محبت کا جنون اور اس کا علاج۔۔عبید الرحمن عابد

اسلام عفت و پاکبازی، طہارت اور صفائی کا دین ہے۔ وہ ایسا معاشرہ تشکیل دینے کا خواہش مند ہے جس میں عفت و پاکبازی کی حکمرانی اور طہارت و نظافت کی فضا ہو۔ اسلام پاکیزہ معاشرہ تشکیل دے کر اخلاق کو جذبات وشہوات سے محفوظ رکھتا ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جذبات کو کھلا چھوڑ دینے اور جنسی آزادی کا لازمی نتیجہ اخلاق کی تباہی اور امتوں کی ہلاکت و بربادی ہے۔
اس لیے اسلام معاشرے میں صالح قوت اور بقا کے عناصر قائم رکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے ایسے قوانین وضع کرتا ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں تاکہ مسلمان بے راہ روی کی زندگی کا شکار نہ بن جائیں اور جسم و روح کے تقاضوں میں تناقض پیدا کر دے۔

یقیناً اسلام نے انسانی طبیعت کے لیے ایسے ضابطے مقرر کیے ہیں جو اس کی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ جن میں جسمانی اور روحانی ضروریات کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اس لیے اسلام کا طریقہ کار دیگر مذاہب و ادیان سے منفرد ہے۔

اسلام سے زندگی بہترین انداز میں منظم ہوتی ہے۔اور انسانیت گمراہیوں کی تباہ کاریوں سے بھی محفوظ رہتی ہے۔ محبت انسان کی فطری عادات میں سے انتہائی قوی اور اثرانگریز عادت ہے جس کے اثرات انسانی زندگی میں بہت دور رس ہیں۔

یہاں جس محبت کی بحث مقصود ہے اس کو جذباتی عشق یا چہرے کی محبت کہا جاتا ہے۔اسلام اس قسم کی محبت کا یکسر انکار نہیں کرتا کیونکہ بہرحال یہ ایک واقعاتی حقیقت ہے لیکن وہ اس کے لیےحدود وقیود مقرر کرتا ہے جسے عرف عام میں نکاح کہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جذباتی محبت کو حقیقی واقعہ کے طور پر لیا۔

ایک لونڈی کا غلام شوہر اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا لیکن لونڈی اسے پسند نہیں کرتی تھی،غلام اس لونڈی کو اپنے نکاح میں رکھنا چاہتا تھا اور اس کے پیچھے روتا پھر رہا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اسے غمگین اور پریشان دیکھ کر اس بیچارے کی سفارش کی، اس واقعہ کی تفصیل حضرت ابن عباس یوں بیان کرتے ہیں کہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا کا خاوند غلام تھا اس کا نام مغیث رضی اللہ عنہ تھا وہ حضرت بریرہ کی آزادی کے بعد اس کے پیچھے مدینہ کی گلیوں میں گھومتا پھرتا تھا اسکے آنسو داڑھی پر بہہ رہے تھے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا
‏يَا ‏‏عَبَّاسُ ‏، أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ ‏ ‏مُغِيثٍ ‏ ‏بَرِيرَةَ ‏، ‏وَمِنْ بُغْضِ ‏ ‏بَرِيرَةَ ‏ ‏مُغِيثًا ‏. ‏فَقَالَ النَّبِيُّ ‏ ‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏لبريرة:( ‏لَوْ رَاجَعْتِهِ ! قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ ، قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ‏) .
اے عباس کیا تم مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کے مغیث سے بغض پر تعجب نہیں کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش کہ  تو اس سے رجوع کر لیتی اس نے کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے حکم دے رہے ہیں آپ نے فرمایا میں تو سفارش کر رہا ہوں تو اس نے کہا مجھے اس میں کوئی حاجت نہیں ہے۔ (بخآری: ٥٢٨٣)

اہل علم   نے اس سے استدلال کیا ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جذبات محبت کو بُرا نہیں سمجھا بلکہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو مغیث کے عقد میں رہنے کا مشورہ دیا ۔انسان بےروح اور بے بدن نہیں ہے، اس کے ساتھ ساتھ عقل مصروفیت کی وجہ سے تمام مخلوقات سے ممتاز ہے، اس لئے انسان دیگر تمام مخلوقات سے زیادہ احترام کا مستحق ہے۔

انسان کے بدن میں بہت سے فطری  جذبات و احساسات ہوتے ہیں ،انکی بنیاد پر انسانی شخصیت بنتی ہے۔ان جذبات میں سب سے اہم فطری چیز محبت ہے جس کے بہت سے عوامل و اسباب ہیں۔زندگی میں جائز وحلال محبت کی زبردست اہمیت ہے اور اس کا اثر نہایت عظیم ہے جبکہ ناجائز وحرام محبت آدمی کی دنیا خراب کر کے آخرت کو بھی تباہ کر دیتی ہے کیونکہ وہ اس کو پروردگار عالم کی عبادت سے غافل اور اس کے دینی فرائض سے بہت دور لے جاتی ہے۔آدمی اللہ تعالی کی حقیقی محبت کے ذریعے چہرے کے عشق کی لعنت سے اپنے آپ کو بچاسکتا ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
انسان کسی محبوب چیز کو نہیں چھوڑ سکتا مگر اس سے زیادہ محبوب چیز کے ذریعے سے یا کسی شدید اذیت کے ڈر سے پس دل کو ناجائز محبت سے محفوظ رکھنے کے لئے صحیح محبت یا اللہ تعالی کی طرف سے شدید پکڑ کا ڈر اور خوف مدنظر رکھنا چاہیے۔( العبودية ابن تيمية:42,43)

ناجائز محبت کے خاتمے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے آپ کو اطاعت الہی کا عادی بنائے، اپنا دل فاسد محبوب کی تمنائے وصال سے خالی کر دے۔ اس طرح غلطی اور گناہ سے بچ جائے گا اور تکلیف و نقصان سے بھی محفوظ رہے گا ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ محبوب چیزیں تکالیف برداشت کیے بغیر نہیں حاصل ہوسکتیں۔ چاہے محبت صحیح ہو یا غلط، مال ، سرداری اور خوبصورتی سے محبت کرنے والے اپنا نقصان کئے بغیر اپنا مطلوب حاصل نہیں کر سکتے۔

ناجائز جذباتی حمیت(عشق) کے دینی و معاشرتی نتائج:
جذباتی محبت کا سب سے برا نتیجہ یہ ہے کہ کہ اس سے انسان کی توجہ اللہ تعالی کی ذات عالی سے ہٹ جاتی ہے اور مخلوقات ہی اس کا محور اور مرکز بن کر رہ جاتے ہیں۔امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: شکل و صورت کا عشق انہی چہروں میں جاگزیں ہوتا ہے جو اللہ تعالی کی محبت سے خالی ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالی سے سے اعراض کرتے ہوئے اِدھر اُدھر منہ مارتے پھرتے ہیں۔ جب کوئی دل اللہ تعالی کی محبت اور اس کی ملاقات کے شوق سے بھر جاتا ہے تو اسے کسی صورت کے عشق کی بیماری نہیں لگتی جیساکہ اللہ تعالی نے حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ ۚ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ .(يوسف :٢٣)
اسی طرح ہوا تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو ہٹا دیں۔بےشک وہ ہمارے خالص کیے ہوئے بندوں سے تھا۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عشق اور اس کے نتائج گناہ اور بے حیائی کو دور کرنے کا ذریعہ اخلاص ہے۔
بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ عشق اس دل کی بیماری ہے جو اپنے اصلی محبّ کی یعنی اللہ تعالی کے جمال بے مثال سے خالی ہے۔(زادالمعاد 151/3)
ناجائز محبت در حقیقت دل کی بیماری ہے جسے اللہ تعالی کی خالص محبت سے دور کیا جاسکتا ہے، اسی طرح اللہ تعالی کی عبادت اس کے احکام کی پابندی اور اس کی ہمہ وقت یاد اس بیماری کے خاتمے کا موثر ذریعہ ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بیماری کا سب سے بڑا سبب دل کا اللہ تعالی سے غافل ہونا ہے کیونکہ دل جب اللہ تعالی کی عبادت کا مزہ چکھ لے تو اسے کوئی چیز اس سے بڑھ کر لذت بخش محسوس نہیں ہوتی۔(العبودیہ لابن تیمیہ صفحہ:42)

پھر یہ عشق صرف ایک شخص ہی کے لیے بدبختی اور مصیبت کا باعث نہیں بنتا تھا بلکہ اس کا اثر پورے معاشرے میں پھیل جاتا ہے کیونکہ اس قسم کی محبت معاشرے میں بداخلاقی، بدکرداری اور حیوانیت کو جنم دیتی ہے۔ پس صحیح محبت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس مقصد سے ہم آہنگ ہو، جو انسانی تخلیق کی بنیاد ہے۔ اگر جذبہ محبت صرف طبیعت اور شہوت کے زور پر پروان چڑھے گا تو انسان انسانیت کے درجہ سے گر کر حیوانات کی طبیعت کے قریب تر ہو جائے گا، جبکہ اللہ تعالی نے انسان کو انسان بنا کر عزت بخشی ہے۔

عشق ( جذباتی محبت ) کا صحیح رخ :
اگر محبت انسانی زندگی میں اس قدر وسیع اثرات رکھتی ہے تو ضروری ہے کہ اس کا علاج کرکے اسے صحیح رخ پر ڈال دیا جائے اور اس روحانی علاج کی بنیاد درحقیقت ان امور کی اصلاح ہے جن سے محبت کے جذبے پیدا ہوتے ہیں ان امور کی تفصیل درج ذیل ہے۔
1) محبوب کی شخصیت سے مرعوب ہونا جس کی وجہ سے محبوب کو کمال انسانی کا مجسمہ سمجھتا ہے۔
2) دوستی برقرار رکھنے کی امید۔
3) محبّ اور محبوب کے باہمی راز کا انکشاف۔
4) محبّ یہ سمجھتا ہے کہ میری ساری خوش نصیبی محبوب سے تعلق قائم ہونے پر موقوف ہے۔

پہلے امر کا مقابلہ اس طرح کیا جائے کہ محبت کرنے والے کے سامنے اس کے محبوب کے عیوب و نقائص اس طرح بیان کیا جائے کہ اس کے ذہن نشین ہو جائیں۔
دوسرے امر کا مقابلہ اس طرح کیا جائے کہ اس کو جس چیز کی امید ہے اس سے مایوس کر دیا جائے کیونکہ شرعی لحاظ سے ایسے تعلقات قائم نہیں رکھے جا سکتے۔
تیسرے عنصر سے مقابلے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے باہمی راز دور کرکے لوگوں کے سامنے فاش کر دیے جائیں۔ آخری چیز کے تدارک کی تدبیر یہ ہے کہ ان نقصانات کو اجاگر نہ کیا جائے جو اس دوستی کے نتیجہ میں لامحالہ پیدا ہوں گے آگے والا بےچینی ،عقل کی ویرانی، ذہنی خلجان، دلی تکلیف، اور آرام و راحت سے محرومی وغیرہ۔باقی رہا عاشق کا یہ سمجھنا کہ میری ساری خوش نصیبی محبوب سے تعلقات استوار ہونے میں ہے تو اس کا موثر حل یہ ہے کہ اس کا فوری طور پر کسی نیک مسلمان عورت سے نکاح کر دیا جائے تو مناسب ہوگا کہ یہ عورت ایسی پرکشش خوبصورتی کی حامل ہو کہ پہلی عورت اس کی نظر میں ماند پڑ جائے۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ نے عشق کو قابل علاج مرض قرار دیا ہے، ان کے نزدیک اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔
1) اگر شرعی طور پر عشق وصالِ محبوب مہیا کیا جا سکتاتو اس کا مہیا ہو جانا ہی اس کا علاج ہے جیسا کہ بخاری میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا۔
يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ. ( بخاری :کتاب النکاح : 5065)
اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو بھی نکاح کی استطاعت کی طاقت رکھیں تو لازمی ہے کہ وہ شادی کریں اور جو استطاعت نہیں رکھتا تو اس پر لازمی ہے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ یہ اس کی شہوت کو توڑنے والا ہے۔
گویا رسول اللہ نے محبت والے کے لئے دو علاج تجویز فرمائے ہیں ایک اصل اور دوسرا متبادل۔آپ نے اصل علاج کا حکم دیا ہے جو اصل بیماری کی شفا ہے پس جب تک ممکن ہے اس وقت تک اس میں سستی نہ کی جائے۔
2) محبوب کا وصال شرعاً ناممکن ہو لیکن محبت کرنے والا اسے حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اسے بتایا جائے جس چیز کی اللہ تعالی کی طرف سے اجازت نہ ہو اسے ناممکن ہی سمجھنا چاہیے۔ انسان کی کامیابی اور اس کی بیماری کا علاج اس چیز سے دور رہنے میں ہے جس سے حق تعالیٰ نے روک دیا ،مریض محبت اپنے دل کو سمجھائے اور یقین دلائے کے اللہ رب العزت کے منع کردہ امور کی حیثیت بھی ناممکنات میں سے ہے۔ اگر اس کا نفس امارہ نہ مانے تو اسے اس زبردست اور ناقابل تلافی نقصانات کا احساس کرنا چاہیے   کہ ایک ہیچ اور فانی محبوب کے لمحاتی وصال کے مقابلے میں اور انتہائی رفیع الشان حیی و القیوم محبوب حقیقی کے جمال بے مثال کی دید سے محروم ہو جائے گا، دانا آدمی جب یہ دیکیے گا کہ وہ ایک ادنیٰ محبوب کے وصال کی وجہ سے سے ایک لا متناہی حسن و جمال اور بے پایاں عظمت والے محبوب حقیقی کو کھو دے گا تو وہ یقینا ً سنبھلے گا اور تھوڑی دیر کی فنا پذیر لذت کی حقیقت خواب و خیال سے زیادہ نہیں۔
بھلا اس فعل کی لذت ہی کیا جو ختم ہوجائے مگر اس کی تھکن باقی رہے پس ایسے مریض کا فرض ہے کہ وہ پاکبازی اور صبر کا دامن نہ چھوڑے یہاں تک کہ اللہ تعالی اس کی پریشانی کا خاتمہ فرما دے یا وہ خود اپنا گوہر مقصود حاصل کر لے۔
ارشاد باری تعالی ہے۔
وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ( النور:33)
اور حرام سے بہت بچیں وہ لوگ جو نکاح کا کوئی سامان نہیں پاتے، یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے۔

بیماری عشق سے نجات پانے کا طریقہ:
سب سے پہلے یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لیں کے اس دنیا کی زندگی آخرت کی تیاری کے لیے دی گئی ہے، اس لئے اس زندگی کا ہر لمحہ اللہ رب العزت کی اطاعت میں بسر کرنا چاہیے، اس فنا ہوجانے والی زندگی میں نیکی کے کام سرانجام دے کر آخرت میں جنت جیسی بے مثال نعمت حاصل کی جاسکتی  ہے۔اسے فانی چیزوں پر فدا ہونے میں برباد کرنا دیوانگی ہے، یہ دیکھ کر دل دکھتا ہے کہ اکثر نوجوان اسی دیوانگی کا شکار ہو کر جگہ جگہ خوار ہو رہے ہیں اور اپنے مستقبل کو آگ لگا رہے ہیں اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کا طریقہ صرف یہ ہے۔
1) معصیت کی زندگی سے سے عزم مصمم کے ساتھ توبہ کریں اور کسی نیک گھرانے میں فوراً شادی کرلیں۔ یاد رکھیں! ہماری محبت کا مرکز و منتہی صرف رب جمیل کی ذات ہے، بھلا اللہ تعالی کے جمال بے مثال سے بڑھ کر اور کسی کی خوبصورتی ہوسکتی ہے جس پر انسان فریفتہ ہو۔ بے وفا چہروں کی چمک  و دمک پر شیدا ہوجانا شرف خودداری کی توہین ہے۔
2) جس کی محبت میں آپ مبتلا ہیں اس سے ہر قسم کا تعلق آج اور ابھی ختم کر دیں، اسے مت دیکھیں، اس کے گھر کے قریب تک نہ پھٹکیں، اسکا کسی سے تذکرہ نہ کریں اور نہ اس کا خیال دل میں لائیں، اپنے باطن میں انقلاب پیدا کریں۔ یوں بدل جائیں جیسے موسم بدل جاتا ہے
خاک ڈال، آگ لگا، نام نہ لے، یاد نہ کر

کہا جاسکتا ہے کہ اور تو ساری تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں لیکن یہ کیونکر ممکن ہے کہ دل میں اس کا خیال بھی نہ آئے یقین خیال ضرور آئے گا لیکن گھبرانے کی ضرورت نہی، خیال آتا ہے تو آنے دیں البتہ خود قصداً اس کا خیال دل میں نہ لائیں۔ہاں جب خیال آجائے تو اسے فورا ذہن سے جھٹک کر کسی اچھے اور مفید کام میں مصروف ہو جائے خوب جم کر اس تدبیر پر عمل کرتے رہیں اور اللہ رب العزت سے نیکی کی زندگی کی توفیق مانگتے رہیں۔آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل چند ہفتے بھی نہ گزر پائیں گے کہ اس متاع فاسد کا خیال آنا بند ہوجائے گا۔
درحقیقت اس بیماری کا اصل علاج استقامت کے ساتھ فاسد محبوب سے کلی طور پر دور رہنا ہے جتنی دور ہوگی اتنی ہی جلدی شفا نصیب ہو گی۔ ان شاءاللہ
کسی شاعر نے کیا خوب کہا:
طبیعت تیری زور پہ ہے تو روک
وگرنہ یہ حد سے گزر جائے گی

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *