ملکہ سونم۔۔ربیعہ سلیم مرزا

کئی سو سال پہلے کا ذکر ہے، جب زمین پر اتنی آبادی نہیں تھی ۔لوگ کم تھے، پیڑ، پھول، پودے، جانور، پرند اور چرند زیادہ تھے ۔ پہاڑوں کے درمیان، ہر طرف گھنے جنگل پھیلے تھے۔اس جنگل کے بیچوں بیچ ایک بادشاہ شاہان کا سنہری محل تھا ،جب سورج جاگتا اسکی کر نیں محل کو اور سنہرا کر دیتیں  ۔ محل کے چاروں طرف بسےجنگلا ت پر شاہان کی حکومت تھی ۔ شاہان بادشاہ جنگل میں بسنے والی تمام مخلوق کی زبان جانتا تھا۔یہ علم اس نے اپنی بیٹی سونم کو بھی سکھایا ۔بادشاہ کے مرنے کے بعد اسکی لاڈلی بیٹی سونم اسی خصوصیت کی وجہ سے اسکی جانشین بنی تھی۔
۔ملکہ سونم اتنی خوبصورت تھی کہ جانور بھی اسے دیکھ کر مسحور ہو جاتے ۔سورج کی روشنی میں اس کی آنکھوں کا رنگ کبھی نیلا لگتا، کبھی بلوری اور کبھی کر نچی ۔ صبح جب وہ اپنے پالتو موروں کے ساتھ جھیل کنارے سیر کرتی اور کبھی تھک کر پانی پر اپنے بال پھیلا دیتی تو پانی میں تیرتی مچھلیاں اسے دیکھنے رک جاتیں۔ملکہ سونم کے سنہرے تخت میں نیلم اور سرخ یاقوت جڑے تھے۔ ان پر صبح کی روشنی پڑتی تو کمرے میں ایک طلسم سا پھیلتا۔ اس کا پیارا مور ” مینو” اس کے سرہانے آ بیٹھتا اور اپنی چونچ میں ایک قطرہ پانی بھر کر ملکہ کے رخسار پر ٹپکاتا اور ملکہ جاگ جاتی۔ اس طلسماتی ماحول میں ملکہ اور رعایا کی زندگی سکون سے گزر رہی تھی ۔ہر جنگل پر ایک ببر شیر وزیر مقرر تھا۔ سدھائے ہوئے جانوروں کی ایک فوج اس مملکت کی حفاظت کرتی۔
جہاں خیر ہو وہاں شر بھی ہوتا ہے ۔کئی دنوں سے ملکہ کی مشیر خاص اور پیغام رساں لومڑی بی محل میں آجا رہی تھی ۔اطلاع تھی کہ پورب والے جنگل میں، کچھ بھیڑیے معصوم جانوروں کو کھا رہے ہیں ۔ملکہ کو مسلسل شکایات ملنے لگیں ۔جنگل کا فوجی دستہ انہیں ابھی تک پکڑ نہیں پایا تھا۔
سونم ملکہ کو بہت غصہ آیا ۔اس نے اپنے تربیت یافتہ بندروں کو جاسوسی کے لئے بھیجا۔جب بھیڑیوں کا پتہ ٹھکانا معلوم ہو گیا تو ملکہ نے وزیر مملکت ببر شیر کو بھیجا کہ بھیڑیوں کو گرفتار کر لائے ۔ ایک گھمسان کی جنگ کے بعد ببر شیر نے بھیڑیوں کو گرفتار کرلیا گیا ۔اگلے دن جب ملکہ دربار میں پہنچی، شیر ببر نے دھاڑ کر ملکہ کی آمد کا اعلان کیا ۔جب ہر طرف خاموشی چھا گئی تو کوئل نے اپنی مدھر کوک میں حمدو ثنا بیان کی۔بھیڑیوں کوملکہ کے حضور دربار میں پیش کیا تمام جانور دربار میں موجود تھے۔۔بھیڑیے ملکہ کو دیکھ کر غرانے لگے تو اسے بہت غصہ آیا۔ ۔ملکہ بولی، ” تم نہیں جانتے ہماری مملکت میں جانوروں کو مارنا گناہ ہے پھر بھی تم سب نے اتنے جانور ہلاک کر دیے ”
تمہاری اتنی جرات! معصوم جانوروں کو مارنا کہاں کی بہادری ہے!
تو بھیڑیوں نے اکڑ سے جواب دیا ۔”ملکہ عالیہ، گوشت ہماری خوراک ہے ۔ہم گھاس پھوس نہیں کھا سکتے “یہ ہماری فطرت ہے۔
اس جواب پر ملکہ نے دل میں سوچا کہ بھیڑئیے کہہ تو ٹھیک رہےہیں مگر انصاف کا تقاضہ ھے کہ جنگل میں امن و امان قائم رکھا جائے ۔۔اور ہر حال میں انصاف ہونا چاہیے۔ملکہ نے حکم دیا!
بھیڑیوں کو تمام عمر کے لئے قید خانے میں ڈلوا دیا۔اور ان کو گھاس پھوس سبزیاں کھلانے کی ہدایت کی۔
جب بھیڑیوں نے یہ سزا سنی تو معافی مانگنے لگے۔
مگر ملکہ نے ایک نہ سنی اور ا ن کو قید میں ڈلوا دیا۔تا کہ
۔اس سے تمام جانوروں کو بھی سبق ملے۔
کہ انصاف ہمیشہ طاقتور قائم کرتا ہے ۔
سنا ہے اس کے بعد اس جنگل میں بھیڑیوں کی کئی نسل سبزیوں پہ پلتی رہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *