سیاسی تعلیم و تربیت

سیاسی تعلیم و تربیت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسے کے ہم جانتے ہیں کے ہر ادارے میں داخلے سے پہلے اس کی بنیادی تعلیم کا ہونا اشد ضروری ہے اس کی مثال اس طرح دی جا سکتی ہے کے اگر بچے کو سکول میں داخل کروانے کے لیے جاتے ہیں تو اُس سے بنیادی چیزوں الفاظ، اشکال، اور حروف تہجی کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے ہیں اور اس کے بعد بچے کو داخلہ دیا جاتا ہے جہاں پر ان بچوں کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی کی جاتی ہے جو کہ آنے والی زندگی میں ان کے کام آتی ہے اور اسی طرح بچہ جب پڑھ لکھ کر نوکری کے لیے کسی بھی ادارے میں کسی بھی پوسٹ پر جاتا ہے تو پہلے اس کو اِس ذمہ داری کو احسن طریقہ سے سرانجام دینے کے لیے بنیادی تربیت سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ تین ماہ سے ایک سال تک کی ہوتی ہے اور اس تربیت کے بعد ہی ذمےداری اُس پر ڈالی جاتی ہے۔
الغرض کسی بھی کارہاے زندگی کو دیکھ لیں پہلے تعلیم پھر تربیت اور ان سب کے بعد ذمےداری۔ لیکن ہمارے ملک میں ایک شعبہ ایسا بھی ہے جو ان سب چیزوں سے مبراء ہے اور وہ ہے اپ کا اور ہم سب کو ہر دلعزیز شعبہ سیاست۔
سیاست ایک ایسا شعبہ جس میں ہماری بنیادی تعلیم و تربیت بالکل نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ہم اُن ہی لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں جو کے ان پڑھ ہونے کے باوجود ہمارے لیے قانون سازی کرتے اور ہم پر اسکا نفاذ بھی کرواتے ہیں۔ چلیں تعلیم کی بات تو ہی گئ اب بات کرتے ہیں تربیت کی جب ہم کسی ادارے میں کام شروع کرتے ہیں تو پہلے اس ادارے کے کام کو سیکھنے میں کچھ وقت لگتا ہے اور وہاں پر پہلے سے موجود اہلکار ان کی تربیت کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جب کوئی سیاستدان کسی بھی اسمبلی کا ممبر بنتا ہے اور اس کی کاروائیوں میں حصہ لیتا ہے جو کہ اسمبلی کے قواعد وضوابط کے مطابق چلتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اگر وہ مختلف کمیٹیوں کا حصہ یا ان کی صدارت کرتا ہے تو لا محالہ اس کی اس طرح تربیت ہو جاتی ہے کے وہ اداروں کو چلانے کی تربیت حاصل کرتا ہے۔ اور ان میں سے جو پڑھے لکھے اور سمجھ بوجھ والے ہوتے ہیں وہ جلد ہی کسی نا کسی وزارت کا قلمدان سنبھال لیتے ہیں۔
لیکن ان میں سے جو ضرورت سے زیادہ عقل مند ہوتے ہیں وہ اسی خمار میں رہ جاتے ہیں عقل مند اور ان سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور اسمبلی کی کاروائی کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے اور ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کو پر تولتے رہتے ہیں۔
لیکن کسطرح کسی بھی شعبہ زندگی میں کامیاب لوگ جب ترقی کی منازل طے کر لیتے ہیں تو اُن کے بچے اس کام کو خاندانی کاروبار کے طور پر اپناتے ہیں جیسے ڈاکڑ کے بچے ڈاکٹر استاذ کے بچے استاذ اور وہ لوگ اپنے بچوں کی تربیت بھی انہی اصولوں پر کرتے ہیں جیسے کے ہمارے حکمران خاندان اپنے بچوں کو تیار کر رہے ہیں۔
میرا یقین ہے کے پاکستان میں سیاست میں داخلے کا کوئی معیار تو نہیں لیکن اگر کوئی سیاستدان ان مراحل سے گزرتا ہے تو لامحالہ اس میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا ہوجاتی ہیں، اس لیے سیاست میں شامل ہونے والے نئے چہروں سے میری گزارش ہے کے وہ جس بھی سطح پر ہیں اس سطح پر رہ کر اپنے اپنے علاقے میں کسی بھی قسم کے انتظامی امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ ان کی صیح معنوں میں تربیت ہو کیوں کہ سیاست براۓ خدمت کا معنی تو کب کا بدل چکا ہے اور اب یہ بھی ایک بہت اچھا کاروبار بن چکا ہے۔
(حسام درانی)۔

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *