• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • یونیورسٹیوں کا المیہ اور کالم نگاری کے زریں اصول۔۔عاطف حسین

یونیورسٹیوں کا المیہ اور کالم نگاری کے زریں اصول۔۔عاطف حسین

“یونیورسٹیوں کا المیہ” کے نام سے چھپنے والا ایک کالم بحث ومباحثے کا موضوع بنا ہوا ہے۔ کالم نگار موصوف چونکہ ایک مشہور کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اور مشہور کالم نگار کے فرزند اور خیر سے بیوروکریٹ بھی ہیں لہذا یہ کالم عقل و دانش اور جدید کالم نگاری کی جملہ خوبیوں کا نہایت حسین نمونہ ہے۔

زیرِ بحث مسئلے کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جاچکا ہے لیکن بدقسمتی سے کسی نے بھی اس پہلو پر غورنہیں کیا کہ معیاری کالم نگاری کا اعلیٰ نمونہ ہونے کی وجہ سے اس کالم میں نوجوان کالم نگاروں کے سیکھنے کیلئے بہت کچھ ہے۔ اس کالم کی تمام خوبیوں کا احاطہ اس کمترین تو کجا کسی بھی فانی انسان کے بس کی بات نہیں لیکن مشتے نمونہ ازخروارے کے طور پر کچھ خوبیاں نوجوان کالم نگاروں کی تربیت کی نیت یہاں بیان کی جارہی ہیں۔

اچھی کالم نگاری کے پہلے زریں اصول کے مطابق کالم نگار موصوف نے کالم کیلئے ایک پیچیدہ موضوع چنا جس کے متعلق انہیں خود بھی کوئی علم نہیں ۔ کالم نگار چونکہ عوام و خواص سب کی رہنمائی پر مامور ہوتا ہے لہذا ہر مسئلے اور خصوصاً ان مسائل پر جو پیچیدہ اور ٹیکنیکل ہوں، اس کا قلم اٹھانا نہایت ضروری ہوتا ہے ،تاکہ وہ عوام و خواص کی رہنمائی کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوسکے۔ موضوع کی مختلف جہتوں اور نزاکتوں سے عدم واقفیت نہ صرف یہ کہ اس موضوع پر خامہ فرسائی نہ کرنے کا جواز نہیں بن سکتی بلکہ یہ مثبت طور پر اس موضوع پر لکھنے کا جواز ہوتی ہے۔ کالم نگار کیلئے پیچیدہ موضوعات پر قلم نہ اٹھانا اور اسے صرف ماہرین اور موضوعات سے واقفیت رکھنے والوں پر چھوڑ دینا باعث ننگ اور خدا کی طرف سے تفویض کردہ ہر معاملے میں عوام و خواص کی رہنمائی کی ذمہ داری سے پہلو تہی کے مترادف ہے۔

کالم نگاری کے دوسرے زریں اصول کے مطابق کالم نگار موصوف نے انٹرنیٹ سے اٹھا کر کچھ اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ کالم نگار کیلئے اعداد وشمار کی بنیاد پر بات کرنا نہایت ضروری ہے۔ کچھ نا معقول لوگ ان اعداد و شمار کی “صحت” اور “درست تشریح” کی بات کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً فاضل کالم نگار نے امیپیکٹ فیکٹر جیسے بے کار تصور کو فضول ثابت کرنے کیلئے بتایا کہ بارہ امیپکٹ فیکٹر جرنلز تو اکیلے گوجرانوالہ سے نکلتے ہیں تو لوگوں نے اس دعوے کی صحت پر سوال اٹھانے شروع کردیے۔ اسی طرح جب انہوں نے یہ کہہ کر کہ مالدیپ جی ڈی پی کا گیارہ اعشاریہ دو فیصد تعلیم پر خرچ کرنے باوجود بھی سویڈن جیسا تعلیمی معیار حاصل نہیں کرپایا جو کہ جی ڈی پی کا صرف چھ اعشاریہ چھ فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے یہ ثابت کیا کہ معیار تعلیم کا اس پر خرچ کی جانے والی رقم سے کوئی تعلق نہیں ہے تو یہی نا معقول لوگ کہنے لگے کہ یہ اعداد و شمار کی درست تشریح نہیں ہے کیونکہ مالدیپ کی جی ڈی پی تھوڑی ہے اور سویڈن کی زیادہ۔ اور سویڈن کی جی ڈی پی کا چھ اعشاریہ چھ فیصد بھی مالدیپ کی جی ڈی پی کے گیارہ اعشاریہ دو فیصد سے کئی گنا زیادہ بنتا ہے۔ اس رقم کو اگر پھر کل آبادی پر تقسیم کرکے دیکھا جائے تو سویڈن مالدیپ کے مقابلے میں ایک شہری کی تعلیم پر کئی گنا زیادہ خرچ کرتا ہے۔ اچھے کالم نگار کو اس طرح کے نامعقول لوگوں کی باتوں پر قطعاً دھیان نہیں دینا چاہیے۔ کالم نگار کا مقام اس سے بہت بلند ہے کہ وہ ڈسپنسروں اور نرسوں کی طرح کسی چیز کی صحت جانچتا پھرے یا سکول کے بچوں کی طرح اوسط وغیرہ جیسے چھوٹے چھوٹے تصورات پر توانائی ضائع کرتا رہے۔ کالم نگار کا کام عوام و خواص کی ہر معاملے میں فیکٹس اینڈ فیگرز کے ذریعے راہنمائی کرنا ہے۔

کالم نگار کی ذمہ داری چونکہ عوام و خواص کی رہنمائی کرنا ہوتی ہے اس لیے کالم نگاری کا تیسرا زریں اصول یہ ہے کہ قارئین کوسادہ ترین حقائق اور ہر چیز کی سادہ اور اپیل کرنے والی وجوہات بتائی جائیں۔ اس اصول کے مطابق فاضل کالم نگار نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے برے معیار کو واضح کرنے کیلئے اور اس کا سبب بتانے کیلئے لکھا کہ کوئی پاکستانی یونیورسٹی یونیورسٹیوں کی عالمی رینکنگ میں نہیں آتی اور اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی جامعات محض ڈگری دینے والی مشینیں بن چکی ہیں جبکہ دنیا میں یونیورسٹیوں کا مقصد تحقیق کا فروغ اور جستجو کی لگن ہوتا ہے تو لوگوں کو گمراہ کرنے والوں نے پھر عجیب عجیب باتیں شروع کردیں۔ مثلاً یہ کہ یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ رینکنگ کرنے کے طریقے بذات خود متنازعہ ہیں اور انکا ایک نقصان یہ ہے کہ یونیورسٹیاں تعلیم کا معیار حقیقی طور پر بڑھانے کے بجائے صرف ان اشاریوں کو کسی نہ کسی طرح بہتر کرنے کی دوڑ میں لگ جاتی ہیں جو انہیں بہتر رینکنگ دلا تے ہیں لہذا رینکنگ معیار کا اکیلا پیمانہ نہیں ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ کہنا شروع ہوگئے کہ یہ کہنا کہ یونیورسٹیاں صرف ڈگریاں بانٹنے کی مشیینیں بن گئی ہیں ایک جذباتی، سطحی اور ضرورت سے زیادہ سادہ سی بات ہے اور برے تعلیمی معیار کی وجہ بے شمار قانونی، انتظامی اور معاشرتی عوامل ہیں لہذا معیار کو صرف وی سی کی لگن وغیرہ سے نہیں بڑھایا جاسکتا۔ کچھ شرپسند عناصر تو یہ بھی کہنا شروع ہوگئے کہ ترقی یافتہ دنیا میں بھی یونیورسٹیاں سارے آئن سٹائن ہی پیدا نہیں کررہی ہیں اور ان ممالک سے پڑھ کر آنے والے بھی کئی ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے بس لہجہ بگاڑنا ہی سیکھا ہوتا ہے۔ کچھ نے تو خود کالم نگار موصوف کے حق میں لکھنے والی ایک خاتون کی مثال دینی شروع کردی کہ دیکھیں یہ خاتون بھی ایک ترقی یافتہ ملک کی یونیورسٹی سے پڑھ کر آئی ہیں لیکن میچورٹی انہیں چھوکر نہیں گزری اور وہ بس اسی ہوا میں ہیں کہ وہ امریکہ سے پڑھ کر آئی ہیں۔ ان سب شرپسندوں کا سارا زور اسی بات پر ہے کہ چیزیں اتنی سادہ نہیں ہوتیں جتنی کہ وہ اخباری کالموں میں نظر آتی ہیں۔ اس قسم کے لوگ محض شر پسند ہیں جو لوگوں کو گمراہ اور کنفیوز کرنا چاہتے ہیں۔ کالم نگاروں کو انکی باتوں پر قطعاً دھیان نہیں دینا چاہیے اور عوام و خواص کی سادہ تشریحات کے ذریعے صحیح رہنمائی کرتے رہنے چاہیے۔ اگر کالم نگار بھی ایسی پیچیدہ باتیں شروع کردے تو اس میں اور ان شرپسندوں میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔

اوپر جن شرپسندوں کا ذکر ہوا ہے وہ انتہائی خطرناک لوگ ہیں جو عظیم کالم نگاروں پر اعتراضات کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو انتہائی گمراہ کن اور خطرناک مشورے بھی دیتے رہتے ہیں۔ مثلاً یہ لوگ کہتے پھرتے ہیں کہ تحریر میں ایک داخلی ربط ہونا چاہیے یعنی لکھنے والا جو بات شروع میں لکھے آخر میں خود اسی کی تردید نہ کردیا کرے۔ یہ آزادی اظہار کو محدود کرنے کی ایک مذموم سارش ہے لہذا کالم نگار پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام و خواص کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ آزادی اظہار کے عملی چمپیئن کے طور پر اپنی تحریروں میں متضاد باتیں کرکے آزادی اظہار کی عملی مثال قائم کرے۔ اسی لیے فاضل کالم نگارنے بھی کالم نگاری کے اسی زریں اصول پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پہلے پورا زورقلم یہ ثابت کرنے میں صرف کیا کہ فنڈز کا تعلیمی معیار کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور پھر آخر میں آزادی اظہار کے حق کی کی حمایت کی عملی مثال قائم کرنے کی خاطر یہ لکھا کہ “یونیورسٹیوں کی تعداد کو نصف کرکے حاصل ہونے والے پیسوں کو بقیہ جامعات کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے دے دیا جائے، گویا جو یونیورسٹی بہتر کارکردگی دکھائے ایچ ای سی اُسے اُتنی ہی زیادہ گرانٹ دے، اس سے مقابلے کی فضا بھی پیدا ہوگی اور معیار بھی بہتر ہوگا۔” یہ ایک لائق تقلید مثال ہے۔ تمام کالم نگاروں کو آزادی اظہار کے حق کی عملی حمایت کا ثبوت اسی طرح دینا چاہیے۔

اس عظیم کالم میں کالم نگاری کے مزید زریں اصول بھی موجود ہیں لیکن اگر نوجوان کالم نگار ان چار سنہری اصولوں کا ہی التزام کرلیں تو بڑے کالم نگاروں کی صف میں شامل ہوسکتے ہیں۔ انتہائی خوشی کی بات یہ ہے کہ بیشتر کالم نگار ان اصولوں پر پہلے ہی عمل پیرا ہیں اور انکی خلاف ورزی کرنے والے خال خال ہی نظر آتے ہیں۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *