر سرکاری اشتہارات کی ادائیگیوں میں دس فیصد کمیشن طلب کرنے کی الزام کی حقیقت یہ ہے کہ یہ حق خدمت اشتہاری ایجنسیاں اور ادارے ہر وزیراطلاعات کو خود پیش کرتے ہیں- اسی لئے جناب شیخ رشید صاحب ہر دور حکومت میں ہمیشہ وزیر اطلاعات و نشریات بننے کی ہر ممکن کوشش کیا کرتے ہیں- سینئر کالم نگار جناب محترم حیدر جاوید سید کا کہنا ہے کہ پاکستان کی گزشتہ 40 سالہ سیاسی تاریخ میں صرف مشاہد حسین سید اور قمر زمان کائرہ ہی وہ وزیر اطلاعات رہے ہیں جنہوں نے پوری حقارت کے ساتھ یہ کمیشن لینے سے انکار کیا ۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات جیسے اہم عہدہ کے طور پر ایک سے زیادہ گاڑیوں کا استعمال بھی کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے کیونکہ کئی غیر اہم اور نا منتخب افراد کسی قسم کا اختیار یا استحقاق نہ ہونے کے باوجود بھی اسلام آباد اور لاہور میں سرکاری گاڑیاں لئے پھرتے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے یا اس کی نشاندہی کرنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتا- اسی طرح پی ٹی وی میں معاون خصوصی برائے اطلاعات کی طرف سے اضافی ملازمتیں دینا بھی کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے کیونکہ محترمہ فردوس عاشق اعوان نے سیالکوٹ اور راولپنڈی کے صرف 7 افراد کو ہی درجہ چہارم اور درجہ دوئم کے مساوی کے طور پر نوکری دی تھی-

پھر محترمہ فردوس عاشق اعوان کو ہٹائے جانے کی اصل وجہ کیا ہو سکتی ہے؟- اس ملین ڈالر سوال کے جواب میں کچھ ماہرین کا تجزیہ یہ ہے کہ محترمہ فردوس اعوان کی حد سے زیادہ سخت گوئی کو کچھ اہم پارلیمانی معاملات کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ سمجھا جارہا تھا- مقتدرہ کا خیال ہے کہ فردوس اعوان صاحبہ کی نااہلی کی وجہ سے میڈیا کا ایک حصہ فوج پر تنقید کررہا ہے اور وہ اسے روکنے یا قابو کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہیں- اس لئے جنرل( ر) عاصم سلیم باجوہ کو مشیر اطلاعات بنوایا گیا تاکہ میڈیا کے ناراض ” دوستوں ” کو کسی طرح منایا جا سکے ۔ جنرل (ر) عاصم باجوہ صاحب کی چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے بغیر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات جیسے اہم عہدہ پر تعنیاتی سے درج ذیل کچھ سوالات پیدا ہونا فطری ہیں:-

1- توقعات اور پیشین گوئیوں کے برعکس چیئرمین سی پیک اتھارٹی کوئی ایسی کل وقتی ذمہ داری نہیں ہے کہ بندہ جزوقتی طور پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات جیسی دوسری ذمہ داری سرانجام نہ دے سکے-

2- وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بھی ایسی مصروفیت والی ذمہ داری نہیں ہے کہ بندہ اس کے ساتھ ساتھ51ارب ڈالر مالیت سے زیادہ والے سی پیک منصوبہ کے چیئرمین کی ذمہ داری نہ سنبھال سکے-

راقم کو ہرگز اپنے محترم جنرل (ر) عاصم باجوہ صاحب کی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں ہے کہ وہ دونوں ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے اہل نہیں ہیں کیونکہ جنرل صاحب نے آرمی کیرئیر میں کور کو کمانڈ کرنے کا کماحقہ تجربہ بھی حاصل کیا ہوا ہے اور بطور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی @ آئی ایس پی آر) تعیناتی کے دوران انہوں نے میڈیا اور مسلح افواج کے مابین ایک ایسے “عمرانی” نظم و نسق کی بنیاد رکھی کہ جسے جنرل آصف غفور نے بام عروج پر پہنچا دیا تھا- جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ یقیناً ہر دو ذمہ داریوں کے لئے کماحقہ سب سے موزوں انتخاب ہیں مگر دونوں اہم ترین پوزیشنیں بیک وقت سنبھالنے کےلئے موزوں ہونے کے معاملہ پر راقم کو اعتراض ہے- ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں یہ صورتحال واضح ہو جائے کہ آیا جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ چئیرمن سی پیک اتھارٹی والی ذمہ داری سے دستبردار ہوتے ہیں یا اسے بھی معاون خصوصی برائے اطلاعات کے ساتھ چلانے کی کوشش کرتے ہیں- بظاہر یہ بہت مشکل ہے مگر اس ضمن میں فیصلہ خود جنرل صاحب کو ہی کرنا ہو گا کہ وہ کیسے اور کیونکر یہ دونوں ذمہ داریاں سر انجام دیں گے؟-

یاد رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے پہلے ہی 51ارب ڈالر مالیت کے سی پیک پراجیکٹ کے فیز 2 پر پیش رفت کے حوالہ سے سوالات اٹھ رہے تھے- اپنی شروعات سے اب تک سی پیک منصوبہ کے مختلف پراجیکٹس میں 11ارب ڈالر کی لاگت والے 13 منصوبے مکمل ہو جکے ہیں جبکہ 21 ارب ڈالر لاگت کے دیگر 13پراجیکٹس پر کام کی پیش رفت جاری تھی۔اس کے ساتھ اضافی 21 ارب ڈالر کی لاگت کے پراجیکٹس پر ابھی چین سے گفت و شنید جاری تھی کہ کورونا وائرس نے سارے معاملات کو چوپٹ کر کے رکھ دیا- سی پیک میں جو منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے یا بوجوہ شروع ہی نہیں کیے جا سکے، ان کا اجمالی جائزہ درج ذیل ہے:-

1۔ گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے پر کام کی پیش رفت 46فیصد تک مکمل ہو چکی ہے جبکہ بقیہ کی تکمیل کے بعد انہیں فعال کیا جائے گا۔ اسی طرح گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پاکستان کا سب سے بڑا ایئرپورٹ ہوگا جسے چینی گرانٹ سے مکمل کیا جائے گا۔ گوادر اپ گریڈیشن منصوبوں کی منظوری تو مسلم لیگ نون کے دور میں ہو چکی تھی تاکہ بندرگاہ کی استطاعت بڑھائی جاسکتی-

2- سال 2020ء میں پاکستان میں 10 ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گریڈ میں شامل ہوگی جس میں 5 ہزار سی پیک منصوبوں سے آنی ہے- سی پیک کے تحت ٹرانسمشن لائن کے منصوبے کو منظوری مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں ہو چکی تھی – اس ٹرانسمشن لائن کے ذریعہ ملک کے جنوب میں پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گریڈ میں شامل ہونی تھی مگر کام کی شروعات کو عمران خان حکومت کے ایک اور معاون خصوصی عبدالرزاق داؤد کی مبینہ مداخلت کے بعد روک دیا گیا تھا-

3- ملک کے شمال میں بجلی کے دیگر منصوبوں پر فروری 2020ء میں دوبارہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ ہوا تھا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے یہ تعطل کا شکار تھے- اس ضمن میں دریائے سندھ پر پن بجلی پیدا کرنے کے اہم منصوبے بھاشا ڈیم پر کام آگے بڑھانے کے لئے گروپ تشکیل دے دیا گیا تھا لیکن اس کی رپورٹ وزارت بجلی کی فائلوں میں گردوغبار کا شکار ہے-

4- ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے دو بڑے منصوبےملتان , سکھر اور حویلیاں تاکوٹ کے KH منصوبوں پر کام کی رفتار تقریباً تکمیل کے نزدیک ہی ہے مگر نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر یہ تکمیل نہیں ہو رہی- اس سربستہ راز سے بھی پردہ اٹھائے جانے کی شدید ضرورت ہے-

5- کراچی تا پشاور ایم ایل ون ریلوے کی اپ گریڈیشن منصوبے کی جلد تکمیل پر اصولی اتفاق کیا گیا تھا جس کے لئے اس سال جنوری میں چین کے وفد نے پاکستانن کا دورہ کرنا تھا تاکہ اس منصوبہ کی حتمی منظوری پر بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکتا لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے یہ معاملہ بھی آگے نہیں بڑھ رہا-

6- سی پیک پر بنے جے سی سی ادارہ نے ملک کے چاروں صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں ریل بیسڈ ماس ٹرانزٹ منصوبوں کی منظوری دی تھی- ان میں گریٹر پشاور ماس ٹرانزٹ، کراچی سرکلر ریلوے،کوئٹہ ماس ٹرانزٹ کے ساتھ ساتھ اورنج ٹرین لائن لاہور منصوبے کو بھی سی پیک کے فریم ورک میں شامل کیا گیا تھا- اورنج لائن ٹرین منصوبہ تو تکمیل کے نزدیک بھی پہنچ چکا لیکن ایک دور میں چین کی جانب سے پاکستان کے تمام صوبوں کے عوام کیلئے بڑا تحفہ سمجھے جانے والے ماس ٹرانزٹ کے یہ منصوبے بھی تحریک انصاف حکومت کے غیض و غضب کا شکار ہیں-

7- سی پیک کے اعلی بورڈ جے سی سی میں قراقرم ہائی وے تاکوٹ تا رائی کوٹ ایک سو چھتیس کلومیٹر شاہراہ کی بحالی پر اتفاق ہونے کے ساتھ ساتھ خضدار بسیمہ شاہراہ کے اہم منصوبے کی منظوری بھی دی گئی تھی لیکن ان سب کا کیا بنا؟، اس بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے-

8- اسی طرح ڈیرہ اسمعیل خان ژوب روڈ کو دو رویہ کرنے کا منصوبہ بھی مسلم لیگ نون کے دور میں ہی منطور ہوا تھا مگر اس پر کتنا عمل درآمد ہو چکا ہے، اس سے عامۂ الناس کو۔ آگاہ کرنا چاہیے-

9- مسلم لیگ نون کے دور میں صوبوں کی جانب سے بھیجے گئے منصوبوں میں کیٹی بندر سی پورٹ، نوکنڈی ماش خیل، چترال سے چکدرہ اور میر پور مانسہر روڈ منصوبے کی اصولی منظوری دی گئی تھی- ٹیکنیکل فیزیبلٹی اورمزید ہوم ورک کے لئے یہ منصوبے ٹرانسپورٹ جائنٹ ورکنگ گروپ کو ریفر کردئیے گئے تھے مگر ان کا کیا بنا؟- حضور، کچھ تو بتائیں-

10- صرف گوادر کے حوالہ سے ہی بات کی جائے تو پہلے بیان کیے پراجیکٹس کے علاؤہ گوادرمیں 300 میگا واٹ بجلی کے منصوبے کی منظوری بھی ہوئی تھی، گوادر واٹر سپلائی سیکم پر فوری کام شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، گوادر ماسٹرپلان کو مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تاکہ گوادر کی گروتھ ان پلانڈ نہ ہو، گوادر فری زون و پورٹ ڈیویلپمنٹ کے مختلف منصوبے پر کام تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، گوادر کے اندر ماہی گیروں اور کشتی بنانے والوں کے روزگار کے لئے پراجیکٹ بنانے کی ترجیح طے کی گئی تھی, گوادر ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر کے کام کو جلد تکمیل تک پہنچایا جانا تھا- ان سب کا کیا بنا اور آئندہ کیا ہوگا؟ پر سوالات تشنہ جواب ہیں-

11- انڈسٹریل کو آپریشن کے تحت صوبوں کی جانب سے منتخب زونز کی شمولیت کاجو فیصلہ ہوا تھا- اس کے تحت ابتداء میں رشکئی اکنامک زون، چائنہ اکنامک زون دابیجی ، بوستان اکنامک زون، چائنہ اکنامک زون شیخوپورہ، گلگت مخنداس ، اسلام آباداورپورٹ قاسم میں سٹیل میل کی اراضی پرانڈسٹریل پارک ، کشمیر میں بھمبر صنعتی زون اورمومند ماربل انڈسٹریل زون کے مقامات کی نشاندہی ہوئی تھی- اس ضمن میں نجی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے چینی وفد کی امسال پاکستان آمد متوقع تھی- امید ہے کہ ترجیحات میں یہ معاملہ اب بھی شامل ہو گا-

12- کوئٹہ واٹر سپلائی سکیم اور سٹیل میل کمپلیکس چینوٹ کی فزیبلٹی پر کام شروع ہونے کے بارے میں بھی عامۂ الناس کو آگاہ کیا جانا چاہیے-

13- سی پیک فیز 2 کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ہی چین نے رضامندی دی تھی کہ وہ 5 شعبوں کے اندر ٹرانسفر آف نالج اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کرے گا جس میں انڈسٹریل زون، رورل و اربن ڈیویلپمنٹ، ایگری کلچر، نوکریاں پیدا کرنے کے طریقے اور واٹر ریسروسز مینجمنٹ شامل تھی- سی پیک میں تعمیراتی کاموں اور پراجیکٹس کے ساتھ ساتھ ان امور کی طرف بھی ترجیحات باقی رہنی چاہئیں-

14- سی پیک کو انفراسٹرکچرو انرجی کے شعبے سے آگے بڑھاتے ہوئے ثقافت، زبان اور آرٹس تک بڑھانے پر بھی پاکستان اور چین کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہوا تھا- اس کے تحت چین نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ و ایمرجنسی رسپانس کے لئے تربیت فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی- کورونا وائرس سے بڑی ڈیزاسٹر مینجمنٹ و ایمرجنسی رسپانس کیا ہو سکتی ہے؟- ہمیں چاہیے کہ اس اہم ترین موقع پر چین سے یہ مدد لینے میں دیر نہ کریں –

سی پیک فیز 2 میں زیرتکمیل پراجیکٹس اور اگلے ممکنہ پراجیکٹس کی تفصیلات دیکھنے کے بعد راقم کی طرح آپ بھی متفق ہوں گے کہ دوست ملک چین اور پاکستان کے اس اہم ترین پراجیکٹ کے اندر عشق کے امتحانات بہت طویل ہیں- اتنے زیادہ زیرتکمیل پراجیکٹس والے ملٹی بلین ڈالر پراجیکٹ کے چیئرمین کے لئے تو سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں ہو گی- بےشک کورونا وائرس کے حملوں کی وجہ سے یہ پراجیکٹ فی الحال تعطل کا شکار ہے لیکن کیا کورونا پر کنٹرول پا لینے کے بعد بھی یہ پراجیکٹ اسی زوروشور اور ولولہ سے دو بارہ شروع ہو سکے گا جیسے اس کی شروعات ہوئی تھی؟- یہ وہ سوال ہے کہ جس کا کوئی جواب تب تک نہیں دیا جا سکتا جب تک کورونا وائرس قابو میں نہیں آتا اور دنیا میں معمول کی زندگی دوبارہ شروع نہیں ہوتی- ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس نے نظام زندگی اور کاروبار کرنے کی تھیوریوں کو اتھل پتھل کر دیا ہے اس لئے سی پیک جیسے منصوبوں پر کام فوراً  شروع ہونے کے امکانات بہت محدود ہیں- شاید یہی وجہ ہوگی کہ دوربیں نگاہ رکھنے والے جنرل (ر) عاصم باجوہ نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کی پوزیشن قبول کر کے اپنے لئے کل وقتی اور فوری مصروفیت قبول کر لی ہو-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *