معاشرتی کج رویاں اور مزاحمت۔۔۔ربیعہ فاطمہ بخاری

آج 14 فروری ہے اور 2 سال پہلے کا وقت یاد کیا جائے تو اس دن پر تقریباًقومی تہوار کا سا سماں ہوتا تھا۔ ہمارا ہر اہم بازار، ہر چوک، ہر چوراہا، ہر سپر مارکیٹ ویلنٹائن کے رنگوں میں رنگا سرخا سرخ نظر آتا۔ پھولوں کی قیمتیں آسمان کو پہنچ جاتیں، چاکلیٹس کی ریکارڈ سیل ہوتی۔ پی ٹی وی سمیت تمام ٹی وی چینلز “رنگِ محبت“ میں رنگے نظر آتے۔ پورا دن ”ویلنٹائن ڈے“ کی سپیشل نشریات کے نام پر ٹی وی چینلز پر ایک طوفانِ بد تمیزی برپا ہوتا، نسلِ نو کے نو خیز ذہنوں میں باضابطہ منصوبہ بندی کے تحت اس دن کی ” خو بصورتی اور دلکشی“ کو inculcate کیا جارہا تھا۔ یہ تو وہ سر گرمیاں تھیں جو پھر بھی کسی حد تک قابلِ قبول تھیں لیکن جو کچھ Will u be my Valentine کے ترانے نے ابنِ آدم اور بنتِ حوّا کی ذہن سازی شروع کر دی تھی وہ تباہ کن تھی۔ تفریح گاہوں اور ریستورانوں میں جو کچھ اس دن ہوتا تھا یا ابھی بھی درپردہ ہو رہا ہے وہ کوئی اتنی بھی مخفی سرگرمی نہیں کہ کسی کو اس کا ادراک نہ ہو۔ پاکستان جیسے معاشرے میں بالکل نو متعارف شدہ ”گرل فرینڈ اور بوائے فرینذ کلچر“ اسی دن کی دین ہے۔
لیکن یوں ہوا کہ جہاں یہ سب سرگرمیاں زور و شور سے جاری رہیں وہیں معاشرے کا ایک طبقہ جو کہ بلا شبہ پاکستانی معاشرے کی اکثریت کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ اس سارے عمل کے خلاف میدان میں اتر آیا۔ سوشل میڈیا وار فئیر کا دور ہے۔ جس شدّت سے اس تہذیبی کج روی کی یلغار ہوئی اسی سطح کی مزاحمت دوسری طرف سے مشاہدے میں آٸی۔ اور یوں گزشتہ سال ویلنٹائن ڈے پر ٹی وی چینلز کی سپیشل ٹرانسمیشنز اور اس طرح کی دیگر سرگرمیوں پر پابندی لگ گئی۔ یوں اس طوفانِ بدتمیزی کے آگے بند بندھتا نظر آیا۔ اس مزاحمتی عمل میں جہاں ”سسٹرز ڈے“ جیسی بونگیاں بھی ماری گئیں جو ویلنٹائن کا ایک سراسر مضحکہ خیز متبادل ہے۔وہیں بہت سی مثبت سرگرمیاں بھی اس حوالے سے دیکھنے کو ملیں۔
مانا کہ مرد اور عورت میں کشش ایک بالکل فطری جذبہ ہے۔ یہ بھی تسلیم کہ اس جذبے کو کسی کے بھی دل و دماغ سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن کیا یہ ایک ایسا جذبہ ہے کہ اس کو شترِ بے مہار کی طرح بے لگام چھوڑ دیا جاٸے اور گھی پی کے سو جایا جائے کہ معاشرہ بالکل محفوظ ہے؟؟ ہر گزنہیں۔۔۔ انسانی جبلت یا خواہشاتِ کا کوئی بھی مظہر ہو، چاہے وہ پیٹ کی بھوک ہویا اقتدار کی یا نفسِ شہوانی کی طلب، جب تک ان جذبات کو اخلاقیات، معاشرتی اقدار و روایات، تہذیب و تمدن اور سب سے بڑھ کر مذہبی احکامات کی حدود کے اندر رکھنے کی کوشش نہیں کی جاٸے گی، ان میں سے ہر ایک کے نتائج تباہ کن ہوتے ہیں۔
میری بہت پیاری اور محترم آن لائن سہیلی مطربہ شیخ کہتی ہیں ” اگر دائیں طرف سے اتنی مزاحمت نہ ہوتی تو نہ میڈیا کامیاب ہوتا اور نہ لبرلز“ بات یہ ہے پیاری بہن کہ نیکی اور برائی ہر دور میں ہر معاشرے میں ساتھ ساتھ موجود رہی ہیں۔ جہاں موحد ہوتے ہیں وہیں ملحد بھی پائے جاتے ہیں۔ جہاں سچ کے علمبردار پائے جاتے ہیں وہیں جھوٹ کے بیوپاری بھی موجود ہوتے ہیں۔ جہاں دین اور وطن کیلئے تن من دھن وار دینے موجود ہوتے ہیں وہیں دین اور وطن دونوں سے بیزار اور نفرت کرنے والا طبقہ بھی پایا جاتا ہے۔ جہاں رحمان کے عابد ہوتے ہیں وہیں شیطان کے پجاری بھی ہوتے ہیں۔ یہ سلسلہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا لیکن یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی ﷺ سے شرارِ بولہبی
جہاں جہاں برائی کی کوئی بھی شکل کسی بھی معاشرے میں سر ابھارتی ہے وہیں زندہ معاشروں میں اس کے خلاف مزاحمت بھی سر اٹھاتی ہے۔اور یہ برائی کے خلاف مزاحمت ہی ہے جو معاشرے کو صحیح سمت میں اپنی ڈگر پر گامزن رکھتی ہے۔ میں آپ کو یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ اگر یہ مزاحمت آج مکمل طور پر ختم کر دی جائے تو چند ایک ممکنہ نتائج یہ ہو سکتے ہیں، آپ بھی ملاحظہ کریں۔ انڈیا کی طرح پاکستان میں بھی ” گے میرجز“ کو قانونی حیثیت مل جائےگی، ویلنٹائن کو قومی تہوار قرار دے کر 14 اگست کے یومِ آزادی اور عید الاضحٰی کی قربانی پر فوری پابندی عائد کر دی جائے گی۔ مطالعہٕ پاکستان میں قائدِ اعظم کی ہجو اور گاندھی جی کی ”پاکستان کیلئے خدمات اور قربانیوں“ پر مشتمل مضامین پڑھائے جائیں گے۔ ہمارے قانونِ تعزیراتِ پاکستان میں سے قانونِ تحفظِ ختمِ نبوت کو کالعدم قرار دے دیا جائے گا اور قادیانیوں کو فی الفور مسلمان قرار دیا جائے گا۔ کیونکہ آپ بھی جانتی ہیں کہ ” بائیں طرف“ کے ایجنڈے میں سرِ فہرست یہ مطالبات موجود ہیں۔
مغربی معاشرہ ایک بہت کھلا ڈلا معاشرہ ہے وہاں ایسا بہت کچھ ہے جو ہمارے یہاں شاید تصور کی آنکھ سے بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔ لیکن وہاں بھی ہم جنس پرستی، الحاد، انسسٹزم اور جیسی معاشرتی کج رویوں کے خلاف مزاحمت بہرحال پائی جاتی ہے اور کسی نہ کسی سطح پر وقتاً فوقتاً اس کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے۔ تو یہ کیسے تصور کر لیا جائے کہ ایک معاشرہ جس کی بنیاد ہی اسلامی تصورات پر استوار ہو وہاں کوئی بھی اول فول سرگرمی کسی بھی تہوار کے نام پر زبردستی مسلط کر دی جائے گی اور اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا جائے گا اور کوئی مزاحمت پیش نہیں کی جائے گی۔
ایک مسلمان پر جہاں امر بالمعروف فرض ہے وہیں نہیٕ عن المنکر بھی اسی سطح پر فرض کیا گیا ہے۔ کسی بستی پر ربِ کائنات کا عذاب نازل ہونے لگا تو اس وقت کے نبی نے التجا کی کہ مولا اس بستی میں فلاں شخص تیرا بہت بڑا عابد ہے، دن رات تیری حمد و ثنإ میں مشغول رہتا ہے کیا وہ بھی عذاب کی لپیٹ میں آئے گا؟ ارشاد ہوا کہ ہاں، اس لِئے کہ یہ خود تو نیک عمل میں دن رات مشغول رہتا تھا لیکن اس نے کبھی برائی کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ ہمارا کام نہیٕ عن المنکر کے اس فرض کے ادا کنندگان میں ربِ کائنات کی بارگاہ میں اپنا نام رجسٹر کروانا ہے۔ نتائج کا ذمہ دار وہ خود ہے۔ ہم شکوہٕ ظلمتِ شب سے بہتر یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے حصے کی شمع جلائی جائے اور وہ ہم انشإاللّٰہ آخری دم تک جلاتے رہیں گے۔

ربیعہ فاطمہ بخاری
ربیعہ فاطمہ بخاری
لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *