سی پیک سے بھیک مانگو۔۔جاویدحیات

جس شہر میں یہ کورونا وائرس کی وبا پھیل چکی ہے، وہاں سفر کرنا یا ٹھہرنا خودکشی کرنے کے مترادف ہے۔

اس وقت یہ وائرس کراچی اور ایران کے شہروں میں پھیل چکا ہے، اور گوادر شہر کی زندگی کا تمام دارومدار انھی دو شہروں کراچی اور چابہار سے وابستہ ہے۔ تمام اشیائے خوردونوش انھی دو شہروں سے آتی ہیں۔ کراچی اور چابہار سے آنے جانے والوں کی اسکریننگ کے بغیر اس وائرس کو شہر میں داخل ہونے کے لیے کسی بھی وقت آسان راستہ مل سکتا ہے۔

جس طرح شہر میں مکمل لاک ڈاؤن ہے، دوکانیں، ہوٹل، چائے کھانے سب بند پڑے ہیں، شہر میں شراب خانوں اور منشیات کے اڈوں پر بھی مکمل لاک ڈاؤن ہونا چاہیے!

شاہی بازار میں کریمک کا چائے کا ہوٹل بند ہے۔ جہاں غفور اور ناکو لعل صبح سے شام تک محنت کر کے اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتے ہیں۔ یہ وہ دیہاڑی دار لوگ ہیں جو کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے، جو ایک دن بھی کام نہ کریں تو ان کے چولہوں پر بھوک پکتی رہتی ہے۔ ان بیچاروں کو راشن پانی اپنی جگہ اس شہر کے شہزادے انھیں ماسک اور دستانے بھی نہیں دیتے۔ اس شہر میں لاک ڈاؤن کے دنوں میں بھی شراب خانے اور منشیات فروشی کا بازار گرم ہے۔

اسی بازار کے ایک کونے میں ماما ابراہیم اپنی پان کی دکان پر تھکے ہارے ساربان کی طرح بیٹھا ہے۔ ماما ابراہیم کا کہنا ہے کہ جس وقت بسیں نہیں چلتیں تو اپنے پان پر بھی چُونا اور کتھا نہیں لگتا، جب پان پر چونا اور کتھا نہیں لگتا تو گھر کے پتیلے پہ روٹی اور ہنڈیا میں دال نہیں پکتی۔

کام تو ہمارا بند پڑا ہے، دکان پہ چکر نہیں لگائیں گے تو سانس رک جائے گی! ماما نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔

ماما ابراہیم کو بھی راشن پانی اپنی جگہ شہر کے سیاسی پنڈتوں نے ماسک تک نہیں دیا۔

جی ڈی اے اسپتال گوادر میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے وہی اسکریننگ آلات نصب کیے جائیں جو لاہور اور کراچی کے ایئرپورٹ اور دیگر اہم مقامات پر نصب کیے گئے ہیں۔

اور سنگار ہاؤسنگ اسکیم میں ایک آئیسولیشن سینٹر قائم کیا جائے۔ کل خدانخواستہ گوادر میں کورونا وائرس کا کوئی کیس سامنے آتا ہے تو ہمارا پیرامیڈیکس عملہ بروقت ہمہ تن گوش رہے۔ صوبائی حکومت یہ اسکریننگ آلات فراہم نہیں کر سکتی تو سی پیک کے جھومر گوادر کی رونقیں بچانے کے لیے سی پیک سے بھیک مانگی جائے!

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *